توشہ خانہ کی نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی گئی تھی۔
خلاصہ
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سرکاری تحائف سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق ٹی ایل پی کی قیادت اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے فیض آباد کے مطابق پر دھرنا دے رکھا ہے۔
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی دو گاڑیاں نذرآتش کر دی ہیں
لائیو کوریج
’15 دن کے بعد پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ ہو گی‘: فیصل واوڈا کا دعویٰ، تحریک انصاف نے فارورڈ بلاک کی تردید کر دی
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے
کہ پی ٹی آئی متحد ہے اس میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے مخصوص
نشستوں سے متعلق فیصلے سے جمہوریت مضبوط ہو گی کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق
فیصلہ آیا ہے۔
اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس
کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے تحریک انصاف میں تقسیم کی خبروں کی تردید کی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 15 دن
میں مخصوص نشستوں کے لیے اپنی فہرست جمع کرائے۔ کل 80 میں سے 39 ایم این ایز پی ٹی
آئی سے وابستگی ظاہر کر چکے ہیں، باقی 41 ارکان 15 دن میں پارٹی وابستگی کا حلف
نامہ دیں۔
سینیٹرفیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ آج کے فیصلے کے
15 دن بعد پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنے گا۔ انھوں
نے
کہا کہ پی ٹی آئی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی، فیصلے سے پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھیں
گی اور بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے
کہ جلد سے جلد مخصوص نشستوں کے حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی
آئی اپنے اراکین سے متعلق جلد تمام تفصیلات الیکشن کمیشن کو دے گی۔
انھوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں میں سے 11 غیر مسلموں کی ہیں جبکہ 67 باقی
نشستیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن تین دن کے اندر مخصوص نشستیں
الاٹ کرے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب
خان نے کہا ہے کہ ’حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے۔‘ انھوں نے کہا گذشتہ روز عمران خان
سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے اندر اینٹ کے بجائے فولاد
کی دیوایں اور چھت بھی بنا لیں تب بھی وزیر اعظم عمران خان کا رستہ خدا خود کھولیں
گے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’وزیراعظم عمران خان ہی ہوں گے۔‘
عمر ایوب نے ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرایا کہ ’چیف الیکشن کمشنر اور اس کے
چار کمشنر فی الفور مستعفی ہونا چاہیے۔‘
ہم بہت واضح ہیں کہ جو لوگ ذاتی مفادات کے لیے آئین کی تشریح کرتے ہیں ان پر آئین
کا آٹیکل چھ لگایا جائے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چھ سنگین غداری کے متعلق سزا کا
تعین کرتا ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر اور چار کمشنرز نے تحریک انصاف سے بلے
کا نشان لیا، ہمیں زدوکوب کیا، ہماری مہم میں مداخلت کی، ان پر آئین کی غلط تشریح
پر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے۔‘
’یہ نظر ثانی کا مقدمہ بنتا ہے‘: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنااللہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے۔‘
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’غلطی کا ازالہ اس طرح تو نہیں ہو سکتا۔ یہ نظر ثانی کا مقدمہ بنتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسے فیصلے جو سمجھ سے بالا ہوں کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتے۔‘
ان کے مطابق جو اراکین اس فیصلے سے ڈی سیٹ ہوئے ہیں وہ بھی سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ انصاف صرف ہوتا نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے جو سمجھ سے بالاتر ہوں اور ایسے ابہام کو جنم دے جس سے لوگ بھی کنفیوژ ہوں تو ایسے فیصلے ملک کے مفاد میں نہیں ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ ایک فیصلہ آیا تھا جس میں بن مانگے آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا گیا تھا تو اس کو ملک نے کئی برسوں بھگتا۔
رانا ثنا نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنی اتحاد کے حق میں نہیں آیا، پٹشنر کی طرف سے دلائل دیے گئے، لیکن ان کی استدعا خارج ہو گئی اور اب ایک نیا فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آگیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ ججز کی اور ہماری رائے مختلف ہو سکتی ہے مگر اس میں سازش والی کوئی بات نہیں ہے۔
’پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے‘: سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات کیا ہیں؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/@SCPPROCEEDINGS
پاکستان کی سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل منظور کر لی ہے۔ اس فیصلے سے براہ راست تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے 13 رکنی بینچ نے اس اپیل پر سماعت کی تھی۔
سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو آٹھ ججز نے منظور کیا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن نے جو مارچ میں فیصلہ دیا تھا وہ ماورائے آئین ہے اور پشاور ہائی کورٹ نے جو الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا اس کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے اس سے قبل چھ مئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔ آج کے عدالتی فیصلے کے مطابق اس فیصلے پر عملدرآمد چھ مئی سے ہی تصور ہو گا۔
جسٹس منصور علی نے فیصلے کے اہم نکات پڑھتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے اور اس کے امیدوار کو کسی دوسرے جماعت یا آزاد امیدوار کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے حصول کی حق دار ہے اور تحریکِ انصاف اس فیصلے کے 15 روز میں اپنے مخصوص نشستوں پر اپنی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جو امیدوار آزاد حیثیت میں اس الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں وہ اپنی جماعت کی وابستگی سے متعلق بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اور پھر الیکشن کمیشن اس جماعت کے ساتھ رابطہ کرکے اس کی تصدیق کرے اور تصدیق ہونے کے سات روز کے اندر اندر اس امیدوار کو اس جماعت کا رکن تصور کیا جائے، جس کا اس نے بیان حلفی جمع کروایا ہوا ہے۔
فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا گیا کہ اس رکن کا نام الیکشن کمیشن اپنی ویب سائٹ پر بھی درج کرے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آزادا امیدواروں کے سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے بعد اس کی تعداد کو دیکھتے ہوئے متناسب نمائندگی کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اس جماعت یعنی پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دی جائیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی بھی رکن کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی ہو تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں لینے کی حقدار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دے دی جائیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی بحیثیت جماعت مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی قانونی و آئینی حق دار ہے۔ فیصلے کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان پی ٹی آئی کا حلف نامہ دیں، جن امیدواروں نے سرٹیفکیٹ دیا کہ وہ پی ٹی آئی سے ہیں وہ ایسا ہی رہے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی اور پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے کا ’آپریٹیو پارٹ‘ سناتے ہوئے کہا کہ اس اپیل کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے 80 اُمیدواروں کا ڈیٹا جمع کروایا۔
انھوں نے کہا کہ انتخابی نشان ختم ہونے سے کسی جماعت کا الیکشن میں حصہ لینے کاحق ختم نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو کہ ان پانچ ججز میں شامل تھے جنھوں نے ججز کی اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، نے اپنا نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے سنہ 2024 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور انھوں نے ایک بھی نشست حاصل نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ اس جماعت نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنی کوئی فہرست ہی جمع نہیں کروائی۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی میں جماعتی انتخابات نہ کروانے پر ان کا انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی جماعت کے امیدوار کو آزاد قرار دے دے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی امیدوار نے الیکشن کمیشن کے اس قدام کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت پر یہ معاملہ عدالت میں آجاتا تو شاید یہ معاملہ اس نہج پر نہ پہنچتا۔
قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے۔ انھوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی سے وابسطہ ڈیکلیئر کریں اور ایسا کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنا اختلافی نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی۔
انھوں نے کہا کہ وہ امیدوار جنھوں نے دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کی انھوں نے عوام کے مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ وہ امیدوار جنھوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت سرٹیفکیٹ دیے ہیں کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں، انھیں پی ٹی آئی کا امیدوار قرار دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے اور پی ٹی آئی بحیثیت جماعت مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی قانونی و آئینی حق دار ہے اور نشستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے
پی ٹی آئی کو اسی تناسب سے مخصوص نشستیں دی جائیں۔
سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں پر فیصلہ سوال گندم جواب چنا ہے: اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر پریس کانفرنس کے دوران رد عمل میں کہا ہے کہ مختصر فیصلے پر اتنا کہوں گا کہ سنی
اتحاد کونسل نے دعویٰ کیا تھا اور مخصوص نشستوں پر ریلیف پاکستان تحریک انصاف کو
دیا گیا جو نہ فریق تھی اور نہ انھوں نے درخواست دائر
کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں پر فیصلہ سوال گندم جواب چنا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ریلیف مانگنے سنی
اتحاد کونسل آئی تھی تاہم بادی النظر میں ریلیف پی ٹی آئی کو دیا گیا۔ ’پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ پانچ صفر کی
اکثریت سے آیا تھا اس میں پی ٹی آئی کا کلیم نہیں تھا۔‘
وزیر قانون کے مطابق ’جو فریقین منتخب ہوئے ان کی اکثریت عدالت کے سامنے نہیں تھی لیکن ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ قانون کہتا ہے کہ جب تک آپ فریق کو سن نہ لیں اس کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ‘
ان کا دعویٰ تھا کہ ’ پی ٹی آئی کے آزاد اراکین نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کی جماعت کو مخصوص نشستیں دی جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آزاد اراکین نے اپنی منشا سے کہا کہ وہ سنی اتحاد کونسل کے رکن ہیں۔
آزاد اراکین نے خود لکھ دیا کہ وہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے اور اب وہ سنی اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں۔
وزیر قانون کے مطابق سماعت میں جب سامنے آیا کہ سنی اتحاد کونسل میں اقلیتیں شامل نہیں ہو سکتیں تب شاید یہ راستہ نکالا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر چاروں ممبران سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے ایکس پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر ذرا سی بھی کچھ غیرت اور عزت ہے تو پھر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے چاروں اراکین فوری طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف متعصب تھا اور ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے حق و انصاف کا فیصلہ دیا ہے۔
ان کے مطابق ’سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
ہم تمام کارکنوں اور محب وطن پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ’آج کا دن 25 کروڑ عوام اور جمہوریت کی فتح کا دن ہے۔ ہمیں آج ہمارا حق واپس دے دیا گیا۔ ہم کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عمل کریں اور الیکشن کمیشن ہمارے انٹرا پارٹی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے۔‘
آج ہم نے قانونی جنگ جیتی ہے، سیاسی جنگ جیتنا ابھی باقی ہے: سلمان اکرم راجہ
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم اور روشن دن ہے۔ آج آئین کی فتح ہوئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے آج کا فیصلہ کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے۔ آج ہم نے قانونی جنگ جیتی ہے، سیاسی جنگ جیتنا ابھی باقی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو ہمارے حق کو مال غنیمت سمجھ کر دوسروں میں بانٹنا چاہتے تھے ان کے ارادے آج پاش پاش ہوئے۔
رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے کہا کہ ’آج کا دن پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا یادگار دن ہے۔ ابھی ہمیں آدھا مینڈیٹ ملا ہے۔ ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘
سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ آج عمران خان کی جیت ہے چیف الیکشن کمشنر فوری مستعفی ہو۔ آج کا دن عمران خان کے نام ہے۔
بریکنگ, پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی اہل ہے: سپریم کورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے
فیصلے کے خلاف اپیل پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے پارلیمان میں مخصوص نشستوں کی
الاٹمنٹ کے معاملے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ خلاف آئین قرار دیتے ہوئے
کالعدم کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی
اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی
حقدار ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اکثریتی فیصلہ ہے اور 13 میں سے آٹھ
ججوں نے اس کی حمایت جبکہ چیف جسٹس قاضی
فائز عیسی سمیت پانچ ججوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو کسی
اور جماعت کا امیدوارقرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک
انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے اورانتخابی نشان کا نہ ملنا کسی سیاسی جماعت کو انتخاب
میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری پوری نہیں کی
اور تحریک انصاف کے ارکان کو آزاد ظاہر کر کے غلط کیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے
کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں اور الیکشن کمیشن 80 میں سے ان 39 ارکان
اسمبلی کے تناسب سے، جنھوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں خود کو پی ٹی آئی کا امیدوار
ظاہر کیا تھا، تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں الاٹ کرے جبکہ باقی 41 اراکین وابستگی کے حوالے سے 15 روز میں الیکشن کمیشن میں اپنا حلف نامہ جمع کروائیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق قومی اور تمام صوبائی اسمبلیوں پر ہو گا اور الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کی فہرست دوبارہ مرتب کرے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کے بجائے پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر منگل کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا موقف رہا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہی نہیں۔
انھوں نے موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی۔‘
سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب الجواب میں کہا کہ ’ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری مکمل نہیں کی۔
آزاد امیدواروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے اپنا ریکارڈ دبانے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو جو ریکارڈ جمع کرایا وہ مشکوک ہے۔‘
جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ ’یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ سے ریکارڈ چھپایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا، کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے۔‘
منگل کے روز مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان چھین لیا تھا جس کے بعد اس جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آزاد حثیت میں انتحابات میں حصہ لیا تھا۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان چھین لیا تھا جس کے بعد اس جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آزاد حثیت سے انتحابات میں حصہ لیا تھا۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد انھوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
یاد رہے کہ چارمارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔
چھ مئی کوسپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے معاملہ لارجر بینچ کو ارسال کردیا تھا۔
تاہم اس سے قبل تین مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ چارمارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں تھیں۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر سنی اتحاد کونسل کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر 31 مئی کو دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جس نے اس کیس کی نو سماعتیں کی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی ان کی جماعت نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔
پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا جسے سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
مجموعی طور پر 77 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے تھیں: سنی اتحاد کونسل کا دعویٰ
سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دورن سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 77 مخصوص نشستیں ہیں جو سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔
ان 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں۔
قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختونخوا سے آٹھ سیٹیں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کی معطل مخصوص نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی پہلی سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی۔
ابتدائی سماعت میں انھوں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا تھا جس کی وجہ سے یہ مخصوص نشستیں جن دیگر جماعتوں کو ملی تھیں۔
ان کے ارکان کی رکنیت بھی معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے حکم کے بعد 13 مئی کو نوٹیفکیشن کے ذریعے 77 مخصوص نشستوں پر آنے والے ارکان کی رکنیت کو معطل کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن اور پھر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کو 14، پاکستان پیپلز پارٹی کو پانچ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کو تین اضافی نشستیں ملی تھیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں 21 خواتین اور چار اقلیتی مخصوص نشستیں ہیں جن میں سے جے یو آئی (ف) کو 10، مسلم لیگ (ن) کو سات، پیپلز پارٹی کو سات جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کو ایک اضافی نشست ملی تھی۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ کچھ دیر میں متوقع، سپریم کورٹ جانے والے راستوں پر سکیورٹی سخت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سپریم کورٹ آف پاکستان اب سے کچھ دیر بعد سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل کا فیصلہ سنائے گا اور اس کے پیش نظر سپریم کورٹ جانے والے راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق شاہراہ دستور جانے کے لیے سرینہ چوک کا راستہ بند کر دیا گیا ہے اور اب صرف میریٹ ہوٹل کے راستے سے ریڈ زون جانے والا راستہ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ریڈ زون جانے والے اس راستے پر موجود پولیس ناکوں پر اہلکاروں کی تعداد بھی معمول سے زیادہ ہے۔
شہزاد ملک کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ انصاف لائرز فورم اور تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے احتجاج کیا جا سکتا ہے جس کے باعث کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی مذید سخت کر دی گئی ہے۔
یاد رہے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق فیصلہ جمعے کی دوپہر 12 بجے سنایا جائے گا۔
کاز لسٹ کے مطابق اس مقدمے کا محفوظ فیصلہ اب عدالت کا 13 رکنی بینچ سنائے گا۔
اس اہم کیس کا فیصلہ براہ راست نشر کیا جائے گا۔
اس مقدمے کے پس منظر کے بارے میں مختصراً یاد دہانی کرواتے چلیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان چھین لیا تھا جس کے بعد اس جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ازاد حثیت میں انتحابات میں حصہ لیا تھا۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد انھوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی ان کی جماعت نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔
جس ظہیر بلوچ کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر کے بھائی ہیں: میر ضیاء اللہ لانگو, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنریڈ زون آتے ہوئے سب سے پہلے مظاہرین پر بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے آنسو گیس کی شیلنگ اور پھر لاٹھی چارج کیا گیا
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ظہیر بلوچ نامی جس شخص کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر بشیرزیب کے بھائی ہیں۔
ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ کے ہمراہ جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والی پانچ خواتین کو رہا کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے مبینہ طورپر جبری طورپر لاپتہ کیے جانے والے ظہیر بلوچ کی بازیابی کے لیے کوئٹہ کے ریڈزون میں احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔
ظہیر بلوچ محکمہ پوسٹل سروسز کے ملازم ہیں جنھیں ان کے رشتہ داروں کے بقول دفتر سے گھر آتے ہوئے لاپتہ کیا گیا۔
ظہیر بلوچ کی بازیابی کے لیے گزشتہ دو ہفتے سے سریاب روڈ پر احتجاج کیا جارہا تھا لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جمعرات کو ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان کیا۔
ریڈ زون آتے ہوئے سب سے پہلے مظاہرین پر بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے آنسو گیس کی شیلنگ اور پھر لاٹھی چارج کیا گیا۔ تاہم مظاہرین منتشر نہیں ہوسکے اور انھوں نے دوبارہ ریڈ زون کی جانب مارچ کیا۔
وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ کہا کہ یہ لوگ گزشتہ دس بارہ روز سے سریاب روڈ پر احتجاج کررہے تھے لیکن ہم نے ان کو کچھ نہیں کہا لیکن آج وہ ریڈ زون کی طرف آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو کہا کہ وہ ریڈ زون نہیں آئیں بلکہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کریں کیونکہ ریڈزون میں ریاست کے کام متائثر ہوتے ہیں لیکن وہ پریس کلب نہیں گئے بلکہ ریڈ زون کی جانب آئے۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ظہیر زیب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب کے بھائی ہیں لیکن وہ ہمارے ریاستی اداروں کے پاس نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بشیر زیب دوسرے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکساتے ہیں اور ان کو دہشت گردی کے کیمپوں میں بلاتے ہیں تو کیا وہ اپنے بھائی کو ان کیمپوں میں نہیں بلائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی پریس کانفرنسوں میں یہ کہتے رہے ہیں یہ لوگ بی ایل اے کے کیمپوں میں جاتے رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ کسی احتجاج کے دوران ایسا رویّہ اختیار کریں جس سے ان کا اور فورسز کے اہلکاروں کا احترام برقرار رہے
انھوں نے کہا کہ مظاہرین نے پولیس والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے ویڈیوز ہمارے پاس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جرم جرم ہوتا ہے خواہ وہ مرد کرے یا خواتین کرے لیکن ہمارے ہاں خواتین کا احترام ہے ۔ خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کسی احتجاج کے دوران ایسا رویّہ اختیار کریں جس سے ان کا اور فورسز کے اہلکاروں کا احترام برقرار رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ خواتین نے جرم کیا ہے لیکن وزیر اعلیٰ نے گرفتار ہونے والی پانچ خواتین کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا جس سے پولیس کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پولیس کی 12 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر پولیس پر تشدد اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر مجموعی طور پر 27 افراد کو گرگرفتار کیا گیا۔
ریڈزون کے قریب جی پی او چوک پر ان پر دوبارہ لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی جس سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
کوئٹہ میں مظاہرین پر تشدد کے خلاف مستونگ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کامطالبہ ہے اگر ظہیر بلوچ پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ ان کو رہا کیا جائے۔
پاکستان اور آزربائیجان کا دو طرفہ تجارت میں اضافے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان اور آزربائیجان نے مختلف شعبوں میں باہمی مفاد کے منصوبوں میں سرمایہ کاری دوارب ڈالر تک بڑھانے پراتفاق کیا ہے۔
جمعرات کی شام اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں اس معاملے پر جمعے کے روز مزید تبادلہ خیال کریں گی اور امید ہے کہ دونوں ممالک ان کے آزربائیجان کے آئندہ دورے کے دوران معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہوں گی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان آئندہ برسوں میں اربوں ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے اور دونوں ممالک نے باہمی تجارت میں اضافے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان نے ناگوانوکاراب پر ہمیشہ آزربائیجان کے موقف کی حمایت کی ہے جبکہ اسی طرح آزربائیجان نے پاکستان کے ’کشمیرکاز‘ کی حمایت کی ہے۔
وزیراعظم نے باکو میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنس COP-29 کی میزبانی کے لیے تیاریوں پر آزربائیجان کے صدر اور ان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
آزربائیجان کے صدر الہام علیوف نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی سطح پر مضبوط شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ آذربائیجان کے صدر وزیراعظم کی خصوصی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق محفوظ فیصلہ آج دوپہر سنایا جائے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل کا فیصلہ جمعے کی دوپہر 12 بجے سنایا جائے گا۔
کاز لسٹ کے مطابق اس مقدمے کا محفوظ فیصلہ اب عدالت کا 13 رکنی بینچ سنائے گا۔
سپریم کورٹ اف پاکستان کی ویب سائٹ پر نئی کاز لسٹ شائع کی گئی ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ کا 13رکنی بینچ جمعے کو دن بارہ بجے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر فیصلہ سنائے گا۔
یاد رہے کہ فیصلہ سنانے سے پہلے دو مرتبہ 13 ججز کے درمیان اس پر مشاورت ہوئی۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پھر پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
اس اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے کی تھی۔
اس مقدمے کے پس منظر کے بارے میں مختصرا یاد دہانی کرواتے چلیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان چھین لیا تھا جس کے بعد اس جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ازاد حثیت میں انتحابات میں حصہ لیا تھا۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد انھوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی ان کی جماعت نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔
گزشتہ روز کی اہم خبروں کے اہم نکات
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں جمعے کے روز آپ سب کو خوش آمدید۔
آج کے دن کی اہم خبریں شامل کرنے سے پہلے ہم آپ کو یہاں گزشتہ روز کی اہم خبروں کا مختصر خلاصہ بتاتے چلیں۔
عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد
لاہورمیں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے نو مئی کے ایک مقدمے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ ’مجرمانہ سازش‘ میں ملوث شخص اس رعایت کے حقدار نہیں ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم کی تقریب حلف برداری
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جس کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی لگ بھگ 150 برس کی تاریخ میں گنی چنی خواتین ہی جج بنیں لیکن ان میں سے جسٹس عالیہ نیلم پہلی خاتون ہیں جن کو یہ اعزاز ملا۔ اب تک پانچ خواتین لاہور ہائیکورٹ کی جج بن چکی ہیں۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے مقدمے میں اٹارنی جنرل کی ملزمان سے ملاقات سمیت گھر سے لایا ہوا کھانا فراہم کرنے کی یقین دہانی
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف گزشتہ سماعت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر ملزمان سے ملاقات سمیت گھر سے لایا ہوا کھانا فراہم کرنے سے متعلق آگاہ کریں گے۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا مقدمہ: سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ جمعے کی دوپہر فیصلہ سنائے گا
سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل کا فیصلہ اب عدالت کا 13 رکنی بینچ سنائے گا۔
اس کے علاوہ فیصلے کا وقت بھی جمعے کی صبح ساڑھے نو سے تبدیل کرکے دن بارہ بجے کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی ریگولر بینچ اس اپیل پر فیصلہ سنائے گا تاہم رات گئے سپریم کورٹ اف پاکستان کی ویب سائٹ پر نئی کاز لسٹ شائع کی گئی ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی بینچ جمعے کو دن بارہ بجے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر فیصلہ سنائے گا۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل کا فیصلہ کل صبح سنایا جائے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل کا فیصلہ جمعے کو صبح ساڑھے نو بجے سنایا جائے گا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی ریگولر بینچ اس اپیل پر فیصلہ سنائے گا۔ یاد رہے اس اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے کی تھی۔
فیصلہ سنانے سے پہلے دو مرتبہ 13 ججز کے درمیان اس پر مشاورت ہوئی تھی۔
یاد رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پھر پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
عمران خان 9 مئی کی ’مجرمانہ سازش‘ میں ملوث، ضمانت قبل از گرفتاری نہیں دی جا سکتی: انسدادِ دہشتگردی عدالت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ ’مجرمانہ سازش‘ میں ملوث شخص اس رعایت کے حقدار نہیں ہیں۔
انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے اپنے حکمنامے میں لکھا ہے کہ ’ضمانت قبل از گرفتاری کی غیرمعمولی رعایت بے گناہ شخص کو دی جاتی ہے، نہ کہ ایسے درخواست گزار کو جو کہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مل کر ریاست کے خلاف جنگ کرنے اور حکومت کا تختہ پلٹنے کی مبینہ مجرمانہ سازش میں ملوث ہو۔‘
خیال رہے گذشتہ برس سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، جس کے دوران مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا تھا۔
عمران خان متعدد مرتبہ خود پر لگنے والے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
حکمنامے میں لکھا ہے کہ دو گواہان نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ درخواست گزار عمران خان اور پی ٹی آئی کے 15 سینیئر رہنماؤں نے 7 مئی 2023 کے دن 5:15 سے 6:00 بجے کے درمیان لاہور کے زمان پارک میں ایک میٹنگ کی اور کہا کہ انھیں (عمران خان کو) ڈر ہے کہ انھیں 9 مئی کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا جائے گا۔
عدالتی حکمنامے میں لکھا گیا ہے کہ گواہان کے مطابق عمران خان نے ہدایات جاری کیں کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کارکنان کو جمع کیا جائے اور عسکری تنصیبات، سرکاری املاک اور پولیس افسران پر حملہ کیا جائے تاکہ حکومت اور عسکری اداروں پر ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
حکمنامے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست گزار عمران خان کے ساتھی ملزمان نے جواب دیا کہ وہ ان کی ’ریڈ لائن‘ ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو اُکسا کر حکومت کو مفلوج کر دیں گے۔
’استغاثہ کا درخواست گزار کے خلاف کیس یہ ہے کہ درخواست گزار نے مبینہ مجرمانہ سازش بُنی جس سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اتفاق کیا اور جدید ڈیوائسز خصوصاً آن لائن طریقے سے مظاہرین تک اسے پہنچایا جنھوں نے اُکسانے کے نتیجے میں (سرکاری املاک پر) حملے کیے، زبردستی جناح ہاؤس میں گھس گئے اور اسے نذرِ آتش کر دیا۔‘
عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کو مسترد کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج نے اپنے حکمنامے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار نے اپنے خلاف درج مقدمے پر جس ’سیاسی انتقام‘ کا نشانہ بننے کا دعویٰ کیا ہے وہ عقل و دماغ سے بالاتر ہے۔
جج کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’پُر امن طریقے سے احتجاج کرنے والا شخص اس وقت دہشتگرد بن جاتا ہے جب وہ مجرمانہ سازش بُنتا ہے اور اسے دیگر مسلح لوگوں تک پہنچاتا ہے جو حکومت کو مفلوج کرنے کے لیے جناح ہاؤس جیسی ریاستی عمارتوں پر حملے کرتے ہیں۔ ایسا شخص وہ تمام حقوق کھو دیتا ہے جو کہ قانون کا احترام کرنے والے شہری کو حاصل حاصل ہوتے ہیں۔‘
بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
،تصویر کا ذریعہPTV News
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جس کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئی ہیں۔
حلف برداری کی تقریب آج صبح گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی جہاں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے جسٹس عالیہ نیلم سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کا حلف لیا۔
جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئی ہیں۔ وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس عالیہ نیلم کو صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی عدالت لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نامزد کرتے ہوئے ان کے نام کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ کی لگ بھگ 150 برس کی تاریخ میں گنی چنی خواتین ہی جج بنیں لیکن ان میں سے جسٹس عالیہ نیلم پہلی خاتون ہیں جن کو یہ اعزاز ملا۔ اب تک پانچ خواتین لاہور ہائیکورٹ کی جج بن چکی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم کون ہیں؟ مکمل تفصیل جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف گزشتہ سماعت کا حکم نامہ جاری، اٹارنی جنرل کی ملزمان سے ملاقات سمیت گھر سے لایا ہوا کھانا فراہم کرنے کی یقین دہانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف وفاق اور دیگر تین صوبوں کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں کی سماعت آج ہوگی۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ ان اپیلوں کی سماعت کرے گا۔
آٹھ جولائی کو ہونے والی سماعت کا عدالت نے حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق زیر حراست ملزمان کے اہلخانہ نے ملاقاتیں نہ ہونے کی شکایت کی اور عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے۔
حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ
اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ملزمان سے اہلخانہ کی ملاقات کرائی جائے گی اور اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر ملزمان سے ملاقات سمیت گھر سے لایا ہوا کھانا فراہم کرنے سے متعلق آگاہ کریں گے۔
حکمنامہ کے مطابق
خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان اپیلوں پر ہونے والی عدالتی کاروائی براہ راست نشر کرنے سے متعلق درخواست بھی واپس لینے پر نمٹا دی گئی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا ان کو بنچ پر اعتراض نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لاہور ہائیکورٹ بار اور بار ایسوسی ایشن کو کیس میں فریق بنانے پر دو ججز کا اختلاف بھی کیا۔
جسٹس شاہد وحید اور جسٹس شاہد بلال کے اختلافی نوٹ بھی اس حکم نامے میں شامل کیے گئے ہیں۔
حکم نامے کے تحت لاہور ہائیکورٹ بار اور بار ایسوسی ایشن کی فریق بننے کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور یہ درخواست پانچ دو کے تناسب سے فریق بننے کی درخواست منظور کی گئی۔
یاد رہے کہ نو مئی کے واقعات کے بعد ایک سو تین افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں اور سپریم کورٹ نے ان اپیلوں پر فیصلہ ہونے تک فوجی عدالتوں کو فیصلہ سنانے سے روک رکھا ہے تاہم فوجی عدالتوں ان مقدمات پر عدالتی کارروائی جاری رکھی جاسکتی ہے۔
عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج مکمل ہونے کا امکان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف عمران خان اور بشری بی بی کی اپیلوں کی سماعت آج ایڈشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں ہو گی۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعقلہ عدالت کو ایک ماہ میں عمران خان اور بشری بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ دینے کا حکم دے رکھا ہے اور یہ مدت 12 جولائی (جمعہ) کو مکمل ہو رہی ہے۔
گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل پر بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل مکمل کرنے کے بعد عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو جمعرات کو اپنے دلائل دینے کا حکم دیا تھا۔
دورانِ سماعت سلمان صفدر کی معاون وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ خاتون کے تقدس اور وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی خاتون کے ذاتی معاملات پر بات کرے یا سوال اٹھائے۔ اگر یہ سزا کالعدم قرار نہ دی گئی تو یہ خواتین کے لیے شرم ناک ہوگا۔
سماعت کے دوران ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ صرف یہی کیس ’ہائی لائٹ‘ ہوا ہے۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا ایک فوٹو کاپی پر کیسے سزا ہو سکتی ہے، یہ کیس ہی نہیں بنتا۔
عدت میں نکاح‘ کیس کا مختصر پس منظر
رواں سال تین فروری کو سول عدالت نے سابق وزیراعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدت نکاح کیس میں سات سات سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔
25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔
خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انھیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔
28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔
تاہم اس کے بعد پانچ دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔
تاہم تین فروری کو سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نکاح کیس میں سات سات سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔
امکان ہے کہ آج یہ سماعت مکمل ہو جائے گی۔
آذربائیجان کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف آج سے دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کےمطابق صدرالہام علیوف اپنے دورے میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق صدرالہام علیوف،وزیراعظم شہبازشریف کی خصوصی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔
اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی ۔ دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے۔
یاد رہے کہ تیل کے ذخائر سے مالا مال آذربائیجان بحیرۂ کیسپیئن کے ایک کنارے پر مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے بیچ واقع ہے۔ اس کے شمال میں روس، جنوب میں ایران اور مغرب میں آرمینیا موجود ہیں۔
سنہ 1991 میں جب آذربائیجان سوویت یونین سے آزاد ہوا تو ترکی، پاکستان، امریکہ اور ایران وہ ابتدائی ممالک تھے جنھوں نے اس کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات قائم کیے۔
آذربائیجان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ترکی جبکہ دوسرا پاکستان تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گی
،تصویر کا ذریعہLHC
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس لاہور میں ہو گی۔
جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی۔ وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر جسٹس عالیہ نیلم سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کا حلف لیں گے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس عالیہ نیلم کو صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی عدالت لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نامزد کرتے ہوئے ان کے نام کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔
سپریم جوڈیشنل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کے لیے تین سب سے سینیئر ججز جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام شامل تھے جس پر کمیشن نے جسٹس عالیہ نیلم کا انتخاب کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی لگ بھگ 150 برس کی تاریخ میں گنی چنی خواتین ہی جج بنیں لیکن ان میں سے جسٹس عالیہ نیلم پہلی خاتون ہیں جن کو یہ اعزاز ملا۔ اب تک پانچ خواتین لاہور ہائیکورٹ کی جج بن چکی ہیں۔
وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈجسٹ جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کئی اہم مقدمات پر فیصلے کیے۔ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کے الزام میں ضمانت منظور کرنے والے تین رکنی بنچ کی رکن تھیں۔
جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات پر درج مقدمات کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ضمانت مسترد کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا اور ضمانت کی درخواستوں کو بحال کیا۔
جسٹس عالیہ نیلم نے نو مئی کے مقدمات میں گرفتار خواتین خدیجہ شاہ اور عالیہ حمزہ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔
پشاور میں سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن میں تین شدت پسند، سی ٹی ڈی اور فوج کے چار اہلکار ہلاک
،تصویر کا ذریعہISPR
آئی ایس پی آر کے مطابق بدھ کے دن پشاور کے حسن خیل علاقے میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے ایک آپریشن میں ایک ہائی ویلیو کمانڈر سمیت تین شدت پسند جبکہ سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا اور فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک ہائی پروفائل دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہائی ویلیو ٹارگٹ عبدالرحیم نامی کمانڈر سمیت تین شدت پسند ہلاک ہوئے جن سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر نے دعوی کیا ہے کہ عبدالرحیم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا جس کی گرفتاری پر ساٹھ لاکھ روپے کی انعامی رقم بھی رکھی گئی تھی۔ اعلامیے کے مطابق عبدالرحیم نامی کمانڈر چھبیس مئی کو کیپٹن حسین جہانگیر اور حولدار شفیق اللہ کی ہلاکت کا بھی ذمہ دار تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کے دوران انسداد دہشت گردی خیبر پختونخوا کے ایک سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکڑ سمیت دو فوجی بھی ہلاک ہو گئے۔