پاکستان
مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا
کہنا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور سیاسی استحکام کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی ہماری
پیشکش کسی کے ایما پر نہیں ہے، اور ماحول کو سازگار بنانے کے لیے عمران خان کو
ضمانت پر رہائی دی جا سکتی ہے۔
پاکستان
کے نجی ٹی وی چینلزاے آر وائی نیوز اور
جیو نیوز کے پروگراموں ’سوال یہ ہے‘ اور ’جرگہ‘
میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو لاہور کے جلسہ عام میں مسلم
لیگ ن کے قائد نواز شریف نے سب کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
پروگرام ’جرگہ‘ میں انھوں
نے کہا کہ جو بھی گرینڈ ڈائیلاگ ہو گا اس میں سب سے پہلے سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر
بیٹھیں گی پھر اداروں کے ساتھ بات ہو گی اور انھیں اعتماد میں لیا جائے گا۔
رانا
ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام ڈائیلاگ سے ہی آئے گا۔ مگر یہ ڈائیلاگ
غیر مشروط ہو گا۔
’اگرعمران خان آج کہیں کہ یہ مذاکرات غیر مشروط ہو گا تو ان کی رہائی پر اتفاق ہو سکتا
ہے۔‘
انھوں
نے کہا کہ اس گرینڈ ڈائیلاگ کے ایجنڈے میں اداروں کے کرادر اور عدالتی نظام میں اصلاحات
سمیت متعدد مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔
پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں حکومت
کے پاس اختیارات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان 2011
سے یہ راگ آلاپ رہے ہیں کہ وہ نہ کسی کے ساتھ بیٹھیں گے اور نہ ہی بات کریں گے تو
ان کے رویے کا جمہوری معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان
کا کہنا تھا پی ٹی آئی ایک طرف ہمیں بے اختیار حکومت قرار دیتی ہے اور دوسری طرف
ہم پر مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ویسے
مذاکرات کرنے پر تیار نہیں لیکن پبپلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے بات کر
سکتے ہیں۔
مولانا
فضل الرحمان، اختر مینگل، محمود خان اچکزئی سے مذاکرات کے ایک سوال پر ان کا کہنا
تھا کہ وہ ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور ان سے معاملات پر بات ہو رہی ہے مسئلہ
صرف ایک جماعت پی ٹی آئی کا ہے۔
ادھر
پی ٹی آئی کے رہنما اور ترجمان رؤف حسن نے مسلم لیگ ن کی مذاکرات کی پیشکش کو رد
کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔
پروگرام
’سوال یہ ہے‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی بات وہ کر رہے
ہیں جن کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو کٹھ پتلیاں ہیں۔ ہم بات ان سے کریں
گے جن کے پاس اختیار اور طاقت ہے اور صرف انھیں سے بات ہو گی۔
اس سے قبل سنیچر کو مقامی ٹی وی چینل جیو کے
پروگرام ’جرگہ‘ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور
مولانا فضل الرحمان کے پی ٹی آئی کے ساتھ جانے سے ممکن ہے کہ عمران خان کی مذاکرات
کے معاملے میں سوچ میں تبدیلی آ جائے۔
ان
کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں اور ممکن ہے کہ ان جماعتوں
کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ہونے سے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کا عمل
شروع ہو جائے۔
انھوں
نے پی ٹی آئی کے الیکشن کے حوالے سے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ٹی
آئی کے تحفظات پر پارلیمانی کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے بانی
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے عمل میں بڑی رکاوٹ عمران خان اور
ان کا رویہ ہے۔
انھوں
نے کہا کہ سنہ 2018 میں بھی ہم پی ٹی آئی سے بات کرنے پر تیار تھے اور آج بھی تیار
ہیں۔ عمران خان نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، ہم نے ان پر کوئی سیاسی مقدمہ
نہیں بنایا۔ انھوں نے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک
سال گزرنے کے باوجود نو مئی کے مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے میں عدالتی نظام کا سقم ہے۔