قطر میں امریکہ کے العدید ایئربیس پر ایرانی میزائل حملہ
قطر میں امریکہ کی العدید ایئربیس پر ایرانی میزائل حملہ
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی ‘ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’اب سے تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب ہر ملک نے اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔ اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
قطر میں امریکہ کی العدید ایئربیس پر ایرانی میزائل حملہ
قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
قطری کی وزراتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہم اسے ریاست قطر کی خودمختاری، اس کی فضائی حدود، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ قطر کے فضائی دفاعی نظام نے ’حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا اور ایرانی میزائلوں کو ناکام بنا دیا‘ اور اڈے کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’قطری مسلح افواج کے ارکان، دوست افواج اور دیگر سمیت بیس پر اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے تھے۔‘
’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔‘
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’قطر اس جارحیت کی نوعیت اور پیمانے کے حساب سے مساوی انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ کے 40 ہزار سے زیادہ فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ امریکی افواج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور مشرقِ وسطیٰ میں اتنی بڑی تعداد میں کیوں موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب اس تنازع کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا پر اعلان کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں ’طاقتور اور فاتحانہ‘ ردِ عمل کی ابتدا کر دی ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ ایران نے اس آپریشن کو ’بشارت الفتح‘ کا نام دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور اس کے اتحادیوں کو ’واضح‘ پیغام دیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہر حملے کا جواب دیا جائے گا۔
پچھلے کچھ منٹوں میں قطر میں دھماکے سنائی دینے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق قطر میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف مطابق وسطی دوحہ اور لوسیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ آسمان پر میزائلوں کو بھی دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب روئٹرز کے مطابق ایران نے العدید ایئر بیس کی طرف چھ میزائل فائر کیے ہیں۔
ایک سینیئر امریکی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور وزارتِ دفاع قطر میں العدید ایئر بیس کو لاحق ممکنہ خطرے سے آگاہ ہیں اور صورتحال کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی میڈیا پر خبریں نشر کی گئی تھیں کہ ایران قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
قطر میں برطانیہ اور امریکہ کے سفارتخانوں نے حفاظتی اقدامات کے تناظر میں اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
دوحہ میں امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں شہریوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ تاحکم ثانی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔
برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں اپنے خطاب کے دوران برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی مشرقِ وسطی میں مقیم برطانوی شہریوں کو کہا تھا کہ وہ حکومت کی سفری ہدایات پر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قطر میں مقیم برطانوی شہریوں کو تاحکمِ ثانی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات دی ہیں۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ دوحہ میں متعدد سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو حفاظتی تدابیر اپنانے کی ہدایات جاری کی ہیں لیکن اس کا ’مطلب یہ نہیں کہ یہاں کوئی خاص قسم کا خطرہ ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی صورتحال بالکل مستحکم ہے اور ضرورت پڑنے پر عوام کو ہر پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے گا۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ قطر میں امریکہ کے تحت چلنے والے العدید کولیشن ایئر آپریشز سینٹر پر حملے کی ’مستند‘ اطلاعات ہیں۔
قطر نے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ قطر میں واقع فضائی اڈہ ہائی الرٹ پر ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اڈے پر ممکنہ ایرانی میزائل حملے کا خطرہ ہے۔
العبید فضائی اڈے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے باہر واقع ہے اور یہی مشرقِ وسطیٰ میں سینٹکوم کے تمام فضائی آپریشنز کا ہیڈاکورٹر ہے، یہاں برطانوی فوجی اہلکار بھی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
قطر نے ’شہریوں، رہائشیوں اور سیاحوں کی حفاطت کے پیشِ نظر‘ اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ حفاظتی اقدام خطے کی صوتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے اٹھایا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ العدید ایئر بیس قطر میں واقع ہے اور امریکہ محکمہ خارجہ کے مطابق وہاں تقریباً آٹھ ہزار امریکی شہری مقیم ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جوہری مقامات پر امریکی حملوں پر کے جواب میں ’مناسب ردِعمل‘ دے گا۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کا یہ قدم ان کی مایوسی ظاہر کرتا ہے اور اس کا مقصد اپنی پراکسی (اسرائیل) اور نتن یاہو کو ریسکیو کرنا ہے۔‘
میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ’زوال‘ کی نشانیاں نظر آ گئی تھیں اور اسی سبب انھوں نے ایران پر حملہ کر کے انھیں ’مصنوعی سانس‘ دینے کی کوشش کی۔
خیال رہے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد حسین باقری 13 جون کو ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔
برطانوی ہاؤس آف کامنز میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ برطانیہ کا ایران میں امریکی حملوں اور آسرائیلی آپریشنز میں کوئی کردار نہیں تھا۔
پیر کو ہاؤس آف کامنز میں ایرانی جوہری مقامات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسرائیلی آپریشنز میں برطانیہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘
انھوں نے اس موقع پر برطانوی حکومت کا موقف دُہراتے ہوئے کہا کہ ایران ’کبھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا‘ اور یہ کہ ’امریکہ نے اس خطرے کو کم کر دیا ہے۔‘
انھوں نے تصدیق کی کہ اس تنازع کے دوران اسرائیل میں ایک برطانوی شہری بھی زخمی ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور ’عام برطانوی شہریوں اور سفارتی عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔‘
ڈیوڈ لیمی نے ہاؤس آف کامنز کے اراکین کو بتایا کہ تلِ ابیب میں برطانوی سفارتخانہ اور یروشلم میں قونصلیٹ بدستور کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ رائل ایئر فورس کا تیارہ تل ابیب روانہ ہو چکا ہے جہاں سے وہ 63 برطانوی شہریوں کو قبرص منتقل کرے گا اور وہاں سے ان شہریوں کو واپس برطانیہ لایا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کا کہا ہے کہ اس نے آج ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اسرائیل فوج کا کہنا تھا کہ ایئر فورس کے 50 سے زیادہ طیاروں نے تہران میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ حملوں کا ہدف تہران میں ’فوجی کمانڈ سینٹرز‘ تھے۔
’ان مقامات میں میزائل، ریڈار تیار کرنے والے مراکز اور میزائل کو محفوظ رکھنے والا انفراسٹرکچر شامل ہے۔‘
ایک طرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیل کی قیمتوں کو نہ بڑھنے دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تیل کی قیمتیں کم رکھیں۔ میں آپ کو دیکھ رہا ہوں، دشمن کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔‘
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یہ پیغام کس کو دے رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق ملک کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم اس حوالے سے آخری فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کرے گی۔
خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحد کے درمیان موجود ہے جو ایک مقام پر صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں حکومت سے تبدیلی سے متعلق بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ’محض ایک سوال‘ اُٹھا رہے تھے۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر وہ (ایران) سفارتی عمل کا حصہ نہیں بنتے تو پھر ایرانی عوام ایسی ظالم دہشتگرد حکومت کے خلاف کیوں نہ اُٹھ کھڑے ہوں؟ صدر نے گذشتہ رات یہ سوال اُٹھایا تھا۔‘
’لیکن جہاں تک ہمارے عسکری مؤقف کا تعلق ہے تو وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘
کیرولائن لیوٹ سے جب پوچھا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے کیا کہیں گی تو انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ ’صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے‘ اور ’ایرانی حکومت کا ایسا کرنے کا فیصلہ احمقانہ ہوگا۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے مطابق سنیچر کو امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا اور ان کا ’جوہری پروگرام تباہ کر دیا۔‘
تاہم جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ توقع یہی ہے کہ ان فردو جوہری مرکز کو امریکی حملے میں نقصان پہنچا ہے لیکن زیرِ زمین موجود اس مقام پر کتنا نقصان ہوا ہے اس حوالے سے کسی کے پاس مکمل معلومات نہیں ہیں۔
نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں ایک اجلاس سے قبل نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روتے نے کہا ہے کہ نیٹو میں شامل اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔
دا ہیگ میں نیٹو اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روتے کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک ایران کے جوہری پروگرام پر نیٹو کے مؤقف کی بات ہے تو اتحادیوں نے ہمیشہ اتفاق کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔‘
’اتحادیوں نے بار بار ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں بھی ایران ’ملوث‘ ہے اور وہ روس کو ڈرون فراہم کر رہا ہے جس کا استعمال کر کے روسی افواج یوکرینی شہریوں کا قتل کر رہی ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع اوین جیل پر بھی حملہ کیا ہے۔
ایران پیر کو ہونے والے حملوں کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان نیوز کے مطابق ’قیدیوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کیے گئے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ تہران میں واقع اوین جیل کی اہمیت کیا ہے؟
اس جیل میں متعدد سیاسی قیدی بند ہیں اور بنیادی طور پر یہ ایران کا ایک ’سیاسی قید خانہ‘ ہے۔
اس جیل میں کتنے قیدی موجود ہیں اس حوالے سے سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن اندازوں کے مطابق اس جیل میں ہزاروں قیدی قید ہیں اور اس میں 15 ہزاروں لوگوں کی گنجائش ہے۔
جاسوسی کے الزام میں تقریباً چار برس قید کاٹ کر سنہ 2022 میں برطانیہ لوٹنے والی ایرانی برطانوی شہری نازنین زاغری ریٹکلف بھی اوین جیل میں ہی قید تھیں۔
اوین جیل میں متعدد اقسام کے قیدی موجود ہیں جن میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان، دُہری شہریت کے حامل افراد، جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والی شخصیات اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے قیدی بھی شامل ہیں۔
بی بی سی اس جیل میں قید افراد کے خلاف عائد الزامات کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مغربی گروپس عرصہ دراز سے اوین جیل پر تنقید کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا الزام ہے کہ جیل حکام قیدیوں کو تشدد اور غیر معینہ مدت تک قید رکھنے جیسی دھمکیاں دیتے ہیں جبکہ ان قیدیوں کو اکثر لمبے عرصے تک تفتیش کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور انھیں طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
ایران ان تمام الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
اسرائیل میں ایک ایرانی میزائل حملے کے مناظر ایک شہری کے کار کے کیمرے میں ریکارڈ ہو گئے ہیں۔
بظاہر یہ میزائل اسرائیلی شہر اشدود میں ایک پاور سٹیشن کے کقریب گِرا ہے۔ اس حملے میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں تاہم اس کے سبب متعدد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) نے ایران کے خلاف اسرائیلی ’جارحیت‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ’تعمیری مذاکرات کا عمل‘ جاری تھا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس کے اختتام کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایران کے ’حقِ دفاع‘ کی حمایت کرتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان جوہری مقامات پر 22 جون کو ہونے والے حملوں کے بعد ممکنہ طور پر کشیدگی بڑھنے کے امکانات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری مقامات پر حملے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔
نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں میں اپنا کردار کرنے کو تیار ہے۔
ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیلی اہداف میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں ایک طرف ایران کی اوین جیل پر اسرائیلی حملے کی خبریں چل ہی رہی تھیں تو دوسری طرف اسرائیل کے وزیرِ خزانہ نیر برکات یروشلم میں اپنے دفتر میں بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں حکومت گِر جاتی ہے تو ’ہم ایک آنسو بھی نہیں بہائیں گے‘ تاہم انھوں نے اس بات کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ اسرائیل کے مقاصد کا حصہ ہے یا نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اسرائیل نے تہران میں جیل کو کیوں نشانہ بنایا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ: ’وہ اسرائیل میں عام شہریوں، بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ ہمیں دہشت زدہ کر رہے ہیں۔ ہم سٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنائیں گے۔‘
نیر برکات نے ایرانی حکام کو دھمکی دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کب کیا کرتے ہیں اور ان کے منصوبے کیا ہیں۔‘
’ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں اور ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ہم ان پر تب تک حملے کرتے رہیں جب تک وہ رُک نہیں جاتے۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق 13 جون کو اسرائیلی حملوں کی ابتدا کے بعد سے اب تک ملک میں ’تقریباً‘ 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد وزارتِ صحت سے منسوب کر کے رپورٹ کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک حملوں میں تین ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات ماسکو میں جاری ہے۔
روس کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بیان کے مطابق صدر پوتن کا ملاقات میں کہنا تھا کہ ’ایران کے خلاف بلااشتعال اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘
روسی صدر کا ایرانی وزیرِ خارجہ کو مخاطب ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ آج ماسکو میں ہیں۔ ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم مشکل موضوعات پر گفتگو کریں اور اس صورتحال کا حل نکالیں۔‘
اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے روس سے ’بہت قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں‘ جو کہ اب ’سٹریٹجک تعلقات‘ کا روپ دھار چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے ’بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی ہیں۔‘