لکی مروت میں ’آئی ای ڈی‘ دھماکہ، پاکستانی فوج کے کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی ’آئی ای ڈی‘ دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے دائر کی گئی درخواست نمٹا دی ہے۔
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے آغاز کے پہلے آدھے گھنٹے میں انڈیکس میں 1850 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بدستور حالات کشیدہ، 17 اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. ہم ان سے بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے، عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کے دن اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ ہم ان سے بات کریں گے جن کے پاس طاقت ہے۔

    اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق ایک صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب تو سپریم کورٹ نے بھی سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کا کہا ہے۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے مذاکرات نہیں کیے، مشرف کے نمائندے سے بات کی تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم وہاں بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے، ان کے پاس تو طاقت ہی نہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 14 مئی 2023 کو پنجاب الیکشن کی میٹنگ کے دوران بھی ن لیگ والوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ جسٹس بندیال کے کہنے پر ہم نے انتخابات پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے، قانون کے مطابق الیکشن 90 دن میں ہونے تھے لیکن بندیال ان کے دباو میں آ گئے تھے۔

    ایک اور صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ میاں نواز شریف جب شیخ مجیب کا حوالہ دیتے تھے اور حمود الرحمان کمیشن کی بات کرتے تھے تو آپ کہتے تھے نواز شریف دوسرا مجیب الرحمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اس سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس وقت میں نے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ نہیں پڑھی تھی، اب میں نے یہ رپورٹ مکمل پڑھ لی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حمود الرحمان کمیشن بنانے کا مقصد تھا کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔

    عمران خان نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل یحیی کو ذمہ دارا ٹھہرایا کہ انھوں نے اپنے اقتدار کے لیے سب کچھ کیا۔

    ایک اور صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے آفیشل سوشل میڈیا اکاوئنٹ سے پوسٹ ہونے والا مواد آپ کی مرضی سے شیئر کیا گیا تو عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں بیٹھ کر ویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا ہوں۔

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ اس پوسٹ کو اون کرتے ہیں یعنی درست مانتے ہیں۔ عمران خان نے جواب دیا کہ میں اس ٹویٹ کو اون کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ جو ویڈیو لگائی گئی، وہ میں نے نہیں دیکھی، اس پر بات نہیں کروں گا۔

    عمران خان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کا ایکس اکاونٹ کون چلاتا ہے، کس کو اجازت دے رکھی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ٹویٹ کا صرف وکلا کو بتاتا ہوں تاہم عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں دوبارہ وہی کچھ دہرایا جارہا ہے جس سے معیشت بیٹھ جائے گی، پہلے ملک ٹوٹا تھا اب معیشت بیٹھ رہی ہے۔

    جب ان سے جیل میں موجود سہولیات اور حکومتی دعووں کے بارے میں سوال ہوا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں چوں چوں اور شکایت نہیں کرتا، مجھے ڈیتھ سیل والی چکی میں رکھا گیا ہے، میرے پاس ایکسرسائز مشین کے سوا کوئی سہولت نہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ روم کولر ساری چکیوں میں لگے ہیں، میرے سیل میں واش روم نہیں۔ نہانے کے لیے دوسرے کمرے میں جاتا ہوں۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور زرداری کو قید کے دوران لگثری سویٹ دیے گئے اور ان کے کھانے بھی باہر سے آتے تھے، جس کسے چاہے مرضی ملاقات کرتے تھے۔

    عمران خان نے کہا کہ مجھے تو آدھا گھنٹہ وکلا کے ساتھ اور 20 منٹ فیملی کے ساتھ ملاقات کی اجازت ہے۔

    ایک صحافی نے کہا کہ آپ اپنے دور اقتدار میں کہا کرتے تھے کہ جو سہولیات نواز شریف اور آصف زرداری کو ملی ہیں، یہ سہولیات سب قیدیوں کو مل جائیں تو لوگ باہر سے آکر جیل میں رہنا پسند کریں گے۔

    اس سوال پر عمران خان نے غصے میں کہا کہ میں شکایت نہیں کرتا، میں نے اب تک کوئی رعایت اور سہولت نہیں مانگی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے قیدی کھانا بنا کر دیتا ہے۔

    ایک اور سوال پر عمران خان نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح بڑھے گی، ملک کے قرضے بڑھ جائیں گے، یہ سب دیکھ کر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہو رہی۔

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے لیے جیل میں ملاقات کے لیے مختص کمرے کی تصاویر طلب کر لی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے جیل میں ملاقات کے لیے مختص کمرے کی تصاویر اور مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست پر سماعت کی۔

    جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ میں حکومت پنجاب کہہ رہی ہے کہ جیل کے باہر کی ذمہ داریاں ضلعی پولیس کی ہیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہے کہ حکومت پنجاب کا اس میں کوئی اختیار نہیں؟

    دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ عمران خان کی مرضی کے مطابق ایس اوپیز تیار کی گئیں ہیں جن پر عمل ہو رہا ہے۔

    عدالت نے ملاقات سے متعلق استفسار کیا تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ملاقات میں شیشے کی دیوار کا مقصد ہے کہ منشیات یا دیگر مشکوک اشیا جیل میں نہ پہنچائی جا سکیں۔

    عدالت نے جیل میں ملاقات کے لیے مختص کمرے کی تصاویر طلب کرتے ہوئے رپورٹ اور پولیس دائرہ اختیارسے متعلق دلائل طلب کر لیے۔ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہو گی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی کہ انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا اور انھیں وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں، درست نہیں۔

  3. چمن میں مسلسل تیسرے روز بھی حالات کشیدہ، کوئٹہ سے چمن ریل سروس بھی معطل, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں صورتحال جمعہ کو تیسرے روز بھی صورتحال معمول پر نہیں آ سکی جبکہ وہاں کی صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ اور چمن کے درمیان ریل سروس کو حکام نے معطل کر دیا ہے۔

    کوئٹہ اور سرحدی شہر چمن کے درمیان روزانہ ریل کی سروس بھی ہے۔ کوئٹہ میں ریلوے کنٹرول کے ایک اہلکار نے بتایا کہ چمن میں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے جمعے کو ریل سروس کو معطل کیا گیا تاہم اسے مزید معطل رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ شام کو صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

    چمن میں مظاہرین جمعے کو تیسرے روز بھی دو مختلف مقامات پر جمع ہیں۔ چمن میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرین دھرنے کے مقام کے علاوہ چمن شہر میں ایف سی کے قلعہ کے سامنے جمع ہیں۔

    اہلکار نے بتایا کہ مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہے لیکن صبح سے لے کر اب تک جھڑپیں نہیں ہوئیں۔ تاہم دھرنے کے شرکا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صبح مزید تین مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس اہلکار کے مطابق شہر میں کاروباری مراکز بھی جزوی طور پر بند ہیں۔ تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق کاروباری مراکز اور بینک وغیرہ مکمل بند ہیں۔

    چمن کے دھرنا کمیٹی کے سات عہدیدار گرفتار ہیں۔ گرفتار عہدیداروں کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ دھرنے کے شرکا کی جانب سے گرفتار عہدیداروں پر تشدد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    چمن میں گذشتہ سال اکتوبر سے افغانستان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے تاہم احتجاج میں ایک مرتبہ پھر اس وقت شدت آئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گذشتہ پیر کی شب چمن شہر کے قریب گڑنگ کے مقام پر کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔

    کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کو مظاہرین نے 4 مئی سے فائرنگ سے دو مظاہرین کی ہلاکت کے خلاف مال بردار گاڑیوں کے لیے بند کیا تھا جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں اور ان کا عملہ پھنس گیا تھا۔

    گذشتہ روز مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 اہلکاروں کے علاوہ 15 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔

  4. شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے دائر کی گئی درخواست نمٹا دی ہے۔

    احمد فرہاد کی بازیابی اور اغوا کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ اس دوران درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور سینئر صحافی حامد میر بطور عدالتی معاون عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’اگر مغوی ریکور ہو جائے تو حبس بے جا کی درخواست خارج ہو جاتی ہے۔۔۔ مغوی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے۔‘

    جبکہ وکیل ایمان مزاری نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے احمد فرہاد کی ضمانت مسترد کی لہذا ابھی ضمانت کی درخواست کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’تمام مسنگ پرسنز کے کیسز کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو لکھ رہا ہوں۔ کریمنل ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر بھی پیش ہوں۔

    ’اسلام آباد میں قانون کی عملداری کیسے ہونی ہے؟ اس پر فیصلے کے لیے معاملہ کمیٹی کو بھجوا رہا ہوں۔‘

    جسٹس کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ ’ان کو مت آسمان پر بٹھائیں، پھر ان کو یہ بات بری لگے گی۔ قانون کو احترام دیں، ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔‘

    ’ادارے اپنی حدود میں کام کریں، انا کے مسئلے میں ایک آدمی دو مقدموں میں چلا گیا۔ عدالت کی کارروائی کے نتیجے میں وہ دو مقدمات میں چلا گیا جس کی فیملی متاثر ہو رہی ہے، یہ ظلم کا ایک سلسلہ اور روز کا کام ہے۔ اسلام آباد کی حدود کو عدالتیں دیکھیں گی۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’قومی سلامتی کے معاملات پر عدالت ان کیمرا پروسیڈنگ اور اس کی رپورٹنگ پر پابندی لگائے گی۔ لارجر بینچ اس لیے بھجوا رہا ہوں کہ ایک جج کا موقف کچھ اور ہو تو دوسرے ججز بھی دیکھیں۔‘

    ’ہو سکتا ہے کہ باقی ممبران اس سے متفق نہ ہوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کو بلانا ہے۔ ہم نے کہیں بیٹھنا ہے اور طے کرنا ہے کہ کون سی لائن ہے جسے کراس نہیں کرنا۔‘

    جسٹس کیانی نے درخواست گزار سے کہا کہ ’اگر آپ ضرورت محسوس کریں تو دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ مجھے اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانا آتا ہے۔‘

  5. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1800 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے آغاز کے پہلے آدھے گھنٹے میں انڈیکس میں 1850 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    کاروبار کے آغاز پر انڈیکس منفی زون میں چلا گیا، جس کی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری سے زیادہ اس کی فروخت رہی جس کے بعد انڈیکس 72000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے چلا گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی روز سے مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ گذشتہ چار دنوں میں انڈیکس میں 2000 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور جمعے کے روز انڈیکس میں مزید 1800 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ کئی دنوں سے مندی دیکھی جا رہی ہے۔ انھوں نے اس ہفتے میں انڈیکس میں چار ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی جس کی وجہ نئے بجٹ میں سٹاک مارکیٹ اور اس میں کاروبار پر ٹیکسوں کی اطلاعات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایسی قیاس آرائیاں ہوئی ہیں جس میں سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر ’کیپٹل گین ٹیکس‘ اور کمپینوں کی جانب سے اپنے شیئر ہولڈرز کو دیے جانے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔

    انھوں نے کہا ان خبروں کے مارکیٹ میں منفی رجحان کو جنم دیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کی جا رہی ہے۔

    تاحال حکومت نے ان نئے ممکنہ ٹیکسز کے حوالے سے تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔

  6. وزیراعظم شہباز شریف آج چین کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔

    وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق چینی سیاسی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین زہاولیجی سے بھی ملاقات ہو گی۔

    وزیرِ اعظم چین اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  7. نیب اور الیکشن قوانین میں ترامیمی آرڈیننسز قومی اسمبلی میں پیش، تحریک انصاف کی تنقید

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر قانون نے نیب ترامیمی آرڈیننس 2024 اور الیکشن ترامیمی آرڈیننس 2024 قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کر دیے ہیں۔ تحریک انصاف نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نئی قانون سازی سیاسی مقاصد کے لیے کی جا رہی ہے۔

    حکومت نے نیب قانون میں ترمیم کے ذریعے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دنوں سے بڑھا کر 40 کر دی ہے جبکہ الیکشن کے قانون میں ترمیم کے ذریعے الیکشن ٹربیونل کے سربراہ ریٹائرڈ ججز کو بھی تعینات کرنے کا اختیار دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے گذشتہ روز نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے سے متعلق جمعرات کو ہونے والی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی پانچ رُکنی بینچ نے کی۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر خود دلائل دیے۔

    عمران خان نے عدالت میں ویڈیو لنک ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتا ہوں۔‘

  8. ہمارا مینڈیٹ واپس کریں، پھر ان سیاسی جماعتوں سے ہی بات کریں گے: قائد حزب اختلاف عمر ایوب

    Omar Ayub

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کریں پھر ان سیاسی جماعتوں سے ہی بات کریں گے۔

    نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہ ابھی تک ہماری کمیٹی کی کسی سے بات نہیں ہوئی نہ ہی ہم اس کے متمنی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے لیکن ابھی مکمل نہیں بدلا۔

    عمر ایوب نے کہا کہ حکومت کمپرومائزڈ ہے اس پر کسی کو اعتماد ہے نہ ہی سخت فیصلے کر سکتی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’فوری نئے انتخابات، لیول پلیئنگ فیلڈ اور پی ٹی آئی قیادت پرمقدمات ختم کیے جائیں۔‘

    عمر ایوب نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے سینیئررہنما نے مجھے کہا یا تو ن لیگ یا ہم ان کی پیٹ پر چھرا ماریں گے۔‘ ان کے مطابق حکومت کے دن گنے جا چکے اور یہ بجٹ کی تاریخ بھی آگے کرتے جا رہے ہیں۔

    عمر ایوب کے مطابق آئی ایم ایف نے بھی ان کو کہا اپوزیشن سے بجٹ پر مشاورت کریں لیکن نہیں کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب نے کہا کہ ’ہمارا مینڈیٹ واپس اورمقدمات ختم ہوتے ہیں توپھر نئے انتخابات بھی نہ ہوں۔‘

    رہنما پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ’ہم توآگ کی بھٹی سے نکل کر لوہا بنے ہیں اب پیچھے ہٹنے والا کوئی نہیں ہے، مقدمات کاسامنا کر رہے ہیں ضمانت منسوخ ہوئی تو جیل میں سرکاری دال کھائیں گے۔‘

  9. الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں جاری کارروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں جاری کارروائی کے خلاف دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے آج سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔

    درخواست گزاروں کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر اعتراض کیا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے چیلنج کیا کیا ہے؟

    وکیل نے کہا کہ آرڈیننس اور الیکشن ٹربیونل کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی چیلنج کی ہے۔ عدالت نے تینوں درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے۔

    وکیل نے کہا کہ آج ہی کیس الیکشن کمیشن میں مقرر ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے پٹیشنز پر نمبر لگوا لیں پھر دیکھ لیتے ہیں۔

    بعدازاں عدالت نے سماعت آج مقرر کرنیکی ہدایت کر دی۔

  10. پاکستان دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

    اقوام متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہUNO

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جعمرات کو پاکستان کو دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا ہے۔ پاکستان کو جنرل اسمبلی میں 182 ووٹ ملے۔ کل 190 ممالک نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ جنرل اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 193 بنتی ہے۔ پاکستان سے پہلے ایشیا پیسفک گروپ کی نشست جاپان کے پاس تھی۔

    پاکستان کی یہ مدت اگلے برس یکم جنوری سے شروع ہو گی۔

    جنرل اسمبلی نے پاکستان کے علاوہ ڈنمارک، یونان، پانامہ اور صومالیہ کو بھی سلامتی کونسل کے دو برس کے لیے غیر مستقل ارکان کے طور پر چن لیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت 15 رکنی سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری دنیا میں امن اور سلامتی کا قیام یقینی بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر سلامتی کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا لازمی ہوتا ہے۔

    سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین جنھیں ویٹو کا اختیار ہے ان میں امریکہ، چین، فرانس، روس اور برطانیہ شامل ہیں۔

    Foreign Office

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کا ردعمل

    اسلام آباد سے ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تمام اراکین کے پاکستان پر اعتماد کرنے اور اسے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کرنے پر شکر گزار ہیں، کونسل کے لیے پاکستان کے بطور امیدوار توثیق کرنے پر ہم ایشیا پیسیفک گروپ کے اراکین کے بھی مشکور ہیں۔

    بیان کے مطابق غیرمستقل رکن کے طور پر آٹھویں مرتبہ منتخب ہونے کے بعد پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ایک بھرپور تجربہ اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی کے لیے شراکت کی مضبوط میراث لے کر آیا ہے جس کا اظہار اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں سمیت چارٹر کے ساتھ دنیا کے کئی خطوں میں اقوام متحدہ کی امن قائم کرنے اور قیام امن کی کوششوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے ہوتا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آنے والی مدت میں تصفیہ طلب اور جاری تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم رہے گا اور وہ یکطرفہ اور غیر قانونی طاقت کے استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی کے حربے، ہر قسم کی دہشت گردی کے مقابلہ، اقوام متحدہ کی موثر قیام امن کی حمایت، امن کے نفاذ اور قیام امن کی کوششوں کی حمایت سمیت علاقائی اور عالمی بحرانوں کے حل کے لیے موثر کردار ادا کرے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے اور جنگ کی روک تھام اور امن کو فروغ دینے کے وژن پر عمل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے ساتھ عالمی خوشحالی کو فروغ دینے اور انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

  11. چمن میں بدستور حالات کشیدہ، 17 اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں صورتحال جمعرات کو دوسرے روز بھی مظاہروں کے باعث کشیدہ رہی جبکہ کاروباری مراکز بند رہے۔

    مظاہروں کا سلسلہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر جاری رہا جن میں قانون نافذ کرنے اداروں کے اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

    موبائل نیٹ ورک کے مسائل کے باعث چمن کی صورتحال کے حوالے سے معلومات کے حصول میں کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    چمن کے سینیئر صحافی اور جیو نیوز کے نمائندے نورزمان اچکزئی نے بتایا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہروں کی وجہ سے معمولاتِ زندگی معطل رہے۔

    انھوں نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری دفاتر کے باہر بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں بھی سرگرمیاں معطل رہیں۔

    نورزمان اچکزئی نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت 37 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے بعض کو چمن میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    چمن میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ شہر میں مظاہرین نے ایف سی کے قلعہ سمیت دیگر سرکاری دفاتر پر متعدد بار پھتراؤ کیا جن کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ ربڑ کی گولیاں استعمال کی گئیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ پر تشدد مظاہروں کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

    رابطہ کرنے پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ حکومت ہر معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی لیکن جب مظاہرین کی جانب سے پرتشدد روئیہ اختیار کیا گیا تو حکومت کے پاس اپنی رٹ کو قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور حکومت نے اپنی رٹ قائم کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرے ہوئے جن کو منتشر کرنے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک پولیس اہلکار کو ہاتھ میں گولی بھی لگی ہے۔

    حکومت کے ترجمان نے کہا کہ 15 کے قریب مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    خیال رہے کہ چمن میں گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے تاہم احتجاج میں ایک مرتبہ پھر اس وقت شدت آئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چمن شہر کے قریب گڑنگ کے مقام پر کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔

    کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کو مظاہرین نے 4 مئی سے مال بردار گاڑیوں کے لیے بند کیا تھا۔

  12. نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر عمران خان کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے سے متعلق آج ہونے والی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی پانچ رُکنی بینچ نے کی۔

    آج بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر خود دلائل دیے۔ دورانِ سماعت سابق وزیر اعظم عمران حان نے جب جب سائفر سے متعلق بات کی تو انھیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے یہ کہ کر روک دیا جاتا رہا کہ ’آپ اپنے کیس پر رہیں‘ اور پھر ایک مرتبہ جسٹس جمال مندوخیل نے یہ کہ بانی پی ٹی آئی کو روک دیا کہ ’آپ پھر اُسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں۔‘

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے آج دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ایک چیز سمجھ نہیں آئی، آپ نے لکھا میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی، میں نے کون سی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی؟‘

    سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے تکلیف ہوئی، کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار کیریکٹر ہوں جس کے باعث براہ راست نشر نہیں کیا جائے گا۔‘ اس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’جج اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں دیا کرتے، آپ نظیر ثانی دائر کرسکتے ہیں۔‘

    عمران خان نے عدالت میں ویڈیو لنک ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتا ہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا۔ مجھے 14 سال کی قید ہو گئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفے کی قیمت کم لگائی۔ پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی۔ میں کہتا ہوں نیب کا چیرمین سپریم کورٹ تعینات کرے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتا ہے۔ نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتا ہے۔ نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا۔ برطانیہ میں جمہوری نظام اخلاقیات، قانون کی بالادستی، احتساب پر ہے۔‘

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیا کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟‘

    جس پر سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے بنای پی ٹی آئی کو اپنے دلائل کیس تک محدود رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ’آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارک دیے کہ ’عمران خان صاحب ان ترامیم کو کالعدم کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیا ہے۔ عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہے گا؟‘

    اس پر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دلائل میں کہا کہ ’میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا۔ 27 سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا۔ میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں۔ نیب کو بہتر ہونا چاہیے کرپشن کے خلاف ایک مخصوص ادارے کی ضرورت ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا۔

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’میں جیل میں ہی ہوں، ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی مگر ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ دبئی لیکس میں بھی نام اچکے پیسے ملک سے باہر جارہے ہیں۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’انڈیا میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا۔ مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا گیا۔‘

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’تو سیاسی نظام کس نے بنانا تھا؟‘

    بانی پی ٹی آئی نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انھیں روک دیا اور ریمارکس دیے کہ ’سائفر کیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارک دیے کہ ’خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں۔ ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں۔‘

    عمران خان کا اس پر کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین سٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی۔‘

    چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کر دیا اور ریمارکس دیے کہ ’یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے۔ ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے۔‘

    جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں۔‘

    جس پر فاروق ایچ نائک نے جواب میں کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔‘

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

  13. نیب ترامیم کیس میں عمران خان کی پیشی: پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں، چیف جسٹس

    SC

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کرنے اور ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ اس مقدمے میں عمران خان کی جانب سے دلائل دیے جا رہے تھے جس کے دوران بینچ میں شامل ججوں کی جانب سے اہم ریمارکس سامنے آئے اور بظاہر مشورہ دیا گیا کہ سیاست دان اختلافات کا حل مزاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔

    عمران خان کے دلائل کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں، حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں۔

    جسٹس جمال مندوخِل نے کہا کہ جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں۔

    عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ انڈیا میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیا گیا، مجھے 5 دن میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کر دیا گیا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں۔

    اس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا لگا ہوا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں، سیاستدان ذمہ دار ہوں گے، کچھ بھی ہو گیا تو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے۔

    عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا حوالہ دیتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں۔

  14. عمران خان کا جیل میں وکلا تک رسائی نہ دینے کا بیان حقائق سے منافی ہے: حکومت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGovt

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں وفاقی حکومت نے عمران خان کے وکیل تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ہے۔ وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروائی ہیں۔ ان دستاویزات میں وکلا کی عمران خان سے ملاقاتوں کی تفصیلات درج ہیں۔

    Kitchen

    ،تصویر کا ذریعہGovt

    اضافی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہے۔ وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGovt

    دستاویزات کے مطابق گذشتہ سماعت پر عمران نے سپریم کورٹ میں وکلا تک رسائی نہ دینے کا موقف اختیار کیا تھا۔ حکومت نے کہا کہ عدالت مناسب سمجھے تو عمران خان کے بیان اور حقیقت کو جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کرسکتی ہے۔

    دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے عمران خان کو جیل میں کتابیں، ائیر کولر اور ٹی وی سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق عمران خان کچن میں کھانے کا مینیو تک کا فیصلہ خود کرتے ہیں۔ ان کو دن میں دو بار خصوصی راہداری میں واک کا موقع دیا جاتا ہے۔

    حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مزید دستاویزات اور تصاویر جمع کرانی کی اجازت دے۔

    ان دستاویزات پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخط بھی آویزاں ہیں۔

  15. نیب ترامیم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت شروع، عمران خان ویڈیو لنک پر موجود, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیب ترامیم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جاری ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر موجود ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ وفاقی حکومت کی اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت عدالت نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو روسٹرم ر طلب کیا۔ وہ اس مقدمے میں عدالتی معاون کے طور پر پیش ہو رہے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ نیب کے تحت صرف منتخب نمائندوں پر چیک کیوں رکھا گیا ہے؟

    چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں کون سا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں۔ ان ان کے مطابق نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ وہ بینچ پر اور انٹرا کورٹ اپیلوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مرکزی درخواست قابل سماعت تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے مؤکل 90 روز کے ریمانڈ سے مطمئن تھے؟ نیب جس انداز میں گرفتاریاں کرتا تھا کیا وہ درست تھا؟ کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں؟

    خواجہ حارث نے کہا نیب میں بہت سی ترامیم اچھی ہیں، 90 روز کے ریمانڈ سے مطمئن تھے نہ گرفتاریوں سے، جو ترامیم اچھی تھیں انھیں چیلنج نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا نیب آرڈیننس کب آیا تھا؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ نیب قانون 1999 میں آیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا 1999 میں کس کی حکومت تھی؟ نام لے کر بتائیں۔

    خواجہ حارث نے کہا 1999 میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ پرویز مشرف سے قبل نواز شریف کے دور حکومت میں اسی طرح کا احتساب ایکٹ تھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کر دیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے، بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

    خواجہ حارث نے کہا ’ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا‘، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’میں کوئی ایسا بیان تو نہیں دینا چاہتا کہ سیاستدان کرپٹ ہوتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کوئی سیکریٹری سمری میں لکھ دے کے یہ چیز رولز کے خلاف ہے تو وزیر منظوری دے سکتا ہے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں مگر اس کے باوجود کرپشن ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں‘۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ میں بتاؤں گا نیب ترامیم کا معاملہ بنیادی حقوق سے کیسے جڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینظیر کیس میں طے ہوا تھا یہ درخواستگزار کی مرضی ہے وہ مفاد عامہ پر ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ دونوں فورمز پر ایک ساتھ درخواست دائر کرنے پر پابندی ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پھر کس نے دائر کی تھی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے جبکہ ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی۔

    خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پبلک آفس ہولڈر صرف سیاستدان ہی نہیں ہوتے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کرپشن منتخب نمائندے نہیں بلکہ پرنسپل اکاونٹنگ افسر کرتا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ’معذرت چاہتا ہوں میں اس سے متفق نہیں۔‘ وکیل نے کہا کہ یہ کہنا کہ ’سیاستدان کرپٹ نہیں ہوتے یہ تو sleeping statement ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نیب قانون سے سیاستدانوں کو نکال دیں۔ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اعلیٰ حکام میں انکار کرنے کی جرات ہونی چاہیے۔

  16. سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس پر سماعت: عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیں گے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہٰٰEPA

    نیب ترامیم کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ کرے گی۔ چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی قیادت میں پانچ رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

    گذشتہ سماعت پر مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے جبکہ اٹارنی جنرل نے ان کے دلائل اختیار کر لیے تھے۔

    درخواست گزار عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے اس عدالتی سماعت میں شریک ہوں گے۔ عمران خان نے عدالت سے یہ کہا تھا کہ انھیں اپنے دلائل کے لیے صرف 30 منٹ چاہیں۔ عدالت نے ان کے وکیل خواجہ حارث کو جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کرنے کا کہا تھا تا کہ وہ تیاری میں ان کی مدد کر سکیں۔

    سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے عمران خان کی درخواست منظور کی تھی اور نیب قانون میں کی جانے والی ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس عدالتی حکم کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی تھں۔

    عدالت لائیو سٹریمنگ کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ عمران خان عام قیدی نہیں ہیں، لائیو سٹریمنگ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔

  17. جون اہم مہینہ ہے، اگلے 45 دن بھی اہم ہیں: شیخ رشید کی پیش گوئی

    Sheikh Rasheed

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ جون اہم مہینہ ہے، اگلے 45 دن بھی اہم ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ملک میں اب سیاسی فیصلے ہوں گے، لوگ تنگ ہیں، سرمایہ کار ملک سے باہر جا رہے ہیں تو بیرون ملک سے کون سرمایہ کار آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو تباہی سے بچایا جائے، ملک تباہی کے کنارے کھڑا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عدالتیں چھوٹی پڑ گئی ہیں بے گناہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے، اڈیالہ میں غریب لوگ ہیں، اس گرمی میں 500 لوگوں کی پیشی ہوتی ہے۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 80 سے 90 فیصد لوگ بے گناہ قید ہیں، درخواست ہے اس عید پر عام معافی دی جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ فوج کی عزت ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے لیکن ایسے کیا پیغام جا رہا ہے۔

  18. سی پیک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، ون بیلٹ ون روڈ صدر شی جن پنگ کا شاندار منصوبہ ہے، وزیراعظم

    PM Sharif

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیراعظم شہباز شریف نے چائنہ میڈیا گروپ کو انٹرویومیں کہا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ صدر شی جن پنگ کا شاندار منصوبہ ہے، جو اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا میں امن قائم کیے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا حصہ ہے، سی پیک کے تحت پاکستان میں بے پناہ ترقی ہوئی اور بے پناہ منصوبے لگائے گئے جن کا پاکستان کی معاشی ترقی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ تیل کے مقابلے میں کوئلہ سے سستی بجلی بنائی جا سکتی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ تھرکول کے کوئلہ کو بجلی سستی ہوگی بلکہ کوئلہ درآمد کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی بھی بچت ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے سی پیک کے حوالے سے پاکستان میں بے پناہ سرمایہ کاری کی۔

  19. اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں آج پاکستان سمیت پانچ نئے غیر مستقل ارکان کا انتخاب ہوگا

    اقوام متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے پانچ نئے غیر مستقل ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔

    نئے منتخب ہونے والے غیر مستقل ارکان یکم جنوری دو ہزار پچیس سے اکتیس دسمبر دو ہزار چھبیس تک دو سال کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    نئے غیر مستقل ارکان جاپان ایکواڈور مالٹا موزمبیق اور سوئٹزرلینڈ کی جگہ لیں گے۔ چین کی مدت رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

    پاکستان کو تریپن رکنی ایشیائی گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان آٹھویں مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن بنے گا۔

    سلامتی کونسل پندرہ ارکان پر مشتمل ہے جس میں پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔

  20. عوام کو عمران خان کے مقدمات سے دلچسپی نہیں، سندھ حکومت اپنی کارکردگی پر توجہ دے: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    کراچی میں پیپلز پارٹی سندھ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام نفرت کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے، عمران خان کے کیسز میں کیا ہو رہا ہے یہ عوام کا مسئلہ نہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کو بہت مہینے ہو گئے ہیں، پانچویں بار جیتے ہیں، لیکن وزرا اور ارکان اسمبلی میں سستی نظر آرہی ہے، اب سے وزرا اور ارکان اسمبلی کام کرتے نظر آنے چاہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ وزرا اور ارکان اسمبلی کی رپورٹس اچھی ملتی ہیں، کچھ کی رپورٹس اتنی اچھی نہیں مل رہیں۔ آپس کی لڑائیوں کا نقصان حکومت کو نہیں ہونا چاہیے، ٹیم ورک کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

    بلاول بھٹو نے حکومت کو ہدایت کی کہ کھلی کچہریاں لگائیں، صرف من پسند لوگوں سے نہیں بلکہ عوام سے رائے لیں اور حلقوں میں جائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ترقیاتی سکیمیں نہیں بلکہ عوامی رابطے انتخاب جتواتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب ہم اپنی ٹیم کو ٹاسک دیتے ہیں اسے مکمل کرنے کا بھی وقت دیں، میں ہمیشہ ٹیم ورک کو سراہتا رہوں گا، ہم سیاست میں آئے ہیں تو غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی سیاست بند ہونی چاہیں، میرٹ پر اچھے افسروں کو چنیں جو کام بھی کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے پانچ سالہ پلان سے آگاہ کردیا ہے، سولر بجلی کی فراہمی ہمارے پلان کا سب سے اہم حصہ ہے۔