امریکہ میں شٹ ڈاؤن نیو یارک میں میئر کے انتخاب میں شکست کی بڑی وجہ، ڈیموکریٹس اقتدار میں آئے تو ’بہت خراب صورتحال‘ ہو گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹرز کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آتے ہیں تو ’یہ بہت خراب صورتحال ہو گی۔‘ واضح رہے کہ امریکی شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ان کی جیت کو ریپبلکن صدر ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے

خلاصہ

  • ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے
  • صدر آصف علی زرداری نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو پاکستان اور قطر کے درمیان دفاع اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی پیشکش کی ہے
  • فلپائن میں سمندری طوفان سے 66 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
  • امریکہ میں کارگو طیارے کو حادثہ، سات افراد ہلاک
  • واشنگٹن نے غزہ میں بین الاقوامی فورس بنانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں

لائیو کوریج

  1. سابق امریکی نائب صدر ’ڈک چینی‘ 84 سال کی عمر میں وفات پا گئے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی 84 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ ڈک چینی کے خاندان کی جانب سے جاری ایک بیان میں اُن کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ڈک چینی سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن انتظامیہ کا حصہ تھے۔ وہ سنہ 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عراق پر حملے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی شخصیت تھے۔

    وہ جارج بش سینئر کے دورِ صدارت میں سنہ 1989 سے سنہ 1993 تک وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    اس سے پہلے چینی نے سنہ 1970 کی دہائی میں جیرالڈ فورڈ کے وائٹ ہاؤس چیف آف سٹاف کے طور پر کام کیا اور پھر ایک دہائی تک ایوانِ نمائندگان یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے رکن رہے۔

    حال ہی میں وہ تک خبروں میں آئے اور ایک سیاسی تنازع بھی کھڑا ہوا کہ جب انھوں نے سنہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کمالا ہیرس کی حمایت کا اعلان کیا۔

    چینی کو سب سے زیادہ شہرت جارج ڈبلیو بش کے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں مرکزی کردار کے طور پر ملی جو سنہ 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہوئی اور وہ عراق پر حملے کے ابتدائی حامیوں میں سے ایک تھے۔

  2. نیپال میں برفانی تودہ گرنے سے سات کوہ پیما ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایکسپڈیشن ایجنسی سیون سمٹ ٹریکس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ کم از کم سات کوہ پیما جن میں پانچ غیر ملکی اور دو نیپالی شامل ہیں نیپال کے شمال مشرق میں واقع ایک ہمالیائی چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔یہ واقعہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے یالونگ ری پہاڑ کے بیس کیمپ کے قریب ضلع دولاخا میں پیش آیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے دو لاشیں برآمد کر لی ہیں جبکہ باقی پانچ کی تلاش جاری ہے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ برف میں دب گئے ہیں۔اس حادثے کا شکار ہونے والے آٹھ دیگر افراد کو بچا لیا گیا ہے اور انھیں ابتدائی طبی امداد کے لیے دارالحکومت کٹھمنڈو منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا تمام کوہ پیما اس گروپ کا حصہ تھے جو برفانی تودہ گرنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے روانہ ہوا تھا۔

    سیون سمٹ ٹریکس کے چیئرمین منگما شرپا نے بتایا کہ باقی پانچ ہلاک ہونے والے کوہ پیماؤں کی لاشیں ممکنہ طور پر برف کے نیچے 10 سے 15 فٹ گہرائی میں ہو سکتی ہیں۔ان کے مطابق ’انھیں تلاش کرنے میں وقت لگے گا۔‘

    ہلاک ہونے والوں میں دو اطالوی، ایک کینیڈین، ایک جرمن، ایک فرانسیسی اور دو نیپالی گائیڈز شامل ہیں۔

    مقامی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گیان کمار مہتو نے پیر کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر ضلع دولاخا کے نا گاؤں علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے جو یالونگ ری بیس کیمپ سے تقریباً پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت پر ہے۔‘

    زخمی کوہ پیماؤں میں سے ایک نے دی کٹھمنڈو پوسٹ کو بتایا کہ انھوں نے بار بار مدد کے لیے کال کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔انھوں نے نیپالی اخبار کو بتایا کہ ’اگر بروقت ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جاتا تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔‘

    مہتو نے صحافیوں کو بتایا کہ خراب موسم اور لاجسٹک مسائل نے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کا اڑان بھرنا یا پیدل موقع تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔

    دی کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق یہ گروپ قریب واقع دولما کھانگ چوٹی سر کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس کی بلندی 6,332 میٹر ہے۔

  3. ٹرمپ کا کوومو کی حمایت کا اعلان: ’اگر ممدانی جیت گئے تو فنڈز میں کٹوتی ہوگی‘ امریکی صدر کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں اینڈریو کومو کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ بائیں بازو کے سرکردہ اُمیدوار زوہران ممدانی کو ووٹ نہ دیں۔

    ٹرمپ نے پیر کی شام ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے آپ کو ذاتی طور پر اینڈریو کومو پسند ہوں یا نہ ہوں آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آپ کو انھیں کو ووٹ دینا ہوگا اور یہ اُمید رکھیں کہ وہ ایک اچھے اُمیدراو ثابت ہوں گے۔ وہی اس کے قابل ہیں، ممدانی نہیں!‘

    صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ممدانی منتخب ہوئے تو وہ نیویارک جو ان کا آبائی شہر بھی ہے کو وفاقی فنڈز کو ’کم کرنے‘ میں زرہ بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

    ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو کے کے دوران کیا جس میں انھوں نے ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیا تھا یہ ایک ایسا لیبل یا خطاب ہے کہ جسے ممدانی کیی متربہ مسترد کر چُکے ہیں۔

    ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا ’میرے لیے بطور صدر نیویارک کو زیادہ پیسہ دینا مشکل ہوگا۔ کیونکہ اگر آپ کے پاس ایک کمیونسٹ نیویارک چلا رہا ہو تو آپ جو پیسہ وہاں بھیج رہے ہیں وہ ضائع ہی کر رہے ہیں۔‘

    فنڈنگ کے بارے میں ٹرمپ کے تبصروں کے جواب میں ممدانی نے کہا کہ وہ ’امریکی صدر کے اس بیان کو ایک دھمکی سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی قانونی راستہ یا قانون نہیں ہے۔‘

    ممدانی خود کو ایک ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ قرار دیتے ہیں اور اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ کمیونسٹ ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ ’کچھ حد تک سکینڈینیوین سیاستدان کی طرح ہیں بس رنگت میں کچھ زیادہ سانولے ہیں۔‘

    ٹرمپ انتظامیہ نے بارہا ان منصوبوں کے لیے وفاقی گرانٹس اور فنڈنگ میں کٹوتی کی کوشش کی ہے جو زیادہ تر ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع ہیں۔اس مالی سال میں نیویارک سٹی کو وفاقی فنڈز کی مد میں سات اعشاریہ چار ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

  4. ممدانی، کوومو یا سلیوا: نیویارک کے شہری کیسا میئر چاہتے ہیں؟

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    نیویارک سٹی کے لوگ منگل کے روز اپنا اگلا میئر منتخب کرنے جا رہے ہیں، یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس نے سب کی توجہ حاصل کر رکھی ہے کیونکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس انتخاب کے اثرات قومی سطح پر ہو سکتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے رکن اور ڈیموکریٹک امیدوار، زوہران ممدانی، اس وقت سب سے آگے ہیں اور سب سے زیادہ پسند کی جانے والی شخصیت کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ان کا مقابلہ ریپبلکن اُمیدوار کرٹس سلیوا اور سابق گورنر اینڈریو کومو سے ہے۔

    بی بی سی نے نیویارک کے شہریوں سے اس انتخاب اور اس میں اُن کی پسندیدہ اُمیدوار سے متعلق پوچھا کہ وہ کیسے اُمیدوار کی تلاش میں ہیں اور ان کے خیال میں کون اُن کی توقعات پوری کر سکتا ہے۔

    نیویارک سے تعلق رکھنے والی سیاہ فام نیکیش نامی ایک خاتون نے مطابق ہمارا آئندہ کا میئر ایک ایسے فرد کو ہونا چاہیے کہ جو ’ایک عملی وژن کے ساتھ امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دینے والا ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اینڈریو کوئی اچھے یا ایک مکمل سیاستدان تو نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود میں اس بات کی قدر کرتی ہوں کہ ان کے پاس شہر کو آگے بڑھانے کی واقعی اچھی صلاحیت ہے۔‘

    ڈیبورا نامی ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ ’ہم میں سے جنھوں نے 9/11 کے واقعات دیکھے ہیں، ہمیں ایک ایسا لیڈر چاہیے جو ہنگامی حالات کا سامنا کرنے میں مہارت رکھتا ہو تاکہ ہم سب کی حفاظت کر سکے اور ہم سب محفوظ رہ سکیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے لیے بہترین انتخاب اینڈریو کومو ہیں، وہ پہلے گورنر رہ چکے ہیں ان کے پاس تجربہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    اکبر نامی ایک نیویارکر کا کہنا تھا کہ ’میرا پسندیدہ اُمیدوار ممدانی ہیں، انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ ہم میں سے ہی ہیں ہم جیسے ہیں۔ شاید اگلے ایک سے ڈیڑھ سال میں وہ ان بیشتر مسائل کو حل کر سکتے ہیں کہ جن کا لوگ روزانہ سامنا کرتے ہیں۔‘

    جانی نامی ایک نوجوان نے بھی ممدانی کے حق میں بات کی اور کہا کہ ’ممدانی میرے پسندیدہ اُمیدوار ہیں، میں بزرگ سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتا تاہم ممدانی ہمیشہ نوجوانوں کی حمایت کرتے ہیں اور انھیں کی فلاح کی بات کرتے ہیں۔‘

    جبکہ ماریو کا کہنا ہےکہ ’سلیوا شہر کے لیے ایک اچھا انتخاب ثابت ہونگے وہ شہر کو محفوظ رکھنے اور آگے لے کر جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

  5. قلات آپریشن میں چار شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک آپریشن کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    منگل کو ایک بیان میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یکم نومبر کو سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا تھا اور اس دوران چار شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند ’دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں‘ میں ملوث تھے۔

  6. نیپال میں برفانی تودہ گرنے کے باعث سات کوہ پیما ہلاک

    ہمالیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیون سمٹ ٹریکس نامی مہماتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی نیپال میں ہمالیہ کی ایک چوٹی پر برفانی تودے کی زد میں آکر کم از کم سات کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مرنے والوں میں پانچ غیر ملکی اور دو نیپالی شامل ہیں۔

    یہ واقعہ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق نو بجے ڈولاکھا ضلع میں یالونگ ری پہاڑ کے بیس کیمپ کے قریب پیش آیا۔

    اب تک امدادی کارکنوں نے دو کوہ پیماؤں کی لاشیں نکال لی ہیں جبکہ باقی باقی پانچ کی تلاش جاری ہے۔

    اس کے علاوہ آٹھ دیگر افراد کو بچا لیا گیا ہے اور وہ دارالحکومت کھٹمنڈو میں زیرِ علاج ہیں۔

    ضلعی پولیس کے سربراہ نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ یہ تمام کوہ پیما اس گروپ کا حصہ تھے جو برفانی تودے گرنے سے ایک گھنٹہ قبل روانہ ہوئے تھے۔

    سیون سمٹ ٹریکس کے چیئرمین منگما شیرپا نے کہا کہ ہلاک ہونے والے دیگر پانچ کوہ پیماؤں کی لاشیں ’10 سے 15 فٹ برف کے نیچے دبی ہو سکتی ہیں‘ اور ’انھیں ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔‘

    ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں دو اطالوی، ایک کینیڈین، ایک جرمن آور ایک فرانسیسی شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے دو نیپالی گائیڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

  7. خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران تین شدت پسند مارے گَئے: آئی ایس پی آر

    شمالی وزیرستان فوج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے دو نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں شدت پسندوں کے ایک گروپ کی نقل و حرکت کا پتا چلا جو کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں دو شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں سے ایک کی شناخت قاسم کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری ہے اور افغان بارڈر پولیس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

    فوج کا کہنا ہے کہ ضلع ٹانک میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک اور آپریشن کے نتیجے میں ایک شدت پسند مارا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، مارے جانے والے کی کی شناخت اکرام الدین نام سے ہوئی جو ایک افغان شہری تھا۔

  8. سپریم کورٹ میں گیس لیک ہونے کے باعث دھماکہ، 12 افراد زخمی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہUmar Mehtab

    اسلام آباد پولیس کے آئی جی علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں گیس لیک ہونے کے باعث دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد کے مطابق، دھماکہ گیس لیک ہونے کے باعث ہوا۔

    ’10 بج کر 55 منٹ پر سپریم کورٹ کی بیسمینٹ میں واقع کینٹین میں ایک گیس بلاسٹ ہوا ہے۔ اس [واقعے] میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے نو افراد پولی کلینک جبکہ تین پمز میں داخل ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تین روز سے سپریم کورٹ کے بیسمنٹ میں واقع کینٹین اور ایک ٹی روم سے گیس لیکج کی شکایت آ رہی تھی۔

    ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت کینٹین میں اے سی ٹیکنیشن کام کر رہے تھے اور وہ ہی سب سے زیادہ زخمی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں فالس سیلنگ اور شیشے وغیرہ ٹوٹے ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کسی دھماکہ خیز مواد کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

    دھماکے سے کورٹ نمبر 6 بھی متاثر ہوا ہے۔

    سپریم کورت

    ،تصویر کا ذریعہUmar Mehtab

  9. ٹرمپ کا نیویارک کے الیکشن میں انڈریو کومو کی حمایت کا اعلان: ’ممدانی میئر منتخب ہو گئے تو زیادہ فنڈز دینا مشکل ہو گا‘

    ٹرمپ ممدانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر انھیں نیویارک کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ظہران ممدانی اور سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کومو کے درمیان چننا پڑے تو وہ کومو کو چنیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر کے میئر کی دوڑ میں اینڈریو کومو کی حمایت کرتے ہوئے ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ظہران ممدانی کو منتخب نہ کریں۔

    پیر کی شام ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’چاہے آپ ذاتی طور پر اینڈریو کومو کو پسند کریں یا نہ کریں، آپ کے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے۔ آپ کو انھیں ووٹ دینا چاہیے، اور امید ہے کہ وہ شاندار کام کریں گے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں، ممدانی نہیں!‘

    بظاہر ترمپ کی جانب سے اپنی حمایت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کومو کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ان کی حمایت نہیں کر رہے بلکہ وہ تو صرف ممدانی کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ اگر ممدانی میئر منتخب ہو گئے تو بطور صدر ان کے لیے نیویارک کے لیے زیادہ فنڈز دینا مشکل ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمیونسٹ نیویارک کا میئر ہو گا تو سارے فنڈز ضائع ہی کرے گا جو آپ انھیں بھیجیں گے۔

    ممدانی خود کو ’جمہوری سوشلسٹ‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بڑی کمپنیوں کے بجائے کارکنوں کی آواز سنائی جائے۔ یہ ویسا ہی سیاسی طرزِ عمل ہے جو برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اپنا رکھا ہے اور ممدانی ان کے ساتھ اکثر سٹیج شیئر کر چکے ہیں۔

    منگل کے انتخاب میں ممدانی کے سب سے بڑے حریف سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کومو ہیں، جو پرائمری میں ممدانی سے ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

    ان دونوں کے علاوہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بھی نیویارک کے میئر کی ڈور میں شامل ہیں۔

    34 سالہ ممدانی پولز میں آگے ہیں اور منگل کو جب نیویارک شہر کے لوگ ووٹ ڈالیں گے تو جیت کی صورت میں وہ صدی کے سب سے کم عمر میئر بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ شہر کے پہلے مسلم اور جنوبی ایشیائی میئر بھی ہوں گے۔

  10. امریکہ اگر اسرائیل کی حمایت چھوڑ دے اور خطے میں مداخلت بند کر دے تو تعاون ممکن ہے: خامنہ ای

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت چھوڑ دے اور خطے میں مداخلت بند کر دے تو اس سے تعاون ممکن ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت چھوڑ دے اور خطے میں مداخلت بند کر دے تو اس سے تعاون ممکن ہے۔

    امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر تہران میں خطاب کرتے ہوئے ایرنی رہبرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عدم مطابقت پائی جاتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان ’مفادات کا ٹکراؤ‘ بھی موجود ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کچھ شرائط پوری کر دے تو اس کے ساتھ تعاون ممکن ہے۔

    خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ صیہونی حکومت کی حمایت مکمل طور پر ترک کردے، علاقے میں موجود اپنے فوجی اڈے خالی کر دے اور خطے میں اپنی مداخلت بند کردے، تو اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔‘

    تاہم ان کا مزید کہنا تھا ایران کے ساتھ تعاون کے لیے امریکہ کی درخواست پر مستقبل قریب میں نہیں بعد میں غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’یقیناً وہ ایسا نہیں کہتے اور انھیں ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ کوئی اچھا مذاکرات کار ایسا نہیں کہے گا۔ لیکن ایران معاہدہ کرنے کا بہت خواہش مند ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں خبریں شائع ہوئی ہیں اور ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کل امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کے لیے عمان کی ثالثی کے بارے میں کہا کہ ’وزارت خارجہ کو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔‘

    عمانی وزیر خارجہ بدر بسیدی نے بھی سنیچر کے روز کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے 3 نومبر کو کہا کہ ’حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے کوئی پیغام نہیں موصول ہوا‘ اور ’ہم ان مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے جس میں ہم اپنے حقوق سے دستبردار ہوں‘۔

    اس سے قبل، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں ہے اور حالیہ دنوں میں ان کے نائب ماجد تخت روانچی کے مسقط کے دورے کا ’امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔‘

  11. بلوچستان حکومت کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد: پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی، الیکشن کمیشن, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان حکومت کی ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، کمیشن نے اس معاملے پر غور کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 2023 میں ہوئے تھے جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر بعض درخواستوں کی وجہ سے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔

    چند روز قبل بلوچستان ہائی کورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کوئٹہ شہر میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔

    بلوچستان حکومت نے امن و امان کی صورتحال اور موسم خزاں کو بنیاد بنا کر ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کو فی الحال ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ضلع کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔

    الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پُرامن انعقاد کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور پُرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔

  12. اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر ممالک فیصلہ کریں گے کہ غزہ فوجی بھیجنے ہیں یا نہیں: ترک وزیرِ خارجہ

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حقان فدان کا کہنا ہے امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت بین الاقوامی ’استحکام‘ فورس غزہ بھیجنے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پر کام جاری ہے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنترکی کے وزیرِ خارجہ حقان فدان کا کہنا ہے امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت بین الاقوامی ’استحکام‘ فورس غزہ بھیجنے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پر کام جاری ہے۔

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حقان فدان کا کہنا ہے امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت بین الاقوامی ’استحکام‘ فورس غزہ بھیجنے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پر کام جاری ہے اور اس قرارداد کی بنیاد پر ممالک فیصلہ کریں گے کہ آیا انھیں فوج بھیجنی ہے یا نہیں۔

    پیر کے روز استنبول میں غزہ کے معاملے پر عرب اور اسلامی ممالک کا اجلاس ہوا تھا جس میں میزبان ترکی کے علاوہ پاکستان، انڈونیشیا، قطر، سعودی عرب اردن اور متحدہ عرب امارات کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق، ترک وزیرِ خارجہ نے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ممالک بڑی حد تک بین الاقوامی استحکام فورس کو دیے جانے والے مینڈیٹ اور طاقت کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مینڈیٹ ان کے اپنے اصولوں اور پالیسیوں سے متصادم ہوا تو ان کے لیے فوج بھیجنا مشکل ہو جائے گا۔‘

    پیر کے روز ہی جب راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان غزہ کے لیے فوج بھیجے گا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ کس فریم ورک کے تحت فوج بھیجی جائے گی۔

    اس سے قبل اردن کے شاہ عبداللہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت ملکوں سے طاقت کے بل پر غزہ میں امن قائم کرنے کا کہا گیا تو وہ منع کر دیں گے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت امریکہ اپنے عرب اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری طور پر تعیناتی کے لیے ایک عارضی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا۔ آئی ایس ایف غزہ میں جانچ شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرے گا، اور اس معاملے میں اُردن اور مصر سے مشاورت کرے گا جنھیں اس شعبے میں وسیع تجربہ ہے۔

    شاہ عبداللہ نے بی بی سی پینوراما کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پیس کیپنگ کا مطلب ہے کہ آپ وہاں مقامی پولیس فورس، فلسطینیوں کی حمایت کریں، جنھیں اردن اور مصر بڑی تعداد میں تربیت دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کام میں وقت لگتا ہے۔‘

    ’لیکن اگر ہمیں ہتھیار اٹھا کر غزہ میں گشت کرنا ہے، تو یہ ایسی صورتحال نہیں ہے جس میں کوئی بھی ملک ملوث ہونا چاہے گا۔‘

  13. پاکستان سمیت عرب و اسلامی ممالک کا غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ

    استنبول اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہx/ForeignOfficePk

    ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

    پیر کے روز استنبول میں غزہ کے معاملے پر ہونے والے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پاکستان، انڈونیشیا، قطر، سعودی عرب اردن اور متحدہ عرب امارات کے مندوبین نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ پاکستان، سات دیگر عرب و اسلامی ممالک کے ہمراہ، اس امن اقدام میں سرگرم رہا ہے جس کے نتیجے میں شرم الشیخ میں ’غزہ امن معاہدے‘ پر دستخط ہوئے۔

    اجلاس کے بعد پاکستانی وزراتِ خارجہ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے دیگر عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کے ساتھ غزہ میں پائیدار جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔

    بیان کے مطابق، اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مشترکہ طور پر فلسطینیوں کے لیے فوری انسانی امداد کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تمام رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اسرائیل سے مقبوضہ فلسطینی علاقے سے انخلا کا مطالبہ کیا اور غزہ کی تعمیر نو پر زور دیا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، پاکستان نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

  14. کیا پاکستانی فوج غزہ بھیجی جائے گی، فوجی ترجمان نے کیا جواب دیا؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہPak PM Office

    کیا پاکستان غزہ کے لیے فوج بھیجے گا۔ اس سوال پر پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف نے جواب دیا کہ یہ حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس فریم ورک کے تحت فوج بھیجی جائے گی۔

    خیال رہے کہ اس حوالے سے میڈیا پر بحث جاری ہے کہ کیا پاکستان غزہ میں امن معاہدے کے تحت فوج بھیجے گا یا نہیں۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت عرب ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں استحکام کے لیے ایسی فورسز فراہم کریں جو ’غزہ میں فلسطینی پولیس کو تربیت اور مدد دیں گی اور اس سلسلے میں اردن اور مصر سے مشاورت کریں گی جنھیں اس حوالے سے وسیع تجربہ حاصل ہے۔‘

  15. افغانستان سے کوئی حملہ ہوا تو جنگ بندی ختم تصور کی جائے گی، دراندازی کا بھرپور جواب دیا جائے گا: پاکستانی فوج کے ترجمان, فرحت جاوید، بی بی سی

    Ahmad Sharif

    پاکستان اور افغانستان کی جھڑپوں میں افغان طالبان کے 206 جبکہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے 110 جنگجو مارے گئے۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پیر کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی طرف سے پاکستان میں دراندازی ہوئی تو پھر جنگ بندی کو ختم سمجھا جائے گا اور ایسے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ہم ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف لڑتے آئے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں مختلف حکومتوں کے عرصے میں سرکاری دوروں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم حکومت سے بات تو کرتے ہیں مگر کسی شدت پسند گروہ سے مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

    احمد شریف نے کہا کہ سکیورٹی مانگے سے یا کسی کو خوش کرنے سے نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ فوجی ترجمان کے مطابق افغان طالبان نے قطر اور ترکی کو ثالثی کا رول ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں اور دہشتگردی کی کارروائیوں سے متعلق ناقابل تردید شواہد پیش کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے افغانستان سے کہا کہ وہ یا تو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے یا پھر انھیں ہمارے حوالے کریں تاکہ ہم انھیں قانون کے کٹہرے میں لے کر آئیں۔‘

    فوجی ترجمان نے کہا کہ دوحہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے اور آخر کب تک افغانستان میں عبوری حکومت قائم رہے گی۔ انھوں نے افغان طالبان کے نظریات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین کو تعلیم کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

    فوجی ترجمان نے کہا کہ سیاستدان باقی ہر معاملے پر سیاست کریں مگر دہشتگردی پر سیاست نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سرحدی علاقوں میں ڈرگ مافیا متحرک ہے اور پوست کی کاشت بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی رہنماؤں، ڈرگ مافیا، افغان طالبان اور شدت پسند گروہ (ٹی ٹی پی) اس دھندے میں شامل ہے اور ان سب کی ملی بھگت سے یہ مکروہ کاروبار چل رہا ہے۔

    فوجی ترجمان کے مطابق خیبر کی تحصیل تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت ہو رہی ہے اور یہاں پر لوگ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بھی خلاف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تیراہ میں ایک سال کے دوران 192 سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔

    خیبر اورسیاسی رہنماؤں پر تنقید سے متعلق صحافیوں نے ان سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہیں ان کا اشارہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف تو نہیں ہے۔ ان سوالات پر انھوں نے کوئی تردید بھی نہیں کی مگر انھوں نے یہ واضح انداز میں کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو صوبے کا وزیر اعلیٰ سمجھتے ہیں۔

  16. ویڈیو لیک سکینڈل، اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل کو گرفتار کر لیا گیا

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی قیدی سے بدسلوکی کی ویڈیو پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور اب اس مقدمے میں اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اس ویڈیو لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میجر جنرل یفات تومر یروشلمی نے گذشتہ ہفتے اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    اتوار کو اس کہانی نے ایک نیا سنگین موڑ لیا جب ان کی گمشدگی کی اطلاع ملی۔ پولیس تل ابیب کے شمال میں ایک ساحل پر ان کی تلاش میں گھنٹوں مصروف رہی۔

    پولیس نے بتایا کہ بالآخر وہ سلامت اور اچھی صحت کی حالت میں مل گئیں۔ اس کے بعد پھر پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو کا نتیجہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

    ایک اسرائیلی نیوز چینل پر اگست 2024 میں نشر کی گئی، اس فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر ریزرو سپاہی ایک قیدی کو ایک طرف لے جا رہے ہیں، پھر اسے نظر آنے کو روکنے کے لیے شیلڈز سے گھیر رہے ہیں جب کہ اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تیز دھار آلے سے ان پر وار کیا گیا۔

    زیر حراست شخص شدید زخمی ہوئے جس کے بعد وہ زیر علاج رہے۔

    اس واقعے کے بعد پانچ محافظوں پر بدسلوکی اور زیر حراست شخص کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان اہلکاروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، اہم یہ خبر سامنے آئی ہے کہ انھوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

    اتوار کے روز جب یہ چار ’ریزرو‘ اہلکار اپنے وکلا کے ساتھ یروشلم کی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو انھوں نے سیاہ کپڑے سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ ان اہلکاروں نے عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دائیں بازو کی لیگل ایڈ آرگنائزیشن ہونیو کے ایک وکیل آدی کیدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکل کو ’ایک ناقص، متعصب اور من گھڑت الزامات میں پھنسایا گیا ہے۔‘

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گذشتہ ہفتے ویڈیو کے لیک ہونے پر اس مقدمے کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔ انکوائری کے دوران جنرل تومر یروشلمی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔

    جمعے کو وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ انھیں اپنے عہدے پر واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے فوراً بعد جنرل ٹومر یروشلمی نے استعفیٰ دے دیا۔

    اپنے استعفے میں انھوں نے کہا کہ وہ یونٹ کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے کسی بھی مواد کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے فوج کے قانون نافذ کرنے والے حکام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کی کوشش میں میڈیا کو مواد جاری کرنے کی منظوری دی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارا فرض ہے کہ جب بھی کسی قیدی کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کا معقول شبہ ہو تو اس کی تحقیقات کریں۔‘

    ان کے اس استعفے کے بعد وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ان کے طرز عمل کی مذمت کی۔ گھنٹوں بعد اسرائیلی میڈیا میں خبریں آنا شروع ہوئیں کہ جنرل تومر یروشلمی لاپتہ ہیں۔

    بڑے پیمانے پر تلاشی کی کوشش شروع کی گئی۔ اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ کئی گھنٹے بعد وہ ہرزلیہ کے ساحلی علاقے میں ’محفوظ اور اچھی صحت کی حالت میں‘ پائی گئی۔ اس کے بعد پولیس نے ویڈیو سکینڈل میں دو افراد کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ دو افراد جنرل تومر یروشلمی اور سابق چیف ملٹری پراسیکیوٹر کرنل متان سولوموش تھے۔

  17. ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ, ہمیں مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں ہے: ایران

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’یقیناً وہ ایسا نہیں کہتے اور انھیں ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ کوئی اچھا مذاکرات کار ایسا نہیں کہے گا۔ لیکن ایران معاہدہ کرنے کا بہت خواہش مند ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں خبریں شائع ہوئی ہیں اور ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کل امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کے لیے عمان کی ثالثی کے بارے میں کہا کہ ’وزارت خارجہ کو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔‘

    عمانی وزیر خارجہ بدر بسیدی نے بھی سنیچر کے روز کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے 3 نومبر کو کہا کہ ’حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے کوئی پیغام نہیں موصول ہوا‘ اور ’ہم ان مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے جس میں ہم اپنے حقوق سے دستبردار ہوں‘۔

    اس سے قبل، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں ہے اور حالیہ دنوں میں ان کے نائب ماجد تخت روانچی کے مسقط کے دورے کا ’امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ ایران کب امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، عراقچی نے کہا کہ ’جب بھی امریکی برابری کی پوزیشن سے اور باہمی مفادات کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہوتے ہیں، بظاہر، انھیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔‘

  18. حماس غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے: ترک صدر طیب اردوغان

    Turk President

    ،تصویر کا ذریعہAFP Via Getty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پیر کے روز کہا ہے کہ حماس غزہ جنگ بندی کی پاسداری کے لیے ’پرعزم‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو میں قائدانہ کردار ادا کریں۔

    اردوغان نے اقتصادی تعاون سے متعلق سربراہی اجلاس کے لیے استنبول میں جمع ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے مندوبین سے کہا کہ ’حماس معاہدے کی پاسداری کے لیے پوری طرح پرعزم دکھائی دیتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، ہم سب نے دیکھا کہ اس حوالے سے اسرائیل کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔‘

    ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا جب ترکی 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان غزہ کی تعمیر نو پر بات چیت کے لیے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    اردوغان نے یہ بھی کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے تیار کردہ تعمیر نو کے منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے‘۔

    واضح رہے کہ ترکی کے صدر نے یہ بات تباہ شدہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو کے لیے مارچ میں منظر عام پر آنے والے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ استنبول اجلاس کا مقصد ’ہماری پیشرفت کا جائزہ لینا اور اس بات پر تبادلہ خیال کرنا ہے کہ ہم اگلے مرحلے میں مل کر کیا حاصل کر سکتے ہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک امن منصوبہ تکمیل کے مراحل پر ہے، اور یہ سب کے لیے امید کی کرن ہے۔‘

  19. پاکستان میں اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی میں 6.2 فیصد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں مہنگائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    موجودہ سال کے اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں 6.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اشیاء کی قیمتوں میں گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے کے مقابلے میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح ناپنے کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں سمتبر کے مقابلے میں اکتوبر کے مہینے میں بھی 1.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ادارے کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ہاؤسنگ کے شعبے میں چیزوں کی قیمتوں میں 4.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    کپڑوں اور جوتوں کی قیمت میں 8.1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 6.7 فیصد جبکہ تعلیمی اخراجات میں 10.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں 9.6 کا اضافہ ہوا۔

  20. ڈی پی او شمالی وزیرستان وقار خان کی گاڑی پر حملہ، فائرنگ سے پانچ پولیس اہلکار زخمی, بلال احمد اور عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    DPO North Waziristan

    ،تصویر کا ذریعہKPK Police

    شمالی وزیرستان کے ڈی پی او وقار خان کی گاڑی پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا جس میں وہ محفوظ رہے تاہم پانچ پولیس اہلکار فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کے ایک ترجمان نے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی پی او شمالی وزیرستان وقار خان اپنے سکواڈ کے ہمراہ شمالی وزیرستان سے بنوں آ رہے تھے کہ میران شاہ روڈ نزد فلور ملز میں گھات لگا کر مسلح شدت پسندوں نے ان پر فائرنگ کی۔

    شدت پسندو نے خودکار اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا، تاہم ڈی پی او اور ان کے سکواڈ نے دلیری اور پیشہ ورانہ مہارت سے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ باقی فرار ہوگئے۔

    واقعے میں پولیس کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے جنھیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔

    attack on police squad

    ،تصویر کا ذریعہKPK Police

    پولیس ترجمان کے مطابق ڈی پی او وقار خان اور ان کا سکواڈ سنگین نقصان سے محفوظ رہے کیونکہ ڈی پی او وقار خان کی گاڑی بلٹ پروف تھی اور باقی گاڑیوں پر بلٹ پروف حفاظتی شیٹس لگی ہوئی تھیں۔

    ترجمان کے مطابق بنوں پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    بعد ازاں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان اور ڈی پی او شمالی وزیرستان وقار خان نے زخمی اہلکاروں سے عیادت کی اور ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔

    ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان اور ڈی پی او وقار خان نے کہا کہ شدت پسندوں کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس فورس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت پرعزم ہے اور ایسے ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ترجمان ریجنل پولیس آفیسر بنوں نے کہا ہے کہ ’علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔‘