لکی مروت میں ’آئی ای ڈی‘ دھماکہ، پاکستانی فوج کے کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی ’آئی ای ڈی‘ دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے دائر کی گئی درخواست نمٹا دی ہے۔
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے آغاز کے پہلے آدھے گھنٹے میں انڈیکس میں 1850 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بدستور حالات کشیدہ، 17 اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج، سینیٹ کا اجلاس کل طلب کرلیا

    parliament

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے علیحدہ علیحدہ سیشن طلب کرلیے۔ بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 6 جون بروز جمعرات شام پانچ بجے طلب کرلیا۔

    صدر مملکت نے سینٹ کا اجلاس 7 جون بروز جمعہ صبح ساڑھے دس بجے طلب کرلیا ہے۔ صدر مملکت نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (۱) کے تحت طلب کیے ہیں۔

  2. سی پیک کے اپ گریڈ شدہ ورژن میں 60 سے زائد اعلیٰ معیار کے تعاون کے منصوبوں کا تصور پیش کیا گیا ہے: وزیراعظم شہباز شریف کا چین کے سرکاری میڈیا میں مضمون

    Pakistani Embassy in China

    ،تصویر کا ذریعہPakistani Embassy in China

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز میں اپنے دورہ چین اور اس کے اہداف پر تفصیلی مضمون لکھا ہے۔

    شہباز شریف نے لکھا کہ ’پاکستان اورچین، چین پاکستان اقتصادی راہداری، سی پیک، کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے پرعزم ہیں تا کہ علاقائی رابطوں کو فروغ دے کر مشترکہ خوشحالی کا مقصد حاصل کیا جا سکے، سی پیک سے خطے اور دنیا میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کا سنہ 2015 میں پاکستان کا سرکاری دورہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے پر صدر شی جن پنگ اور چینی حکومت کے شکر گزار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سی پیک کا اپ گریڈ شدہ ورژن مزید روشن مستقبل کی نوید ہے۔ شہباز شریف کے مطاب سی پیک پہلے ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے اور سی پیک کے فریم ورک کے تحت صنعت کاری، زراعت، آئی ٹی اور کان کنی پر ترجیحی شعبوں کے طور پر توجہ دی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق ’باہمی تعاون کے جذبے سے سرشار سی پیک کے اپ گریڈ شدہ ورژن میں 60 سے زائد اعلیٰ معیار کے تعاون کے منصوبوں کا تصور پیش کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اور پائیدار شراکت داری کو مزید بلندیوں تک پہنچا کر اس مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے دورے کو پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع سمجھتا ہوں۔

    شہباز شریف نے لکھا کہ ’ذاتی طور پر یہ میرے لیے ایک بار پھر امن، سلامتی اور ترقی کے معاملات پر چینی دانش سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہوگا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ اس بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انھوں نے ایک جامع گورننس اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز کی ہے تا کہ غیر یقینی بین الاقوامی معاشی منظر نامے میں ہماری معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرا مقصد ترقی اور خوشحالی کے چین کے کامیاب ماڈل سے استفادہ کرنا ہے۔‘ وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے اس سال مارچ میں چینی سرمایہ کاری منصوبوں (سی سی او سی آئی پی) پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی، جو خاص طور پر پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی نگرانی اور سہولت فراہم کرتی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اپنی تمام کاوشوں میں ہم چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حمایت اور تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں بے پناہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو فروغ دینے اور بڑھانے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ کونسل کاروبار میں آسانی، رکاوٹوں کو دور کرنے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے نتائج دے رہی ہے۔

    ان کے مطابق یہ کونسل غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان میں زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے کلیدی شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے اصلاحاتی اقدامات اور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ترجیحی شعبوں کو سی پیک کے اپ گریڈڈ ورژن یعنی ترقی، معاش، جدت، گرین اور کھلی راہداریوں کے لیے تصور کردہ پانچ راہداریوں سے جوڑ دیا گیا ہے، مثال کے طور پر ہماری قومی ترجیحات کے طور پر خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی اور صنعتکاری سی پیک کی ’گروتھ کوریڈور‘ سے مطابقت رکھتی ہے، اسی طرح آئی ٹی ایک اور قومی ترجیحی شعبے کے طور پر جدت کوریڈور سے مطابقت رکھتی ہے۔

    گرین کوریڈور میں صاف توانائی اور زراعت شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کانوں اور معدنیات کو ذریعہ معاش کی راہداری میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک کے اپ گریڈڈ ورژن کو ایف ڈی آئی اور صنعتکاری کو راغب کرنے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کے لئے ایک محرک کے طور پر تصور کیا گیا ہے جس میں پاکستان کی اعلیٰ معیار کی لیبر پر مبنی اشیا اور خدمات بالخصوص چینی مارکیٹ کو برآمد کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک کی ’اوپن کوریڈور‘ بین الاقوامی شراکت داروں تک ہماری رسائی سے مطابقت رکھتی ہے تا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکیں اور فائدہ اٹھا سکیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے ’تین بڑے عالمی اقدامات‘ یعنی گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹیو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی تجویز پیش کی، جس نے چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے لیے مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔

  3. عمران خان کو مُلک چھوڑنے کی پیشکش کی گئی، عارف علوی

    عارف علوی، عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سابق صدر اور رہنما پاکستان تحریکِ انصاف عارف علوی نے کہا ہے کہ ’عمران خان کو مُلک چھوڑنے کی آفر کی گئی۔ مگر انھوں نے یہ کہ کر ٹھکرا دی کہ مر جاؤں گا مُلک نہیں چھوڑوں گا۔‘

    فصیل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’بانی پاکستان تحریکِ انصاف کو ایک ڈیل آفر کی گئی انھیں کہا گیا کہ شہر چھوڑ دو، تو اس پر عمران خان نے کہا کہ میں مر جاؤں گا پاکستان نہیں چھوڑوں گا۔‘

    فیصل آباد میں تقریب کے دوران اپنے خطاب میں سابق صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بانی پی ٹی آئی کو مُلک چھوڑنے کی آفر کس کی جانب سے کب اور کن حالات میں کی گئی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کل جو لوگ عمران خان کو سزا دینے کی نیت کرتے ہیں اور سزا دینے کی کوشش کی ہے اور جھوٹی سزائیں دیں ہیں اُن کا نام بھی خاک میں مل جائے گا۔‘

  4. چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کا واقعے پر انتہائی افسوس ہے۔ چینی شہریوں کو پاکستان میں فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔

    یہ بات وزیر اعظم نے چین مں جاری پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کے دوران کہی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ سرکاری دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ اس وقت چین میں موجود ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ’چند ماہ قبل دہشت گردی کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں پانچ چینی شہری مارے گئے۔ اس واقعے پر پورا پاکستان رنجیدہ تھا۔ ہر موقع پر اپنے ساتھ موجود رہنے والے چین کے شہریوں کی پاکستان میں سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔ پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بزنس کاونسل قائم کی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بدعنوانی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کر رہا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر ہم ماضی میں رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

  5. توہین عدالت از خود نوٹس کیس میں مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد، پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کو شو کاز نوٹسز جاری

    سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت ازخود نوٹس کیس میں مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد کردی۔

    عدالت نے توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کو شو کاز نوٹسز جاری کر دیے جبکہ فیصل واوڈا سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر دوبارہ ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    سپریم کورٹ کی طلبی پر فیصل واڈا اور مصطفی کمال عدالت میں پیش ہوئے۔ مصطفیٰ کمال کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ’ہم نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جس میں غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ مصطفی کمال نے پریس کانفرنس زیر التوا اپیلوں سے متعلق کی تھی، مصطفی کمال خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ رہے ہیں۔ ‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا مصطفیٰ کمال نے فیصل واڈا سے متاثر ہو کر پریس کانفرنس کی؟ جس پر وکیل مصطفیٰ کمال فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عدلیہ کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک آئینی ادارہ ہے، قوم کو ایک قابلِ احترام عدلیہ اور فعال پارلیمنٹ چاہیے، ایک آئینی ادارہ دوسرے آئینی ادارے پر حملہ کرے تو کوئی فائدہ نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ ڈرائنگ روم میں بات کرتے تو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتے تو کچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’پارلیمنٹ نے آرٹیکل 270میں ترمیم کی ہم نے کوئی بات نہیں کی، اگر پاکستان کی خدمت کے لیے تنقید کرنی ہے تو ضرور کریں۔ اراکین پارلیمنٹ کا حق نہیں کہ وہ دوسرے آئینی ادارے پرتنقید کریں۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہ کہا کہ ’ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں۔ ٹی وی چینلز نے 34 منٹ تک یہ تقاریر نشر کیں۔ کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیا۔

    سپریم کورٹ نے مصطفی کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد کردی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی۔ آپ معافی نہیں مانگنا چاہتے۔

    عدالت نے فیصل واوڈا سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر دوبارہ ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا جبکہ توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کو شو کاز نوٹسز جاری کردیے۔

  6. عمران خان عام قیدی نہیں، نیب ترامیم کیس کی کارروائی لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں، جسٹس اطہر من اللہ

    Athar

    ،تصویر کا ذریعہIHC

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے پر بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے اب اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’نیب ترمیم کیس کی کارروائی لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔‘

    اس اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی والا نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنا بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ نیب ترامیم کیس پہلے براہ راست نشر ہو چکا ہے۔‘

    واضح رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    اس معاملے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار یعنی عمران خان کو اجازت ہے کہ وہ ویڈیو لنک کی مدد سے عدالتی کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    30 مئی کو دوران سماعت عدالت کی جانب سے یہ ریمارکس دیے گئے تھے کہ ’ہم جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے اس پر سوچ بچار کی گئی۔‘

    یاد رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے موقعے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش ہوئے تو خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت کی کارروائی کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے دکھانے کی درخواست کی گئی تھی۔

    اس درخواست پر عدالتی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تاہم پانچ رکنی بینچ میں سے جسٹس اطہر من اللہ نے لائیو سٹریمنگ کی درخواست کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ سابق وزیر اعظم کی پیشی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے اختلافی نوٹ میں مُلک کے سابق وزیِر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کیس اور اُن کو دی جانے والی پھانسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’ذوالفقار علی بھٹو جب پھانسی دی گئی وہ عام قیدی نہیں تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی عام قیدی نہیں تھے۔ سابق وزرا اعظم کیخلاف نیب اختیار کا غلط استعمال کرتا رہا۔ سابق وزرا اعظم کو عوامی نمائندہ ہونے پر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ہراساں کیا گیا۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری کردہ یہ اختلافی نوٹ 13 صفحات پر مشتمل ہے۔

    اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی بھی عام قیدی نہیں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے کئی ملین پیروکار ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ ایس او پیز کا نہ بنا ہونا کیس براہ راست نشر کرنے میں رکاوٹ نہیں۔ اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے اور نہ ہی غیر معمولی حالات ہیں۔‘

  7. چمن میں دھرنے کے شرکا اور پولیس کے درمیان تصادم، حالات کشیدہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں دھرنے کے شرکا کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر پر چڑھائی سے حالات ایک مرتبہ پر کشیدہ ہو گئے ہیں۔

    منگل کی صبح مشتعل مظاہرین کی بہت بڑی تعداد نہ صرف ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر کے باہر جمع ہوئی بلکہ دفتر پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔

    مقامی صحافیوں کے مطابق چمن شہر میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہو گئی کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر گڑنگ کے مقام پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کاروائی کی جس دوران مظاہرین کے ساتھ جھڑیں ہوئیں۔

    اگرچہ چمن میں ایک احتجاجی دھرنا گزشتہ سال 21 اکتوبر سے جاری ہے تاہم چار مئی کو چمن شہر میں ایف سی کے قلعہ کے سامنے مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد دھرنے کے شرکاء نے گڑنگ کے مقام پر بین الاقوامی شاہراہ کو بند کر دیا تھا۔

    شاہراہ کو مظاہرین نے مکمل طور پر بند کرنے کی بجائے اسے بڑی مال بردار گاڑیوں کے لیے بند رکھا جس کے باعث سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ ان کے ڈرائیور اور عملے کے دوسرے لوگوں کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گڑنگ کے مقام پر نہ صرف رکاوٹوں کو ہٹا دیا بلکہ مظاہرین کے خیموں کو بھی نذر آتش کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے جانے کے بعد شاہراہ کو ایک مرتبہ پھر بند کیا تاہم انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔‘

    گڑنگ میں ہونے والی کارروائی کے خلاف دھرنے کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور انھوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج شروع کیا۔

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit

    چمن کے صحافیوں نے بتایا کہ ’بعض مشتعل مظاہرین نے پریس کلب پر بھی پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پریس کلب کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔‘

    دُپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ مظاہرین کا ان کے دفتر کے باہر احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک 7 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

    دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ہونے والے افراد میں دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی اور غوث اللہ کے علاوہ دیگر رہنما شامل ہیں۔‘

    ایسی اطلاعات ہیں کہ گرفتار ہونے والے رہنمائوں کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا جہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا تاہم ڈپٹی کمشنر نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    چمن میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ضلعی انتطامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چمن میں پولیو مہم کے دوران ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں شر پسند عناصر نے حملہ کر کے دو لیویز اہلکار کو زخمی کیا۔ اس کے علاوہ دو پولیو ورکر خواتین کو بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق گزشتہ شب ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے چمن دھرنا کمیٹی کے ساتھ مزاکرات کیے۔

    انتظامیہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ڈی سی کے دفتر میں مزاکرات کے دوران مظاہرین میں سے بعض نے ڈی سی چمن راجہ اطہر عباس پر حملہ کیا اور ڈسی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔‘

    بیان کے مطابق لیویز اہلکاروں نے بر وقت کارروائی کر کے شر پسند عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر لیا تاہم حملے میں ڈی سی چمن محفوظ رہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے ریڈ لائن کراس کر دی ہے اس لیے حملہ آوروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی ایف آئی آر درج ہوگی۔

    Mortor

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق چمن شاہراہِ پر غیر قانونی روڈ بلاک کو ختم کرتے ہوئے ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا ہے۔

    درایں اثناء حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’حکومت بلوچستان نے مسئلے کو بارہا مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن احتجاج پر بیٹھے لوگوں نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھاتے ہوئے ڈیڈ لاک برقرار رکھا۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کئی ماہ کے احتجاج کے دوران متعدد بار قانون کو اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا جس میں ایف سی کے قلعے اور پولیو ٹیم اور ڈی سی کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’دھرنے کے نام پر عام عوام کو تنگ کرنا یا ریاست سے بغاوت کا درس دینا قابل قبول نہیں۔‘

    خیال رہے کہ چمن میں گزشتہ سال اکتوبر سے ایک دھرنا جاری ہے جو کہ چمن سے افغانستان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف شروع کیا گیا۔

    چمن میں مظاہرین پر مبینہ تشدد اور ان کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔