ایران جنگ کے دوران عمان نے اپنے عرب ہمسایوں سے مختلف رویہ کیوں اپنایا؟, اومنیہ النجار، بی بی سی مانیٹرنگ

،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2026
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران تہران کے حوالے سے خلیجی تعاون کونسل کے بیشتر ممالک کے مؤقف میں سختی آئی ہے۔ مگر عمان کا معاملہ مختلف ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والا یہ ملک اس جنگ کے دوران بھی غیر جانبدار رہا ہے اور خطے میں اپنی ایک منفرد حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جہاں دیگر خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے، وہیں عمان نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی قائم رکھتے ہوئے ’سب کا دوست، کسی کا دشمن نہیں‘ کے اصول پر عمل پیرا رہا۔
اس مؤقف کے باعث عمان خیلج تعاون کونسل میں امریکی اور اسرائیلی مہم کے ناقد کے طور پر سامنے آیا اور اسے ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
عمان کونسل کا وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی سرزمین پر حملے کے بعد بھی واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
اپنے اس رویے کے باعث عمان خطے میں تہران کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے آخری قابلِ اعتماد سفارتی راستہ رہ گیا ہے۔

















