مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان

    سعودی عرب نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی کی خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی اُن کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک ایسے مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے اور اُن تمام مسائل کا حل پیش کرے جو کئی دہائیوں سے عدم استحکام اور عدمِ تحفظ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسی کے ساتھ مملکت سعودی عرب اس امر پر زور دیتی ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کُھلا رکھا جانا ضروری ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی حکام کو امید ہے کہ یہ جنگ بندی خطے کی ’سلامتی میں بہتری‘ کا باعث بنے گی اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک پر کیے جانے والے حملے اب ’رُک جائیں گے۔‘

  2. ایران پر حملے بند کر دیے ہیں تاہم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے جی اس نے ایران پر حملے بند کر دیے ہیں لیکن لبنان میں کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’ایران میں حملوں کی ایک لہر مکمل کر لے ہے‘ اور اب سیاسی قیادت کی ’ہدایات کے مطابق‘ حملے بند کر دیے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ’کسی بھی خلاف ورزی کا دفاعی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ٹارگٹڈ زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز سے جہازوں کی امدورفت معمول پر آنے میں وقت لگے گا، تجریہ کار

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کی ایک شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔

    تاہم جہاز رانی کے تجزیہ کار لارس جینسن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں ’تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘۔

    ان کا کہنا ہے کہ اعتماد بحال ہونے ہونے میں ’وقت لگے گا۔‘

    لارس جینسن ان کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں خلیج سے بہت سے بحری جہازوں کو نکلیں گے تاہم ان میں سے کچھ ہی آبنائے ہرمز میں داخل ہوں گے کیونکہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں جہازوں کے وہاں پھنس جانے کا امکان ہے۔

  4. ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے آج صبح جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اسرائیل کی نظر میں امریکہ اور ایران جنگ بندی معاہدے کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔

    معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے آج صبح جنوبی لبنان کے شہروں صور اور نباطیہ پر فضائی حملے کیے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس معاہدے میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کے ساتھ تنازع بھی شامل ہے۔

    ابھی تک لبنانی حکومت اور حزب اللہ کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

    حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق حزب اللہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طے پانے والے کسی بھی معاہدے میں انھیں بھی ضرور شامل کرے۔

    دریں اثنا، اسرائیل نے اشارہ کیا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین کے اندر سرحد کے ساتھ ایک سکیورٹی بفر زون قائم کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوجی لبنان میں داخل ہو چکے ہیں اور اس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل لبنان کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔

  5. ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں بحرین میں دو افراد زخمی

    بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ ڈرون سے شارپنل گرنے سے سیترا کے علاقے میں ’متعدد مکانات‘ کو نقصان پہنچا ہے۔

    بحرین کی حکومت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ڈرون امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان سے پہلے فائر کے گئے تھے یا بعد میں۔

  6. انڈیا کا 16 سال سے مطلوب مبینہ پاکستانی ’لشکر کمانڈر‘ سمیت پانچ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس کے کاوؑنٹر انٹیلجنس محکمے نے ایک بین الریاستی ’ٹیرر موڈیول‘ کو بے نقاب کرنے اور اس سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے خفیہ اطلاعات کی بنا پر مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے عبداللہ عرف ابوہریرہ کو 16 سال کی روپوشی کے بعد ان کے ایک پاکستانی ساتھی عثمان عرف خبیب کے ہمراہ ایک خفیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں افراد کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے والے تین کشمیریوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے کشمیریوں کی شناخت محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ عبداللہ عرف ابو ہریرہ کالعدم عسکری تنظیم لشکر طیبہ کے انتہائی مطلوب کمانڈر ہیں جو طویل عرصے سے روپوش تھے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران عبداللہ نے کشمیر کےعلاوہ پنجاب، ہریانہ اور دوسری ریاستوں میں بھی خفیہ ٹھکانے قائم کیے تھے۔

    منگل کے روز ہونے والے آپریشن کے دوران بیک وقت انڈیا کی چار ریاستوں میں 19 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق اس دوران چار اے کے-47 رائفلیں اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق سرینگر کے ایک شہری کی گرفتاری کے بعد اس گروپ کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ملی تھیں جس کے بعد آپریشن شروع کیا گیا۔

    ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ایک غیرملکی دہشت گرد نے انڈیا کے شہروں میں لشکر طیبہ نیٹ ورک کی مدد سے جعلی دستاویز بنا کر انڈیا سے باہر بھی سفر کیا ہے۔‘

    کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس آپریشن کو ایک ’مثبت قدم‘ قرار دیا۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے تشویش ظاہر کی کہ ’اب بھی دہشت گرد دراندازی کر کے کشمیر میں داخل ہورہے ہیں۔‘

    انھوں نے منگل کی شام جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ اچھی بات ہے کہ انھیں پکڑا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے اور کیوں آئے؟‘

  7. ایرانی حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، بحرین

    بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں بحرین میں ایک تنصیب میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

    فی الحال حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایران نے یہ حملہ کب کیا تھا۔

    اس سے قبل بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے رہائشیوں سے پناہ لینے کا کہا تھا۔

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بی بی سی کو بحرین سمیت خطے کے متعدد علاقوں سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

    ایران

    امریکی ذرائع ابلاغ نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل نے بدھ کی صبح تک ایران پر حملے جاری رکھے تھے۔ بعد ازاں اسرائیل نے ایک باضابطہ اعلان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

    اسرائیل

    یروشلم میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ شہر میں موجود بی بی سی کے صحافیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں جبکہ حکومت کی جانب سے رہائشیوں کو الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔

    قطر

    قطری وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس وقت ’ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نمٹ رہا ہے۔‘

    سعودی عرب

    سعودی ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس اور ریاض میں بی بی سی کے ایک صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق، سعودی شہری دفاع کے حکام نے بدھ کے روز علی الصبح دو انتباہات جاری کیے تھے۔

  8. اسرائیل کا جنوبی لبنان کے شہر صور کے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں رہنے والے لوگوں کے لیے انخلا کا نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ’اپنے گھر فوری طور پر خالی کریں‘ اور ’اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے‘ دریائے زہرانی کے شمال میں چلے جائیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

  9. جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران میں جشن

    ،ویڈیو کیپشنIranians gather in Tehran following ceasefire announcement

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی تصاویر جھنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے۔

    بی بی سی فارسی کے واشنگٹن کے نامہ نگار خاشیار جنیدی کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ بندی پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

    ان کے مطابق جہاں لوگوں کو یہ راحت ہے کہ اب بجلی کی تنصیبات پر حملہ نہیں ہو گا وہیں حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو حکومت کے عتاب کا ایک بار پھر سامنا کرنا پڑے گا۔

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  10. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 95 ڈالر سے نیچے آ گئی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 94.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    تاہم تیل کی قیمتیں 28 فروری کو تنازع کے آغاز سے قبل کی قیمتوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہیں۔ تنازع سے قبل تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 70 ڈالر تھی۔

    ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے کو بند کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

    بدھ کی صبح ایشیا پیسفک کی بڑی سٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    جاپان کے نکی 225 میں پانچ فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    اس کے علاوہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 12 ہزار سے زائد پوائںٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ مارکیٹ کا کل آٹھ فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد ٹریدنغ ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی تھی۔

  11. چین کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کا عمل جاری رہنے کی امید

    امیر متقی اور کابل میں چینی سفیر

    ،تصویر کا ذریعہTaliban government

    کابل میں تعینات چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، خیر سگالی اور عدم تشدد کا عمل جاری رہے گا۔

    یہ بات انھوں نے کابل میں افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے دوران کہی۔

    بی بی سی دری کے مطابق وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں تعینات چین کے سفیر ژاؤ زنگ سے ملاقات کے دوران چین کے شہر اُرمچی میں جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزارت خارجہ کے مطابق امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ اب تک کی بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے اور امید ہے کہ ٘زاکرات کے حوالے سے جزوی تشریحات بات چیت کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے اُرمچی میں مذاکرات کے انعقاد اور میزبانی پر اپنے چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا، اور سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

    کابل میں تعینات چین کے سفیر نے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

    چینی سفیر کا کہنا ہے کہ چین نے غیر جانبداری کے اصول کے تحت یہ عمل شروع کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا کہ امید ہے کہ خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، خیر سگالی اور عدم تشدد کا عمل جاری رہے گا۔

  12. ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس 12 ہزار پوائنٹس اضافے کے بعد ٹریڈنگ معطل, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر 12920 پوائنٹس اضافے کے 164594 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    کاروبار میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کا اعلان ہے جو پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ممکن ہوا۔

    جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کا مثبت اثر آج سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر ہوا۔ مارکیٹ میں بے تحاشہ تیزی کی وجہ سے کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے اپر سرکٹ کے اصول کے تحت معطل کر دیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ و اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان سٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار ہے اور انڈیکس میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ آج مارکیٹ میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مہینے سے جاری کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہے جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت انداز میں ہوا۔

    عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے پہنچ گئی ہے۔

    جبران کا کہنا کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں بہت زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آئی اور خریداری کا دباؤ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کے حصص اپر لاک پر پہنچ گئے جس کے بعد انڈیکس بھی 12920 پوائنٹس تک بڑھ گیا جو انڈیکس کے پانچ فیصد سے زیادہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اپر سرکٹ کے اصول کے تحت کاروبار ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔

  13. امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا: اسرائیل

    امریکہ اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس تنازع میں شریک اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔

    ’اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل، اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔‘

    بیان میں کہا گیا یے کہ امریکہ نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

  14. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے, واشنگٹن میں بی بی سی فارسی کے نامہ نگار ‌خشایار جنیدی کا تجزیہ

    ایسے میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہونے جا رہا ہے یہ واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

    گذشتہ ایک سال میں ایران اور امریکہ دو بار مذاکرات کر چکے ہیں۔ دونوں بار مذاکرات کے چلتے جنگ شروع ہو گئی۔

    اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ایران کا سرکاری میڈیا اپنی فتح کو کتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔

    اس کی فوج کو بہت نقصان پہنچا ہے، اس کی معیشت تباہی کا شکار ہے، اور اپوزیشن اور عوام کے ساتھ اب بھی کئی معاملات حل طلب ہیں۔

    گذشتہ دنوں حکومت نے ان میں سے کچھ افراد کو پھانسی دینا شروع کر دیا جنھیں جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

    حکومت کو ملک کے اندر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی۔ ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے ایران کے مطالبات ماننا آسان نہیں۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کو اس شرط کے تحت قبول کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول پر لائِ جائے گی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کنٹرول ہے۔

    مذاکرات میں ایک اور پیچیدہ مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہو گا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں یورینیم کی افزودگی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران میں افزودگی نہ ہو۔

    یہ دو ہفتے بہت مشکل ہونے جا رہے ہیں۔

  15. جنگ بندی اور دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات پر آمادگی تک کب کیا ہوا؟

    USA, Iran, Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    منگل اور بدھ کی درمیانی رات تین بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    اس اپیل کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس حوالے سے پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔‘

    رضا امیری نے تجویز دی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے، اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’مزید پیش رفت کے لیے جڑے رہیں۔‘

    جنگ بندی کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جمعے کو اسلام آباد میں دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل کے لیے مدعو کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کس حد تک اب جنگ بندی پر عمل پیرا رہے گا۔

    یہاں سے تک پہنچنے کا سفر ایک مشکل اور تھکا دینے والا تھا۔ پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔

    اتوار کوصدر ٹرمپ نے ایک اور دھمکی دی کہ اگر ایران 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو وہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ اس ڈیڈلائن میں توسیع بھی کرتے رہے۔

    اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھمکی دی کہ اگر ایران 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو وہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پورا ملک ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ جب مہلت ختم ہو جائے گی تو ’ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے۔ پتھر کا زمانہ، ہاں‘۔

    انھوں نے یہ بات ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی اپنی سابقہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

    ڈیڈلائن ختم ہونے سے قبل بھی ایران پر اور ایران سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    امریکہ، ایران

    ،تصویر کا ذریعہX/@MIshaqDar50

    ایران کا دس نکاتی ایجنڈا کیا ہے جس پر ابھی امریکہ مذاکرات پر تیار ہوا ہے؟

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔

    ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:

    • عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
    • ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
    • پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
    • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
    • آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
    • ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
    • ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
    • امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی۔
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
    • مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔

    یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس جنگ کے دوران ٹرمپ کی ڈیڈ لائنز بار بار بدلتی رہی ہیں۔

    ڈیڈ لائن 1 — 21 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں میں آبی راستہ دوبارہ نہ کھولا تو وہ ’بجلی گھروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گے، سب سے بڑے پلانٹس سے شروع کرتے ہوئے‘۔

    ڈیڈ لائن 2 — 23 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے، اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے۔

    ڈیڈ لائن 3 — 27 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’ایرانی حکومت کی درخواست پر‘ توانائی کے پلانٹس پر حملہ 10 دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ اس طرح نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل ہو گئی۔

    6 اپریل کو 48 گھنٹے کی وارننگ

    6 اپریل قریب آتے ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں، ورنہ وہ ’قیامت برپا کر دیں گے‘۔

    تازہ ترین دھمکی — اتوار

    اتوار کو ایک سخت زبان والے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے دھمکی دہرائی:

    • ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا‘
    • بعد میں انھوں نے وقت بھی واضح کیا کہ ’منگل، رات 8 بجے!‘
  16. پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی دعوت

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی معاہدے کے بعد مذاکراتی ٹیموں کو جمعے کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے، اور ہم آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔‘

  17. امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اب جمعے کو اسلام آباد میں شروع ہوگا: ایران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے، اور جنگ کے بیشتر اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق اب جبکہ ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہے، اور امریکہ اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کر چکا ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات جمعے کے روز اسلام آباد میں ہوں گے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی سطح پر بھی مضبوط کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق یہ مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15 دن جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایران نے دشمن کی تمام تجاویز مسترد کرتے ہوئے اپنا 10 نکاتی منصوبہ امریکہ کو پاکستان کے ذریعے پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے کنٹرولڈ گزرگاہ، خطے میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا، ایران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ان تمام امور کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے توثیق شامل ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ ان اصولی نکات کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے۔ تاہم بیان میں زور دیا گیا کہ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں، اور جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب 10 نکاتی منصوبے کی تمام تفصیلات مذاکرات میں طے پا جائیں۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے عوام، سیاسی جماعتوں اور تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اتحاد برقرار رکھیں اور اس عمل کی حمایت کریں۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اگر مذاکرات میں دشمن کی پسپائی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہوئی تو ایران اپنے مطالبات پورے ہونے تک میدان میں لڑائی جاری رکھے گا۔

  18. اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی: وزیر خارجہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، جس کے لیے ایران کی مسلح افواج سے ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی خواہش، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔‘

    عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔‘

  19. ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل کی قیمتوں میں کمی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 5.8 فیصد کمی کے بعد 103.42 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 8.5 فیصد گر کر 103.25 ڈالر فی بیرل رہی۔

    تاہم یہ قیمتیں اب بھی اس سطح سے کہیں زیادہ ہیں جو 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے تھیں۔

  20. بریکنگ, امریکی صدر پاکستان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے ایران پر حملے روکنے اور مشروط جنگ بندی کے لیے تیار

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

    ان کے مطابق یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ بطور صدر، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔