قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد، امریکہ سے مذاکرات سے قبل ابتدائی شرائط

ایران کا مذاکراتی وفد پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے جہاں اس کا استقبال پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے کیا گیا۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایرانیوں کے لیے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘

خلاصہ

  • ایرانی مذاکراتی وفد قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اس کا استقبال کیا گیا
  • دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایرانی صرف اس لیے آج زندہ ہیں تاکہ مذاکرات کریں‘
  • ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
  • پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ’ایک کٹھن مرحلہ ہے‘ جس میں کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی
  • لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے

لائیو کوریج

  1. ایران جنگ کے دوران عمان نے اپنے عرب ہمسایوں سے مختلف رویہ کیوں اپنایا؟, اومنیہ النجار، بی بی سی مانیٹرنگ

    عمان

    ،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2026

    ،تصویر کا کیپشن13 مارچ کو لی گئی اس سیٹلائیٹ تصویر میں عمان کی سلالہ تیل تنصیب پر ایرانی حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران تہران کے حوالے سے خلیجی تعاون کونسل کے بیشتر ممالک کے مؤقف میں سختی آئی ہے۔ مگر عمان کا معاملہ مختلف ہے۔

    واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والا یہ ملک اس جنگ کے دوران بھی غیر جانبدار رہا ہے اور خطے میں اپنی ایک منفرد حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    جہاں دیگر خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے، وہیں عمان نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی قائم رکھتے ہوئے ’سب کا دوست، کسی کا دشمن نہیں‘ کے اصول پر عمل پیرا رہا۔

    اس مؤقف کے باعث عمان خیلج تعاون کونسل میں امریکی اور اسرائیلی مہم کے ناقد کے طور پر سامنے آیا اور اسے ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

    عمان کونسل کا وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی سرزمین پر حملے کے بعد بھی واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔

    اپنے اس رویے کے باعث عمان خطے میں تہران کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے آخری قابلِ اعتماد سفارتی راستہ رہ گیا ہے۔

  2. عالمی رہنماؤں کی ایران، امریکہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل تیل کی سپلائی یقینی بنانے کی کوشش

    دنیا بھر کے رہنما ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل تیل اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان نے تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ ماہ تک اپنے تیل کے ذخائر میں سے 20 دن کا سٹاک جاری کر دے گا جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    اسی دوران آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز سنگاپور کے دورے پر ہیں جہاں وہ اپنے ملک کے لیے ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سنیچر کے روز سے شروع ہونے والے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی قیادت کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ امن معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کی تیاری کرنے کا کہنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  3. اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان رات بھر جھڑپیں, ڈینیئل ڈی سیمون, یروشلم

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    رات بھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران ایران نے لبنان پر فضائی حملے کیے جبکہ مسلح گروہ کی جانب سے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے جس کے باعث تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی مبینہ حیثیت تنازع کا باعث بن رہی ہے اور اس سے رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے طے شدہ امن مذاکرات سے پہلے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے مطابق حزب اللہ راکٹ داغ رہا تھا۔

    دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

    یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیوں میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا۔

    بدھ کے روز اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی پر نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان نشر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اپنے ملک اور کے اتحادیوں پر حملوں کا ’بدلہ لینے کا حق محفوظ‘ رکھتے ہیں۔

  4. جیفری اپسٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ سے نہیں ملوایا: میلانیا ٹرمپ کی افواہوں کی تردید

    ایپسٹین فائلز کے تحت پبلک کی جانے والی سنہ 2000 میں لی گئی ایک تصویر میں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ، ملانیا ٹرمپ، جیفری ایپسٹین اور گیلین میکسویل کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت میلانیا ٹرمپ کی گرل فرینڈ تھیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسنہ 2000 میں لی گئی ایک تصویر میں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ، ملانیا ٹرمپ، جیفری ایپسٹین اور گیلین میکسویل کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت میلانیا ٹرمپ کی گرل فرینڈ تھیں۔

    امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جنسی مجرم جیفری اپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

    میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں کے بارے میں پھیلی افواہیں ’آج ہی ختم ہو جانی چاہیئیں۔‘

    جمعرات کے روز کیے جانے والے غیر متوقع اعلان میں امریکی خاتونِ اول نے اپسٹین کے جنسی جرائم کے متاثرین کے لیے کانگریس میں سماعتوں کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے آن لائن پھیلی ان افواہیں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے انھیں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملوایا تھا۔ میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں ان کی ’ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتانہ کوششیں‘ ہیں۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ انھیں یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ایپسٹین کے جرائم کی متاثرہ نہیں اور یہ کہ ان کا ایپسٹین سے سنہ 2000 میں مختصر تعارف ہوا تھا۔

    میلانیا ٹرمپ نے اپسٹین کی ساتھی اور سزا یافتہ گیلین میکسویل سے تعلقات کی بھی تردید کی۔

    انھوں نے اپسٹین فائلز میں شامل سنہ 2002 کی اپنی اور میکسویل کے درمیان ایک ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے محض ’غیر رسمی خط و کتابت‘ اور ’شائستہ جواب‘ قرار دیا۔

    میلانیا ٹرمپ جس ای میل کا حوالہ دے رہی تھیں وہ بظاہر ’’جی‘‘ کے نام لکھی گئی تھی جو غالباً گیلین میکسویل کے لیے استعمال ہوا تھا۔ اس ای میل میں ’جے ای‘ کے متعلق نیو یارک میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحریر کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ اس تحریر کے ساتح ’جی‘ کی ایک تصویر شائع ہوئی تھی۔

  5. پاکستان کا ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں کے لیے ’ویزا آن ارائیول‘ کا اعلان

    Pakistan Ministry of Foreign Affairs

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں کے لیے ’ویزا آن اراول‘ کا اعلان کیا ہے۔

    جمعہ کی صبح ایکس پر جاری ایک پیغام میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے آسلام آباد آنے والے تمام مندوبین، بشمول شریک ممالک کے صحافیوں، کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

    ڈار کا کہنا ہے کہ ’اس مقصد کے لیے تمام ایئرلائنز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کو بنا ویزا بورڈنگ کی اجازت دیں۔‘

    ’پاکستان میں امیگریشن حکام ان افراد کو ویزا آن ارائیول جاری کریں گے۔‘

  6. عالمی آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کیا جا سکتا، برطانوی وزیرِ خارجہ

    برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس تنازع کے ’فوری حل‘ اور اس کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

    برطانوی وزیر کا کہنا ہے کہ سب سے اہم آبنائے ہرمز کا ’دوبارہ کھلنا‘ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اس آبی گزرگاہ کو بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے خلاف ہے۔

    کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نہ صرف موجودہ جنگ بندی بلکہ خطے کے طویل المدتی مستقبل کا بھی اہم جزو ہے۔

    برطانوی وزیر کے مطابق کوئی بھی فریق کسی بحری گزرگاہ سے گزرنے کا بنیادی حق یکطرفہ طور پر سلب نہیں کر سکتا اور نہ ہی انھیں کسی انفرادی خریدار کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’عالمی آبی راستے پر ٹول کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔‘

  7. تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لبنان میں تباہی کے مناظر

    جنوبی لبنانی شہر شوکین کے ایک گاؤں کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کے بعد گاؤں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ علاقے میں ’دہشت گردوں‘ کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے کئی دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے، یہ وہ معاہدہ نہیں جو طے ہوا تھا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔‘

    اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فیس وصول کر رہا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ’اور اگر وہ کر رہے ہیں تو فوراً بند کر دیں۔‘

    میرین ٹریفک ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ منگل کی رات جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے کم از کم نو بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ ان میں دو آئل اور کیمیکل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔

    ملٹی نیشنل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ سے پہلے ہر روز اوسطاً 138 بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔ لیکن تنازع کی وجہ سے یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور لگ بھگ 800 بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  9. برطانوی وزیرِ اعظم اور امریکی صدر کے درمیان آبنائے ہرمز کھلوانے کے حوالے سے گفتگو

    برطانوی وزیرِ اعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اور امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے کسی حل تک پہنچنے کے عمل کے ’اگلے مرحلے‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

    کیئر سٹامر ابھی قطر پہنچے ہیں، جہاں سے امریکی صدر کے ساتھ ان کی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹامر نے ٹرمپ کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کو کھولنے کے لیے ’قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کی برطانیہ کی کوششوں‘ سے آگاہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے: ’انھوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اب جبکہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے اور آبنائے کو کھولنے پر اتفاق رائے موجود ہے، ہم کسی حل تک پہنچنے کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سٹامر اور ٹرمپ نے ’جہاز رانی کو جلد از جلد دوبارہ بحال کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے کی ضرورت پر گفتگو کی ہے‘

  10. ایرانی کی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد نہیں پہنچی، لبنان پر اسرائیلی حملے رُکنے تک مذاکرات معطل ہیں: خبر ایجنسی

    ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی وفد کے اسلام آباد پہنچنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ: ’ایرانی مذاکراتی ٹیم کے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد، پاکستان پہنچنے سے متعلق کچھ میڈیا اداروں کی خبریں مکمل جھوٹی ہیں۔‘

    خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے اسے بتایا کہ جب تک امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا، تب تک مذاکرات معطل رہیں گے۔

  11. لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی، مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے: وزیرِ اعظم نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ملک کے شمالی علاقے کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حزب اللہ پر پوری طاقت کے ساتھ حملے کر رہے ہیں اور آپ کی سکیورٹی بحال ہونے تک رُکیں گے نہیں۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق ان کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک تاریخی اور دیرپا امن معاہدے کا حصول ہے۔‘

    وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ دیر پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسرائیل لبنان پر حملوں میں ’کمی‘ کرے گا۔

  12. صدر ٹرمپ اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ’پُرامید‘

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو لبنان پر حملوں میں ’کمی‘ کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے فون پر این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’میں نے بی بی (نیتن یاہو) سے بات کر لی ہے اور وہ حملوں میں کمی کریں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’پُرامید‘ ہیں کہ اسلام آباد میں مذکرات کے دوران امن معاہدہ ہو جائے گا۔

    ٹرمپ کے مطابق ایران ’نے ان تمام چیزوں سے اتفاق کرلیا ہے جس پر اسے اتفاق کرنا تھا‘ اور اس کے عہدیدار جب میڈیا سے بات نہیں کرتے تو ’مناسب نظر آتے ہیں۔‘

  13. اس جنگ کا ’فاتح‘ ایران ہے: رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب بیان

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان ملک کے سرکاری میڈیا پر وسیع پیمانے پر نشر کیا جا رہا ہے۔

    جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے، یہ ایک تحریری بیان ہے۔ جنگ کے آغاز میں اپنے والد کی وفات کے بعد ملک کے رہبرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے اب تک مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔

    پیغام میں انھوں نے کہا ہے کہ ایرانی عوام جنگ کے ’فاتح فریق‘ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس جنگ کا ’فاتح‘ ایران ہے۔

  14. لبنان پر اسرائیلی حملے غلط ہیں، انھیں رُکنا چاہیے: برطانوی وزیرِ اعظم

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے آئی ٹی وی کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے ’غلط ہیں‘ اور انھیں ’رُکنا چاہیے۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ’کہنا مشکل ہے‘ کہ یہ حملے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں۔

    برطانوی وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں جنگ بندی کی تفصیلات تک رسائی حاصل نہیں‘ لیکن لبنان پر حملے ’نہیں ہونے چاہییں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کا مؤقف یہ ہے کہ لبنان کو ’جنگ بندی میں شامل کیا جانا چاہیے۔‘

  15. ایران اور امریکہ کے درمیان 36 گھنٹوں کی جنگ بندی کے دوران اب تک کیا کیا ہوا ہے؟, فریا سکاٹ ٹرنر

    امریکہ اور ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو شروع ہوئے 36 گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے۔ تاہم اس کے بعد سے یہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ جنگ بندی غیر مستحکم ثابت نہ ہو۔

    خلیجی ممالک پر حملے بڑی حد تک رُک چکے ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ملک میں کسی بھی میزائل یا ڈرون کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ کویت کا بھی کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کے فضائی دفاعی نظام نے کسی عسکری نقل و حرکت کی اطلاع نہیں دی۔

    اور نہ ہی سعودی عرب یا بحرین، جنھیں اس تنازع کے دوران بار بار حملوں کا سامنا رہا ہے، نے جمعرات کو کسی حملے کی اطلاع دی۔

    اسرائیلی فوج نے بھی آج کوئی ایسی وارننگ جاری نہیں کی جس میں کہا گیا ہو کہ ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں اور نہ ہی ایران سے کسی حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں میں کچھ محدود حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

    لبنان جنگ بندی کا حصہ ہے یا نہیں؟

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا اور اس نے بدھ کو بھی لبنان میں بڑے حملے جاری رکھے۔ جمعرات کو اس نے جنوبی بیروت کے کچھ حصوں کے لیے نئی انخلائی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

    جمعرات کو سامنے آنے والی تصاویر کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لبنان کی سرحد پر اسرائیلی اینٹی پروجیکٹائل دفاعی نظام کام کر رہا ہے۔

    ایرانی حکام نے لبنان پر کیے گئے حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کا تنازع ایک ’علیحدہ جھڑپ‘ ہے۔

    کچھ ہی دیر قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ لبنان کے ساتھ ’جلد از جلد‘ براہِ راست مذاکرات شروع کیے جائیں، جن کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔

    آبنائے ہرمز پر غیریقینی کے بادل برقرار

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ اگر امریکہ اپنی ’جارحیت‘ سے باز آ جائے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی حکومت عوامی سطح پر جو کہہ رہی ہے اور نجی طور پر جو موقف اختیار کر رہی ہے، اس میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ کہنا غلط ہے کہ آبنائے بند ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے بدھ کو کہا تھا کہ ایرانی حکومت کے عوامی سطح اور نجی طور پر اپنائے جانے والے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔

  16. جنگ کے آغاز پر کچھ ممالک نے ’سستی‘ دکھائی لیکن اب وہ امریکہ کی بھرپور مدد کر رہے ہیں: نیٹو سربراہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز پر امریکہ کی مدد کرنے کے معاملے پر کچھ اتحادیوں نے سست روی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے سے پہلے اتحادیوں کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

    لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اس وقت بہت سے اتحادی امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اتحادی اس وقت سب کچھ کر رہے ہیں، جس کا امریکہ مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ صدر ٹرمپ کی درخواست کو سن رہے ہیں اور اس پر ردِعمل دے رہے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں بننے والا اتحاد، نیٹو ممالک کی سوچ میں تبدیلی کا عکاس ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ کے معاملے پر نیٹو اور یورپی اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

  17. اسرائیلی وزیرِ اعظم کی کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اپنی کابینہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کریں۔

    ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے لبنان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی اپیل پر کابینہ کو مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا محور ’حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا‘ اور اسرائیل کے ساتھ امن پر مبنی تعلقات کا قیام ہے۔

  18. اگر ایران نے حملہ کیا تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا: اسرائیلی وزیرِ دفاع کی دھمکی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی نے حزب اللہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کا ہاتھ اس وقت ٹریگر پر ہے۔

    کاٹز کا کہنا تھا کہ لبنان میں بدھ کے روز 200 سے زائد ’دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں اور اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1400 سے بڑھ گئی ہے۔

    قبل ازیں، لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا تھا کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں 203 افراد ہلاک ہوئے تھے، حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ اسرائیلی حملوں کے بعد سے لے کر اب تک 1700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  19. اسلام آباد میں اس وقت ریڈ الرٹ ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں: اسلام آباد پولیس

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد پولیس کے مطابق غیر ملکی وفود کی آمدورفت کی وجہ سے اہم شاہراہوں پر مختلف اوقات میں ’ڈائیورشنز‘ لگائی جا رہی ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت سکیورٹی ریڈ الرٹ ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ماسوائے ایمرجنسی غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق شہری ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

  20. لبنانی وزیر کا لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ

    تصویر

    لبنان کی سماجی اُمور کی وزیر نے کہا ہے جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں سماجی اُمور کی وزیر حنین سید کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لبنان کو جنگ بندی کی شرائط میں شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ بیروت میں بدھ کو اسرائیلی حملے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تھیں اور اس معاملے پر سلامتی کونسل سے رُجوع کیا جائے گا۔