میری دعوت پر جمعے کے روز امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی وقتی طور پر ٹل گئی ہے، یہ پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیدار اور دیرپا امن، ترقی و خوشحالی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پرسوں (جمعے کے روز) ان کی دعوت پر امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے سفارتی محاذ پر بے پناہ عزت اور شاندار کامیابی عطا فرمائی ہے۔ جنگ کے شعلے اس خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، اس جنگ کے شعلے دو ہفتے کے لیے بجھ گئے اور خدا کو منظور ہوا تو ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سارے عمل میں سیاسی اور ملٹری قیادت ایک نقطے پر متحد تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس جنگ میں بھائی کو بھائی سے اور مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمان جو ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں، ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی، بے پناہ اندرونی اور بیرونی سازشیں ہوئیں مگر خدا کو یہ منظور نہیں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنی وزارتِ خارجہ کی ٹیم کے ساتھ ایک مہینے سے دن رات کام کرتے رہے اور انتھک محنت کی اور اس کے ساتھ فیلڈ مارشل کئی راتیں جاگتے رہے اور جس طریقے سے انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت سے بات کی، اس کے بغیر ہمیں سفارتی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔
انھوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی ’درخواست کو پذیریائی بخشی اور امن کی خاطر پاکستان کے خلوص اور سنجیدگی کو پذیرائی دی۔‘
شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کیا اور صدر ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے عارضی سیز فائر کا اعلان کیا۔
انھوں نے خلیجی ممالک خاص کر سعودی عرب اور چین کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس پورے عمل میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
ان کے مطابق جب گذشتہ روز انھوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے سعودیہ کے ال جبیل میں حملوں کی مذمت کی تو محمد بن سلمان نے کہا پاکستان ہمارا بھائی ہے اور ہم ایک خاندان ہیں اور آگے بھی اسی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ راتوں کو جاگ کر جو سفر طے ہوا یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس طرح کی بےلوث کوششیں پوری زندگی نہیں دیکھیں جس کے لیے انھوں نے فیلڈ مارشل کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ نہ صرف وہ مئی 2025 کی جنگ کے ہیرو ہیں بلکہ جس طرح انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت کے ساتھ دن رات شانہ بشانہ کام کیا، اس کے لیے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
انھوں نے صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ہر قدم پر معاونت اور رہنمائی فراہم کی۔











