آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی ‘ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’اب سے تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب ہر ملک نے اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔ اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان 'مکمل جنگ بندی ' کا اعلان کیا ہے۔
  • اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کا پیغام ان الفاظ میں دیا ’مبارک ہو دنیا، اب امن کا وقت ہے‘۔
  • امریکی صدر نے کہا ہے کہ شاید ایران اب خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، اور میں اسرائیل کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دوں گا
  • ایران کا کہنا ہے کہ اس نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔
  • قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایران پر امریکی حملوں پر پینٹاگون میں بریفنگ: بیان بازی زیادہ، شواہد کم, گیری او ڈونوھیو، شمالی امریکہ کے چیف نامہ نگار

    پینٹاگون میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کی بریفنگ میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے متعلق بہت سی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    اس بریفنگ میں دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے بہت کچھ تھا۔ لیکن ایک بات جو ہمیں بریفنگ کے دوران دو مرتبہ سننے کو ملی وہ یہ تھی کہ ابھی بھی نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    اس کی توقع کی جا سکتی تھی۔ لیکن دوسری جانب صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے‘۔

    اگر آپ اب بھی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں تو آپ اس بات کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں؟

    بریفنگ میں بیان بازی تو بہت کی گئی لیکن شواہد تقریباً نہ ہونے کے برابر پیش کیے گئے۔

    ہمیں بمبار جہاز جس راستے سے گئے اس کی تو تصاویر شیئر کی گئیں لیکن جوہری تنصیبات کی تباہی کے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

    لہذا، ابھی کے لئے، میری نظر میں یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس سب سے کیا حاصل ہوا ہے۔

    اس دوران نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ امریکی میڈیا پر ایران کو تنبیہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    وینس کہتے نظر آتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ’کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘

    توقع ہے کہ اس بیانے کو دن بھر پھیلایا جائے گا، کیونکہ صدر کے نمائندے امریکہ کے اتوار کی صبح کے سیاسی ٹاک شوز میں حصہ لینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

  2. سیٹیلائٹ تصاویر: امریکی حملے کے بعد ایران کی جوہری تنصیب پر تازہ گڑھے، سرمئی دھول اور ملبے کے آثار

    نئی سیٹیلائٹ تصاویر میں امریکہ کی جانب سے ایران کی فردو میں زیرِ زمین جوہری افزودگی کی تنصیب کی امریکی حملے کے بعد کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    بائیس جون کو بنائی گئی ان ہائی ریزولوشن تصاویر میں چھ نئے گڑھے دیکھے جا سکتا ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی بموں کا داخلی پوائنٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرمئی دھول اور پہاڑ کے ساتھ ملبے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    میکنزی انٹیلیجنس سروسز میں سینیئر امیجری اینالسٹ سٹو رے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ’آپ کو داخلی راستے پر بڑے دھماکے کے آثار نہیں دکھائی دیں گے کیونکہ یہ داخلی پوائنٹ پر پھٹنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا بلکہ تنصیب میں گہرائی میں جا کر پھٹتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دو مختلف داخلی پوائنٹس پر تین مرتبہ بم گرائے گئے اور زمین پر موجود سرمئی دھول کنکریٹ کا ملبہ دکھائی دیتی ہے جو دھماکے کے باعث بھکرا ہوا ہے۔

    رے کا مزید کہنا ہے کہ سرنگ کا داخلی راستہ بظاہر ہند کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے قریب بظاہر کوئی ظاہری گڑھا موجود نہیں ہے، رے سمجھتے ہیں کہ یہ شاید ایران کی جانب سے کسی بھی فضائی بمباری سے بچنے کے لیے کیا گیا ہوں۔‘

    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں سے جوہری تنصیب کو کتنا نقصان ہوا ہے۔

    ہم اس سے پہلے یہ رپورٹ کر چکے ہیں حملے سے قبل ایران فردو میں تنصیب کو بچانے کے لیے کوشاں تھا۔

  3. اسرائیل نے بو شہر کے نزدیک دو مقامات کو نشانہ بنایا ہے: ایرانی میڈیا

    پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والی ایرانی نیوز اجنسی فارس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی شہر بوشہر کے نزدیک دو مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق، یزد شہر کے کئی مقامات پر فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے یزد کے الغدیر یونٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے صوبے میں دو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بوشہر میں ایک جوہری توانائی کا پلانٹ واقع ہے۔

    گذشتہ روز عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ اگر بوشہر کے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر تابکاری کے اثرات پھیلنے کا خطرہ ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے ایرانی میڈیآ کی اس خبر پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

  4. ہماری جنگ ایران کے نہیں اس کے جوہری عزائم کے خلاف ہے: امریکی نائب صدر

    پینٹاگون بریفنگ کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے این بی سی نیوز کو مختصر انٹرویو دیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ ایران کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا۔ ہماری جنگ اس کے جوہری عزائم کے خلاف ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کا ماننا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے۔

    وینس کی جانب سے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ یہ بات سچ نہیں کہ یہ آپریشن ان کی صدارتی اتھارٹی سے باہر تھا۔

    نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اب ’مستقل طور پر‘ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

  5. کیا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک اور جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے؟

    بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ سے امریکی سابق فوجیوں کے اِن خدشات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے نام پر مشرق وسطیٰ میں ایک اور ایسی جنگ میں ملوث ہونے جا رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

    امریکی وزیرِ دفاع نے جواب دیا کہ یہ کوئی ایسی جنگ نہیں جو ختم نہ ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انھیں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنے کا ایک ’طاقتور اور واضح مشن‘ دیا ہے۔

    ہیگسیتھ کا مزید کہنا ہے کہ یہی بات ایرانی حکومت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’جیسا کہ صدر نے کل رات کہا، وہ امن چاہتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  6. امریکی حملے کا مقصد ایران میں رجیم چینج نہیں تھا: پیٹ ہیگسیتھ

    پینٹاگون میں بریفنگ کے بعد امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران پر حملے کا مقصد وہاں حکومت کی تبدیلی تھا۔

    پیٹ ہیگسیتھ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشن کا مقصد ایران میں رجیم چینج نہ تھا اور نہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام سے امریکہ کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے ایک آپریشن کی منظوری دی تھی۔

  7. ایران کے کسی بھی ردعمل کا جواب زیادہ طاقت سے دیا جائے گا: امریکی وزیرِ دفاع

    پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران میں آپریشن دلیرانہ اور شاندار تھا۔‘ اور یہ کہ ایران کو امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے جبکہ امریکی صدر بھی امن کے خواہاں ہیں۔

    تاہم پھر انھوں نے امریکی صدر کی جانب سے گذشتہ شب سوشل میڈیا پر دیے گئے بیغام کو دہرایا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ردعمل کا کہیں زیادہ طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

    امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’ایران کو عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان الفاظ پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں اور وہ اس پر عمل کا ارادہ بھی رکھتے ہیں‘۔

    پیٹ ہیگسیتھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں امریکہ کے ’متعدد صدور نے ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی وار کرنے کا خواب دیکھا تھا لیکن ٹرمپ کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہ کر سکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب صدر ٹرمپ بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے۔ کوئی بھی اور ملک ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘

  8. ’ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا‘، امریکی وزیرِ دفاع کا دعویٰ

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر امریکی حملے کے بعد اتوار کو محکمۂ دفاع میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ بریفنگ کے دوران وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس حملے نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کن نقصان پہنچایا ہے لیکن اس میں ایرانی فوجی یا شہری متاثر نہیں ہوئے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’امریکی حملے میں ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن ابتدائی اندازے یہی ہیں کہ ہمارا ہدف پر درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود وہیں گرے جہاں ہم ان سے نشانہ لگانا چاہتے تھے اور اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس نے فردو کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے جو اس کا مرکزی ہدف تھا۔

  9. کیا ایران چند ماہ میں ایٹمی طاقت بننے والا تھا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایران میں تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو تباہ کرنا اور دنیا میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی نمبر ون ریاست کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔‘

    فردو، نطنز اور اصفہان میں حملے ایک ایسے موقع پر کیے گئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے دسویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور اب ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ بھی اس کا حصہ بن گیا ہے۔

    اس لڑائی کا آغاز 13 جون کو ایران میں اسرائیل کی جانب سے جوہری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا جس میں ایران کی عسکری قیادت اور نمایاں جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے تھے۔

  10. ایران کا جواب ایسا ہوگا جس کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں ہو گا: پاسداران انقلاب

    ایران کے پاسداران انقلاب نے فرودو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کو امریکہ اور اسرائیل کا مربوط آپریشن قرار دیتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور قومی خودمختاری کے اصول کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ آج کے حملوں نے ایران کو اپنے دفاع کے جائز حق کے تحت جواب دینے کا اختیار دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سرزمین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اب سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے جو ان کے لیے پچھتاوا کا سبب بنے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا جواب ایسا ہوگا جس کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث امریکی طیاروں کی پرواز کے مقام کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے امریکہ کے لیے طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی کمزوری ہے۔

  11. فردو جوہری تنصیب کے باہر حملے سے چند روز قبل ’ٹرکوں اور گاڑیوں کی غیرمعمولی نقل و حرکت‘ کی سیٹیلائٹ تصاویر

    تاحال ہم نے ان تنصیبات کی ہائی ریزولوشن سیٹیلائٹ تصاویر نہیں دیکھی ہیں جن سے امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے باعث ہونے والی ممکنہ تباہی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    تاہم سیٹیلائٹ فرم میکسار کی جانب سے فردو یورینیئم افزودگی پلانٹ کی گذشتہ چند روز کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔

    میکسار کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر 19 اور 20 جون کو بنائی گئی تھیں اور ان میں اس تنصیب کے قریب ’ٹرکوں اور گاڑیوں کی غیرمعمولی نقل و حرکت‘ دیکھی جا سکتی تھی۔

    پہلی تصویر میں 16 کارگو ٹرک ایک روڈ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو ایک سرنگ کے دہانے کے قریب ہیں اور اس کے بعد کی تصویر ٹرکس اور بلڈوزرز کو اس تنصیب کے پاس دیکھا جا سکتا ہے۔

    قریب ہی مزید گھڑے کھودنے کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں اور زمین پر مزید تعمیرات کے آثار بھی جن میں سرنگوں کے دہانے پر بھی آثار دکھائی دیتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران حملوں کی تیاری کرتے ہوئے کمپلیکس کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    جمعے کو بنائی گئی ایک تصویر میں نیا تعمیر کردہ دفاعی تعمیرات بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو سائٹ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

  12. کل روس جا رہا ہوں، صدر پوتن سے ملاقات میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ آج ماسکو جا رہے ہیں اور کل ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے ہے۔

    ’روس ایران کا دوست ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک پارٹنرشپ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور روس ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے آئے ہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بارے میں بھی ایران روس کو آگاہ کرتا آیا ہے اور کل بھی روسی صدر سے مشاورت ہو گی۔

    ’ہمیں معلوم ہے کہ روس اور چین اس لڑائی کو روکنے کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

    ’فی الحال جوہری تنصیبات پر حملے سے نقصان کی تفصیلات دستیاب نہیں‘

    عراقچی کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں ان کے پاس فی الحال تفصیلات دستیاب نہیں۔ ’لیکن یہ بات اہم نہیں کہ اس سے کتنا نقصان ہوا، جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی ایسی خلاف ورزی ہے جس کی معافی نہیں دی جا سکتی اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کو سفارتکاری کی طرف لوٹنے کے لیے کہنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین ہو رہے مذاکرات کو اسرائیل نے سبوتاژ کیا جبکہ دو روز قبل جینیوا میں یورپی عہدیداروں سے ایران کے مذاکرات ہوئے جسے امریکہ نے حملہ کر کے سبوتاژ کر دیا۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کا گرین سگنل اس وقت دیا جب واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات ہو رہے تھے۔

    ’میرے خیال میں انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتکاری میں یقین نہیں رکھتے اور وہ صرف دھمکیوں اور طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔‘

  13. ایران پر امریکی حملے: پاکستان سمیت بیشتر ممالک کی مذمت، سوشل میڈیا پر ایک بار پھر’تیسری عالمی جنگ‘ کی باتیں

    دنیا میں کہیں بھی جب بھی کوئی بڑا تنازع جنم لیتا ہے تو سوشل میڈیا پر تیسری جنگ عظیم کے خطرات یا اس کی ابتدا کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔

    تین سال قبل جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا تو ہم نے سوشل میڈیا پر تیسری جنگ عظیم کو ٹرینڈ کرتے دیکھا تھا اور بہت سے صارفین نے اسے بھی تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔

    اسی طرح گذشتہ ماہ کے اوائل میں جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جھڑپ ہوئی تو لوگوں نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان تنازعے کو بھی تیسری جنگ کی ابتدا سے تعبیر کیا اور اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے بیچ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کو تیسری جنگ عظیم کی ابتدا قرار دیا جا رہا ہے۔

    13 جون کو ایران کے مختلف اہداف پر اسرائيل کے اچانک حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسی درمیان سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایران کے تین مقامات پر امریکی حملے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس سے خطے میں 'افراتفری' پھیل سکتی ہے جو کہ پہلے سے ہی 'کشیدہ صورت حال' سے دوچار ہے۔

  14. ہمارے پاس کئی آپشنز ہیں، امریکہ ہمارے جواب کا انتظار کرے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے ’پرامن ایٹمی پروگرام‘ پر امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے امریکہ نے ریڈ لائن عبور کی ہے۔

    اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن میں موجود جنگی جنون کی شکار حکومت اپنی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے ذمہ دار ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ایران کیا آپ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا، عباس عراقچی نے کہا کہ بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے پاس کئی آپشن ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب ہم مذاکرات کر رہے تھے تب بھی ہمیں مغربی ممالک پر بھروسہ نہیں تھا۔ اب ہمارے پاس مزید وجوہات ہیں کہ ہم ان پر بالکل بھروسہ نہ کریں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتکاری کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔ ’مگر ہم ابھی ایسی صورتحال میں نہیں کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیسے سفارکاری کو ایک بار پھر موقع دیں اور کس کے ساتھ۔ تو فی الحال ہمارے جواب کا انتظار کریں۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران عراقچی نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی جانی چاہیے ورنہ اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی نفی ہوگی‘

    ’ایران این پی ٹی کا دستخط کنندہ ہے لیکن یہ معاہدہ اسے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ایران اور دیگر ممالک جو پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ این پی ٹی پر دستخط کیوں کریں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران اور امریکی عوام دونوں کو ’دھوکہ دیا۔‘

    اعباس عراقچی کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وعدے پر منتخب ہوئے تھے کہ وہ امریکہ کی ہمارے خطے میں مہنگی جنگوں میں شمولیت کو ختم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران کے ساتھ اس سفارتکاری کے عزم کا غلط استعمال کیا بلکہ اپنے ہی ووٹروں کو بھی دھوکہ دیا۔

  15. ایرانی وزیرِ خارجہ: ہم مذاکرات کی میز پر کیسے واپس آئیں جب ہم وہاں سے گئے ہی نہیں؟

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین ہو رہے مذاکرات کو اسرائیل نے سبوتاژ کیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے ایران اور یورپی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن امریکہ نے سفارتکاری کے اس موقع کو برباد کر دیا۔

    ایرانی وزیر نے سوال کیا کہ اس سے آپ کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور یورپی اعلیٰ عہدیدار کہتے ہیں کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ ’مگر ایران کسی ایسی جگہ کیسے لوٹ سکتا جہاں سے وہ گیا ہی نہیں۔‘

  16. بی 2 بمبار طیارے اور دنیا کے سب سے طاقتور غیر جوہری ’بنکر شکن‘ بم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی عہدیداروں نے امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ایم او پی بموں کا استعمال کیا گیا اور ہر ہدف پر دو ایسے بم گرائے گئے۔

    سٹیلتھ بمبار کے نام سے مشہور امریکی بی-2 سپرٹ طیارہ ہی یہ بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس ویڈیو میں ان دونوں کی خصوصیات جانیے۔

  17. امریکی حملوں سے ایرانی جوہری پروگرام کو خاطرخوا نقصان پہنچا ہے: اسرائیلی صدر کا دعویٰ

    اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے بی بی سے کی نامہ نگار لورا کوئنسبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حملوں کو ’تاریخی‘ اور ’بہادرانہ‘ فیصلے قرار دیے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کر دی گئی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں تفصیلات معلوم نہیں۔ تاہم ہرزوگ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں ایرانی جوہری پروگرام کو خاطرخوا نقصان پہنچا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل نے براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملے کی درخواست کی تھی، آئزک ہرزوگ کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ انھوں نے امریکیوں پر چھوڑ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔

    ہرزوگ نے اس بات کا تو جواب نہیں دیا کہ آیا اسرائیل اب ایران پر حملے روک دے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران سے اسرائیلی سرزمین پر میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ’ہمیں ان میزائلوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے جو ضروری ہے کرنا ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا ایک طریقہ بین الاقوامی سطح پر اس سے نمٹنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس تنازع سے نکلنے کی حکمت عملی موجود ہو۔

  18. ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس کا طلب

    جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’ایران میں جاری ہنگامی صورتحال کی روشنی میں‘ کل آئی اے ای اے کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ محمد اسلم نے آئی اے ای اے کو خط لکھ کر امریکی حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق، انھوں نے عالمی جوہری توانائی کے نگران ادارے سے امریکی حملوں کی مذمت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی حملوں کے بعد ائی اے ای اے نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران میں جوہری تنصیبات کے گرد ’تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘۔

    ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی اے ای اے کی جانب سے اس بارے میں مزید تجزیہ تب کیا جائے گا جب صورتحال کے حوالے سے مزید معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔‘

  19. پاکستان کی ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت: ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے‘

    پاکستان نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جارحیت کی وجہ سے کشیدگی اور تشدد میں غیر معمولی اضافہ انتہائی پریشان کن ہے۔ ’کشیدگی میں مزید اضافے سے خطے اور اس سے باہر کے لیے شدید نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

    پاکستان نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قوانین بالخصوص بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کی اپیل کی ہے۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے کے بحرانوں کو حل کرنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔

  20. ایرانی حملوں کے بعد تل ابیب میں ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش جاری

    تل ابیب پر ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملے کا نشانہ بننے والی ایک عمارت سے چھ افراد کو نکال لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، تمام افراد معمولی زخمی ہیں۔

    پولیس کا مزید کہنا ہے تلاش کی جا رہی ہے کہ کہیں کوئی شخص عمارت کے ملبے تلے تو نہیں دبا ہوا۔

    اس سے قبل اسرائیل کی ہنگامی امداد کے ادارے نے بتایا تھا کہ ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے 16 افراد کا علاج جاری ہے۔