قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد، امریکہ سے مذاکرات سے قبل ابتدائی شرائط
ایران کا مذاکراتی وفد پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے جہاں اس کا استقبال پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے کیا گیا۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایرانیوں کے لیے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘
خلاصہ
ایرانی مذاکراتی وفد قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اس کا استقبال کیا گیا
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایرانی صرف اس لیے آج زندہ ہیں تاکہ مذاکرات کریں‘
ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ’ایک کٹھن مرحلہ ہے‘ جس میں کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی
لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے
لائیو کوریج
مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی ضروری ہے: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فریقین کے مابین باہمی طور پر طے پانے والے دو معاملات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے اثاثوں کی بحالی پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے یہ دونوں معاملات حل ہونے چاہییں۔
ایران-امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟, روحان احمد، بی بی سی اُردو اسلام آباد
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
ایرانی وفد کہاں ہے، کب اسلام آباد پہنچے گا اور مذاکرات کس نوعیت کے ہوں گے، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سرکاری اور غیر سرکاری طور پر موجود نہیں ہیں۔
دارالحکومت کا ریڈ زون جو جمعے کی دوپہر تک صحافیوں کے لیے کھلا تھا اسے بھی تمام لوگوں اور ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ریڈ زون سے ملحقہ علاقوں میں جگہ جگہ پاکستانی اور غیرملکی صحافی کیمرے پکڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے صحافیوں کے لیے جناح کنوینشن سینٹر کو مختص کر دیا ہے۔
اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان میں مذاکرات ہونے والے ہیں، اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کی جانب سے داغے گئے میزائل حملوں کو روکا ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان روانگی سے قبل جے ڈی وینس کی صحافیوں سے گفتگو
،ویڈیو کیپشن’ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا‘
اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس کو منصب سنبھالنے کے بعد سب سے مشکل چیلنج کا سامنا, ڈینئل بش
،تصویر کا ذریعہReuters
نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جے ڈی وینس کو شاید اپنے سب سے مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔ وہ ایران سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
وینس اس ہفتے کے آخر میں توجہ کا مرکز ہوں گے کیونکہ وہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات فریقین کی جانب سے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر رضا مندی کے بعد شروع ہو رہے ہیں۔
وینس کو جنگ کے مستقل خاتمے کو یقینی بنانے کی کوشش میں تہران، اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کو مطمئن کرنے جیسے مشکل چیلنج کا سامنا ہو گا۔
نائب صدر جے ڈی وینس کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ مذاکرات کا نتیجہ امریکہ کے لیے ایک طرح سے ایک فتح ہو تاکہ وہ امریکہ میں اپنے حامیوں کو مطمئن کر سکیں۔
یہ واضح نہیں کہ اس مسئلے کا کیا حل ہو گا، جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو یا جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہو۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ میں مہنگائی دو برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکہ میں مہنگائی گذشتہ ماہ تقریباً دو سالوں کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معیشت پر اس کا منفی اثر ہے۔
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح گذشتہ 12 ماہ کے دوران بڑھ کر سب سے زیادہ 3.3 فیصد ہو گئی ہے جو فروری میں 2.4 فیصد تھی۔
یہ سنہ 2022 کے بعد مہنگائی کی شرح میں ہونے والا سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ اضافہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہوا، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
لبنانی حکومت اسرائیل کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دے: حزب اللہ کی وارننگ
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع مذاکرات کے دوران اسرائیل کو رعایتیں دینے سے اجتناب کرے۔
’المنار ٹی وی‘ پر نشر ہونے والے بیان میں نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کسی بھی ایسے معاہدے سے گریز کرے جس سے یہ تاثر ملے کہ اس نے اسرائیل کو بغیر کسی ازالے کے رعایت دی ہے۔
اُنھوں نے اسرائیل کی جانب لبنان میں کی جانے والی بمباری کو مجرمانہ خونریزی قرار دیا، جس میں لبنانی حکام کے مطابق 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت لبنان کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات شروع کرے گی، جس کا بنیادی نقطہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔
اسلام آباد ایران - امریکہ مذاکرات کے لیے تیار
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سنیچر کو اسلام آباد میں ہونے والے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مذاکراتی وفود سے قبل ایڈونس ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ اسلام آباد میں ان مذاکرات کے حوالے سے کیے جانے والی حفاظتی اقدامات کے بارے میں دیکھیے شہزاد ملک کی رپورٹ۔
،ویڈیو کیپشناسلام آباد ایران - امریکہ مذاکرات کے لیے تیار
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ: ’صدر ٹرمپ سے ہدایات لے کر مذاکرات کے لیے جا رہا ہوں‘
،تصویر کا ذریعہPOOL
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے ایئر فورس ٹو میں سوار ہو گئے ہیں۔
طیارے میں سوار ہونے سے قبل اُن کا کہنا تھا، ’ہم مذاکرات کے منتظر ہیں‘ اور مزید کہا کہ اگر ایران ’خیرسگالی‘ کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکہ ’کھلے دل سے آگے بڑھنے‘ کے لیے تیار ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے ’ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی‘ تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا۔
اُن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے انھیں ان مذاکرات کے لیے رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوں گے اور سنیچر کے روز شروع ہونے کی توقع ہے۔
ان مذاکرات میں جے ڈی وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، تاہم پاکستان میں ہمارے نمائندے کے مطابق ایرانی وفد کی آمد کا ابھی انتظار ہے۔
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار جاری, کیری ڈیویز، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
جب بی بی سی کی ٹیم ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب فلم بندی کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹانا شروع کر دیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں توقع ہے کہ وفود جلد پہنچ جائیں گے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا وفد کب پہنچے گا۔
اسلام آباد کے ریڈ زون، جہاں زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر میں چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سکیورٹی کے لیے تعینات ہیں جبکہ بین الاقوامی صحافی بھی شہر پہنچ رہے ہیں۔
ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ دونوں میں سے کوئی وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ان کا وفد رات کو پہنچے گا، لیکن ایک گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
پاکستان کی جانب سے بھی مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ بات چیت سنیچر کی صبح ہوگی۔ اسلام آباد انتظار کی کیفیت میں ہے۔
انڈیا کا لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ہونے والی ’بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں‘ پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ’بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ انڈیا کے لیے موجودہ صورتحال ’انتہائی پریشان کن‘ ہے، خصوصاً اس لیے کہ انڈیا اقوامِ متحدہ کی امن فوج یونیفِل میں اپنے دستے تعینات کیے ہوئے ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں براہِ راست دلچسپی رکھتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان میں جاری صورتحال پر انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک کی اولین ترجیح وہاں موجود شہریوں کا تحفظ ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انڈیا لبنان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ترجمان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باعث صورتحال تشویشناک ہے، اور انڈیا نے زور دیا ہے کہ شہریوں اور سول تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انڈیا نے یہ بھی کہا کہ وہ لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
پاکستان کی تیاریوں کے باوجود امن مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے, بی بی سی نیوز کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد میں سنیچر کے روز طے شدہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ جب میں نے جمعے کی صبح تہران میں وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ ’ابھی کچھ حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘۔
گذشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ ایرانی وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، لیکن ان کی تردید کر دی گئی اور ایک پوسٹ بھی حذف کر دی گئی۔ اس کے باوجود پاکستان میں تیاریوں کی رفتار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے جا رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم، جو پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے کل رپورٹ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوتی، مذاکرات معطل رہیں گے۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے بھی بی بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں یہی مؤقف دہرایا۔
یہ صورتحال ایک مشکل انتخاب کی طرف اشارہ کرتی ہے: کیا ایران اپنے اہم ترین اتحادی حزب اللہ سے لاتعلقی اختیار کرے، یا اہم سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دے؟ جنگ بندی کے لیے ہونے والی ہنگامی کوششیں آخری لمحات تک جاری رہیں، اور بظاہر یہی کیفیت ان مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی، برطانوی وزیر اعظم کا خلیجی دورے کے اختتام پر بیان
،تصویر کا ذریعہUK Pool
خلیجی ممالک کے دورے کے اختتام پر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ اس پورے دورے میں زیادہ تر گفتگو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ’عملی منصوبے‘ پر مرکوز رہی۔
یہ اہم آبی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکز ہے، لیکن ایران کی جانب سے اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد یہاں سے گزرنے کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’یہ تنازع ہماری آنے والی نسل کو متعین کرے گا اور ہمیں اس کا جواب دینا ہوگا، اور ہم مضبوطی سے جواب دیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ’مشترکہ دفاع‘ کے موضوع پر بھی بات چیت کی۔
جمعرات کی شب کیئر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی گفتگو کی، اور ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ’عملی منصوبے‘ کی ضرورت پر بات کی۔
موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تسلیم کیا کہ موجودہ جنگ بندی ’نہایت نازک‘ ہے، اور انھوں نے نشریاتی اداروں کو بتایا کہ خطے میں کسی بھی طویل المدتی امن معاہدے کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
جنگ بندی کی صورت میں اسرائیل سے مذاکرات کریں گے: لبنان
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اگر پہلے جنگ بندی نافذ ہو جائے تو لبنان آئندہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اہلکار کے مطابق ملاقات کی تاریخ اور وقت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات ماضی میں بھی کبھی کبھار ہوئے ہیں، لیکن یہ ایک غیر معمولی عمل سمجھا جاتا ہے۔ عموماً دونوں ممالک کے درمیان رابطہ امریکی ثالثی کے ذریعے ہوتا ہے۔
نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اور امریکی نمائندے اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی صرف نام کی رہ گئی، لڑائی بدستور جاری, بی بی سی نیوز کے فرینک گارڈنرکا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان میں جاری صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ’صرف نام کی‘ رہ گئی ہے، کیونکہ اس پر عملدرآمد میں متعدد خامیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ بمباری میں کمی آئی ہے، لیکن فائرنگ اور جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رکیں، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں اسے ایرانی ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب لبنان میں جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اس پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ پاکستان اور ایران اسے قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اگرچہ اس جنگ میں فوجی نقصان اٹھا چکا ہے اور اس کے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے گئے ہیں، لیکن وہ انھیں دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے روس اور چین جیسے ممالک سے مزید مدد بھی مل سکتی ہے۔
چونکہ ایران اس جنگ میں نقصانات کے باوجود بچ نکلا اس لیے مبصرین کے مطابق وہ خطے میں اپنی روایتی حدود سے باہر نکل آیا ہے اور اس کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ایران جغرافیے کو استعمال کرتے ہوئے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے‘
موجودہ صورتحال میں ایران اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ چھ ہفتے قبل تک ایران پابندیوں کے باعث محدود تھا اور آبنائے ہرمز کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا، لیکن جنگ کے بعد اس کی پوزیشن تبدیل ہوئی ہے۔
اب ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی فوج کو جہازوں کے کارگو کی جانچ کا اختیار حاصل ہو۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ مطالبات قابلِ قبول نہیں، لیکن ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا جغرافیہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر طاقت کے ذریعے کھلا رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس علاقے میں بے شمار چھوٹے راستے، غاریں اور ساحلی مقامات ہیں، جہاں ایران صرف ایک میزائل چھپا کر بھی حملے کے خطرے کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہی خطرہ کافی ہے کہ انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کو انتہائی مہنگا یا غیر محفوظ قرار دے دیں۔
اسی لیے ایران کو اپنی بحریہ کی ضرورت نہیں پڑتی، اس کے لیے اس کا ساحل ہی کافی ہے۔
پاکستانی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کا لبنان میں ’سنگین جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ پر اظہارِ تشویش
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں جنگ بندی کا مکمل احترام اور اس پر عمل درآمد علاقائی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ فرانس خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں پاکستان میں متوقع ہیں، تاہم اب بھی واضح نہیں کہ یہ مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے یا نہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود، جنگ بندی کے باوجود مال بردار بحری ٹریفک بحال نہ ہو سکی, ڈین آئزیکس، بی بی سی نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی، اور جہاز مالکان اب بھی گزرگاہ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔
بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک صرف 15 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جبکہ تنازع سے قبل یہاں سے روزانہ تقریباً 140 جہاز گزرتے تھے۔
ان 15 جہازوں میں سے چار ٹینکر تھے جو تیل، گیس یا کیمیکلز لے جا رہے تھے، جبکہ باقی مختلف اقسام کے کنٹینر بردار جہاز تھے۔
اگرچہ جنگ بندی کے معاہدے میں ’محفوظ گزرگاہ‘ کی شق شامل ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جو جہاز بغیر اجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کریں گے انھیں ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے سخت نگرانی، پیشگی منظوری کے تقاضے اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بیشتر جہاز مالکان رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
شپنگ انٹیلیجنس فرم ’لائیڈز لسٹ‘ کا کہنا ہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد ایران کی مؤثر ناکہ بندی کے نتیجے میں تقریباً 800 جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مال بردار ہیں اور کئی ہفتوں سے اپنی منزل تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عالمی سپلائی چین، تیل کی قیمتوں اور شپنگ انشورنس پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے، اور ٹریفک کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے نماز کے اوقات میں حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا: انڈین آرمی چیف
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
انڈیا کے آرمی چیف
جنرل اُپندر دویدی کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے
نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بدھ کے روز شائع
ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ
آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے
تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا
تھا۔
’لیکن
ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب
وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔
جنرل دویدی نے مزید کہا، ’اسی لیے ہم نے وہ وقت چنا جب ہمیں معلوم تھا کہ نماز ادا نہیں کی جا
رہی ہوگی۔‘
امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاوقتیکہ وہ کوئی دشمنی پر مبنی طرزِ عمل اختیار نہ کریں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق خطیب زادہ نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ رکھیں۔‘
ایرانی وزیر کا کہنا تھا ہم آبنائے ہرمز میں موجود اپنے محفوظ راستوں کے ذریعے ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں گے۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز ایران کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’بحری حفاظت کے اصولوں پر عمل کریں اور سمندری بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں متبادل راستوں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے۔
نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے بحری جہاز لاراک جزیرے کے شمال کی طرف جا سکیں گے اور پھر وہاں سے خلیج فارس کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔
دوسری سمت جانے والے بحری جہاز خلیج فارس سے نکلتے ہوئے جزیرہ لاراک کے جنوب سے گزر کر بحیرہ عمان کی طرف جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہIRGC
حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعے کے روز علی الصبح اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے۔
مسلح تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو جنوبی لبنان کے قصبے الخیام کے نزدیک نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔