ایرانی حملے کا جواب دیا جائے گا، اسرائیل کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو گا کریں گے: اسرائیل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے عالمی برادری سے ایران کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو ایران کی اس جارحیت کے خلاف متحد رہنا چاہیے جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔
خلاصہ
اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آر‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت جاری ہے تاہم اب تک اگلے قدم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادیوں نے اسے تحمل کا مشورہ دیا ہے
تہران نے اسرائیل پر 300 پروجیکٹائل داغے ہیں۔ اس کے بقول یہ شام میں اس کے قونصل خانے پر حملے کا جواب تھا
یہ غیر واضح ہے کہ اسرائیل کیسے اس حملے کا جواب دے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کو اس حملے کی قیمت چکانے پڑے گی
اقوام متحدہ نے غزہ کے کچھ حصوں میں قحط کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ خطے میں امداد تک رسائی کی اجازت دی جائے
اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں لڑائی سے ایک قدم پیچھے ہٹیں
لائیو کوریج
غزہ میں قحط کا خدشہ، ہسپتالوں میں وسائل کی شدید قلت
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جب سے اسرائیل نے حماس کے خلاف اپنی فوجی مہم شروع کی ہے تب سے غزہ کی تقریباً تمام آبادی (23 لاکھ سے زیادہ لوگ) بے گھر ہو چکی ہے اور انھیں مناسب پناہ گاہوں، خوراک، طبی امداد، صاف پانی اور تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔
7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی اس لڑائی میں 33,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے حملے میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے- ان میں سے تقریباً 130 لاپتہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں ہسپتالوں کا نظام تباہی کا شکار ہے اور وسائل کی شدید کمی ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ میں قحط آنے والا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں اسرائیلی حملے میں سات امدادی کارکن مارے گئے تھے۔
غزہ میں امداد کے لیے اسرائیل نے دو راستوں کی منظوری دی ہے۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انھیں شہریوں تک رسائی نہیں مل رہی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اکتوبر سے اب تک کم از کم 27 بچے غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
اسرائیل اور ایران کے اتحادی تناؤ میں اضافے کے حق میں نہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنجرمن وزیر خارجہ
سب نظریں اسرائیل پہ ہیں کہ وہ کیسے ایران کے حملے کا جواب دیتا ہے۔ تاہم اسرائیل کے اتحادیوں نے اسے ایسا نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
جرمنی کی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو ایران سے لڑائی کے دوران دفاعی طور پر فتح ملی ہے اور اب اسے خطے میں کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہیے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے بھی کہا ہے کہ تناؤ میں کمی رکھنے چاہیے اور اسی کسی بھی چیز سے گریز کرنا چاہیے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کو جواب دینے کا حق ہے تاہم اسے ’دل سے نہیں دماغ سے سوچنا چاہیے۔‘
اسرائیل کے اتحادیوں کے علاوہ ایران کے قریب سمجھے جانے والے ممالک نے بھی دونوں فریقین پر تحمل کا مشورہ دیا ہے۔
روس نے عوامی سطح پر ایران پر تنقید کرنے سے گریز کیا لیکن تناؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔ کریملن کے ترجمان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بارے میں کہا کہ مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
ادھر چین کی وزارت خارجہ نے بھی ’تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے‘ پر زور دیا۔
ایران اور اسرائیل کی فوجی طاقتوں کا موازنہ, جوناتھن بیل، دفاعی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران جغرافیائی طور پر اسرائیل سے بہت بڑا ہے اور اس کی آبادی تقریباً نو کروڑ ہے جو کہ اسرائیل سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔ لیکن اس سے فوجی طاقت ظاہر نہیں ہوتی۔
ایران نے میزائلوں اور ڈرونز میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے پاس اپنے ساختہ ہتھیار ہیں لیکن وہ اپنی پراکسیز یعنی یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ کو بھی کافی مقدار میں اسے سپلائی کرتا ہے۔
اس کے پاس جدید فضائی دفاعی نظام اور لڑاکا طیاروں کی کمی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس ان کو بہتر بنانے کے لیے ایران کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ فوجی مدد کے بدلے میں تہران نے ماسکو کو یوکرین کے ساتھ جنگ میں مدد فراہم کی ہے۔ یہ مدد شاہد ڈرون کی شکل میں تھی جسے مبینہ طور پر روسی اب خود تیار کر رہے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ترین فضائی افواج میں سے ایک ہے۔ آئی آئی ایس ایس ملٹری بیلنس کے مطابق اسرائیل کے پاس جنگی طیاروں کے کم از کم 14 سکواڈرن ہیں۔ ان میں ایف 16، ایف 15 اور جدید ترین ایف 35 سٹیلتھ طیارے شامل ہیں۔
اسرائیل کو اپنے دشمن کے علاقے میں گہرائی تک حملے کرنے کا تجربہ بھی ہے۔
ایران کو دوہری ناکامی ہوئی، اسرائیل کو جوابی کارروائی کا مشورہ نہیں دیتے: برطانوی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کی بی بی سی سے گفتگو کا خلاصہ:
کیمرون نے کہا کہ اسرائیل کے پاس اپنے خلاف حملوں میں حق دفاع ہے تاہم برطانیہ نے اسے جوابی کارروائی کا مشورہ نہیں دیا اور اسرائیل کو ’اپنے دل سے نہیں دماغ سے سوچنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کو ’دوہری ناکامی‘ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسرائیل کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ خطے میں ایران کا بُرا تاثر ہے۔
کیمرون نے اسرائیل پر داغے گئے ڈرونز کو مار گرانے میں آر اے ایف کو سراہا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہزاروں اموات ہوسکتی تھیں
انھوں نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ غزہ میں لڑائی میں وقفہ ہو اور وہاں امداد داخل ہوسکے
انھوں نے بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک جلد اس صورتحال پر ایک بیان دے سکتے ہیں
ایران-اسرائیل تنازع: اب تک کی صورتحال
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی
وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ایران کو اسرائیل پر حملے کے دوران ’دہری
ناکامی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے
اقوام متحدہ نے غزہ کے کچھ حصوں میں
قحط کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ خطے میں امداد تک
رسائی کی اجازت دی جائے
اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو
گوتیرس نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں لڑائی سے ایک قدم
پیچھے ہٹیں
تہران نے اسرائیل پر 300 پروجیکٹائل
داغے ہیں۔ اس کے بقول یہ شام میں اس کے قونصل خانے پر حملے کا جواب تھا
یہ غیر واضح ہے کہ اسرائیل کیسے اس
حملے کا جواب دے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کو اس حملے کی قیمت
چکانے پڑے گی
ایرانی حملے کو روکنے والا اسرائیل کا جدید ترین ’ایرو ایریئل ڈیفنس سسٹم‘ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
بریکنگ, صحیح وقت آنے پر ایرانی حملے کی قیمت وصول کریں گے: اسرائیلی وزیر
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی جنگی کابینہ کے وزیر بینی غانتس نے کہا ہے کہ اسرائیل صحیح وقت آنے پر
ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کی قیمت وصول کرے گا۔
کچھ دیر قبل جاری کیے گئے بیان میں غانتس کا کہنا تھا کہ ’ہم خطے میں ایک اتحاد
بنائیں گے اور جو وقت اور طریقہ ہمیں صحیح
لگے گا اس کے مطابق ایران سے (اس حملے کی) قیمت وصول کریں گے۔
’اور سب سے اہم بات یہ کہ کیونکہ ہمارا دشمن ہمیں نقصان پہچانا چاہتا ہے اس
لیے ہم مزید متحد اور مضبوط رہنے کی کوشش کریں گے۔‘
نیتن یاہو کی شطرنج اور ایران: کیا ایرانی حملہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو نئی سیاسی زندگی دینے کا باعث بنے گا؟
جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ اس کشیدگی کو وسیع تر جنگ میں نہیں بدلنا چاہیے: کربی
امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن سمجھتے ہیں کہ اسرائیل پر ایران کے حملے کو وسیع پیمانے پر جنگ کی شکل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اے بی سی کے میٹ دی پریس پروگرام میں بات کرتے ہوئے کونسل کے ترجمان جان کربی سے پوچھا گیا کہ کیا مزید کشیدگی کا امکان ہے؟
اس کے جواب میں کربی کا کہنا تھا کہ ’صدر سمجھتے ہیں کہ اسے اس سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن آج جی سیون اجلاس بلا کر ’سفارتی پہلو‘ پر کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل نے گذشتہ رات جو کچھ دکھایا وہ اپنے دفاع کی ناقابل یقین صلاحیت تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بہت کم نتائج سامنے آئے اور نقصان غیر معمولی طور پر کم ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ص’در واضح کر چکے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس میں اضافہ ہو۔ آنے والے گھنٹے اور دن ہمیں بہت کچھ بتائیں گے۔‘
یورپی یونین کے پالیسی چیف نے منگل کو غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے منگل کے روز بلاک کے اعلی سفارت کاروں کا ایک غیر معمولی ویڈیو اجلاس طلب کیا تاکہ ’خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور سکیورٹی صورتحال میں کردار ادا کیا جا سکے۔‘
ایران نے حملے سے 72 گھنٹے قبل اتحادیوں کو آگاہ کر دیا تھا: ایرانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو اسرائیل پر جوابی حملوں کے بارے میں 72 گھنٹے پہلے ہی مطلع کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی کارروائیوں سے تقریبا 72 گھنٹے قبل ہم نے خطے میں اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو آگاہ کیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ایران کا ردعمل یقینی، جائز اور ناقابل تنسیخ ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے غیر ملکی سفیروں کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکہ کو آگاہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف اس کے حملے ’محدود‘ اور اپنے دفاع کے لیے ہوں گے۔
برطانوی وزیر اعظم کی ایرانی ڈرون مار گرانے کے تصدیق
،تصویر کا ذریعہbbc
برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے گذشتہ رات اسرائیل پر ایران کے حملے کی مذمت کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ برطانیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایران کے متعدد ڈرون مار گرائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے’بین الاقوامی مربوط کوششوں‘ میں حصہ لیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’آر اے ایف نے علاقے میں اضافی طیارے بھیجے‘۔
رشی سنک کا کہنا ہے کہ ایران کا حملہ ایک خطرناک اور غیر ضروری کشیدگی تھا جس کی میں نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی: روس کا فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ
روس نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر گذشتہ رات ڈرون اور میزائل داغے جانے کے بعد تمام فریقین سے ’تحمل کا مظاہرہ کرنے‘ کا کہا ہے اور کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم علاقائی ممالک سے امید رکھتے ہیں کہ وہ سیاسی اور سفارتی طریقوں سے موجودہ مسائل کا حل نکالیں گے۔‘
ماسکو کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس نے بارہا متنبہ کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے پر ’مؤثر ردِعمل‘ دینے میں ناکام رہی ہے جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سات افسران ہلاک ہوئے تھے جن میں اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل تھے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے روس کی جانب سے لکھے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک بیان کی مخالفت کی تھی جس میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کی گئی تھی۔
ایران کا الزام ہے اس حملے کے ییچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا، تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی رپورٹس پر ردِ عمل نہیں دیتا۔
ایران کا اسرائیل پر حملہ خطرے کی حد عبور کر گیا ہے, جیریمی بوون، بین الاقوامی ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ اسرائیل اب کیا کرتا ہے۔ انھیں اپنے اتحادیوں کی طرف سے بہت سے اشارے مل رہے ہیں، جنھوں نے رات کے دوران ان کی بہت مدد کی۔
امریکی ’آئرن کلاڈ‘ سکیورٹی کا ایک بہت مضبوط اشارہ دے رہے ہیں بنیادی طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ’ہم آپ کی پشت پر ہیں۔‘
برطانیہ اور اردن کے لوگ بھی اس میں شامل تھے اور خود اسرائیل کے پاس زبردست فضائی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے لیے یہ دیکھنا تھوڑا مشکل ہو گا کہ وہ اسرائیل کے دفاعی جال کو توڑ کر کچھ حاصل نہیں کر سکا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل ایرانی سرزمین پر جوابی حملہ کرنے کا فیصلہ کرے گا؟ یہ مزید کشیدگی پیدا کرے گا۔
میں نے ایک سینیئر مغربی سفارتکار سے بات کی جنہوں نے مجھے بتایا کہ یہ رات کافی طویل تھی لیکن اب ان کا کام اسے روکنا ہے۔ وہ اسرائیلیوں سے کہہ رہے ہیں کہ ایرانی سرزمین پر حملہ نہ کریں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے سفارتی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے فوجی ردعمل کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں۔
ایرانیوں نے واضح طور پر ٹیلی گراف کیا کہ وہ کچھ کرنے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی، امریکہ، برطانیہ اور دیگر تیار ہیں۔ لہٰذا یہ ایران کی جانب سے ایک سوچی سمجھی چال تھی اور مغربی اتحادی اب امید کر رہے ہیں کہ اس سلسلے کا اختتام ہو جائے گا۔
ایران کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ باز رکھنے کا احساس بحال کرے۔
مشرق وسطیٰ میں ان کے اتحادیوں کا نیٹ ورک اسی لیے ہے۔ واضح طور پر یہ حقیقت کہ اسرائیلی یکم اپریل کو ایک سفارتی کمپاؤنڈ پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور سوچتے تھے کہ وہ اس سے بچ سکتے ہیں۔ اس کارروائی نے ایسا تاثر دیا کہ ایران کی ڈیٹرنس زیادہ مضبوط نہیں تھی اور وہ اسے بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جس چیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ یہ ہے کہ امریکی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔ پہلی بار خطرے کی حد عبور کی گئی ہے۔ ایرانیوں نے براہ راست اسرائیلی سرزمین کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کے دائیں بازو کے لوگ پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔ لہٰذا یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ بات یہیں ختم ہو گی اور اگرحد نہیں کھینچی گئی تو ، یہ واقعی ایک بہت خطرناک لمحہ ہے۔
اسرائیل پر 300 سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران، عراق اور یمن سے 300 سے زائد ڈرونز اور میزائل اسرائیل کے خلاف داغے گئے۔
لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے بی بی سی ریڈیو 4 کے براڈکاسٹنگ ہاؤس پروگرام کو بتایا کہ ’میں جانتا ہوں کہ اسرائیل کی جانب 360 مختلف ہتھیار، 170 دھماکہ خیز ڈرون، 30 کروز میزائل، 120 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر کو روک دیا گیا تھا۔‘
بی بی سی آزادانہ طور پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کروز میزائلوں اور یو اے وی (بغیر پائلٹ کے ہوائی گاڑیوں) کو ’اسرائیل کی فضائی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے فضائی دفاع اور امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی حمایت نے ایران کو ’بہت سخت پیغام‘ بھیجا ہے۔
اسرائیل کے دفاع میں کئی ممالک شریک
بی بی سی نے ان میزائلوں میں سے ایک کے ملبے کی کچھ تصاویر
دیکھی ہیں جنہیں اردن نے اسرائیل پر ایران کے حملے کے دوران رات کے وقت روکا۔ لیکن
اسرائیل کو اپنے دفاع میں مدد کرنےوالے ممالک میں امریکہ اور اردن سمیت متعدد دیگر
ممالک بھی شامل تھے۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے
درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنایا ہے۔
برطانوی لڑاکا طیارے بھی اس حملے میں شامل تھے اور
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فرانس نے فضائی حدود میں گشت کر کے اپنا
حصہ ڈالا ہے۔
دریں اثنا اردن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس
نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والی چیزوں کو روک لیا ہے۔
امریکی
صدر بائیڈن جی سیون رہنماؤں کے ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے تاکہ ایران کے حملے
کے سفارتی ردعمل کو مربوط کیا جاسکے۔
بریکنگ, دنیا ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر ایران کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جا سکے جو مشرق وسطیٰ میں متعدد محاذوں پر بڑے فوجی تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ میں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ نہ تو خطہ اور نہ ہی دنیا ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے۔
اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو بڑے پیمانے پر جواب دیا جائے گا، ایران کی تنبیہ
ایران نے اسرائیل کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیلی سرزمین پر اس کے غیر معمولی حملے کا جواب نہیں دینا چاہیے اور اگر ایسا ہوا تو وہ بڑے اقدامات اٹٹھائے گا۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اگر اسرائیل جوابی کارروائی کرتا ہے تو ایران کا ردعمل رات بھر کی بمباری سے ’کہیں بڑا‘ ہوگا۔
ایران نے واشنگٹن کو بھی خبردار کیا کہ اسرائیلی جوابی کارروائی کی حمایت امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا باعث بنے گی۔
قبل ازیں، ایران کے اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ’ایک اور غلطی کی‘ تو اس کے سخت نتائج ہوں گے۔
اتحادیوں کی تحمل کی تاکید کے پیشِ نظر اسرائیل تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے, لیز ڈوسٹ، بی بی سی
ایرانی حملے کے متعلق بہت زیادہ بحث ہوئی۔ جو بائیڈن نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ حملہ متوقع ہے اور جلد ہو گا۔
اس کے بعد امریکہ میں نامعلوم فوجی ذرائع اس قسم کے حملے کے بارے میں بات کر رہے تھے جو واقعتاً سنیچر کی رات ہوا۔
ایران کی جانب سے یہ ایک محدود اور احتیاط سے کیا گیا حملہ ہے۔ جس سے محدود نقصان پہنچا لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادی اب اس حملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اور اگرچہ امریکہ اور برطانیہ تحمل پر زور دے رہے ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے آپشنز پر غور رہا ہے۔
پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے: دفترِ خارجہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔