آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی ‘ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’اب سے تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب ہر ملک نے اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔ اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان 'مکمل جنگ بندی ' کا اعلان کیا ہے۔
  • اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کا پیغام ان الفاظ میں دیا ’مبارک ہو دنیا، اب امن کا وقت ہے‘۔
  • امریکی صدر نے کہا ہے کہ شاید ایران اب خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، اور میں اسرائیل کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دوں گا
  • ایران کا کہنا ہے کہ اس نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔
  • قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. تہران میں جیل، بسیج فورس کے ہیڈکوارٹر اور فردو جوہری مرکز پر نئے اسرائیلی حملے

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں تہران میں بسیج فورس کے ہیڈکوارٹر اور اوین جیل کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اوین جیل میں سیاسی قیدی اور ایرانی ’حکومت کے دشمن‘ قید ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی کے پاس اک تصدیق شدہ سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہے جس میں اوین جیل کے دروازے پر دھماکہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایرانِ کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی فارس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی ڈرون یا دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اوین جیل کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی عدلیہ نے بھی جیل پر حملے اور وہاں ہونے والے نقصان کی تصدیق کی ہے۔ تاہم فارس نیوز کے مطابق صورتحال ’قابو میں ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے سرکاری حکام کے بیانات کے مطابق اسرائیل نے ایران میں فردو جوہری مرکز پر بھی حملے کیے ہیں۔

    ارنا اور تنسیم نیوز ایجنسی پر صوبہ قُم کی کرائسز مینجمنٹ اتھارٹی کے نشر ہونے والے بیان کے مطابق اسرائیلی نے جوہری مرکز پر حملہ کیا ہے تاہم اس کے سبب ’شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل امریکی ایئرفورس نے بھی فردو میں قائم زیرِ زمین جوہری مرکز پر ’بنکر بسٹر بموں‘ کے ذریعے حملہ کیا تھا۔

  2. ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے – تازہ ترین اطلاعات کیا ہیں؟

    آج صبح سے ہی ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے خلاف حملے بڑھا دیے ہیں۔

    آج صبح سے دونوں کے درمیان کیا ہوتا رہا ہے؟

    اسرائیل

    • ایران نے اسرائیل کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے۔
    • جنوبی اسرائیل میں بجلی کی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملے کے سبب آٹھ ہزار اسرائیلی شہری بجلی سے محروم ہو گئے۔
    • ان حملوں میں اسرائیلی حکام نے کسی شہری کے زخمی یا ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ایران

    • اسرائیل نے بھی آج صبح سے ایران پر حملوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران پر ’بے انتہا قوت‘ کے ساتھ حملے کیے جا رہے ہیں۔
    • اسرائیلی وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ تہران میں ’حکومتی علامات‘ سمجھے جانے والے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    • جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد ایرانی عسکری قیادت نے امریکہ کو ’فیصلہ کُن ردِعمل‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔
    • یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ ایران کہیں آبنائے ہرمز نہ بند کر دے جہاں سے دنیا کو درکار 20 فیصد تیل کی فراہمی کی جاتی ہے۔
  3. ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں تیل کتنا مہنگا ہوسکتا ہے؟, ایما ہیسلیٹ، بزنس رپورٹر

    پیر کی صبح جب تیل کی عالمی منڈی میں کاروبار کا آغاز ہوا تو اس کی برینٹ کروڈ آئل کی فی بیرل قیمت اچانک ہی پانچ اعشاریہ سات فیصد تک بڑھ کر 81 اعشاریہ 40 ڈالر پر پہنچ گئی جو کہ گذشتہ پانچ مہینوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔

    تاہم اگلے کچھ ہی گھنٹوں میں اس میں کمی آئی اور اس کی قیمت 77 اعشاریہ 20 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق ملک کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم اس حوالے سے آخری فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کرے گی۔

    خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحد کے درمیان موجود ہے جو ایک مقام پر صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے۔

    ڈنمارک کے ساکسو بینک سے منسلک اولے ہانسن کہتی ہیں کہ تیل کے تاجروں کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کے اگلے اقدام کا انتظار ہے۔

    اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دیتا ہے تو تیل کی عالمی مارکیٹ میں ایک بار بھر ہلچل نظر آئے گی۔

    روئٹرز کے مطابق گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دیتا ہے ہے تو برینٹ آئل کی فی بیرل قیمت 110 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔

  4. ایرانی میزائل حملے کے سبب ہزاروں شہری بجلی سے محروم ہوگئے: اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ آج صبح ایرانی میزائل حملوں کے بعد ملک میں تقریباً آٹھ ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔

    ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نے ’بجلی کی تنصیبات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی صورت میں پہلے ہی تیاریاں‘ کر رکھی تھیں اور آئندہ تین گھنٹوں میں وہ بجلی کی فراہمی بحال کر دیں گے۔

    اس سے قبل اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن (آئی ای سی) نے ملک کے جنوب میں ’ایک سٹریٹجک مقام پر نقصان‘ کی اطلاع دی تھی جس کے سبب متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔

    اسرائیلی کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی ای سی کی ٹیمیں متعدد مقامات کی طرف بھیج دی گئی ہیں اور ان کا مقصد جلد از جلد بجلی کی فراہمی بحال کرنا ہے۔‘

  5. آئی اے ای اے کی ایران میں جنگ بندی کی اپیل, بیتھنی بیل، ویانا

    جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ ادارے کے معائنہ کار ایران میں جوہری مقامات کا معائنہ کر سکیں۔

    ایک بیان میں گروسی کا کہنا تھا کہ: ’گراؤنڈ پر موجود حقائق جاننا کسی بھی معاہدے کی پیشگی شرط ہے اور یہ آئی اے ای اے کے جائزے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی اور سکیورٹی کی بہتری ضروری ہے تاکہ ایران آئی اے ای اے کی ٹیموں کو وہاں حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دے سکے۔

  6. پینٹاگون نے جوہری تنصیبات پر حملے سے پہلے کیسے ’ٹاپ سیکرٹ‘ پروازوں کے ذریعے دنیا کی نظریں ایران سے ہٹا کر ایک جزیرے پر مرکوز کروا دیں

    18 گھنٹے طویل پرواز، دوران پرواز ری فیولنگز اور مسلسل چکمہ دینے کی کوشش۔۔۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کے مشن کی تفصیلات امریکہ کے سب سے سینیئر فوجی افسر جنرل ڈین کین نے گذشتہ روز بتائی تھیں۔

    تاحال امریکہ کے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے مکمل نتائج واضح نہیں ہے لیکن اتوار کی صبح امریکہ میں پینٹاگون بریفنگ کے دوران اس پیچیدہ آپریشن کی تفصیلات بتائی گئیں۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی بمبار طیارے 'ایران میں داخل ہوئے اور پھر واپس پہنچے لیکن دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔'

    یہ سب اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر، نائب صدر، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور اہم پینٹاگون اہلکار وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں جمع ہوئے جب امریکی ریاست مزوری میں امریکی فضائی اڈے سے طیاروں کی ایک بڑی تعداد نے پرواز بھری۔

    پینٹاگون رات کے اندھیرے میں بی 2 سٹیلتھ بمبار طیارے رات 12 بجے وائٹمین فضائی اڈے سے اڑے۔ ان کا ہدف: ایران کی جوہری تنصیبات۔

  7. اگر ہم نے آج ایران کے لیے آواز نہیں اٹھائی تو کل ہمارے لیے بولنے والا کوئی نہ ہوگا: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے آج ایران کے لیے آواز نہیں اٹھائی تو کل ہمارے لیے بولنے والا کوئی نہ ہوگا۔

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی فوجی قیادت کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سائنسدانوں، میڈیا اور صحافیوں کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔

    سابق وزیرِ خارجہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کو بین الاقوامی قانون کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دیا۔

    ’اگر ان نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں وہاں سے تابکاری پھیلتی تو اس کا نقصان صرف ایران تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک بشمول پاکستان تک پہنچتے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکی عوام کو جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کر رہی ہے جبکہ امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے عراق کے بارے اسی طرح کا جھوٹ بولا گیا اور اب ایران کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔

    بلاول بھٹو نے دوسری عالمی جنگ پر لکھی گئی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’پہلے وہ فلسطینیوں کے پیچھے آئے، پھر لبنان کے، پھر یمن کے اور اب ایران کے، اگر ہم نے آج بھی آواز نہیں اٹھائی تو جب وہ ہمارے پیچھے آئیں گے تو ہمارے لیے بھی کوئی بولنے والا نہیں ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت کو روکنا ہوگا۔

    ’ہم ایسا دن دیکھنا چاہیں گے جب ہم سب امن کے ساتھ رہ سکیں، لیکن اس امن کو حاصل کرنے کے لیے اسی وقت کام کر سکیں گے جب نتن یاہو کی حکومت کی ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ کو روکا جائے، لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری اور فلسطینی سرزمین پر نسل کشی روکنے پر مجبور کیا جائے۔‘

  8. ’یہ جنگ شروع آپ نے کی ہے لیکن اسے ختم ہم کریں گے‘: پاسداران انقلاب کی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان ابراہیم زلفقاری کا کہنا ہے کہ امریکہ براہ راست جنگ میں شامل ہو گیا ہے اور اس نے ایران کی ’مقدس سرزمین‘ کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خلاف ’طاقتور اور ٹارگٹڈ آپریشنز‘ کیے جائیں گے اور اسے ’بھاری، افسوسناک اور غیر متوقع نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی صدر کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے ترجمان نے انگریزی میں کہا، ’مسٹر ٹرمپ، جواری! یہ جنگ شروع آپ نے کی ہے لیکن اسے ختم ہم کریں گے!‘

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایران کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کو ایک آپریشن روم میں ساتھی افسران سے بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ویڈیو میں ایرانی کمانڈر ان چیف کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ماضی میں جب بھی امریکہ نے ایران کے خلاف ’مجرمانہ کارروائی‘ کی تو انھیں اس کا ’فیصلہ کن جواب ملا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔‘

    دریں اثنا، ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے کے بعد ان کی افواج کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف ’کسی بھی قسم کی کارروائی‘ کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران ’کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘

  9. اسرائیل کا چھ ایرانی ہوائی اڈوں پر حملے میں 15 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایران کے چھ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں مغربی، مشرقی اور مرکزی ایران میں واقع ایئر پورٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق، ڈرون حملوں میں ایران کے ایف-15 اور ایف-5 لڑاکا طیارے، ایک ری فیولنگ جہاز اور ایک اے ایف-1 کوبرا ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ حملوں میں رن ویز اور زیرِ زمین بنکرز بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ یہ حملے کب ہوئے۔ ایران کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

  10. گذشتہ رات ایران سے اسرائیل پر صرف ایک میزائل داغا گیا

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے مغربی ایران کے علاقے کرمانشاہ میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    رات بھر 20 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے میزائل سٹوریج اور لانچ سائٹس کے ساتھ ساتھ ایرانی ریڈار اور سیٹلائیٹ سسٹم کو بھی نشانہ بنایا۔

    اسرائیل نے ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو کم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ رات کے حملے اس تنازع کے دوران ہونے والے سب سے شدید حملوں میں سے ایک تھے۔

    دوسری جانب، ایران نے بظاہر پوری رات میں اسرائیل پر صرف ایک میزائل داغا ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق اس میزائل کو امریکی فضائی دفاعی نظام کی مدد سے مار گرایا گیا تھا۔ یہ نہ صرف امریکی حمایت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام پر کتنا دباؤ ہے۔

    اس کے علاوہ اسرائیل کے جنوبی ساحلی علاقے ایلات میں ایک ایرانی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے محدود جوابی کارروائی شاید یہ ظاہر کرتی ہے کہ دس روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے بعد اس کی میزائل صلاحیتوں میں کتنی کمی آئی ہے۔

    ایک اور امکان یہ ہے کہ شاید ایرانی قیادت اپنے اگلے اقدام پر غور کرتے ہوئے جوابی کارروائی کے وقت کا تعین کر رہی ہے۔ وہ جوابی کارروائی جس کا اس نے وعدہ کیا ہے۔

  11. ’ماسکو کی جانب سے ایران کو فوجی امداد ملنے کا امکان کم ہے‘, سٹیو روزنبرگ، ایڈیٹر روس

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ماسکو میں موجود ہیں جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے ہے۔ اس ملاقات کے دوران وہ روسی صدر سے ایران اور روس کو درپیش ’مشترکہ چیلنجز اور خطرات‘ کے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔

    روس نے ایرانی جوہری تنصیباt پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔‘

    اگر آج عباس عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات ہوتی ہے تو امکان ہے کہ صدر پوتن ایران کی حمایت میں بیان دیں۔ لیکن ماسکو کی جانب سے فوجی امداد ملنے کا امکان کم ہے۔

    مثال کے طور پر، ابھی روس کی ترجیح یوکرین جنگ ہے۔ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کا معاہدہ ہے لیکن یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں ہے اور اس کے تحت ماسکو تہران کو فوجی مدد فراہم کرنے کا پابند نہیں۔

    گذشتہ ہفتے ہوتن نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اب تک روس سے فوجی امداد کی درخواست نہیں کی ہے۔ اور ان کے بیان سے ایسا لگتا ہے انھیں اس کی کوئی جلدی بھی نہیں۔

    روس ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی اچھے ورکنگ ریلیشن استوار کرنا چاہتا ہے۔

  12. ایران میں اسرائیل کے ساتھ ’انٹیلی جنس تعاون‘ کے جرم میں ایک شخص کو پھانسی

    ایران نے اسرائیل کے ساتھ ’انٹیلی جنس تعاون کے جرم‘ میں ایک شخص کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نے اس شخص کی شناخت محمد امین مہدوی شائستہ کے نام سے کی ہے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کا سربراہ تھا جس نے صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس سروس کے ساتھ جان بوجھ کر تعاون کیا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ مہدوی شائستہ کا لندن سے چلنے والے ایران انٹرنیشنل نامی خبر رساں ادارے سے بھی تعلق تھا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی اصفہان کی ایک عدالت نے مجید مسیبی نامی ایک شخص کو غیر ملکی دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون اور جاسوسی کے الزام پر پھانسی دے دی تھی۔

  13. ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے ملے جلے پیغامات سے امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات میں اضافہ, اینتھونی زرچر، نمائندہ شمالی امریکہ، بی بی سی نیوز

    ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو ایک دن سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ لیکن انتظار ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔

    ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغے، لیکن خطے میں امریکی افواج کے خلاف ایران نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں مختلف فوجی اڈوں پر 40,000 سے زیادہ امریکی فوجی تعینات شامل ہیں۔

    دن بھر امریکی حکام اس بات پر زور دیتے رہے کہ امریکی حملے کسی بڑی جارحانہ کوشش کا حصہ نہیں ۔ فی الحال تو ایسا لگتا ہے یہ یقین دہانیاں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سنیچر کی رات ایرانی جارحیت پر زبردست ردعمل کی دھمکی ایرانی رہنماؤں کو حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ کم از کم فی الحال تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔

    گذشتہ روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا۔ ہماری جنگ اس کے جوہری عزائم کے خلاف ہے۔‘

    تاہم اتوار کی شام کو صدر نے صورتحال کو اس وقت مزید پیچیدہ بنا دیا جب انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران میں رجیم چینج کا ذکر کیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے اپنے روایتی انداز میں اسے ایک سوال کے طور پر پیش کیا ہے لیکن صدر کا بیان ان کے اپنے مشیروں کی کوششوں کے بالکل برعکس ہے۔

    اگر ایرانی رہنماوٖں کو محسوس ہوا کہ اقتدار پر ان کی گرفت براہ راست خطرے میں ہے، تو اس سے ان کے مستقبل کے اقدامات بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

  14. ایران جوابی حملہ کہاں کر سکتا ہے؟

    سابق امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر برائے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل مارک سی شوارٹز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی نہ کسی طریقے سے جوابی کارروائی ضرور کرے گا، لیکن یہ کارروائی کیا ہوگی اس بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل شوارٹز کا کہنا ہے کہ بحرین اور کویت کے امریکی فوجی اڈوں پر تعینات فوجیوں سے زیادہ عراق، اردن اور شام میں تعینات امریکی فوجیوں کو خطرہ ہے۔

    ایران کے پورے خطے میں کئی پراکسی ہیں جو اس کی جانب سے کارروائی کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے سب سے زیادہ خطرہ ایران کے حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا گروپ کتائب حزب اللہ گروپ سے ہے۔ اس کے علاوہ یمن میں حوثی بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    امریکہ نے کتائب حزب اللہ جو حزب اللہ بریگیڈز کے نام سے بھی جانی جاتی ہے کو 2009 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

    لیفٹیننٹ جنرل شوارٹز کا مزید کہنا ہے کہ ایران میں فوجی اہداف کی کمی نہیں ہے جسے اسرائیل یا امریکہ نشانہ بنا سکتے ہیں اگر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ’لیکن آئیڈیئلی ہم انھیں مذاکرات کی میز پر واپس لے آئیں گے۔‘

  15. امریکی یا اسرائیلی زمینی حملے تک ایران میں رجیم چینج کا امکان نہیں: چینی تجزیہ کار

    چینی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس تنازعے کے نتیجے میں ایرانی حکومت کے گرنے کے امکان کے بارے میں بات کی ہے۔

    چین کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں واشنگٹن کی براہ راست مداخلت کی مخالفت کی ہے۔

    چینی میڈیا اور تجزیہ کار تمام پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال کو مزید ابتر ہونے سے روکے اور ایک بڑی تباہی سے بچائے۔

    چین کی زنہوا نیوز ایجنسی کے سابق صحافی مینگ جنوی لکھتے ہیں کہ ایرانی حکومت اس وقت تک نہیں گرے گی جب تک کہ امریکہ یا اسرائیل مستقبل قریب میں ایران پر زمینی حملہ نہ کر دے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کو یہ بات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کو قابل اعتماد فضائی دفاعی نظام اور جوابی کارروائی کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے ’چین کے ساتھ مکمل تعاون‘ اور ’چینی فوجی جدیدیت پر مکمل انحصار‘ کرنے کی ضرورت ہے۔

    چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے ننگشیا یونیورسٹی میں چائنا اینڈ عرب ورلڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نیو شنچن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ گذشتہ ہفتے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اسرائیل کو ملنے والی کامیابیاں اسرائیل اور امریکہ دونوں کی ’توقعات سے زیادہ‘ تھیں۔

    ’ان کامیابیوں نے واشنگٹن کو یہ یقین دلایا کہ براہ راست مداخلت کے خطرات کم ہو گئے ہیں۔‘

  16. سب سے اہم سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں: کیا ایران اب بھی ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    اکثر لوگ اس سوال کو لے کر پریشان ہیں کہ کیا ایران امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ لے گا؟

    اگر ایران ایسا کرتا ہے تو اس کے یقیناً بڑے پیمانے پر اقتصادی، سیاسی اور فوجی اثرات مرتب ہوں گے۔

    لیکن اس سے بھی اہم سوال جس کا ہم میں سے کسی کے پاس بھی جواب نہیں وہ یہ ہے کہ: کیا ایران کے پاس اب بھی ایک خاص حد سے زیادہ افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) ہے جو اس نے کسی خفیہ زیر زمین مقام پر چھپا رکھا ہے؟ کیا اس کے پاس ایچ ای یو سے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار معلومات اور ذرائع ہیں کہ وہ اب جوہری بم بنانے کی دوڑ میں شامل ہونے کا فیصلہ لے سکے؟

    دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو کیا امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے ایران کے جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست بننے کا خطرے ٹال دیا ہے – یا ان حملوں نے اس کا امکان کو مزید بڑھا دیا ہے؟

    ایک عسکری ماہر جن سے میری بات ہوئی ہے کہتے ہیں کہ اگر ایران ایک خاص حد سے زیادہ افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) کو بچانے میں کامیاب ہو گیا ہے اور اس کے سائنسدانوں کو بنا کسی رکاوٹ کے کام کرنے کا موقع ملا تو وہ شاید ایک سادہ جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ ایک سادہ، بندوق کی طرز کا فرسٹ جنریشن جوہری ہتھیار جس میں نیوٹرون انیشی ایٹر استعمال ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ امپلوشن بم بنانے سے کہیں آسان ہے۔

    طویل عرصے سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو جاتا تو سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں میں لگ جائیں گی جس سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔

  17. گذشتہ رات سے اب تک کی تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ

    اگر آپ ہمارے لائیو پیج پر ابھی تشریف لا رہے ہیں تو گذشتہ رات کی خبروں کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے تمام ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے انھیں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ رجیم چینج' کی اصطلاح استعمال کرنا سیاسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اگر ایران کی موجودہ حکومت اپنے ملک کو دوبارہ عظیم نہیں بنا پا رہی تو رجیم چینج کیوں نہیں ہو گی۔
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جس کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔
    • ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ گذشتہ رات بھی جاری رہا۔
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی سفیرنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ امریکہ نے کل رات تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے، پوری دنیا کو ایران کی جوہری تنصیبات پر کل رات کے حملوں پر امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
    • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے، جنگ روک دی جائے۔
  18. امریکی صدر کا ایرانی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے تمام ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے انھیں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کو بیان کرنے کے لیے ’درست اصطلاح مکمل تباہی ہے۔‘

    ایک سیٹلائٹ تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس میں سفید رنگ کی چٹانوں سے گھری ایک عمارت دیکھی جا سکتی ہے جو آگ کے شعلوں سے محفوظ ہے۔ ’لیکن سب سے زیادہ نقصان زمین کی سطح سے کہیں نیچے ہوا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے مذکورہ سٹیلائٹ تصویر شیئر نہیں کی ہے۔

    امریکی صدر نے اپنے پیغام کے آخر میں لکھا کہ ’ایک دم نشانے پر۔‘

  19. امریکی محکمہ خارجہ کا دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ

    ایران پر امریکی حملوں کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انھیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا بیرونِ ملک امریکی شہریوں اور مفادات کے خلاف مظاہروں کا امکان ہے۔ ’ڈیپارٹمنٹ دنیا بھر میں امریکی شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ مزید احتیاط سے کام لیں۔‘

  20. ڈونلڈ ٹرمپ کا ’رجیم چینج‘ کے متعلق بیان جارج ڈبلیو بش کے دور کی یاد دلاتا ہے, اایلکس لیڈرمین

    رجیم چینج کا موضوع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی میں کافی متنازع رہا ہے۔

    پچھلے ریپبلیکن صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق میں رجیم چینج پر زور دیا تھا۔ اس کی بنیاد یہ دعویٰ تھا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔

    اب ریپبلیکن پارٹی کے بہت سے حمایتی رجیم چینج اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران بش کی اس ہی غیر مقبول پالیسی کا فائدہ اٹھایا اور لوگوں سے وعدہ کیا کہ اب کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی جائے گی۔

    تاہم بہت سے روایتی قومی سلامتی کے حامی اور اسرائیلی حملوں کے حامی اب بھی ریپبلکن سیاست کا حصہ ہیں۔

    ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ صدر ٹرمپ کی جانب سے محض خارجہ پالیسی کی بنیاد پر لیا گیا فیصلہ نہیں تھا۔ انھیں اپنی مقامی سیاست کے تناظر میں ان مسابقتی حلقوں کے درمیان توازن بھی برقرار رکھنا ہے۔