آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر اس ہفتے کے اختتام پر یورپ میں ہوں تاہم وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی۔

  2. جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔

    اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے تاہم امریکہ کے متضاد مؤقف نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں عدم استحکام اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں معاہدے کے وقت اور مقام سے متعلق دعوؤں کو ’محض میڈیا کی قیاس آرائیاں‘ قرار دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر ایک جز پر حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتے، تب تک اس پر دستخط کے وقت اور مقام کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا متن ہمارے لیے پہلے ہی واضح ہے مگر امریکی فریق ہر بار غیر معقول مطالبات سامنے لاتا رہا۔ انھوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے اصولی مؤقف اور ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

  3. دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں ہیں: صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ یورپ میں ممکنہ معاہدے پر دستخط کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔

    اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔

    اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر ’جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔‘

    انھوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوغان سے بھی بات کریں گے۔

    ’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘

    کیا ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس ممکنہ معاہدے سے متفق ہیں؟

    اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔

    اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انھوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘

    ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔

  4. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘
    • یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خلیجی ریاستوں پر ایران کے تازہ حملوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
    • ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
    • امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اتحادیوں کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی نقصان کی قیمت ’ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز‘ سے ادا کی جائے گی۔
    • ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’غلط حکمتِ عملیاں اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے۔‘
  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔