توشہ خانہ کی نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی گئی تھی۔
خلاصہ
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سرکاری تحائف سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق ٹی ایل پی کی قیادت اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے فیض آباد کے مطابق پر دھرنا دے رکھا ہے۔
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی دو گاڑیاں نذرآتش کر دی ہیں
لائیو کوریج
پاکستان میں مقیم 14 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کے پی او آر کارڈز کی معیاد میں ایک سال کی توسیع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ملک میں قانونی طور پر رہائش پذیر ساڑھے 14 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز کی معیاد میں ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ بدھ کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں لیا گیا۔
اس توسیع کا اطلاق پاکستان میں مقیم ان افغان پناہ گزینوں پر ہوگا جن کے پی او آر کارڈز کی معیاد 30 جون 2024 کو ختم ہو چکی ہے۔ ان افراد کے پی او آر کارڈز کی مدت میں ایک سال یعنی 30 جون 2025 تک توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔
اس کارڈ کے حامل افغان شہری پاکستان میں قانونی طور پر رہ سکتے ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں نگران حکومت نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
لاہور میں خاتون اینکر پر تشدد، شوہر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
،تصویر کا ذریعہReuters
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ایک ٹی وی اینکر خاتون پر تشدد کے الزام میں ان کے شوہر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
بدھ کے روز اینکر کے شوہر کو کینٹ کچہری لاہور میں پیش کیا گیا تھا۔
ملزم کے خلاف لاہور کے سرور روڈ تھانے میں مقدمہ درج ہے۔
ایف آئی آر میں خاتون نے الزام لگایا ہے کہ رواں ہفتے پیر کے روز ملزم نے ان کی بیٹیوں کے سامنے لاہور میں واقع ان کے گھر میں ان پر جسمانی تشدد کیا۔
خاتون اینکر کے مطابق تشدد سے ان کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔
انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر نے انھیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جس سے ان کی چوٹی کے بال جڑ سے اکھڑ گئے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم نے ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
اینکر پرسن کے بیان کے مطابق شور شرابہ سن کر گھر کے باہر لوگ جمع ہوگئے اور ان کے ڈرائیور اور الیکٹریشن کے مداخلت کے بعد ملزم پستول لہراتا ہوا وہاں سے فرار ہو گیا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اینکر پرسن پر شوہر کی جانب سے تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گھریلو یا ورکنگ وویمن پر کسی قسم کا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عدت کے دوران نکاح کا کیس: بشری بی بی کے وکلا نے دلائل مکمل کر لیے, شہزاد ملک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل پر بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل مکمل کرنے کے بعد عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو جمعرات کو اپنے دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعقلہ عدالت کو ایک ماہ میں عمران خان اور بشری بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ دینے کا حکم دے رکھا ہے اور یہ مدت 12 جولائی (جمعہ) کو مکمل ہو رہی ہے۔
دورانِ سماعت سلمان صفدر کی معاون وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ خاتون کے تقدس اور وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی خاتون کے ذاتی معاملات پر بات کرے یا سوال اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سزا کالعدم قرار نہ دی گئی تو یہ خواتین کے لیے شرم ناک ہوگا۔
سماعت کے دوران ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ صرف یہی کیس ’ہائی لائٹ‘ ہوا ہے۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ جرم تب ثابت ہوگا جب کیس ثابت ہوتا ہے، عدت کے کیس میں خاتون کا قول معتبر ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدت کا تعلق حاملہ ہونے سے ہے اور اگر عدت میں شادی ہو بھی گئی تو عدت پوری ہونے پر ریگولر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت عدالت کا خدیجہ صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ دو مختلف سمت میں جا رہی ہیں یا تو اسلامک لا کی بات کریں یا ہمارے موجودہ قانون پر رہیں۔ جج محمد افضل مجوکا کہنا تھا وہ ضابطہ فوجداری (کریمنل پروسیجر) قانون کے پابند ہیں۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں خواتین کی بقا کا کیس ہے۔ بشری بی بی کے بیان کا تو کہیں ذکر ہی نہیں اور سزا دینے کے لیے عدت کے دورانیہ کا سہارہ لیا گیا۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ایسی ایسی باتیں سامنے آئیں جو کوئی پاکستانی مرد نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا کہ درخواست گزار خاور مانیکا اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ وہ سی ایس پی افسر ہیں اور انھوں نے قبول کیا ہے کہ طلاق نامے پر درج تاریخ اور مہینہ درست ہے مگر وہ اصل دستاویز نہیں بلکہ فوٹو کاپی ہے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ایک فوٹو کاپی پر کیسے سزا ہو سکتی ہے، یہ کیس ہی نہیں بنتا۔
انھوں نے کہا کہ گواہ نے مان لیا کہ طلاق نامے میں ٹیمپرنگ کی گئی ہے لیکن جج صاحب نے نہیں مانا اور سزا سنا دی۔
انھوں نے کہا کہ مقدمہ شکایت کنندہ پر ہونا چاہیے کہ انھوں نے عزت اچھالی اور ایک جعلی طلاق نامہ پیش کیا۔
ایک جگہ خاور مانیکا کہتے ہیں انھوں نے آدھے دل سے طلاق دی دوسری جگہ کہا کہ تین طلاقیں دیں، وکیل بشری بی بی۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نہ آزاد گواہ تھے نہ قابل بھروسہ۔ انھوں نے کہا کہ خاور مانیکا کا یہ بیان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میں نے بیان دے دیا لیکن مجھ پر یقین نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ عون چوہدری ایک ناقابل اعتماد گواہ ہیں اور ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ عدت کے دورانیہ پر بات کریں۔
بشری بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا گرفتاری کے بعد دو ماہ تحویل میں رہے اور انھوں نے شکایت رہا ہونے کے بعد دائر کی ہے۔
سلمان صفدر کے بقول خاور مانیکا سیاسی حریفوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خاندانی معاملہ ہے اس میں خاندان کے افراد [کو بطورِ گواہ] کو پیش کرنا چاہیے تھا، خاور مانیکا اپنی والدہ کو لاتے اور بچے اگر بالغ ہیں تو بچوں کو لاتے یہاں تو پانچ بچے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شادی لاہور میں ہوئی اور اپیل اسلام آباد میں ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طلاق نامے کی تاریخ اور مہینے میں دونوں میں ہی ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔
بشری بی بی کے جانب سے دلائل مکمل کیے جانے کے بعد عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعرات کو اپنے دلائل پیش کریں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسافر جیپ کو حادثہ، 14 افراد ہلاک, محمد زبیر خان، صحافی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دیولیاں کے مقام پر مسافر جیپ کے حادثے میں 14 افراد ہلاک جبکہ دو مسافر زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسیکو 1122 کے مطابق حادثہ نیلم ویلی روڈ دیولیاں بائی پاس کے قریب پیش آیا جس میں مسافر گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ تاہم حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابھی واضح طور پر کُچھ کہا نہیں جا سکتا۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق وادی نیلم کے علاقے لوات سے بتایا جاتا ہے۔ جس میں قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔
ریسیکو 1122 کے مطابق تمام لاشوں کو کھائی سے نکال لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ڈرائیور، چھ بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔
ریسیکو حکام کے مطابق لواحقین لاشوں کو آبائی علاقے لے کر جا رہے ہیں۔
جائے وقوعہ پر موجود وائلڈ لائف کشمیر کے اہلکار راجہ شکیل خان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسیکو 1122، پولیس اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق مقامی لوگوں نے ریسکیو عملے کے ساتھ مل کر کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کھائی سے لاشوں اور زخمیوں کو اوپر پہنچا دیا ہے۔
’شفاف الیکشن کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو بچانا ہے تو شفاف الیکشن کی طرف جانا ہوگا‘ عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی
آئی عمران خان نے آج اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی جس میں اُن کا
کہنا تھا کہ ’پاکستان کو بچانا ہے تو شفاف الیکشن کے علاؤہ کوئی راستہ نہیں۔‘
واضح رہے کہ عمران خان کی صحافیوں
سے یہ غیر رسمی گفتگو 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت میں ہوئی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’2021 میں
ملک کا قرضہ 2.8 ٹریلین تھا۔ اُس کے بعد اب چار سال میں ملک کے قرضے 8 سے 9 ٹریلین
تک پہنچ گیا ہے۔ جس غریب کا 2 ہزار بل آتا تھا اب اسکا 10 ہزار بل آتا ہے۔ ساری الیٹ
کے پیسے باہر پڑے ہیں۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر
ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت نے پاکستان کی امید ختم کردی
ہے۔ کسی کو اس حکومت پر بھروسہ نہیں رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’الیکشن میں تاریخی
دھاندلی ہوئی ہے اور چیف جسٹس پاکستان ہمیں انصاف کیلئے الیکشن کمیشن بھیج رہے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سب کو
معلوم ہے الیکشن کمیشن نے فراڈ الیکشن کرائے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مشکل
فیصلے وہ کرتا ہے جس کے پیچھے عوام کھڑی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ انٹرا
پارٹی الیکشن کیوں نہیں کرائے۔ کیا چیف جسٹس کو نہیں معلوم ہماری ساری پارٹی انڈر
گراؤنڈ تھی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شفاف
الیکشن کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو بچانا ہے
تو شفاف الیکشن کی طرف جانا ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف
پاکستان میں ہماری انسانی حقوق اور 8 فروری کی پٹینشز کیوں نہیں سنی جارہی۔ کون سی
جمہوریت میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل ہوتے ہیں۔ مجھے اس طرح ٹریٹ کیا
جارہا ہے جیسے میں نے پاکستان میں سب سے بڑی غداری کی ہو۔ جمہوریت اخلاقی رویوں پر
چلتی ہے۔‘
’چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مجھ سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ کریں‘ عمران خان
،تصویر کا ذریعہSC/TRT
نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف
حکومتی اپیلوں کے معاملے پر بانی پاکستان تحریکِ انصاف اور سابق وزیرِ اعظم عمران
خان نے سپریم کورٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، اپنے جواب میں انھوں نے
لکھا کہ یہ میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔
نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے
خلاف اپنے جواب میں عمران خان نے حکومت کی اپیلیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔
بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی
جانب سے سپریم کورٹ میں جع کرائے جانے والے اپنے جواب میں اس بات کا بھی اظہار کیا
ہے کہ ’اب تک اُن کے خلاف مقدمات میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور اس کے نتیجے
میں سامنے آنے والے فیصلوں میں غیر جانبداری کو نظر انداز کیا گیا۔ اس لیے غیر
جانبداری کے اصول کو برقرار رکھنے کے لئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مجھ سے متعلق
معاملات اور مقدمات کی سماعت نہ کریں۔‘
واضح رہے کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم سے متعلق سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے لیے جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا اور عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے تو عدالت کی طرف سے عمران خان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا انھیں بینچ پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ جس پر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب ایکٹ میں ترامیم سے متعلق عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔
انھوں نے اپنے جواب میں کہا کہ ’کسی
شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن
معیشت کے لیے تباہ کن ہے اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس
اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کو بھی ہو گا مگر میرا موقف واضح ہے یہ
میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کو لکھنے
جانے والے اپنے خط میں بانی پی ٹی آئی عمران حان نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کو قانون سازی
آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم
اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا
توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو
3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ
اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور
ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنھیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی
جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ انھوں نے دبئی میں
جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی۔
عمران خان کے مطابق نواز شریف،
زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی
ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیے تھی لیکن نیب ایسا
نہیں کر رہا کیونکہ انھیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،
انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ
چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کے
بیرون ملک اثاثے ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی
لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی
کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا
ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف
ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس
کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔
عمران خان نے تحریری جواب میں اس
بات کا بھی اظہار کیا کہ کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا
ہے تاہم نیب کی ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو
بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔
’حکومت نے اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کے لیے آنا چاہیے‘ خواجہ آصف
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف
نے کہا ہے کہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی
سی) بلانے کا فیصلہ مُلکی مفاد میں کیا ہے۔
منگل کو نجی ٹی وی جیو نیوز سے
بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے ساتھ جامع مذاکرات کے
لیے آگے آنا چاہیے، ترقی کے حصول کے لیے اپوزیشن کے ساتھ جامع مذاکرات ضروری ہیں۔‘
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’انٹیلی جنس پر
مبنی کارروائیاں پہلے ہی مختلف حصوں میں جاری ہیں اور ہماری مسلح افواج کے جوان
ملک کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے دہشت گردی کے
خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، پوری قوم اور اپوزیشن سمیت سیاسی
جماعتیں ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کے لیے آپریشن عزمِ استحکام کی حمایت
کریں گی۔‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)
کے بانی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پی ٹی آئی کو
مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی پیشکش کی ہے لیکن اس جماعت کے رہنماؤں نے حکومت کی
جانب سے سیاسی مسائل کے حل کے لیے کی گئی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
تاہم آئی ایس آئی کو فون کال
ٹیپنگ کے حوالے سے دی جانے والی اجازت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر
دفاع کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے بانی نے ماضی میں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کال
ٹیپنگ کو سراہا تھا لیکن اب پی ٹی آئی کے رہنما ٹیپنگ کے معاملے پر تنقید کررہے
ہیں۔‘
واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ’عزم استحکام‘ کی منظوری
دی تھی جس پر آپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس: سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین
پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔
نیب کی پراسیکوشن ٹیم آج چار گواہان کو پیش کرے گی ان میں دو سابق وفاقی وزرا
پرویز خٹک اور زبیدہ جلال کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری
اعظم خان بھی گواہان میں شامل ہیں۔
پرویز خٹک پی ٹی آئی کی جانب سے صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے
ہیں۔
پرویز خٹک اور زبیدہ جلال اُس وفاقی کابینہ کا حصہ تھے اور وہ کابینہ کے اُس
اجلاس میں بھی شریک تھے جس نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے معاملے کی اس کو دیکھے بغیر
ہی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے کہنے پر منظوری دے دی تھی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کو نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کو سپریم
کورٹ کی طرف سے کیے گئے 460 ارب روپے جرمانے کی مد میں ایڈجسٹ کروایا گیا تھا۔
اس نجی ہاوسز سوسائٹی کے مالک ملک ریاض اُن کے بیٹے علی ریاض اور 190 ملین
پاؤنڈ کے معاملے میں برطانوی حکام سے مزاکرات کرنے والے شہزاد اکبر اس مقدمے میں
اشتہاری ہیں۔
عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان عمران خان کے خلاف سائفر کے مقدمے
میں بھی بطور گواہ پیش ہو چکے ہیں۔
وزیرستان: سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپیں، کیپٹن سمیت چار سکیورٹی اہلکار ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے قبائلی اضلاع شمالی
اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے دو
مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے کیپٹن سمیت چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند بھی مارے
گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ
(آئی ایس پی آر) کے مطابق جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے
میں سیکورٹی فورسز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں 30 سالہ سپاہی اسد اللہ، 28
سالہ سپاہی محمد سفیان اور 24 سالہ سپاہی زین علی شامل ہیں۔
جبکہ شمالی وزیرستان میں شدت
پسندوں کے خلاف آپریشن میں دو شدت پسند مارے گئے تاہم اس کارروائی میں سکیورٹی
فورسز کے کیپٹن اسامہ بھی ہلاک ہوئے۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جنوبی و شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ
جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار
کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور انھیں مُلک کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
اس سے قبل منگل کو لکی مروت کے ایک
پولیس اہلکار اہل خانہ کے ساتھ علاج کے لیے پشاور جا رہے تھے کہ انڈس ہائی وے پر
کرم پل کے قریب نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس میں پولیس اہلکار
سعداللہ اور ان کے دو بھانجے ہلاک ہو گئے۔
اسی طرح شمالی وزیرستان میں ہی
گذشتہ شب ایک مکان پر مارٹر گولہ سے حملہ ہوا جس سے تین خواتین زخمی ہوئیں۔ یہ
واقعہ میران شاہ کے علاقے تپی میں پیش آیا نامعلوم سمت سے فائر کیا جانے والا ماٹر
گولہ مکان پر گرا۔
پولیس کے مطابق ماٹر گولہ پولیس
کانسٹیبل احمد علی کی مکان پر گرا۔ چند روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے وریب درابن
کے علاقے میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے
تھے۔
اس کے علاوہ منگل کے روز ٹانک اور
درابن کے قریب دو الگ الگ واقعات میں ایف سی کے تین اور ایک بینک کی نجی سیکیورٹی
کمپنی کے چار اہلکاروں کو اغوا کیا گیا۔
گزشتہ روز کی چند اہم خبریں
گزشتہ
روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:
پاکستانی حکومت نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو فون کالز اور پیغامات ’انٹرسیپٹ‘ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کے ایک افسر نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ آٹھ جولائی کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے افسران کو یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے تین ماہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ منگل کے روز پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ حکومت ملک بھر میں دو سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 50 ارب روپے مختص کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ منگل کے روز سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تیرہ رکنی بینچ نے کی۔
امریکی
دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں
ایک نئے فوجی آپریشن اور افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے
متعلق پوچھے گئے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی عوام کو دہشت گردوں
کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں
ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم باقاعدگی سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں
تاکہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع کی نشاندہی
کی جاسکے، جس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس لائیو پیج میں پاکستان کی
سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔