ہم ان سے بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے، عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کے دن اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ ہم ان سے بات کریں گے جن کے پاس طاقت ہے۔
اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق ایک صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب تو سپریم کورٹ نے بھی سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کا کہا ہے۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے مذاکرات نہیں کیے، مشرف کے نمائندے سے بات کی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ ہم وہاں بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے، ان کے پاس تو طاقت ہی نہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 14 مئی 2023 کو پنجاب الیکشن کی میٹنگ کے دوران بھی ن لیگ والوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جسٹس بندیال کے کہنے پر ہم نے انتخابات پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے، قانون کے مطابق الیکشن 90 دن میں ہونے تھے لیکن بندیال ان کے دباو میں آ گئے تھے۔
ایک اور صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ میاں نواز شریف جب شیخ مجیب کا حوالہ دیتے تھے اور حمود الرحمان کمیشن کی بات کرتے تھے تو آپ کہتے تھے نواز شریف دوسرا مجیب الرحمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس وقت میں نے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ نہیں پڑھی تھی، اب میں نے یہ رپورٹ مکمل پڑھ لی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حمود الرحمان کمیشن بنانے کا مقصد تھا کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔
عمران خان نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل یحیی کو ذمہ دارا ٹھہرایا کہ انھوں نے اپنے اقتدار کے لیے سب کچھ کیا۔
ایک اور صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے آفیشل سوشل میڈیا اکاوئنٹ سے پوسٹ ہونے والا مواد آپ کی مرضی سے شیئر کیا گیا تو عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں بیٹھ کر ویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا ہوں۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ اس پوسٹ کو اون کرتے ہیں یعنی درست مانتے ہیں۔ عمران خان نے جواب دیا کہ میں اس ٹویٹ کو اون کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ جو ویڈیو لگائی گئی، وہ میں نے نہیں دیکھی، اس پر بات نہیں کروں گا۔
عمران خان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کا ایکس اکاونٹ کون چلاتا ہے، کس کو اجازت دے رکھی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ٹویٹ کا صرف وکلا کو بتاتا ہوں تاہم عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں دوبارہ وہی کچھ دہرایا جارہا ہے جس سے معیشت بیٹھ جائے گی، پہلے ملک ٹوٹا تھا اب معیشت بیٹھ رہی ہے۔
جب ان سے جیل میں موجود سہولیات اور حکومتی دعووں کے بارے میں سوال ہوا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں چوں چوں اور شکایت نہیں کرتا، مجھے ڈیتھ سیل والی چکی میں رکھا گیا ہے، میرے پاس ایکسرسائز مشین کے سوا کوئی سہولت نہیں۔
عمران خان نے کہا کہ روم کولر ساری چکیوں میں لگے ہیں، میرے سیل میں واش روم نہیں۔ نہانے کے لیے دوسرے کمرے میں جاتا ہوں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور زرداری کو قید کے دوران لگثری سویٹ دیے گئے اور ان کے کھانے بھی باہر سے آتے تھے، جس کسے چاہے مرضی ملاقات کرتے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ مجھے تو آدھا گھنٹہ وکلا کے ساتھ اور 20 منٹ فیملی کے ساتھ ملاقات کی اجازت ہے۔
ایک صحافی نے کہا کہ آپ اپنے دور اقتدار میں کہا کرتے تھے کہ جو سہولیات نواز شریف اور آصف زرداری کو ملی ہیں، یہ سہولیات سب قیدیوں کو مل جائیں تو لوگ باہر سے آکر جیل میں رہنا پسند کریں گے۔
اس سوال پر عمران خان نے غصے میں کہا کہ میں شکایت نہیں کرتا، میں نے اب تک کوئی رعایت اور سہولت نہیں مانگی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے قیدی کھانا بنا کر دیتا ہے۔
ایک اور سوال پر عمران خان نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح بڑھے گی، ملک کے قرضے بڑھ جائیں گے، یہ سب دیکھ کر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہو رہی۔

















