امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘
خیال رہے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر ’جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔‘
انھوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوغان سے بھی بات کریں گے۔
’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘
کیا ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس ممکنہ معاہدے سے متفق ہیں؟
اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔
اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انھوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔