190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت آج آڈیالہ جیل میں ہوگی، عمران حان اور بشریٰ بی بی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔
ملزمہ بشریٰ بی بی کو اس مقدمے میں عدالت میں پیش کرنے کے لیے بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔
پراسیکوشن کی جانب سے آج مذید چار گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پراسیکوشن کی جانب سے اب تک دس سے زائد گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا جنھوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کے علاوہ ڈیفنس کونسل کی جانب سے ان پر جرح کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔
آج کی عدالتی سماعت کے دوران جیل حکام عمران خان اور بشریٰ بی بی کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کریں گے۔
جیل حکام کے مطابق دونوں مجرمان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں ان دونوں میاں بیوی کا جو طبی معائینہ ہوا تھا اس میڈیکل ٹیم میں سرکاری ڈاکٹروں کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر عاصم بھی موجود رہے جو بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج ہیں۔
جیل حکام کے دعوے کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک نہیں ہیں اور انھیں تیزابیت کی شکایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھانے میں کوئی زہریلی چیز ملا کر دی جا رہی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے کہ بشریٰ بی بی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے اس صوبے کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
عمران خان نے بھی اپنی اہلیہ کی مبینہ طور پر بگٹرتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور گزشتہ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر ان کی بیوی کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہوں گے۔
دوسری جانب جیل حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے جیل کے اندر قائم کی گئی عدالت میں لگائی گئی عارضی دیواروں کو ہٹا دیا ہے۔
ان عارضی دیواروں کی تعمیر پر عمران خان نے احتجاج کیا تھا کہ ایسا اقدام عدالتی امور میں مداخلت کے مترادف ہے اور بااثر شخصیات اس مقدمے پر اثرار انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جاسکے۔
عمران خان کے دعوے کے برعکس جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حفاظتی نقطہِ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔


















