ضمنی الیکشن: 21 حلقوں میں پولنگ کا وقت ختم اور گنتی شروع، نارووال میں ایک شخص کی ہلاکت پر رپورٹ طلب

پاکستان میں آج قومی و صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی پی 54 نارووال میں پولنگ سٹیشن کے قریب ایک شخص ہلاک ہوا جس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صاحب نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان میں آج قومی و صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے
  • الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی پی 54 نارووال میں پولنگ سٹیشن کے قریب ایک شخص ہلاک ہوا جس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صاحب نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے
  • ضمنی الیکشن کے دوران بعض حلقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی
  • پی ٹی اے کے مطابق ضمنی الیکشن کے دوران موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ ’انتخابی عمل کو بلاتعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کیا گیا‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبروں کے لیےاس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. 'گوادر کو آفت زدہ قرار دینے کے باوجود لوگ کسمپرسی کی حالت میں‘, محمد کاظم

    gwadar

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے متعددعلاقوں سے چار روز گزرنے کے باوجود بارش کا پانی نہیں نکالا جاسکا جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گوادر میں حالیہ بارشوں کے حوالے سے جو ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں ان میں شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ان میں ٹی ٹی سی کالونی ، شمبے اسماعیل اور پرانی آبادی کے متعدد علاقے شامل ہیں۔

    ان علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کھڑے پانی کو نکالتے ہوئے دکھائی دے رہے۔ ان میں ایک تصویر میں ایک بچے کے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے جس پر یہ لکھا ہے کہ 'گوادر کو آفت زدہ قرار دینے کے باوجود لوگ کسمپرسی کی حالت میں۔‘

    فون پر رابطہ کرنے پر شمبے اسماعیل کے رہائشی ندیم حیدر دشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ بارش کے پانی کے نکاس میں تاخیر کے باعث لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'چار روز گزرنے کے باوجود ان کے اپنے گھر میں دو فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ محلے میں تین فٹ سے زیادہ پانی ہے۔‘

    'گوادر میں ایک نئی مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ لوگ گھروں سے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کو نکالتے ہیں لیکن زمین سے پھر پانی آتا ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ گوادر میں لوگ کس مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پانی کو نکالنے کے لیے انتظامیہ کے پاس مطلوبہ مشنری نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ تاخیر ہورہی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہورہا ہے۔

    'کہیں ٹربائن ہے تو پائپ نہیں ہے اور کہیں پائپ ہے تو ٹربائن نہیں ہے۔ ہم نے ٹھیکداروں سے پوچھ لیا کہ وہ ایکسکاویٹرز کیوں استعمال میں نہیں لارہے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ان کے پرانے واجبات کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔‘

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جو روڈ بنائے ان کے باعث پانی کی قدرتی گزرگائیں بند ہونے سے پانی کھڑا ہے۔

    ندیم حیدر دشتی نے بتایا کہ جہاں بارش کے پانی کو نکالنے میں تاخیر سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں اس سے گھروں کی بنیادوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر گوادر سے رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ گوادر شہر سے ابھی تک پانی نہیں نکالا جاسکا ہے جس کے باعث لوگ مشکل میں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گوادر میں پہلے جو بارش ہوئی اس کا پانی بہت سارے علاقوں میں موجود تھا لیکن اب دوبارہ بارشیں زیادہ ہوئیں جس سے نہ صرف دوبارہ شہر زیر آب آگیا بلکہ اس بار مشکلات اس لیے زیادہ ہیں کہ پورا ضلع گوادر متائثر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پسنی سمیت ضلع کے دوسرے شہر اور دیہات بھی حالیہ بارشوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے جس کی وجہ سے گوادر شہر سمیت ضلع کے اکثر علاقوں میں لوگ ایک مشکل حالت سے دوچار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا پسنی میں ماہی گیروں کے سو سے زائد کشتیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان حفیظ بلوچ نے فون پر بتایا کہ جن علاقوں میں پانی کھڑا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نشیب میں ہیں اور دوسری بڑی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ بارشیں معمول سے بہت زیادہ ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ایک مشکل یہ بھی پیش آرہی ہے کہ گوادر کے ساتھ پسنی میں بھی بارشوں کا پانی کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے پچھلی بارشوں میں 12انچ والے جو پانچ ٹربائن دیے تھے ان میں سے تین کو پسنی بھیجنا پڑا تاکہ وہاں لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔

    جی ڈی اے کے ترجمان کے مطابق گوادر میں جو بھی دستیاب وسائل ہیں ان سب کو شہر سے پانی کو نکالنے کے لیے لگایا گیا ہے اورجی ڈی اے سمیت تمام حکومتی اداروں کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد پانی کو نکالا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگ جی ڈی اے کو مورد الزام ٹھرارہے ہیں لیکن پانی جن علاقوں میں کھڑا ہے وہاں تو جی ڈی اے نے کوئی کام نہیں کیا ہے اور جن علاقوں میں جی ڈی اے نے ترقیاتی کام کیے ہیں وہاں پانی کھڑا ہونے کا اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنڈز کا بھی مسئلہ درپیش ہے اور اگر حکومت کی جانب سے ڈرینز کو ڈالنے کے لیے مجوزہ فنڈز فوری طورپر مل جائیں تو بارش کے پانی کے نکاس کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

    gwadar
  3. ضمنی الیکشن: 21 حلقوں میں پولنگ کا وقت ختم اور گنتی شروع، نارووال میں ایک شخص کی ہلاکت پر رپورٹ طلب

    الیکشن، ضمنی انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں آج قومی و صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران پولنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔

    الیکشن قوانین کے تحت پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی پولنگ سٹیشنز میں موجود افراد اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

    ایک بیان میں سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام امیدواروں کے ایجنٹس کو پولنگ سٹیشن پر فارم 45 کی کاپیاں مہیا کی جائیں۔ انھوں نے تمام امیدواروں پر بھی زور دیا کہ فارم 45 کی کاپیاں ضرور حاصل کریں۔

    پولنگ کے دوران پنجاب میں کچھ مقامات پر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شیخوپورہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقے 139 میں پولنگ سٹیشن کے باہر سنی اتحاد کونسل اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ این 119 میں بھی سنی اتحاد کونسل اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان جھگڑے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    نارووال میں مبینہ طور پر لڑائی کے دوران ن لیگ کے کارکن محمد یوسف ہلاک ہوئے۔

    پی پی 54 نارووال میں کارکن کی ہلاکت پر رپورٹ طلب

    الیکشن کمیشن نے پی پی 54 نارووال میں پولنگ سٹیشن کے قریب ’ایک شخص کی ہلاکت‘ پر افسوس ظاہر کیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صاحب نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ناروال سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے۔

    ادھر الیکشن کمیشن نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد کے پولنگ سٹیشن میں داخلے کی خبروں کا نوٹس لیا۔ ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے ذاتی طور پر آئی جی بلوچستان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اس معاملے پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کی۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 149 لاہور میں پریذائیڈنگ آفیسر کی جانب سے پولنگ ایجنٹس سے فارم۔45 پر ’پیشگی دستخط کروائے جانے‘ کے معاملے پر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کی ہے تاکہ ’کمیشن مزید قانونی کارروائی عمل میں لا سکے۔‘

  4. ڈیرہ اسماعیل میں محکمہ کسٹم کے اہلکاروں پر حملہ، دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل میں ایک مرتبہ پھر کسٹم کے محکمے کے اہلکاروں پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل میں ایک مرتبہ پھر کسٹم کے محکمے کے اہلکاروں پر حملہ ہوا ہے جس میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق اتوار اور سنیچر کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل شہر میں داخل ہونے سے پہلے یارک کے مقام پر ٹول پلازہ کے قریب نا معلوم افراد نے کسٹم کے اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے۔

    واقعہ کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس مقام پر کسٹم کی ایک چوکی بھی قائم ہے۔ یہ ٹول پلازہ انڈس ہائی وے پر واقع ہے اور اس کے قریب موٹر وے کے ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان انٹرچینج بھی قائم ہے۔

    شہر میں تین روز میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جو کسٹم کے اہلکاروں پر کیا گیا ہے۔

    اس حملے کے زمہ داری اب تک کسی شدت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی لیکن چند روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم اہلکاروں پر حملے کی زمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

    پولیس زرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا گنڈہ پور گروپ زیادہ متحرک ہے ۔ پولیس حکام ان واقعات کی تفتیش کر رہے ہیں۔

    ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بظاہر کسٹم کے اہلکار سافٹ ٹارگٹ ہے اس لیے ان پر حملہ آسان ہوتا ہے۔

    سینیر صحافی اور تجزیہ کار افتخار فردوس کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے حملے کے بعد شدت پسند تنظیم نے جب حملے کی زمہ داری قبول کی تھی تو اس میں کہا تھا کہ یہ حملہ پولیس اہلکاروں پر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ کسٹم اہلکاروں کی وردی ہے جو پولیس اہلکاروں سے ملتی جلتی ہے۔

    افتخار فردوس کے مطابق اس علاقے میں شدت پسندی اس وقت عروج پر ہے جہاں شدت پسند آسانی سے حملے کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں اس سال اب تک تشدد کے واقعات بڑی تعداد میں پیش آئے ہیں اور انسداد دہشت گردی کے محکمہ سی ٹی ڈی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ تشدد کے واقعات ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئے ہیں۔

    ان واقعات میں زیادہ تر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ چار روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے مغربی راستے درابن روڈ پر کسٹم اہلکاروں پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا تھا ۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں نے کسٹم اہلکاروں پر حملہ چلتی گاڑی میں کیا تھا جس میں پانچ اہلکار اور ایک بچی سمیت دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

    افتخار فردوس کے مطابق یہ ڈیرہ اسماعیل خان سمگلنگ کا بڑا روٹ ہے اور حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی جانب سے بھی اس راستے سے اسلحہ اور نان کسٹم پیڈگاڑیاں سمگل کی گئی ہیں جو تشدد کی بڑی کارروائیوں میں استعمال ہوئی ہیں۔

  5. پاکستان نے انڈیا کے خلاف کراٹے کامبیٹ مقابلہ جیت لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    شاہ زیب رند

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ہونے والے کراٹے کامبیٹ مقابلوں میں پاکستان نے انڈیا کو شکست دے دی ہے۔

    فیصلہ کن فائٹ میں پاکستان کے شاہ زیب رند نے انڈیا کے رانا سنگھ کو ہرایا ہے۔ 25 سالہ شاہ زیب رند کا تعلق پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی شاہ زیب رند کو فتح پر مبارک باد ک دیتے ہوئے کہا کہ ’شاہ زیب رند نے انڈین کھلاڑی کو شکست دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے بلوچستان کے نوجوانوں پر فخر ہے۔‘

  6. قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات آج، بعض اضلاع میں موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان میں انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کل 22 حلقوں میں انتخابات آج ہو رہے ہیں جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخاب جبکہ بلوچستان کے حلقہ پی بی 50 میں سپریم کورٹ کے حکم پر آج ری پول (دوبارہ انتخاب) بھی ہو رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن حکام کے مطابق قومی اسمبلی کے پانچ، پنجاب اسمبلی کے 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلیوں کے دو دو حلقوں میں ضمنی انتخاب آج ہو رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی حلقوں میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوگی اور کسی وقفے کے بغیر شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

    دوسری جانب انتخابات کےباعث 21 اور 22 اپریل کو پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رہے گی۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا سنیچر کو جاری ایک مختصر اعلامیے میں کہنا تھا کہ موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ ’انتخابی عمل کو بلاتعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

    انتخابات میں امن و امان کے قیام کے لیے فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت نے ضمنی انتخابات میں سول آرمڈ فورسز اور پاکستانی فوج کے دستے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق یہ دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال ہوں گے۔

    الیکشن

    بلوچستان اسمبلی کے تین صوبائی حلقوں پر انتخاب ہو رہے ہیں ان میں پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں ری پول اور پی بی 22 لسبیلہ اور پی بی 20 خضدار میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینچر کو اعلان کیا کہ ان کی جماعت پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں ہونے والے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی۔

    یاد رہے کہ پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار انجنیئر زمرک کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیکر اس نشست پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

    دوسری جانب سنیچر کو پشین میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یوآئی نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ صرف پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے پارٹی نے اپنے امیدوار کو ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے یہاں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔

    پی بی 20 خضدار سے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کامیاب ہوئے تھے لیکن قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے کے باعث انھوں نے اس نشست کو خالی کیا تھا۔

    پی بی 22 لسبیلہ سے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن جام کمال خان منتخب ہوئے تھے، تاہم قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے باعث انھوں نے بلوچستان اسمبلی کی اس نشست کو چھوڑ دیا تھا۔

  7. ضمنی انتخابات: پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع میں موبائل فون سروس معطل رہے گی

    پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سبب 21 اور 22 اپریل کو پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رہے گی۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا سنیچر کو جاری ایک مختصر اعلامیے میں کہنا تھا کہ موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ ’انتخابی عمل کو بلاتعطل اور شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے کے چار اضلاع اور نو تحصیلوں میں ضمنی انتخابات کے روز موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارتِ داخلہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ 21 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پنجاب کے 13 اضلاع و تحصیلوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی جائے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ امن و امان کے لیے لاہور، شیخوپورہ، قصور، تلہ گنگ، کلرکہار، گجرات، صادق آباد، ڈی جی خان اور دیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی جائے۔

    وفاقی حکومت نے ضمنی انتخابات میں سول آرمڈ فورسز اور پاکستانی فوج کے دستے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق سول یہ دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال ہوں گے۔

  8. بلوچستان میں تین صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخاب کل، مولانا فضل الرحمان کا بائیکاٹ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی کے تین صوبائی حلقوں پر کل ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں جن میں پی بی 50 قلعہ عبداللہ، پی بی 22 لسبیلہ اور پی بی 20 خضدار کی نشستیں شامل ہیں۔

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینچر کو اعلان کیا کہ ان کی جماعت پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی۔

    پی بی 20 خضدار سے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کامیاب ہوئے تھے لیکن قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے کے باعث انھوں نے اس نشست کو خالی کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 100 ہے جن کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

    حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 93 ہزار 425 ہے، جن میں سے 52 ہزار 777 مرد اور 40 ہزار 648 خواتین شامل ہیں۔

    دوسری نشست پی بی 22 لسبیلہ سے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن جام کمال خان منتخب ہوئے تھے، تاہم قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے باعث انھوں نے بلوچستان اسمبلی کی اس نشست کو چھوڑ دیا تھا۔

    پی بی 22 لسبیلہ میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 129 ہے جن میں سے59 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    اس حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار انجنیئر زمرک کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیکر اس نشست پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

    دوسری جانب سنیچر کو پشین میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یوآئی نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ صرف پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے پارٹی نے اپنے امیدوار کو ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے یہاں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ اب اس نشست پر دھاندلی نہیں ہوگی لیکن شواہد ایسے ہیں کہ دوبارہ دھاندلی ہوگی اس لیے ان کی جماعت اس نشست پر بھی ضمنی انتخاب کابائیکاٹ کرتی ہے ۔

    پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 125 ہے جن میں سے 47 پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور 78 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

  9. پاکستان میں ایرانی سفیر کی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات، مجوزہ معاہدوں پر گفتگو: وزارتِ داخلہ

    پاکستان، ایران، محسن نقوی، ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہInterior Ministry of Pakistan

    پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی ہے اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورے کے حوالے سے کیے گئے حتمی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    خیال رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل کو سرکاری دورے پر پاکستان آ رہے ہیں۔

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق سنیچر کو ایرانی سفیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں ایرانی صدر کے دورے کے دوران متوقع طور پر زیرِ گفتگو آنے والے مجوزہ معاہدوں پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

    وزیرداخلہمحسن نقوی نے ایرانی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ایرانی صدر کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایرانی صدر کا دورہ دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسنن نقوی نے مزید کہا کہ پاک ایران تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور پاکستان ان برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور دیرپا استحکام کےلئے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

  10. عدالت کے حکم پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نجی ہسپتال میں طبی معائنہ, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے حکم پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا نجی اسپتال میں طبی معائنہ کیا کیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ہمراہ ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اور سرکاری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی نجی اسپتال میں موجود رہی اور ان کے علاوہ بشریٰ بی بی کے وکلا کی ٹیم بھی ہسپتال میں موجود رہی۔

    جیل کے اہلکار کے مطابق بشریٰ بی بی کے معدے اور خون کا ٹیسٹ لیا گیا اور ان کی اینڈو سکوپی بھی کی گئی ہے۔ اینڈو سکوپی کے علاوہ ڈاکٹر کی ہدایات پر بشریٰ بی بی کے دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

    جیل کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان دونوں میاں بیوی کے کیے گئے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں۔

    یاد رہے کہ احتساب عدالت نے جمعے کو بشریٰ بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے دو روز میں نجی ہسپتال سے ان کے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کا بھی طبی معائنہ کروانے کا حکم دیا تھا۔

    عدالتی حکم پر ٹیسٹ کروانے کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان کو چھ ماہ کے بعد پہلی مرتبہ اڈیالہ جیل سے باہر لایا گیا ہے۔

    جیل حکام کے مطابق دونوں کو سخت سکیورٹی میں نجی ہسپتال لایا گیا جہاں پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا۔ ’طبی معائینہ کروانے کے بعد بشری بی بی کو بنی گالہ اور عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    جیل اہلکار کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر کمرۂ عدالت میں لگائی گئیں لکٹری کی عارض دیواروں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے اور اگلی سماعت سے پہلے کمرۂ عدالت کو اسی پوزیشن پر لایا جائے گا جو لکٹری کی دیواریں لگانے سے پہلے تھی۔

  11. ضمنی انتخابات: پنجاب کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست

    الیکشن، پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں 21 اپریل کو یعنی کل قومی اور صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔

    وفاقی حکومت نے ضمنی انتخابات میں سول آرمڈ فورسز اور پاکستانی فوج کے دستے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق سول یہ دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال ہوں گے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے کے چار اضلاع اور نو تحصیلوں میں ضمنی انتخابات کے روز موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست کی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ 21 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پنجاب کے 13 اضلاع و تحصیلوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کے لیے لاہور، شیخوپورہ، قصور، تلہ گنگ، کلرکہار، گجرات، صادق آباد، ڈی جی خان اور دیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی جائے۔

    وفاقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ تاحال اس درخواست کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    اس حوالے سے پاکستان کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انھیں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

  12. خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 46 ہو گئی: پی ڈی ایم اے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    بارشوں سے تباہی

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Dir Upper

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث 12 اپریل سے اب تک ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق اب تک صوبے بھر میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 46 افراد ہلاک اور 60 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے باعث مختلف حادثات مییں ہلاک ہونے والے افراد میں 25 بچے، 12 مرد اور نو خواتین شامل ہیں جبکہ اس دوران 11 خواتین، 33 مرد اور 16 بچے زخمی ہوئے۔

    یاد رہے پاکستان میں بارشوں کا حالیہ سلسلہ 12 اپریل سے 15اپریل تک جاری رہا تھا اور پھر دو روز کے وقفے کے بعد 17 اپریل سے بارش برسانے والا ایک اور نظام ملک میں داخل ہو گیا تھا جس دوران ملک کے طول و عرض میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارشیں ہوئیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے مجموعی طور 2875 مکانات کو نقصان پہنچا جس میں 436 گھروں کو مکمل جبکہ 2439 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

    تیز بارشوں کے باعث جانی و مالی حادثات ضلع خیبر، دیر اپر و لوئر،چترال اپرولوئر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، مانسہرہ، مھمند، مالاکنڈ، کرک، ٹانک، مردان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، بونیر، ہنگو، بٹگرام سمیت دیگر اضلاع میں ہوئے۔

    خیبرپختونخوا میں بارشں

    ،تصویر کا ذریعہRascue 1122

    ،تصویر کا کیپشنصوبے بھر میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 46 افراد ہلاک اور 60 کے قریب زخمی ہوئے

    ادارے کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر پی ڈی ایم نے حالیہ بارشوں میں متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو مرنے والوں کے لواحقین کی مالی امداد اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 110 ملین روپے جاری کیے جبکہ قبائلی اضلاع میں بھی امدادی سرگرمیوں کی مد میں 90 ملین روپے جاری کیے جا چکے ہیں.

    پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں.

    یاد رہے کہ پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اپریل تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان بتایا گیا ہے۔

  13. ’باجوہ صاحب نے کہا تھا میری خواہش ہے آپ عمران کے ساتھ جائیں‘ مونس الٰہی کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ عمران خان فوج سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی شرط ہے کہ پہلے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں تحریکِ انصاف کا چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔

    پنجاب کے سابق وزیراعلی چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی ان دنوں سپین میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان میں اُنھیں کئی مقدمات کا سامنا ہے۔

    بی بی سی اردو کے حسین عسکری کے ساتھ سپین سے زوم پر انٹرویو میں مونس الہی کا کہنا تھا کہ وہ، اُن کے والد اور اُن کی پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہیں لیکن اُن کے والد فوج کے رویے پر افسردہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’وہ اس بات سے دکھی ہیں کہ 40 سال کی خدمت کے باوجود دھوکہ دے کر انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

    سنہ 2022 میں پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے مسلم لیگ ق اور آصف علی زرداری کے مابین معاملات طے پانے کی خبریں آ رہی تھیں لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ انھوں نے پی ٹی آئی کی حمایت کا فیصلہ کیا؟ بعض افراد کا ماننا ہے کہ اس وقت مونس الہی نے اپنے والد کو عمران خان کی حمایت پر منایا۔

    اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’شروع میں میں نے ضرور انھیں اس بات پر رضامند کیا لیکن بعد میں کیے گئے تمام فیصلے ان کے اپنے تھے‘۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’باجوہ صاحب (سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ) کی ضرور انوالمنٹ تھی۔۔ جب پی ٹی آئی رہنما ہمارے گھر سے اٹھ کر گئے تو والد نے باجوہ صاحب سے رابطہ کیا تھا اور باجوہ صاحب نے کہا تھا کہ ’چوہدری صاحب آپ اپنی مرضی کریں‘۔

    ’والد نے انھیں کہا تھا کہ ہمارے پاس اب دونوں طرف سے آفرز آ گئیں ہیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیے، باجوہ صاحب کے الفاظ تھے ’جو آپ کو بہتر لگتا ہے، آپ وہ کریں‘ اس پر والد نے کہا میں نے وہ کرنا ہے جو آپ نے کہنا ہے‘ مونس الٰہی کا دعویٰ ہے کہ جنرل باجوہ نے کہا ’میری خواہش ہے آپ عمران کے ساتھ جائیں‘ وہ کہتے ہیں کہ ’میں وہاں ساتھ کھڑا تھا اور مجھے موقع مل گیا کہ ابا جی اب تو باجوہ صاحب نے بھی کہہ دیا ہے اب کوئی دوسری چیز ہونی نہیں چاہیے۔‘

    بعض افراد کا خیال ہے کہ اگر مونس الٰہی پاکستان جا کر مقدمات کا سامنا کریں تو ان کے والد کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں، ان حوالے سے مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ ’مجھے متعلقہ بندے سے یہ گارنٹی لے دیں کہ میرے جانے سے یہ کل والد صاحب کو چھوڑ دیں گے تو میں آج ہی چلا جاتا ہوں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مسئلہ مقدمات کا نہیں ہے، نہ ایف آئی اے کا مسئلہ ہے نہ نیب کا نہ پولیس کا، نہ اینٹی کرپشن کا، کسی محکمے کا مسئلہ نہیں ہے، صرف جب یہ انسان کو غائب کر دیتے ہیں اور آپ کئی مہینے اپنے خاندان سے الگ ہو جاتے ہیں تو اس کا نقصان بہت زیادہ ہے اور سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کیا سوچ کر پی ٹی آئی کی حمایت کا فیصلہ کیا اور انھیں پی ٹی آئی اور عمران خان کا کیسا مستقبل نظر آتا ہے، اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ’8 فروری کو مستقبل نظر آ گیا ہے جو عمران خان اور پی ٹی آئی سے جڑا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ وہ، ان کے والد، عمران خان اور پی ٹی آئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہیں ’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم نے جو اتنے ووٹ لیے، ہمارا مینڈیٹ بحال کیا جائے۔

  14. بریکنگ, امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے سامان فراہم کرنے کے الزام میں چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    پاکستان کا میزائل پروگرام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے چین کی تین اور بیلا روس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کی تیاری اور ترسیل میں تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ ترجمان متھیو ملر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ان چار کمپنیوں کو نامزد کر رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث رہے۔

    امریکہ نے بیان میں اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے وہ ان پروکیورمنٹ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنے جا رہا ہے۔

    بیان کے مطابق ان کمپنیوں میں سے تین چین میں جبکہ ایک بیلاروس میں واقع ہے اور انھوں نے پاکستان کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سمیت بیلسٹک میزائل بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔

    بیان کے مطابق ’ان کمپنیوں میں منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ، شیان لونگڈ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، تیانجن کری ایٹِو انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ، گرینپیکٹ کمپنی لیمیٹڈ شامل ہیں جو ایسی سرگرمیوں اور لین دین میں ملوث رہی ہیں۔‘

    بیان کے مطابق ’ان کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ یا ان کی ترسیل کے لیے پاکستان کو مواد فراہم کرنے میں تعاون کیا ہے جس سے پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری، حصول اور نقل و حمل کی کوششوں میں مدد ملی ہے۔‘ امریکی بیان کے مطابق ان کمپنیوں نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سمیت اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مددگار اشیا فراہم کی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے نیٹ ورکس کی روک تھام کا نظام مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2023 میں بھی امریکہ نے پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے گزشتہ سال 20 اکتوبر کو جاری بیان میں جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ان میں جنرل ٹیکنالوجی لمیٹڈ، بیجنگ لو لو ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور چانگ زو یوٹیک کمپوزٹ کمپنی لمیٹڈ شامل تھیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ دسمبر 2021 میں بھی امریکہ کا پاکستانی کمپنیوں کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آ چکا ہے جس میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں عائد کی تھیں۔

    دوسری جانب پاکستان ماضی میں ایسے الزامات پر یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے یہ بیلسٹک میزائل مقامی طور پر اپنی صلاحیت و مہارت سے تیار کیے ہیں جن میں غوری اور شاہین نسل کے میزائل شامل ہیں۔

    شاہین تھری بیلیسٹک میزائل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشاہین تھری بیلیسٹک میزائل

    امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والی چاروں کمپنیاں کون سی ہیں اور ان کو کن پابندیوں کا سامنا ہو گا

    اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے امریکہ میں موجود یا امریکی افراد کی تحویل میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے ۔

    بیان کے مطابق ان کمپنیوں کی ملکیت رکھنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور امریکیوں کو ان کے ساتھ کاروبار سے روک دیا گیا ہے۔

    محکمہ خارجہ کی جاری فیکٹ شیٹ کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت چین کی تین اور بیلا روس کی ایک کمپنی نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سمیت اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مددگار اشیا فراہم کی ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی جاری فیکٹ شیٹ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی ترسیل میں مدد فراہم کرنے میں ملوث کمپنیوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

    فیکٹ شیٹ کے مطابق چین میں قائم شیان لونگڈ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کی تیاری سے متعلق میزائل سے متعلق آلات فراہم کیے ہیں، جن میں فلیمینٹ وائنڈنگ مشین بھی شامل ہے۔

    بیان کے مطابق فلیمینٹ وائنڈنگ مشینوں کو راکٹ موٹر کیسز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    فیکٹ شیٹ کے مطابق تیانجن کری ایٹِو انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آلات فراہم کیے ہیں، جس میں ’سٹر ویلڈنگ‘ کا سامان بھی شامل ہے اور جو امریکہ کے مطابق خلائی لانچ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پروپیلنٹ ٹینکوں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    فیکٹ شیٹ میں چین کی گرینپیکٹ کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ کمپنی پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے ساتھ مل کر بڑے قطر والے راکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے۔ سپارکو میں پاکستان کے ایم ٹی سی آر کیٹگری ون بیلسٹک میزائل کی پروڈکشن (تیاری) کی جاتی ہے۔

    فیکٹ شیٹ کے مطابق بیلا روس میں قائم منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو خصوصی گاڑیوں کی چیسس فراہم کرنے کے لیے مدد کی ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) کے ذریعے اس طرح کے چیسس کو بیلسٹک میزائلوں کے لانچ سپورٹ آلات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم کیٹیگری (MTCR) ون بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے ذمہ دار ہے۔

  15. کوئٹہ میں ’افغان طالبان کے رہنما‘ مولوی محمد عمر جان کا قتل: ’ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ تھا‘, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    مولوی محمد عمر جان

    ،تصویر کا ذریعہX/@Zabehulah_M33

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کوئٹہ میں قتل کیے جانے والے مذہبی عالم مولوی محمد عمر جان کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ مولوی محمد عمر جان افغان طالبان کے اہم رہنما تھے۔

    تاہم ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الحئی بلوچ نے بتایا کہ تاحال کوئٹہ پولیس کے پاس مقتول کے افغان طالبان سے تعلق کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق مولوی محمد عمر جان طویل عرصے سے کوئٹہ میں ایک مسجد میں پیش امام تھے۔

    انھیں نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی شب فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

    صدر پولیس سرکل کوئٹہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مولوی عمر جان کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے نواں کلی کے علاقے میں نشانہ بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب وہ مسجد سے گھر کی جانب جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    انھوں نے بتایا کہ سینے میں گولیاں لگنے کے باعث مولوی عمر جان زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی باڈی کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کو سینے میں دو گولیاں لگی تھیں جو کہ ان کی موت کی وجہ بنیں۔

    نواں کلی کا شمار کوئٹہ کے گنجان آبادی والے علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شہر مرکزی علاقے کے شمال میں واقع ہے۔ نواں کلی اگرچہ ایک طویل و عریض علاقے پر مشتمل ہے تاہم اس کا ابتدائی حصہ شہر کے مرکزی علاقے سے اندازاً تین سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    نواں کلی میں مختلف زبانوں اور نسل سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں تاہم اس کی غالب اکثریت مختلف پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں۔

    ’مولوی عمر جان طویل عرصے سے نواں کلی میں پیش امام تھے‘

    صدر سرکل پولیس کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ مولوی عمر جان کی عمر پچپن سال سے زائد تھی۔ ان کا کہنا تھا وہ نواں کلی میں واقع ملیزئی مسجد میں طویل عرصے سے پیش امام تھے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق مولوی عمر جان سے قبل ان کے والد اسی مسجد میں پیش امام تھے تاہم گذشتہ 10، 15 سال وہ خود اس مسجد میں امامت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ تھا اور نواں کلی میں وہ کسی کرائے کے گھر میں نہیں بلکہ اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کی ہلاکت کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

    پولیس اہلکار نے مولوی عمر جان کی افغان طالبان سے تعلق کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل وہ اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے۔ تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

    کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ماضی میں بھی افغان طالبان رہنمائوں کے ہلاکت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ پولیس اہلکار کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے پرمولوی عمر جان کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں بتایا جاسکے گا تاہم اب تک کی شواہد کی بنیاد پر انھوں نے ان کی ٹارگٹڈ کلنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

    افغان طالبان کے ترجمان نے مولوی عمر جان کے بارے میں کیا کہا؟

    افغانستان سے طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مولوی عمر جان کو افغان طالبان کا اہم رہنما قرار دیا ہے۔

    ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں افغان طالبان رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’امارت اسلامیہ کا ملک کی علمی شخصیت محمد عمر جان اخوندزادہ کی ہلاکت پر شدید افسوس ہے۔ امارت اسلامیہ اس واقعے کو ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتی ہے اور ان کے اہل خانہ، رشتہ داروں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 'اسلام دشمن عناصر کا یہ جرم جس کی زد میں علما آ رہے ہیں ، اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک سنگین جرم قرار دیتے ہیں۔‘

    تاہم جب ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ سے مولوی عمر جان کے افغان طالبان سے تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال کوئٹہ پولیس کے پاس ان کے افغان طالبان سے تعلق کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ تفتیش کے بعد ہی کوئٹہ پولیس اس بارے میں واضح رائے دینے کی پوزیشن میں ہوگی۔‘

  16. اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ بلیو ایریا میں آئل ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ ہوا ہے جس کے بعد سے فائر بریگیڈ و آگ بجھانے والی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’پولیس کی بھاری نفری بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

    ’آگ لگنے سے تاحال کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ جناح ایونیو پر ٹریفک کےلیے متبادل راستہ فراہم کیا گیا ہے۔‘

    ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ ’آگ کو بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹینکر کے اندر پیٹرول موجود ہے، کمیکل کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قریبی بلڈنگز کو خالی کروا لیا گیا ہے۔

    ’بہت جلد آگ پر قابو پا لیا جائے گا۔‘

  17. پاکستان ’تنازعات کے شکار ممالک‘ میں شامل، کیا آئی ایم ایف کے اس فیصلے کے کوئی منفی اثرات ہوں گے؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان ’تنازعات کے شکار ممالک‘ میں شامل، کیا آئی ایم ایف کے اس فیصلے کے کوئی منفی اثرات ہوں گے؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو چھ ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنھیں اس سال شدید تنازعات کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق تنازعات اور سخت میکرو اکنامک پالیسیوں کی شرائط کی وجہ سے ان ملکوں کی معاشی حالت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو تنازعات کے شکار چھ ملکوں کی فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور اسے پروگرام کے تحت سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔

    موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی رقم رواں مہینے میں موصول ہونی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور بڑے پروگرام کی طرف بھی بڑھ رہا ہے جس میں موجود تین ارب ڈالر سے زیادہ قرضے کے لیے پاکستان اور عالمی ادارے کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

    آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں معاشی اشاریوں کے بارے میں پیشگوئی کے علاوہ پاکستان کو ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنھیں شدید تنازعات کا سامنا ہے۔

    اس رپورٹ میں عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، یمن کے ساتھ پاکستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جنھیں اس سال شدید تنازعات کا سامنا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں اکنامک گروتھ کے منظر نامہ میں ریکوری دہشت گردی کے واقعات اور سٹرکچرل ریفارمز میں ہونی ہے۔

    عالمی ادارے کے مطابق ملک میں سول اور عسکری فورسز پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں پر بھی حملے ہیں جب گذشتہ مہینے ایک حملے میں پانچ چینی باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

    معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کہ دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ اس رپورٹ میں اندرونی سیاسی عدم استحکام اور مہنگائی کے چیلنج بھی بتائے گئے ہیں جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔

    کن بنیادوں پر ایک ملک کو تنازعات کا شکار قرار دیا جاتا ہے؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو تنازعات کے شکار ملک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک ملک کو کس بنیاد پر اس فہرست میں ڈالا جاتا ہے، اس کے بارے میں آئی ایم ایف نے کہا ایک ملک میں اگر 25 ہلاکتیں ایسے آرمڈ تنازعات میں ہوں جو اس سال پہلی جنوری سے آٹھ مارچ تک واقع ہوئے ہیں تو اسے تنازعات کے شکار ملکوں کی فہرست میں ڈالا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا آئی ایم ایف کی جانب سے اس سلسلے میں جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے اس میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی تنصیبات، حکام اور غیر ملکی افراد پر حملے شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ملک جنگ زدہ اس لحاظ سے ہے کہ ملکی افواج ابھی بھی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔

    کیا اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی؟

    ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ اس منفی تاثر کی وجہ سے مشکل ہو گا کہ پاکستان عالمی اداروں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی بیرونی ادائیگیوں کے لیے رقم کا انتظار کرے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں میں ہر سال 25 ارب ڈالر کا انتظام کرنا ہے تاکہ وہ بیرونی ادائیگیوں کے قابل ہو سکے۔ انھوں نے کہا یہ فنڈز قرضے کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری سے بھی ارینج کرنے ہیں جو ملک کے منفی امیج کی وجہ سے مشکل ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کے برآمدی آرڈرز اور علاقائی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔

  18. عمران خان اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ نجی ہسپتال سے کروانے کا حکم, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Imran khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا نجی ہسپتال سے طبی معائنہ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

    احتساب عدالت کے جج نے کمرہ عدالت میں قائم غیر ضروری دیواروں کو ہٹانے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جب تک غیر ضروری دیواریں ہٹائی نہیں جاتیں، عدالت کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔

    احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا نے یہ حکم سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت کے دوران دیا جس کی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت وکلا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے سے متعلق درخواستیں عدالت میں دائر کی گئیں اس کے علاوہ کمرہ عدالت میں لکڑی کی دیواریں کھڑی کرنے سے متعلق درخواست بھی دائر کی گئی۔

    سماعت کے دوران عمران خان روسٹم پر آئے اور عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ ’کمرہ عدالت میں اضافی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں، یہ اوپن کوٹ والا ماحول نہیں لگ رہا۔‘

    جس پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے استفسار کیا کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ کیا بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ ہوا ہے؟

    عدالت کے سوال پر عمران خان نے بتایا کہ ’ڈاکٹر عاصم یونس نے بشریٰ بی بی کے ٹیسٹ اسلام آباد کے نجی ہسپتال الشفا سے کرانے کی تجویز دی تھی تاہم جیل انتظامیہ پمز ہسپتال سے ٹیسٹ کرانے پر بضد ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ جیل مینول کے مطابق سرکاری ہسپتال سے ہی ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہے۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عاصم یونس آج آ سکتے ہیں جس پر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ڈاکٹر عاصم بہت مصروف رہتے ہیں عدالت حکم دے تو بلا لیتے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ انسانی بنیادوں پر بشریٰ بی بی کے ٹیسٹ نجی ہسپتال سے کرانے کا آرڈر کر دیتے ہیں۔

    سابق وزیرِ اعظم نے الزام عائد کیا کہ بشریٰ بی بی کو کھانے میں ٹوائلٹ کلینر ملا کر دیا گیا ہے، جس سے بشریٰ بی بی کی طبیعت بگڑتی جا رہی ہے، روز ان کے معدے میں جلن ہوتی ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران پریس کانفرنس سے گریز کیا کریں جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ میرے نام سے باہر کوئی غلط بیان دیا جاتا ہے تو مجھے اس کی وضاحت کرنا پڑتی ہے، اس لیے صحافیوں سے بات کرتا ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کی تکریم کا خیال ضروری ہے، آپ سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کر لیا کریں۔

    عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ سماعت کے بعد جیل انتظامیہ میڈیا کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیتی ہے اس لیے عدالت سماعت کے بعد صرف 10 منٹ میڈیا سے بات کرنے کی اجازت دے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کا انڈوسکوپی ٹیسٹ نجی ہسپتال سے کروانے کا حکم دے دیا۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے میڈیا نمائندگان کو روسٹرم پر بلایا اور سماعت میں درپیش مشکلات سے متعلق استفسار کیا۔ صحافیوں نے جواب دیا کہ عدالتی کارروائی سننے میں مشکلات ہیں جس پر عدالت نے عدالت میں نصب اضافی دیواروں کو فوری ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جب تک دیواریں ہٹائی نہیں جاتیں سماعت آگے نہیں بڑھائی جائے گی بعدزاں عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔

    جج ناصر جاوید رانا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کروانے سے متعلق تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکلا صفائی کی جانب سے بارہا بشریٰ بی بی کے طبی معائنے سے متعلق زبانی و تحریری درخواستیں کی گئیں، جیل انتظامیہ کو طبی معائنہ کروانے کے احکامات جاری کیے جاتے رہے۔ عدالتی احکامات پر عمل درامد نہیں ہوا، جیل انتظامیہ کبھی ایک تو کبھی دوسرا عذر پیش کرتی رہی۔ سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر بشریٰ بی بی کا الشفا ہسپتال سے طبی معائنہ کروائیں، بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ ڈاکٹر عاصم یونس اور جیل ڈاکٹرز کی نگرانی میں کروایا جائے۔

    عدالت کی جانب سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو یہ حکم دیا گیا کہ دونوں ملزمان کا طبی معائنہ کروا کر 23 اپریل تک عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ جمع کروائیں۔

  19. ڈیڑھ ماہ بعد بلوچستان میں وزرا نے حلف اٹھا لیا, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    ڈیڑھ ماہ سے زائد کی تاخیر کے بعد بلوچستان کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں 14 ارکانِ اسمبلی نے وزیر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ کابینہ میں پانچ ارکان کو مشیر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

    حلف اٹھانے والوں میں سے بڑی تعداد ان الیکٹیبلز کی ہے جو کہ عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے ایک خاتون کو شامل کیا گیا ہے۔ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے جن اراکین کو لیا گیا ہے ان میں سے دو کے سوا باقی وہ لوگ ہیں جو کہ پہلے بھی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔

    گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے وزرا سے حلف لیا۔

    تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے علاوہ اراکین اسمبلی اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ حلف اٹھانے والے وزرا میں سے چھ، چھ کا تعلق پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جبکہ دو کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والوں میں پیپلز پارٹی کے میر صادق عمرانی،علی مدد جتک، میر ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ، سردار سرفراز چاکر ڈومکی اور میر فیصل جمالی شامل ہیں۔

    نواز لیگ سے کابینہ میں میر سلیم احمد کھوسہ، سردار عبدالرحمان کھیتران، نورمحمد دمّڑ، راحیلہ حمید درانی، شعیب نوشیروانی اور میر عاصم کرد گیلو کو وزیر کی حیثیت سے لیا گیا۔

    بلوچستان میں وزرا

    بلوچستان عوامی پارٹی سے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والوں میں نوابزادہ طارق مگسی اور میر ضیا اللہ لانگو شامل ہیں۔ وزرا کی بڑی تعداد عام انتخابات سے قبل نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں شامل ہوئیں۔ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والوں میں واحد خاتون راحیلہ حمید درانی اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کی سپیکر کے علاوہ وزیر بھی رہی ہیں۔

    ان کا ماضی میں تعلق پیپلز پارٹی، ق لیگ سے بھی رہا تاہم جب 2018 میں عام انتخابات سے قبل نواز لیگ کے اراکین اور رہنماؤں کی بڑی تعداد نے بغاوت کرکے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو راحیلہ درانی نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ بدستور نواز لیگ سے ہی منسلک رہیں۔

    موجودہ کابینہ میں اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو کہ پہلی مرتبہ اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی لیکن ان میں سے صرف دو کو کابینہ میں وزیر کے طور پر لیا گیا جن میں بخت محمد کاکڑ اور فیصل جمالی شامل ہیں۔ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والوں میں سے باقی تمام اراکین پہلے بھی وزیر اور مشیر کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی سے جن اراکین کو وزیر کے طور پر لیا گیا ان میں سے تین نے جبکہ نواز لیگ کے چھ وزارء میں سے پانچ نے عام انتخابات سے قبل نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔تاہم ان میں سے چار 2018 سے قبل بھی نواز لیگ ہی کا حصہ تھے جبکہ ان میں سے بعض ماضی میں ق لیگ اور دوسری جماعتوں سے بھی وابستہ رہے۔ کابینہ کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد یہاں زیادہ تر مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں جس کے باعث کابینہ کی تشکیل میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔

    تاہم یہ پہلی کابینہ ہے جس کے پہلے مرحلے کی تشکیل میں ڈیڑھ ماہ سے زائد کی غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے کابینہ کی تشکیل میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی۔

    سینیئر تجزیہ کار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ پارٹیاں خود ہی یہ طے نہیں کر پا رہی تھیں۔ کن کن اراکین کو کابینہ میں شامل کیا جائے حالانکہ ان کے درمیان پہلے ہی کابینہ کا فارمولا طے پا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکٹیبلز آگئے تھے اور پارٹیوں سے تعلق رکھنے والا ہر رکن اسمبلی وزیر اور مشیر بننا چاہتا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ آزاد اراکین کو بھی اس وعدے کے تحت پارٹیوں میں شامل کیا گیا تھا کہ انھیں کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

    سینیئر تجزیہ کار عبدالخالق رند کا کہنا ہے کہ پارٹیوں کے اندر دباؤ بہت زیادہ تھا بالخصوص نواز لیگ کے اندر یہ دبائو بہت زیادہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹیوں میں شامل پرانے لوگوں کا یہ دباؤ تھا ان کو ترجیح دی جائے جبکہ الیکٹیبلز اور آزاد اراکین وزیر اور اور مشیر بننے کی شرط پر دونوں جماعتوں میں شامل ہوئے تھے۔

    تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مخلوط حکومتوں میں کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے مختلف ایشوز آتے ہیں جن میں پورٹ فولیوز کے مسائل ہوتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت تھی تو اس میں بھی کابینہ کی تشکیل میں دو ماہ کی تاخیر ہوئی تھی۔

  20. افغان حکومت کی جانب سے اہم رہنما ’مولوی محمد عُمر جان‘ کی پاکستان میں ہلاکت کی تصدیق

    محمد عمر

    ،تصویر کا ذریعہ@Zabehulah_M33

    افغانستان سے طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے نواں کلی میں افغان طالبان کے اہم رہنما مولوی محمد عُمر جان اخوندزادہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلٹ فارم ایکس پر سلسلہ وار تین پیغامات میں افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’امارت اسلامیہ کا ملک کی علمی شخصیت محمد عمر جان اخوندزادہ کی ہلاکت پر شدید افسوس ہے، امارت اسلامیہ افغانستان اس واقعے کو ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتی ہے اور محمد عمر کے اہل خانہ، رشتہ داروں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔‘

    افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ایکس پر جاری ہونے والے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ’اسلام دشمن عناصر کا یہ جرم جس کی زد میں علماء آرہے ہیں، اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک سنگین جُرم قرار دیتے ہیں۔‘