آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا، آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ’سب کے لیے کھول دیا جائے گا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ اتوار کو دستخط کے لیے طے پایا ہے اور اس معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ’سب کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’حالات پرامن ہوں گے تو ہم جا کر جوہری مواد بھی کھود کر نکالیں گے، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کے منتظر ہیں،امید ہے یہ عمل تیزی، آسانی اور ہمواری سے مکمل ہوگا، ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس متبادل موجود ہے، امید ہے اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے قطری ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے ’تاریخی امن معاہدے سے متعلق تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا‘ ہے۔

    پی ایم آفس کے مطابق اس کال کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ تیار ہو چکا ہے اور جلد اس پر متعلقہ فریقین دستخط کریں گے۔

    ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’آج شام اپنے بھائی قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے ساتھ گرمجوش اور دوستانہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران میں نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کی کوششوں کے لیے قطر کی ثابت قدم حمایت پر اپنی گہری قدردانی کا اظہار کیا۔‘

  2. ’امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی‘، روبیو کی جے شنکر سے گفتگو

    امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق سیکریٹری مارکو روبیو نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے گفتگو کی ہے اور دونوں رہنماؤں نے ’آبنائے ہرمز پر حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔‘

    بیان کے مطابق جے شنکر کے ساتھ گفتگو کے دوران روبیو نے روز دیا کہ ’تمام تجارتی جہاز فوری طور پر امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ وہ آبنائے ہرمز میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

    روبیو نے واضح کیا کہ ’امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی ٹرانسپورٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    گذشتہ روز اس رابطے کے بارے میں جے شنکر نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’میں نے آج شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی۔ میں نے خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں پر انڈیا کا شدید احتجاج دہرایا جن میں تین انڈین ملاح ہلاک ہوئے۔ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایسے مہلک اقدامات کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

    خیال رہے کہ انڈیا نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب کیا تھا۔

    جمعرات کے روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔

    دریں اثنا انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت کے ردعمل کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

  3. ’متعلقہ فریقین جلد امن معاہدے پر دستخط کریں گے‘، پاکستانی وزیر اعظم کی قطری ہم منصب سے گفتگو

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے قطری ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے ’تاریخی امن معاہدے سے متعلق تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا‘ ہے۔

    پی ایم آفس کے مطابق اس کال کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ تیار ہو چکا ہے اور جلد اس پر متعلقہ فریقین دستخط کریں گے۔

    ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’آج شام اپنے بھائی قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے ساتھ گرمجوش اور دوستانہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران میں نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کی کوششوں کے لیے قطر کی ثابت قدم حمایت پر اپنی گہری قدردانی کا اظہار کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تاریخی امن معاہدے سے متعلق تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ تاریخی کوشش خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔‘

    پاکستانی وزیر اعظم نے قطری وزیر اعظم کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے۔ ’دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔‘

  4. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تقریب اتوار کو ہوگی: پاکستان

    ایک طرف ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر الیکٹرانک دستخط سے متعلق تقریب اتوار کو نہیں ہو گی جبکہ دوسری طرف پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات حتمی مرحلے پر ہیں اور دستخط کی تقریب اتوار کے روز شیڈول ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اب تک امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے درست وقت کے بارے میں ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے ’تاہم آنے والے دنوں میں دستخط ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے فریق کی غیر مستقل مزاجی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس عمل کے بارے میں کوئی بھی بیان دیتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔‘

    دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    بیان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط سے متعلق ’تقریب اتوار کو ہو گی‘ جس کے بارے میں پاکستانی اور سعودی حکام نے ’امید ظاہر کی کہ یہ اہم پیش رفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام میں مدد دے گی۔‘

    خیال رہے کہ شہباز شریف نے امید ظاہر کی تھی کہ امن معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے۔

    جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ تاہم معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے جائیں گے۔

  5. مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے اگلے سال بھی تیل کی قیمتیں متاثر ہوں گی: پاکستانی وزیر خزانہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اگلے مالی سال تک منتقل ہوں گے۔

    وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چاہے معاملہ رسد کا ہو یا قیمتوں کا ہم نے آئندہ سال کی مالی پوزیشن میں اس حوالے سے گنجائش اور حفاظتی انتظامات شامل کیے ہیں۔‘

    وزیرِ خزانہ نے مانعِ حمل ادویات اور اشیا پر عائد ٹیکس کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آج 25 کروڑ کی آبادی کے باوجود بچوں میں غذائی کمی اور تعلیمی غربت جیسے مسائل موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد سکول سے باہر لڑکیوں کی ہے، تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر آبادی 30 سے 40 کروڑ تک پہنچ گئی تو صورتحال کیا ہوگی؟‘

    وزیرِ خزانہ نے آبادی میں اضافے کو ’بقا کا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اگلا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ دیا جائے گا تو وسائل کی تقسیم کے اس مخصوص پیمانے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی اور اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ اقتصادی ترقی کے حصول میں ’اہم کردار‘ ادا کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بجٹ میں برآمدات پر مبنی ترقی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سہولت کار عوامل شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

    انھوں نے پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) اور سپر ٹیکس کے خاتمے جیسے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ’برآمدی شعبے کو تقویت دینا ہے۔‘

    محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے نجی شعبے سے مشاورت کرے گی۔ حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جس کے تحت یہ رقم 37 ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار 700 روپے کر دی جائے گی۔

  6. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دے دی جائے گی۔

    ایکس پر ایک پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ ’امن معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ حتمی مرحلہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح پر بات چیت ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان امن مذاکرات کے دوران مسلسل عزم پر امریکہ اور ایران کا شکر گزار ہے۔ شہباز شریف نے خطے کے دیگر ممالک کی حمایت کو بھی سراہا۔

    پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔‘

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوئس ہم منصب سے بات چیت کی تھی۔ اس بارے میں دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں پیشرفت کا خیر مقدم کیا تھا۔ انھوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ جاری کوششوں کی بدولت خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے گا۔

    شہباز شریف کے بیان سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ دستخط کی تقریب جنیوا میں ہو سکتی ہے۔ تاہم اب یہ امکان ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے امن معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط‘ کیے جائیں گے۔

  7. سابق رہبر اعلی علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں 4 جولائی سے شروع ہوں گی: ایران

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق رہبر اعلی علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں 4 جولائی سے شروع ہوں گی اور ان کی تدفین 9 جولائی کو شمال مشرقی شہر مشہد میں ہو گی۔

    رواں سال فروری میں خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ تین دہائیوں تک ایران کے رہبر اعلیٰ رہے اور ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای ان کے جانشیں بنے۔

  8. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات

    لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصے پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    یہ حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں 20 مقامات کے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی جن میں نباتیہ شہر بھی شامل ہے۔

    لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جن علاقوں کو انخلا کی وارننگ دی گئی تھی ان میں سے متعدد کو نشانہ بنایا گیا جن میں ریحان اور سجد کے دیہات شامل ہیں جو نباتیہ کے قریب واقع ہیں۔

    گذشتہ روز حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج کا جنوبی لبنان میں ایک سرحدی قصبے کی جانب بڑھنے والے اسرائیلی فوجیوں سے تصادم ہوا۔

    حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوجی سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب بڑھ رہے تھے جب انھیں ’بار بار راکٹ حملوں کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘

    اسرائیلی فوج اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے قریب ہیں۔

    اس معاہدے کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں تاہم ایران ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان کو شامل ہونا چاہیے۔

  9. انڈیا نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا

    انڈین حکومت نے نائب چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کی منظوری دی ہے اور اس کا اطلاق 30 جون سے ہو گا۔ انڈین وزارت دفاع کے مطابق موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اوپیندر دیویدی اسی روز ریٹائر ہو جائیں گے۔

    وزارت دفاع کی جانب سے نئے چیف آف آرمی سٹاف کے کیریئر کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کھڑک واسلہ میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں۔ انھوں نے دسمبر 1986 میں آرمَرڈ کور میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

    بیان کے مطابق ’تقریباً چار دہائیوں پر محیط ایک نمایاں عسکری کیریئر کے دوران انھوں نے آپریشنل، تزویراتی، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل کیا اور انڈین فوج کی جنگی صلاحیت اور طویل مدتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    ان کی کمان ذمہ داریوں میں ریگستانی سیکٹر میں ایک آرمَرڈ رجمنٹ، مغربی محاذ پر ایک آرمَرڈ بریگیڈ اور جموں و کشمیر میں انسدادِ بغاوت فورس کی قیادت شامل ہیں۔ انڈین وزارت دفاع کے مطابق ’بطور لیفٹیننٹ جنرل انھوں نے سدرشن چکرا کور کی کمان کی جو انڈین فوج کی اہم سٹرائیک فارمیشنز میں سے ہے۔ اس کے بعد وہ دہلی میں جنرل آفیسر کمانڈنگ رہے جہاں انھوں نے قومی اور بین الاقوامی فوجی سرگرمیوں اور رسمی ذمہ داریوں کی نگرانی کی۔‘

    ’آرمی کمانڈر کے عہدے پر ترقی کے بعد انھوں نے ساؤتھ ویسٹرن کمان اور سدرن کمان سنبھالی اور اس طرح دو آپریشنل آرمی کمانڈز کی قیادت کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔‘

    وزارت دفاع کے مطابق ’انھوں نے تقریباً ڈھائی برس تک اہم محاذوں پر تزویراتی نگرانی فراہم کی۔ انھوں نے متعدد اہم سٹاف اور تزویراتی عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں جس دوران انھوں نے آپریشنل منصوبہ بندی، فورس مینجمنٹ اور صلاحیت سازی پر نمایاں اثر ڈالا۔‘

    وہ ہائر کمانڈ کورس اور نیشنل ڈیفنس کالج کے گریجویٹ ہیں اور انھوں نے پیرس میں منعقد ہونے والا کمانڈ اینڈ سٹاف کورس بھی کیا جو ان کے ’وسیع تزویراتی وژن اور جدید عسکری امور کی سمجھ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

  10. اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے بات چیت: ’جلد مثبت نتائج کی امید‘

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت بارے تبادلۂ خیال اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

    بیان کے مطابق دونوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری روابط اور مذاکرات جلد مثبت اور تعمیری نتیجے تک پہنچیں گے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔

    فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

  11. انڈین فضائیہ کا اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ آسام میں گر کر تباہ, دلیپ کمار شرما، بی بی سی ہندی

    انڈین فضائیہ کا ایک اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سنیچر کے روز انڈین ریاست آسام میں واقع جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے فضائیہ کے ترجمان وِنگ کمانڈر جے دیپ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اے این-32 طیارہ جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر گیا ہے، تاہم اس بارے میں مکمل معلومات ابھی جمع کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بارے میں انڈین فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ طیارہ لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہوا اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کی جا رہی ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔

    ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر ائیر بیس کمپلیکس میں ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال اس حادثے مرنے یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    اے این-32 ایک دو انجنوں پر مشتمل ٹربو پروپ فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو اصل میں سوویت یونین (اب یوکرین کے انتونوف ڈیزائن بیورو) نے تیار کیا تھا۔

    یہ طیارہ بنیادی طور پر انڈین فضائیہ کے بیڑے کا اہم حصہ ہے اور اسے فوجیوں کی نقل و حمل، امدادی سامان کی ترسیل اور پیرا ٹروپرز کو فضا سے اتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  12. امریکہ اور ایران میں جلد معاہدے کا امکان، تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پائے جانے کی امید کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں مارچ کے اوائل کے بعد سے اپنی کم ترین سطح (تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح) پر پہنچ گئی ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 87.33 ڈالر فی بیرل تک ہو گئی ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 3.05 ڈالر (یا 3.4 فیصد) کم ہے۔

    امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی کم ہو کر 84.88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 2.83 ڈالر یا 3.2 فیصد کم ہے۔ یہ اپریل کے بعد ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی کم ترین قیمت ہے۔

    سرمایہ کاری فرم ’اگین کیپیٹل‘ کے شراکت دار جان کیلڈف کے مطابق مارکیٹ میں کمی کی بڑی وجہ ایرانی حکام کے وہ بیانات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت ہونے کے قریب ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔

    بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔

  13. شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں چار کمانڈرز سمیت 21 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی اور اس کے گرد و نواح کے علاقے میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران گذشتہ 72 گھنٹوں میں 21 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق مارے جانے والوں میں چار شدت پسند کمنڈرز بھی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے شدت پسند کمانڈرز دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں بشمول سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے تھے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 48 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

  14. انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر جے ایس شنکر کا مارکو روبیو سے احتجاج: ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف ایسی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں‘

    انڈیا کے وزیرِ جے ایس شنکر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمان کے ساحل کے نزدیک جہاز پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے سامنے اٹھایا ہے۔

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایکس پر جاری ایک بیان میں جے ایس شنکر کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں میں تین انڈین شہریوں کی ہلاکت پر ایک بار پھر احتجاج کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ، ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف اس طرح کی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں۔‘

  15. امریکہ نے ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا

    امریکہ نے ایک ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا ہے۔

    خاتون کی وکیل نے جمعہ کے روز خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے امریکی اقدام کو ایسے ملک میں ’انتہائی خطرناک‘ منتقلی قرار دیا ہے جہاں سے ان کی مؤکلہ کا کوئی تعلق نہیں۔

    حمعرات کے روز ایرانی امریکن لیگل ڈیفنس فنڈ نے بتایا تھا کہ ایران سے فرار ہونے والی تین ایرانی خواتین کو امریکہ سے بے دخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہے۔

    ایرانی جموریت نوaز کارکن کی وکیل ایملی ٹروسٹل نے بتایا کہ جمعرات کی شب لوئیزیانا سے روانہ ہونے والی پرواز میں تینوں میں سے صرف یہی خاتون کارکن سوار تھیں۔ انھوں نے اس بات کا امکان مسترد نہیں کیا کہ دیگر خواتین کو بھی بعد میں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔

    ہیومن رائٹس فرسٹ کے زیر انتظام آئس (آئی سی ای) فلائٹ مانیٹر کے مطابق، طیارہ گھانا کے دارالحکومت اکرا میں کچھ دیر رکنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے سینٹرل افریقہ ریپبلک کے دارالحکومت بانگوئی پہنچا۔

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو کہاں رکھا جائے گا یا سینٹرل افریقہ ریپبلک میں انھیں کتنے عرصے تک رہنے کی اجازت ہوگی۔

    سینٹرل افریقہ ریپبلک ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، تشدد اور غربت کا شکار ہے۔ سینٹرل افریقہ ریپبلک نے حال ہی میں امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کو قبول کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

  16. حزب اللہ کا اسرائیلی افواج پر حملوں کا دعویٰ، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے تین دیہاتوں سے انخلا کا حکم جاری کر دیا

    حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کا جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا ہے۔

    گروہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے جمعرات کی شام اسرائیلی افواج پر کئی راکٹ داغے جس کے باعث وہ پسپا ہو گئے، اور پھر جمعہ کو ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں اور راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے ان پر مزید حملے کیے۔

    حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف دیگر حملے بھی کیے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تین دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے جبکہ لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصوں میں مختلف علاقوں پر حملوں کی خبر دی ہے۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے بھی شہر نبطیہ کے قریب شدید دھماکوں اور توپ خانے کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے۔

  17. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال پانچویں روز بھی جاری، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پرہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے جبکہ کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست وزارتِ داخلہ نے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے گذشتہ رات کوہالہ سے مظفر آباد جانے والے راستے کو پتھر اور درختوں کے تنوں رکھ کر کردیا تھا جسے پولیس اور انتظامیہ نے کلیر کروا لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دوکانیں پانچویں روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خردونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔ فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف انے والے تمام راستے کلیر ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

    انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خرودنوش کی دوکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دوکان کو سیل کردیا ہے۔

    منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دوکانیں کھلی رہیں جبکہ دودہ دہی کی دوکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دوکان د کو زبردستی اپنی دوکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

    کمشنر مظفرآباد نے دعویٰ کیا کہ جیسے کرونا کے دنوں میں لوگ اپنی دوکانوں کے شٹر نیچے کیے ہوتے تھے اور گاہک اتا تو شٹر اوپر کرکے گاہک کو چیزیں فراہم کرتے تھے، وہی صورت حال مظفر آباد کے کچھ علاقوں میں بھی ہے۔

    منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے کے ادارے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

    مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد پانچ سو کے قریب تھی اور انھوں نے مظفر اباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسے طاقت کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

    دوسری جانب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عید گاہ کے علاوہ پتن کے قریب بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان جمع ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دریک عید گاہ کے قریب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

    سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولاکوٹ انے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرلیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمت عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

    کمشنر پونچھ کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مخلتف مقامات پر چھاپے مار کر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال

    دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

  18. بنوں میں آندھی اور بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک، 16 زخمی

    پاکستان کے صوبہ پختونخوا کے ضلع بنوں میں آندھی اور موسلادھار بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق ضلع بنوں میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش کے باعث مختلف مقامات پر دیواریں، مکانات اور دکانیں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حادثات کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو مرد اور دو بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں چار مرد، پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہی۔

    پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کمزور اور خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں اور اس کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر دیں۔

  19. امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے حملہ آور ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کئی یک طرفہ حملہ آور ڈرونز لانچ کیے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بلا رکاوٹ جاری ہے۔‘

    اس سے قبل اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے کئی ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرون تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔

  20. متحدہ عرب امارات کی ایران کو رقوم کی منتقلی کی خبروں کی تردید

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بعض بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ایران کو مالی وسائل کی منتقلی یا فراہمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ایران کو رقوم کی منتقلی سے متعلق دعوے بشمول تین ارب ڈالر کی منتقلی کی رپورٹس ’غلط‘ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو ایران کے منجمد اثاچے واپس کیے گئے ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کو اربوں ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ان رقوم کا کچھ حصہ تہران کو فراہم بھی کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘