آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ معاہدہ کے بہت قریب ہیں:امریکی صدر کی روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین اور ایران سمیت متعدد اہم بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    روسی خبر رساں ادارے سپوتنک کے مطابق روسی صدر کے سینئر خارجہ پالیسی مشیریوری اوشاکوف نے بتایا کہ گفتگو کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور امن معاہدے کے مسودے پر بھی بات چیت ہوئی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے انتہائی قریب ہے اور اس کا باضابطہ اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔

    کریملن کے مطابق صدر پوتن نے صدر ٹرمپ کو ان کی 80 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور آئندہ عالمی کپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    روسی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں ایران سے متعلق کشیدگی میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے۔

    مبصرین کے مطابق روس اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں تیزی سے سامنے آ رہی ہیں اور خطے میں سفارتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

  2. ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہے، حزب اللہ کو پیچھے ہٹانا ہوگا: امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی جانب پیش رفت جاری ہے اور اب یہ سوال نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ کہ وہ کب طے پائے گا۔‘

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’امریکہ شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کو یہ حملے فوری طور پر بند کرنے چاہییں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ کو یہ حملے روکنے کے لیے انتہائی مضبوط اور واضح انداز میں قائل کرے۔‘

    امریکی وزیر دفاع نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران چاہتا ہے کہ مجوزہ معاہدہ برقرار رہے اور کامیاب ہو، تو اسے حزب اللہ کو پیچھے ہٹانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

    ان کے مطابق ’اگر ایران اس عمل کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے تو اسے بلا شبہ حزب اللہ کو روکنا اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہوگا۔‘

    ہیگستھ کے اس بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی بدستور جاری ہے۔

  3. بیروت پر اسرائیلی حملہ، ایران امریکہ معاہدے کی کوششوں کو دھچکا, یروشلم سے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار ہیوگو باچیگا کا تجزیہ

    لبنان پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا تھا، اور اب بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے نے ان سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    ضاحیہ لبنان کا وہ علاقہ ہے کہ جسے ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان میں جاری جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق مذاکراتی عمل میں اسرائیل خود کو کسی حد تک نظرانداز محسوس کر رہا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ اور ایران سے متعلق تنازع دو الگ معاملات ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حق میں خاصی عوامی حمایت موجود ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران لبنان اور ایران کے معاملات کو ایک ہی سفارتی پیکج کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل پر لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیاں محدود یا بند کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

    بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملے کا وقت اتفاقی نہیں تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط کی توقعات بڑھ رہی تھیں۔

    مجوزہ معاہدے کا مکمل متن ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کی تمام شقوں پر دونوں فریق مکمل طور پر متفق ہو چکے ہیں یا نہیں۔ تاہم اسرائیل میں عمومی تاثر یہی ہے کہ معاہدے کی موجودہ شکل ملک کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ فوجی کامیابیوں کو ابھی تک ایسی سیاسی یا سٹریٹجک کامیابی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا جو اسرائیل کے مقاصد کو پورا کرتی ہو۔

    معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے اخبار ’معاریو‘ سے گفتگو میں اس مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کے لیے ’بہت برا‘ اور ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    اسی طرح ایک دفاعی عہدیدار نے اسرائیلی نشریاتی ادارے این 12 کو بتایا کہ ’اسرائیل نے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے کسی کو بھی معاہدے میں فوری طور پر پورا نہیں کیا گیا۔‘

    دوسری جانب ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ بیروت پر کسی بھی حملے کا جواب اسرائیل کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ ایسے میں وہ معاہدہ، جسے چند روز قبل تک مُمکن اور دستخط کے قابل قرار دیا جا رہا تھا، ایک بار پھر خطرات سے دوچار دکھائی دیتا ہے اور اس کے تعطل کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

  4. حزب اللہ مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے: اسرائیلی وزارتِ خارجہ

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اتوار کی صبح ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

    ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’ایران کی پراکسی حزب اللہ ہی وہ فریق ہے جس نے آج صبح دوبارہ اسرائیل پر حملہ کیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حزب اللہ مسلسل اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے‘ اور یہ حملے جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہے ہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق مارچ میں بھی حزب اللہ نے ایران کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل پر بلا اشتعال حملہ کیا تھا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کے روز ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ’بیروت پر اسرائیل کے تازہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا نہیں کر رہا۔‘

    اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ بیانات کے تبادلے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ لبنان میں صورتحال پر عالمی برادری کی تشویش بھی برقرار ہے۔

  5. بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی حملے میں تین افراد ہلاک، 15 زخمی

    لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اتوار کے روز ہونے والے اسرائیلی حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔

    لبنان کے سول ڈیفنس ادارے نے سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ملبے تلے سے تین ہلاک ہو جانے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد عمارتوں اور دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد موجود ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ کو حزب اللہ کے اہداف کے خلاف کارروائی کے تحت نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

  6. بیروت پر حملہ ’نہیں ہونا چاہیے تھا‘: اسرائیلی حملے پر ایران کے سخت ردِ عمل کے بعد ٹرمپ کا بیان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز بیروت پر اسرائیلی حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ’خاص طور پر ایسے دن جب ہم ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے کے انتہائی قریب ہیں، یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی وہ ’بے معنی اور غیر اہم‘ نوعیت کا تھا۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ لبنان میں بھی امن کے قیام کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا تمام فریقین کو کشیدگی میں کمی لانی چاہیے۔‘

    ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل یا کسی بھی دوسرے فریق کی جانب سے مزید حملے نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک ’طویل اور خوبصورت امن‘ کے آغاز کا موقع ثابت ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’اس موقع کو ضائع نہ کریں۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس حالیہ بیا ن سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ’بیروت میں ضاحیہ میں صہیونی حکومت کی دراندازی اور حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’صہیونی حکومت کو گرین سگنل دے کر کسی بھی قسم کی رعایت یا مراعات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اچھے اور برے پولیس والے کا پرانا کھیل اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔‘

    ایرانی سپیکر نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر آپ اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی نہ خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر مذاکرات یا کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کی بات کرنا ممکن نہیں رہے گا۔‘

  7. وعدوں پر عمل کرنے کی خواہش اور صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے: باقر قالیباف کی امریکہ پر تنقید

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ’ضاحیہ میں صہیونی حکومت کی دراندازی اور حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’صہیونی حکومت کو گرین سگنل دے کر کسی بھی قسم کی رعایت یا مراعات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اچھے اور برے پولیس والے کا پرانا کھیل اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔‘

    ایرانی سپیکر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی نہ خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر مذاکرات یا کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کی بات کرنا ممکن نہیں رہے گا۔‘

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے آج کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے، جو جنگ بندی معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامی نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کرٹز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی فوج نے اپنی سرزمین پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں بیروت کے ضاحیہ علاقے میں حزب اللہ کے دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھنے والے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔‘

  8. اسرائیل کا بیروت کے مضافاتی علاقے ضاحیہ پر حملہ، حزب اللہ کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے آج کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے، جو جنگ بندی معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامی نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کرٹز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی فوج نے اپنی سرزمین پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں بیروت کے ضاحیہ علاقے میں حزب اللہ کے دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھنے والے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاحال حزب اللہ نے اسرائیلی بیان پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی افواج پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جب اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ ضاحیہ پر حملہ کیا تھا تو ایران نے اسرائیل کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ کشیدگی اس وقت کم ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  9. برطانوی بحریہ کے کمانڈوز کی روسی ’شیڈو فلیٹ‘ آئل ٹینکر پر کارروائی، جہاز تحویل میں لے لیا گیا

    برطانوی رائل میرین کمانڈوز نے اتوار کی علی الصبح انگلش چینل یعنی برطانیہ اور فرانس کے درمیان واقع تنگ سمندری راستہ میں روسی ’شیڈو فلیٹ‘ سے تعلق رکھنے والے ایک آئل ٹینکر پر کارروائی کرتے ہوئے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق اس چھ گھنٹے طویل آپریشن میں رائل میرینز کے ساتھ نیشنل کرائم ایجنسی کے افسران نے بھی حصہ لیا، جبکہ برطانوی فضائیہ نے معاونت فراہم کی۔ برطانیہ کی مسلح افواج کی جانب سے اپنی نوعیت کی یہ پہلی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    حکام کے مطابق ’سمیرٹوس‘ نامی جہاز کو انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے قریب روک کر نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’یہ کامیاب آپریشن روس کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے اور ان افراد کو واضح پیغام دیتا ہے جو یوکرین میں ولادیمیر پیوتن کی جنگ کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں کہ ہم انھیں چھپنے نہیں دیں گے۔‘

    وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں مسلح اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر سے رسیوں کے ذریعے جہاز پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دیگر ویڈیوز میں اہلکار جہاز کے کمروں کی تلاشی لیتے اور نیشنل کرائم ایجنسی کے افسران دستاویزات کا جائزہ لیتے نظر آتے ہیں۔

    برطانوی حکام کے مطابق روس بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے طویل عرصے سے ’شیڈو فلیٹ‘ کے نام سے تیل بردار جہازوں کا ایک نیٹ ورک استعمال کر رہا ہے۔

    وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روسی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باوجود تقریباً 75 فیصد پابندی زدہ تیل انہی جہازوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

    حکام کے مطابق 700 سے زائد جہازوں پر مشتمل یہ فلیٹ روسی حکومت کے لیے ایک اہم معاشی سہارا فراہم کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم کیئر سٹارمر نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ برطانوی مسلح افواج کو اب ان پابندی زدہ جہازوں پر کارروائی اور انھیں روکنے کا اختیار حاصل ہے جو برطانوی سمندری حدود سے گزرتے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق برطانیہ اب تک 500 سے زائد جہازوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ جہاز برطانوی بندرگاہوں میں داخل نہیں ہو سکتے، جبکہ برطانوی کمپنیوں اور افراد کو ان جہازوں کو مالی، انشورنس یا بروکریج خدمات فراہم کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

  10. ایران کے بینکوں پر سائبر حملہ: ملک بھر میں ڈیجیٹل بینکنگ شدید متاثر

    ایران کی نیشنل انفارمیٹکس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ بینک ملی کی خدمات میں پیدا ہونے والا تعطل، جو گزشتہ روز شروع ہوا تھا، اب بھی جاری ہے تاہم بعض خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔

    بینکوں کی رابطہ کونسل نے گزشتہ روز نیشنل بینکس، تجارت اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بینک کی خدمات میں خلل کی وجہ ایک ’محدود سائبر حملہ‘ قرار دی، تاہم حملے کے ذمہ دار عناصر یا ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

    کونسل کے مطابق ابتدائی تکنیکی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ صارفین کے ڈیٹا تک کسی قسم کی غیر مجاز رسائی حاصل نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی معلومات کے افشا ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

    اس سائبر حملے کے باعث موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایمز، پوائنٹ آف سیل (کارڈ ریڈر) مشینوں اور بعض کارڈ سروسز سمیت مختلف شعبوں میں خدمات متاثر ہوئیں۔

    نیشنل انفارمیٹکس کمپنی کا کہنا ہے کہ بینک تجارت اور دیگر خدمات میں درپیش مسائل اب حل کر لیے گئے ہیں، جبکہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بینک صارفین کو ضروری خدمات برانچوں کے ذریعے فراہم کر رہا ہے۔

    کمپنی کے مطابق بینک ملی کی خدمات مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔

  11. لبنان کی سر زمین سے داغے گئے دو ڈرون شمالی اسرائیل میں گرے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ لبنان کی سر زمین سے داغے گئے دو ڈرون شمالی اسرائیل میں گرے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اسرائیل کے دو انتہائی دائیں بازو کے وزرا بیزالل سموترچ اور ایتامر بن گویر نے بیروت کے جنوبی مضافات الضاحیہ پر جوابی حملوں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    اسرائیلی حکام، بشمول وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر حزب اللہ شمالی اسرائیل کے علاقوں پر حملہ کرتی ہے تو اسرائیل الضاحیہ پر حملہ کرے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن بھی اس اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

    الضاحیہ پر اسرائیل کے تازہ حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران پر حملے کیے۔

  12. مفاہمتی معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا: ایرانی خبر رساں ادارہ

    ایران کے خبر رساں ادارے فارس نے ’مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک با خبر ذریعے‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران نے مجوزہ مفاہمتی معاہدے کے بارے میں ابھی تک اپنا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ’پیش کی گئی تجاویز کے سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ اب بھی جاری ہے۔‘

    یہ خبر رساں ادارہ عسکری اور سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ’جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان کا ماہرین اور فیصلہ سازی کی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

    اسی دوران ایک قطری وفد بھی ایران پہنچا ہے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھا جا سکے۔

  13. سوئٹزر لینڈ میں آبادی کی حد ایک کروڑ پر مقرر کرنے کے لیے ووٹنگ, ایموجن فولکس، برن، سوئٹزرلینڈ

    کیا کوئی ملک یہ حد مقرر کر سکتا ہے کہ اس کی آبادی کتنی ہو گی؟

    یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سوئٹزر لینڈ میں ایک ریفرنڈم میں دیا جائے گا۔ ریفرنڈم میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا آبادی کی حد ایک کروڑ تک محدود کی جا سکتی ہے۔

    دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی اس اقدام کی حمایت کر رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے رہائش، عوامی خدمات اور ماحول پر دباؤ کم ہو گا۔ تاہم کچھ ووٹر اسے پارٹی کی امیگریشن مخالف کوشش کا حصہ خیال کرتے ہیں۔

    حکومت، دیگر سیاسی جماعتوں، کاروباری رہنماؤں اور ٹریڈ یونینز کا کہنا ہے کہ اس سے ہسپتالوں اور ہوٹلوں کو درکار عملہ میسر نہیں رہے گا اور یورپی یونین کے ساتھ طویل عرصے میں قائم تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

    سنہ 2002 میں سوئٹزر لینڈ کی آبادی 73 لاکھ تھی۔ اس کے بعد اس میں اضافہ ہوا اور اب یہ 91 لاکھ ہے۔ ان میں سے 27 فیصد ایسے رہائشی ہیں جو بیرون ملک پیدا ہوئے۔

  14. ’امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے‘ کے سلسلے میں قطری وفد کا تہران کا دورہ

    ایران میں میڈیا ذرائع کے مطابق ایک قطری وفد تہران پہنچا ہے، جس کی سربراہی اس ملک کے وزیر خارجہ کے ایک مشیر کر رہے ہیں۔

    خبروں کے مطابق دورے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھا جائے۔

    گذشتہ چند دنوں میں قطری وفد کا تہران کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر آج ڈیجیٹلی دستخط کیے جائیں گے۔

  15. جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں ایران کی یکجہتی نے دشمن کو جنگ بندی کی درخواست پر مجبور کیا: مسعود پزشکیان

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جون 2025 کی اسرائیل ایران جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان جاری کیا ہے۔

    ارنا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا: ’اسرائیلی حکومت نے سمجھا تھا کہ اعلیٰ فوجی شخصیات اور سٹریٹیجک تنصیبات پر حملوں سے ایرانی قوم کمزور ہو جائے گی اور ملک عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا، تاہم یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔‘

    مسعود پزشکیان کے بیان کے مطابق ’رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مل کر عوام کی مزاحمت اور مسلح افواج کی تیاری نے ان اہداف کو پورا ہونے سے روکا اور بالآخر مخالف کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔‘

    انھوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران معاشی مشکلات کے مقابلے میں شہریوں کے صبر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی انتظامیہ شدید دباؤ کے باوجود عوامی خدشات کو دور کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیان کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت نے عوام کے مسائل کو ایک لمحے کے لیے بھی نظر انداز نہیں کیا۔

  16. جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے: شمالی کوریا

    شمالی کوریا نے اتوار کے روز کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے (ڈینوکلیئرائزیشن) کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے میں شائع بیان میں کہا ہے ’امریکہ اور اس کی ماتحت افواج کی جانب سے ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (شمالی کوریا) کے خلاف بے معنی بیان بازی اور اس کے خلاف جوہری خطرہ پیدا کرنے کے لیے تعاون کی کوشش شمالی کوریا کی ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی حیثیت کو متاثر نہیں کر سکتی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے‘ کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

    گذشتہ ہفتے، امریکہ اور جنوبی کوریا کے حکام نے سیول میں اپنے نیوکلیئر کنسلٹیٹو گروپ کے تحت ہونے والے مذاکرات میں شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے اسلحہ پروگرام کے مقابلے کے لیے جوہری ڈیٹرنس اور دیگر اقدامات پر تبادلہخیال کیا تھا۔

  17. تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدہ: ایرانی اخبارات کیا کہتے ہیں؟

    اتوار کی صبح ایران میں شائع ہونے والے اخبارات کے صفحۂ اول پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ معاہدے پر دستخط کی خبریں نمایاں رہیں۔

    کیھان اخبار میں اس متعلق شائع ہونے والی خبر کی شہہ سرخی تھی کہ ’جنگ میں ملی جیت کو ایک خراب معاہدے سے شکست میں نہ بدلیں‘۔ اخبار نے سوال اٹھایا کہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے انتظام، جنگ میں ہونے والے نقصان کا معاوضہ، خطے سے امریکہ انخلا اور تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے متعلق معاہدے میں کیا طے پایا ہے۔

    دوسری جانب، سرکاری اخبار کی شہہ سرخی ہے ’یہ قومی فیصلوں کی حمایت کا وقت ہے‘۔ اخبار نے زور دیا ہے کہ سیاستدان، کارکن اور اراکینِ پارلیمان کی حمایت ضروری ہے۔

    اعتماد اخبار نے اس اس پیشرفت کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے جوہری معاملے پر مذاکرات، پابندیاں ہٹانے اور ایران کے منجمد اثاثوں جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سیاسی تحریک کے نزدیک سمجھے جانے والے اخبار ’صبح امروز‘ کی شہہ سرخی تھی کہ ’اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرنے والے اپنے کام پر لگ گئے ہیں‘۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل غیر ضروری تجزیوں کو ہوا دینا جائز نہیں۔ خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے زمانے میں ہم آہنگی برقرار رکھنا محض اخلاقی نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔

    دریں اثنا اخبار ’سازندگی‘ نے سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے رشتہ دار میثم نیلی کی جانب سے معاہدے کے مخالفین کو خاموش نہ بیٹھنے کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے ’بدامنی کے لیے کال؟‘ کی شہہ سرخی لگائی ہے۔

  18. ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی 17 جون کو پیرس میں ملاقات متوقع

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان فرانس میں جی-سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔

    انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے امریکی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 17 جون کو ہو گی۔

    صدر ٹرمپ سوموار کی صبح جی-سیون اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس روانہ ہوں گے۔

    ایک اور انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے سینیئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے 17 جون کو ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان گذشتہ برس فروری کے مہینے میں واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی۔

    یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عمان کے ساحل کے نزدیک ایک بحری جہاز پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر دونوں ملکوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

    انڈین وزیرِ خارجہ جے ایس شنکر نے کہا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں کے خلاف ایسی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی ٹرانسپورٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

  19. امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج: ’قالیباف، عراقچی، ہمارے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر آج دستخط طے پائے ہیں تاہم اس معاہدے کے کچھ مخالفین نے عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے خلاف تہران میں مظاہرہ کیا ہے۔

    یہ مظاہرہ تہران کے ابنِ سینا چوک میں منعقد ہوا جہاں مظاہرین نے ’شرم کرو عراقچی، ملک چھوڑ دو‘ اور ’قالیباف، عراقچی، ہمارے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔

    اسی دوران گذشتہ شام مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر عباس عراقچی کے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بیانات کے خلاف احتجاج کیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو کے مطابق مشہد میں مظاہرین نے عراقچی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ معاہدے کے مخالفین کا خیال ہے کہ ایسا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں اور تہران کو آبنائے ہرمز میں حاصل برتری کو کم کر دے گا۔

    عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ معاہدے میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہوگا۔ انھوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کے بنیادی ہتھیاروں میں سے ایک قرار دیا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، جن کی آزادانہ طور پر اے ایف پی تصدیق نہیں کر سکا، میں پارلیمان کے سپیکر اور ایران کے اہم مذاکرات کاروں میں سے ایک محمد باقر قالیباف کے خلاف بھی نعرے بازی دکھائی گئی ہے۔

  20. فنانس بل 2026-27 پر سینیٹ کمیٹی کے سخت سوالات اور تجاویز, تنویر ملک، صافی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فنانس بل 2026-27 اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی غور کیا، جس میں کسٹمز اور سیلز ٹیکس سے متعلق اہم ترامیم زیر بحث آئیں۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کی، جنھوں نے بجٹ میں بار بار کیے جانے والے ’تجربات‘ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی اصلاحات مطلوبہ نتائج نہیں دیتیں اور بعد میں واپس لینا پڑتی ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی سمیت متعدد سینیٹرز شریک ہوئے۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔

    سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کو سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا، جبکہ سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ بعض صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہے۔

    اجلاس میں ضبط شدہ سامان کی نیلامی نجی شعبے کے ذریعے کرانے کی ایف بی آر تجویز منظور کر لی گئی۔ کسٹمز کلیئرنس کے لیے مقررہ مدت طے کرنے کی تجویز پر اتفاق ہوا۔

    کسٹمز قوانین میں جرمانے کے اختیارات ایف بی آر کو دینے کی تجویز پر اختلاف سامنے آیا۔ سیلز ٹیکس اصلاحات ایف بی آر نے کمیٹی کو ایڈوانس رسید انوائس سسٹم، پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم اور نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام پر بریفنگ دی۔

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ الیکٹرانک انوائسنگ سے کاروباری لین دین کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ٹیکس پالیسی آفس سال بھر تاجروں سے مشاورت جاری رکھے گا۔ آئندہ اجلاس کمیٹی فنانس بل 2026-27 کی شق وار جانچ کا عمل آج دوپہر دوبارہ شروع کرے گی اور اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرے گی۔