ایرانی حملے کا جواب دیا جائے گا، اسرائیل کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو گا کریں گے: اسرائیل

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے عالمی برادری سے ایران کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو ایران کی اس جارحیت کے خلاف متحد رہنا چاہیے جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔

خلاصہ

  • اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آر‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت جاری ہے تاہم اب تک اگلے قدم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
  • امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادیوں نے اسے تحمل کا مشورہ دیا ہے
  • تہران نے اسرائیل پر 300 پروجیکٹائل داغے ہیں۔ اس کے بقول یہ شام میں اس کے قونصل خانے پر حملے کا جواب تھا
  • یہ غیر واضح ہے کہ اسرائیل کیسے اس حملے کا جواب دے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کو اس حملے کی قیمت چکانے پڑے گی
  • اقوام متحدہ نے غزہ کے کچھ حصوں میں قحط کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ خطے میں امداد تک رسائی کی اجازت دی جائے
  • اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں لڑائی سے ایک قدم پیچھے ہٹیں

لائیو کوریج

  1. امریکہ ایران کے خلاف اسرائیل کے جوابی حملے میں حصہ نہیں لے گا: امریکی صدر بائیڈن

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جو بائیڈن نے اسرائیل پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ فون پر بات چیت میں کہا کہ امریکہ ایران پر ممکنہ اسرائیلی جوابی حملے میں حصہ نہیں لے گا۔

    جبکہ ایک اسرائیلی حکام نے نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کوئی بھی ردعمل اسرائیل کے اتحادیوں سے مشاورت کے بعد دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایران نے سنیچر کی رات اسرائیل پر 200 سے زیادہ ڈرونز، کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’99 فیصد‘ میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا، لیکن انھوں نے تصدیق کی کہ میزائل ناواٹیم ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا

    اور ’فوجی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا۔‘

  2. ’ہم جیتیں گے‘: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو

    نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایرانی حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کا ملک ہی ’جیتے گا۔‘

    اس سے قبل انھوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج ’کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے۔‘

  3. چین کا ایران اسرائیل تنازعے پر ’تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ

    چین نے اسرائیل اور ایران کے تازہ ترین تنازعے پر ردعمل دیتے ہوئے ’تحمل‘ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اس نے کہا کہ اسے ’موجودہ کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔‘ چین نے مزید کہا کہ اس نے ’متعلقہ فریقوں سے کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے پرسکون اور پرامن رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    چین کے ایران کے ساتھ قریبی سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے بیجنگ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تہران پر زور دے کہ وہ اسرائیل پر جوابی حملہ نہ کرے۔

  4. وہ لمحہ جب ایرانی حملے کے بعد یروشلم کی فضاؤں میں دھماکے اور ہنگامی سائرن سنائی دیے

  5. ایران کے اسرائیل پر ’غیر متوقع‘ حملے پر کہیں جشن تو کہیں خدشات

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کی خبروں کے بعد ایران میں عوام کا ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

    ایک جانب ایران کے کئی شہروں کے پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں جہاں بہت سے افراد ایران کے خلاف اسرائیلی ردعمل سے پریشان ہیں اور شاید اس شہر سے دور جانا چاہتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔

    جبکہ اسی دوران ایرانی خبر رساں اداروں نے تہران، شیراز، گورگان، پیرانشہر اور خرم آباد میں لوگوں کی جانب سے ’جشن منانے‘ کی تصاویر شائع کی ہیں جہاں وہ افراد ایران کی جانب سے دمشق میں اپنے قونصل خانے پر فضائی حملے کا بدلہ لینے پر خوش ہیں۔

    اس کے علاوہ سوشل نیٹ ورکس پر بہت سے ایرانی اور غیر ایرانی صارفین لمحہ بہ لمحہ خبروں کو دیکھ رہے ہیں۔

    انسٹاگرام اور ایکس (ٹوئٹر) پر صارفین کے مواد کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی تنازعہ کے نتائج سے پریشان ہیں۔

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. اسرائیل کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج شام طلب

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل اور ڈرونز حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج (اتوار) طلب کر لیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ صدر سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کا حملہ ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔‘

    اس خط میں ایران پر متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے اپنے جوابی خط میں ایران کے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’اپنے دفاع میں اٹھایا گیا اقدام‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی قوانین کے عین مطابق تھا۔

    سلامتی کونسل کی یہ ہنگامی میٹنگ آج عالمی معیاری وقت کے مطابق شام چار بجے ہو گی۔

  7. ایران کے حملے پر سفارتی ردعمل کے لیے جی سیون رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا جائے گا: صدر بائیڈن

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ’ایران کے جارحانہ حملے کے خلاف عالمی سفارتی ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے‘ اتوار کو جی سیون رہنماؤں کا اجلاس طلب کریں گے۔

    صدر بائیڈن نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی ٹیم اسرائیل کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی۔

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کی کسی تنصیب پر حملہ نہیں کیا گیا مگر پھر بھی ملک کی افواج تمام تر خطرات سے چوکنا رہیں گی اور ’ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے کوئی بھی ضروری کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔‘

  8. اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت غیرمتزلزل ہے: صدر بائیڈن کی اسرائیلی وزیراعظم کو یقین دہانی

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کچھ دیر قبل اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ صدر بائیڈن کے مطابق اس فون کال میں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو امریکہ کی غیرمتزلزل اور مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے انھیں (اسرائیلی وزیراعظم) بتایا کہ اسرائیل نے ایران کے غیر معمولی حملوں کے خلاف اپنے دفاع اور اس نوعیت کے حملوں کو پسپا کرنے کی قابل ذکر صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ اپنے دفاع کا مظاہرہ کر کے ’اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کو خطرے سے دوچار نہیں کر سکتے ہیں۔‘

  9. ’امریکہ نے اسرائیل کی لگ بھگ تمام ڈرونز اور میزائل مار گرانے میں مدد کی،‘ صدر بائیڈن

    صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے ’ایران کی جانب سے داغے گئے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائل مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی ہے۔‘

    ایک بیان میں صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران انھوں نے خطے میں امریکی فوجی طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے والے دفاعی نظام کوبھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

    صدر کا کہنا ہے کہ ’ان تعیناتیوں (فوجی طیاروں اور دفاعی نظام) اور اپنے فوجیوں کی غیر معمولی مہارت کی بدولت ہم نے اسرائیل کی جانب آنے والے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

  10. حالیہ کشیدگی خطے کو مزید خطرے کی جانب دھکیلے گی, سبیسچئن اشعر، مدیر برائے عرب اُمور

    سنیچر کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والا حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید تھا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

    لیکن یہ ناگزیر تھا کیونکہ ایران دمشق میں اپنے قونصل خانے پر ہونے والے حملے کو اپنی خودمختاری کی کُھلی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہا تھا۔

    اور شاید اسرائیل کا ارادہ بھی یہی تھا کہ وہ ایران کو خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات پر اپنی علاقائی پراکسیوں (حزب اللہ اور حوثی) کے ذریعے نقصان پہنچانے کے بجائے کچھ آگے کا اقدام اٹھائے۔

    اور اب آگے کا لائحہ عمل اسرائیل کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ ایران پر کس حد تک اور کتنی شدت سے جوابی وار کرے گا۔ وہ ایران جس کے پاس اسرائیل کی طرح جدید ترین فضائی دفاعی نظام نہیں ہے۔

    مزید کشیدگی خطے کو حقیقی معنوں میں خطرناک صورتحال اور نامعلوم حدود تک لے جائے گی۔

  11. اسرائیل، ایران کشیدگی پر امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا؟, وِل ویرنون، نامہ نگار برائے واشنگٹن

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ اسرائیل کی سرزمین پر ایران کی جانب سے کیا گیا ایک انتہائی غیرمعمولی اور براہ راست حملہ ہے۔

    اس پر امریکی ردعمل کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ایرانی حملہ کی شدت کیا ہے، اس میں کس قسم کے ہتھیار استعمال کیے گئے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی نوعیت کیا ہے۔

    ممکنہ طور پر چند لمحے قبل ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے پر اپنے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا ہو گا۔

    امریکہ اس صورتحال میں کشیدگی کو ہر حد تک بڑھنے سے روکے گا اور ممکن ہے کہ وہ اسرائیلیوں کو جوابی ردعمل کو محدود کرنے پر مجبور کرے گا۔ امریکہ اور اسرائیل پر اقوام عالم کی جانب سے زور دیا جائے گا کہ وہ احتیاط سے آگے بڑھیں اور کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کو متناسب بنائیں۔

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس ڈراؤنے خواب کا منظر نامہ اب ’ادلے کا بدلہ‘ والا معاملہ بن چکا ہے، ایک ایسا معاملہ جو ایک وسیع علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔

  12. امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم میں ٹیلیفونک رابطہ

    یاہو

    ،تصویر کا ذریعہIsraeli PM's Office

    امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گذشتہ چند گھنٹوں میں دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گفتگو کی مزید تفصیلات جلد فراہم کی جائیں گی۔

  13. ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے ’بیشتر‘ میزائلوں اور خودکش ڈرونز کو مار گِرایا ہے: اسرائیل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے ’بیشتر‘ میزائلوں اور خودکش ڈرونز کو مار گِرایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی بیشتر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو ’ایرو‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود سٹریٹیجک اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے میں فی الحال ایک بچی کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں واقع ایک عسکری تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ سنیچر کو رات گئے ایران کی جانب سے کی گئی ایک ’جوابی کارروائی‘ میں درجنوں میزائل اور خودکش ڈرونز اسرائیل کی جانب داغے گئے تھے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب گذشتہ کئی دنوں سے ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا تذکرہ ہو رہا تھا۔

    یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے ایک میزائل حملے کے نتیجے میں شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع ایرانی سفارتخانے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں متعدد پاسداران انقلاب کے افسران ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں خطے میں قدس فورس کے سب سے اعلی عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی بھی شامل تھے۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

  14. بریکنگ, ایران اسرائیل کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو ٹرانسمیشن میں خوش آمدید

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • صبح چھ بجے تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے
    • ایران نے دمشق میں اپنے سفارتخانے پر حملے کے جواب میں سنیچر کو رات گئے اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل اور خودکش ڈرونز داغے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی بیشتر میزائلوں اور ڈرونز کو ’ایرو‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔
    • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کی فوج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے
    • ایران نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر مزید حملے نہیں کرے گا تاہم اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کی صورت نتائج ہوں گے