فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس: آپ ہمیں پراکسیز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ

گذشتہ روز فیصل واوڈا نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔‘ تاہم آج نیب ترامیم سے متعلق انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • نیب قوانین میں ترامیم کا کیس: سابق وزیراعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شریک
  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، 15 روپے 39 پیسے کی کمی کے بعد پیٹرول 273 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے
  • حکومت مستعفیٰ ہو، انتِخابات دوبارہ ہوں اور اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے دور رہے: مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ
  • اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت منظور، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت منظور کر لی ہے

لائیو کوریج

  1. ژوب میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران فوج کے میجر کی ہلاکت: آئی ایس پی آر, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی ضلع ژوب میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک فوجی اہلکار کے علاوہ تین شدت پسندوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کو ضلع ژوب میں سمبازہ کے علاقے میں ایک انٹیلیجنس آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ میجر بابر خان کی ہلاکت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے خلاف کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

    ڈیرہ بگٹی میں ریٹائرڈ ٹیچر کی ہلاکت

    بلوچستان میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک ریٹائرڈ ٹیچر اور لیویز فورس کے ایک اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

    ڈیرہ بگٹی میں مارے جانے والے ریٹائرڈ ٹیچر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے۔ ریٹائرد ٹیچر رکھیہ خان بگٹی کو ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔

    پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رکھیہ خان بازار سے واپس اپنے گھر جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کو نشانہ بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے پسٹل سے رکھیہ خان پر پانچ فائر کیے جن میں سے تین گولیاں ان کو لگیں، جن سے ان کی موت واقع ہوئی۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جو کہ واقعے کے بعد فرار ہوگئے۔

    پولیس اہلکار نے ریٹائرڈ ٹیچر کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے دھمکیاں ملی تھیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی میڈیا ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ دیرینہ دوست اللہ رکھیہ کی قتل پر دلی دکھ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ 'دہشت گردوں' نے نہتے اور بے گناہ پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن بلوچستان حکومت دہشت گردی کی اس لہر کو بھی شکست دے گی۔

    لیویز فورس کے اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے بوستان میں پیش آیا۔

    پشین انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بوستان میں لیویز فورس کے ایک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں لیویز فورس کے اہلکار محمد حنیف بازئی ہلاک ہوئے۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے اسے شدت پسندی کا واقعہ قرار دیا۔

  2. جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہْْBBC

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کرنے والے تین رکنی بینچ نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی، سویلین خفیہ ادارے آئی بی اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

    اس تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ہم نے اس کیس میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی، سویلین خفیہ ادارے آئی بی، ایم آئی سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایک حاضر سروس جج کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس پر اثر انداز ہونے اور کیس کی سماعت کرنے والے جج کو دباؤ میں لانے کے مترادف ہے۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے معزز جج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور جسٹس بابر ستار کےخاندان کی ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر شئیر کی گئیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک حاضر سروس جج کی وہ معلومات پبلک کی گئیں جو کوئی عام بندہ نہیں نکال سکتا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ذاتی معلومات یا تو سرکاری اداروں سے ہیک ہوتی ہے یا کسی ادارے نے دی ہوتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ جج کو اپروچ (رسائی) کریں تاہم انھوں نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ مگر وہ کام کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وار فیئر بڑا آسان ہے مگر یہ وار فئیر صرف عدلیہ کے لیے کیوں؟‘

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ یہ توہین عدالت کارروائی ان کے خلاف ہے جو مستقبل میں کسی جج کے خلاف ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

    عدالت نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

    دوسری جانب جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ نے جسٹس محسن اختر کیانی کے خط پر سماعت کی۔

    عدالت نے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان، طلعت حسین، وقاص ملک اور پیمرا کو بھی نوٹس جاری کر دیا جبکہ عدالتی معاونت کیلئے سینٰر صحافی و اینکر حامد میر، صدر پی ایف یو جے،احمد حسن اور احمر بلال صوفی کونوٹس جاری کرتے ہوئے پیمرا کو ہدایت کی کہ نشر ہونے والے مواد کا متن فراہم کیا جائے۔

    عدالت نے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

  3. کسی نے نہیں کہا پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا: وزیر اطلاعات

    وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عدالتی امور میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا۔ یہ درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کے تناظر میں کہا کہ ’اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں، یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے۔‘

    اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے ہیں، انھوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلیجنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔

    وزیر قانون نے کہا کہ ’میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے، سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔

  4. جسٹس بابر ستار کے خط پر اٹارنی جنرل کا ردعمل: ’کوئی بھی سکیورٹی افسر براہ راست نہ کسی جج سے رابطہ کر سکتا ہے اور نہ ایسا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے ایک ٹی وی بیان میں کہا ہے کہ حکومت یا کوئی ریاستی ادارہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا کہ آج کل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات خراب ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سکیورٹی افسر براہ راست نہ کسی جج سے رابطہ کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ریاستوں کے کچھ معاملات حساس ہوتے ہیں اور گزشتہ 45 سال سے پاکستان کو جن سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے اس میں آپ میں مل بیٹھ کر بات کی جاتی ہے اور اسی تناظر میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ دفاعی معاملات میں نگرانی (سرویلینس ) سے متعلق جو بھی بریفنگ ہے وہ ایک ان کیمرہ کی جائے تاکہ یہ معاملات پبلک میں نہ جائیں کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیز کے پاس کیا صلاحیتیں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے خط کا متن سوشل میڈیا پر بھی آیا ہے ، یہ ضروری ہے کہ اس کی رپورٹنگ کے وقت اس خط کے متن پر غور کر لیا جائے۔

    واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو لیک کیے جانے اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک ہونے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرر ہے ہیں اور اس حوالے سے انھوں نے متعلقہ اداروں سے جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو خط لکھا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک اہلکار کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں جسٹس بابر ستار نے کہا ہے کہ انھیں آڈیو لیکس کیس میں پیغام دیا گیا کہ وہ اس کیس کی سماعت سے پیچھے ہٹ جائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہلکار کے مطابق اس خط میں جسٹس بابر ستار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کا پیغام ملا کہ وہ سرویلینس کے طریقہ کار کی سکروٹنی سے پیچھے ہٹ جائیں۔

    جسٹس بابر ستار نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ انھوں نے ایسے دھمکی آمیز حربے پرکوئی توجہ نہیں دی اور انھوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ ایسے پیغامات سے انصاف کے عمل کو کافی نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی آے ، آئی بی اور پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار کو اس بینچ سے الگ ہونے کی درخواستیں دائر کی تھیں جسے جسٹس بابر ستار نے جرمانہ کرکے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

    جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججز میں شامل ہیں جنھوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے عدالتی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے۔

  5. چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، چین کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات کا مزید فروغ خوش آئند ہے. چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

    چین پاکستان اقتصادی راہداری اور چینی سرمایہ کاری کے تحت دیگر منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سی پیک ٹو پر کام میں وزارتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کا تعطل قبول نہیں ہے۔ چین پاکستان اقتصادی شراکت داری تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، متعلقہ افسران و ادارے یقینی بنائیں کہ دونوں ممالک کے لیے اس سے مثبت نتائج حاصل ہوں۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملکی درآمدات بالخصوص حکومت کی جانب سے درآمد شدہ اشیا کا ایک خاص تناسب گوادر بندرگاہ سے درآمد کرنے کی ہدایت کر دی.

    وزیرِ اعظم نے سی پیک ٹو پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے تمام وزارتوں کو آپسی روابط مربوط کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    اجلاس کو سی پیک کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

  6. اسلام آباد ہائی کورٹ:عمران خان کی 190 ملین پاونڈ ریفرنس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    190 ملین پاونڈ ریفرنس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنعمرا ن خان کے علاوہ ان کی اہلیہ بشری بی بی بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمہ ہیں تاہم نیب کے حکام کے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش کے لیے بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 190 ملین پاونڈ ریفرنس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ 190 پاونڈ کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے اور اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اس ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    عمرا ن خان کے علاوہ ان کی اہلیہ بشری بی بی بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمہ ہیں تاہم نیب کے حکام کے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش کے لیے بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے۔

    اس مقدمے میں اب تک 20 سے زائد گواہوں پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔ ملزم عمران خان کے وکیل سلمان سردار لطیف کھوسہ کی اس درخواست میں اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔

    نیب پراسیکوشن (استغاثہ) کی طرف سے امجد پرویز نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست کی مخِالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے اور اس میں ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ رقم حکومتِ پاکستان کو آنی چاہیے تھی۔ بینچ میں موجود جسٹس طارق جہانگیری نے نیب کے پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ کہ آپ کے پاس اس کی کوئی دستاویز نہیں اور یہ ساری زبانی باتیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے پوچھا تھا کہ فریزنگ یا ڈی فریزنگ کا آرڈر آپ کے پاس ہے؟ آپ نے کہا کہ اُن میں سے کوئی دستاویز آپ کے پاس نہیں ہے۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے کوئی شواہد ہیں؟ انھوں نے کہا کہ آپ صرف وہ بات کریں جس کے آپ کے پاس شواہد ہیں۔

    نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آرڈر میں لکھا کہ یہ پیسہ ریاستِ پاکستان کا ہے اور سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں غلط بھیجی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کو یہ رقم منجمد کرانا اپنی کامیابی بتائی۔ انھوں نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق رقم نیشنل کرائم ایجنسی کی اجازت کے بغیر منتقل نہیں ہو سکتی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ ہو جانے کے بعد یہ رقم منتقل کی گئ اور مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ تھے۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے سوال کیا کہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ میں تو نہیں لکھا کہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے گی جس پر امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے توجہ دلانے پر انھوں نے کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ کو دوبارہ پڑھا ہے اور ان کے بقول یہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ بہت بڑا فراڈ تھی کیونکہ ایسٹ ریکوری یونٹ وزیرِاعظم کے براہِ راست ماتحت ادارہ تھا۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ عمران خان کا اس سے کیسے تعلق بنتا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ پبلک سرونٹ اس شخص سے تحفہ نہیں لے سکتا جس کا معاملہ اس کے پاس زیرِ التوا ہو۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں 458 کنال زمین خرید کر زلفی بخاری کے نام منتقل کی گئی۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ پرائیویٹ لوگوں سے زمین خرید کر زلفی بخاری کے نام کر دی گئی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کی این سی اے سے خط و کتابت کے دوران زمین منتقل کی گئی۔

    نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ جب زمین منتقل کی گئی تب القادر ٹرسٹ کا وجود ہی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے ناقابل قردید شواہد ہونے کی بنا پر ملزم ضمانت کا حقدار نہیں ہے۔

    عدالت نے نیب پراسیکورٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    190ملین پاؤنڈ کیس کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہےگ

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔

    جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

    جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

  7. اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر شیریں مزاری کی 2022 میں گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کی 2022 میں گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈاکٹر شیریں مزاری اینٹی کرپشن سٹیبلشمنٹ پنجاب کے حکام کی جانب سے گرفتاری کے خلاف ایمان مزاری کی درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت اینٹی کرپشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی ٹیم گرفتاری کے لیے آئی تھی؟ اینٹی کرپشن حکام نے بتایا کہ ’ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ہم نے شیریں مزاری کو نوٹس کیا، گرفتاری سے پہلے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔ تھانہ کوہسار کی پولیس ہمارے ساتھ تھی۔‘

    عدالت نے کہا ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام آباد سے ہمارے دائرہ اختیار کے اندر گرفتاری درست ہوئی یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جب کسی کی گرفتاری غلط قرار پا جائے تو اس دوران جو کچھ ہوا اس کی حیثیت کیا ہو گی؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے بانی پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ کے احاطہ سے گرفتاری سے متعلق اہم ریمارکس دیے کہ احاطہ عدالت سے دروازے توڑ کر چیزیں توڑ کر جیسے لے گئے کیا ایسے ہی گرفتاری ہوئی تھی ؟

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل نے کہا اینٹی کریشن حکام کو چاہیے تھا کہ گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے پاس لے کر جاتے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے بانی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر ریمارکس دیے یہ تو ایسے ہی ہوا یہاں کورٹ سے ایک آدمی کو اٹھا کر لے گئے دروازے توڑ کر چیزیں توڑ کے جیسے لے گئے کیا ایسے ہی گرفتاری ہوئی تھی؟ پھر وہ گرفتاری سپریم کورٹ کے غیر قانونی ڈیکلیئر کر دی تھی۔ ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’یہ وقت وقت کی بات ہے، یہ سائیکل ہےجس میں کل ادھر والے دوسری طرف کھڑے ہوں گے آج جو حکومت میں ہیں تو وہ اٹھائیں گے ہوں گے۔ کمیشن ریورٹ اور عدالت کے فیصلے کے تناظر میں ہم نے آگے چلنا ہے۔ جو اس کورٹ کے اندر ہوا ہم تو اس کی انکوائری نہیں کر سکے۔

    عدالت نے کہا یہاں ہائی کورٹ کا تو ہم پرچہ بھی درج نہیں کرواسکے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  8. بریکنگ, سپریم کورٹ میں نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت: عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے 16 مئی کو پیش کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے پارلیمان کی طرف سے قومی احتساب بیورو یعنی نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے 16 مئی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے سابق حکمراں اتحاد کی جانب سے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اس ضمن میں وفاق اور پنجاب کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی کو یقینی بنائیں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ویڈیو لنک کی سماعت کے دوران کوئی خرابی پیش نہ آئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے وفاق کی جانب سے نظرثانی کی اس اپیل کی سماعت کی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک بینچ نے عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب آرڈیننس میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف وفاقی حکومت نے نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی۔

    نیب حکام کی جانب سے وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اس اپیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں یہ تسلیم کرچکی ہے کہ قانون سازی کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے۔

    اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار یعنی عمران خان اس مقدمے میں خود عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان اس بارے میں کوئی وکیل وغیرہ کرنا چاہتے ہیں تو اس بارے میں جیل حکام کو ہدایات جاری کی جاسکتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت اس کارروائی کو صرف قانونی معاملات تک ہی محدود رکھے گی۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ چونکہ عمران خان اس مقدمے میں فریق ہیں اور انھیں سنا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ نیب کی پولیٹیکل انجینئرنگ میں ملوث ہونے سے متعلق ہےاور اگر درخواست گزار بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں اور ہم کیسے روک سکتے ہیں؟

    نظرثانی کی اپیل میں سرکاری وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو بذریعہ ویڈیو یا وکیل کے ذریعے نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ذاتی حقوق کا نہیں بلکہ یہ معاملہ قانون کی شقوں میں ترمیم کا ہے۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تمام مقدمات میں بھی ایسے ہی سائلین کو نمائندگی ملنی چاہیے؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ نیب کی طرف سے کی جانے والی پولیٹیکل انجینرنگ کا بھی ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث درخواست گزار کی طرف سے اس درخواست پر دلائل دے چکے ہیں تاہم بعد میں وہ اس کیس سے الگ ہو گئے تھے۔

  9. اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹیکس نادہندگان کی سمز بلاک کرنے سے 27 مئی تک روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نان فائلر کے زیر استعمال موبائل سمز کو بلاک کرنے سے متعلق حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کو 27 مئی تک سمز بلاک کرنے سے روک دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے یہ حکم امتناع حکومت کی طرف سے نان فائلر کی موبائل سمز روکنے سے متعلق موبائل سروسز فراہم کرنے والی ایک نجی کمپنی کی درخواست پر جاری کیا ہے۔

    نجی موبائل کمپنی کی طرف سے ایڈوکیٹ سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں کی گئی ترمیم آئین کے ارٹیکل 18 میں کاروبار کی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔

    درخواست گزار کی طرف سے اس معاملے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے اس درخواست میں بنائے گئے فریق کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے ایسے افراد کے زیر استعمال موبائل سمز بلاک کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو ٹیکس ادا نہیں کر رہے جس کے بعد موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں نے حکومت کے اس اقدام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

  10. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین کا مطالبہ منظور، آٹے کی قیمت میں 1100 روپے کی کمی

    notice

    ،تصویر کا ذریعہajk.gov.pk

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف گذشتہ پانچ روز سے جاری احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے بعد وفاقی و ریاستی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے آٹے کے 40 کلو گرام تھیلے کی قیمت میں 1100 روپے کی کمی کر دی ہے۔

    ریاستی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب خطے میں 40 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 3100 روپے سے کم ہو کر 2000 روپے ہو گئی ہے جبکہ 20 کلوگرام کا تھیلا 1000 روپے کا ہو گیا ہے۔

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین کا مطالبہ منظور، بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ مقرر

    Notice

    ،تصویر کا ذریعہAJK GOV

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف گذشتہ پانچ روز سے جاری احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے بعد وفاقی و ریاستی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں کمی کر دی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نو ٹیفکیشن کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت تین روپے اور زیادہ سے زیادہ چھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

    ریاستی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 100 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ ہو گی، جبکہ 100 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پانچ روپے فی یونٹ کے حساب سے ادا کریں گے اور 300 سے زائد یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین فی یونٹ چھ روپے کے حساب سے قیمت ادا کریں گے۔

    جبکہ کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 10 روپے اور زیادہ سے زیادہ 15 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔

    ماہانہ تین سو یونٹ استعمال کرنے والے کمرشل صارفین کو بجلی 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے ملے گی جبکہ 300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 15 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کریں گے۔

  12. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان، مظفر آباد میں تین ہلاکتوں کے بعد آج یوم سوگ اور شٹرڈاؤن ہڑتال, محمد زبیر، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین کی نمائندہ ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ نے وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے بعد پانچ روز سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن امتیاز اسلم کے مطابقپورے خطے سے آئے مظاہرین کو اپنے اپنے علاقوں میں واپس جانے کا کہا گیا ہے جبکہ مظفر آباد میں موجود ایکشن کمیٹی گذشتہ شام پیش آئے پرتشدد واقعات کے بعد حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہونے والا عوامی احتجاج وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی اور آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی دیے جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا ہے۔ پیر کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد آج کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ مظفر آباد میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں۔

    امتیاز اسلم کے مطابق گذشتہ شام مظفر آباد میں پیش آنے والا واقعہ مظاہرین کے مرکزی قافلے کے مظفر آباد پہنچنے سے تین، چار گھنٹے پہلے پیش آیا تھا۔ ’آج تمام ایکشن کمیٹی کے اراکین اُن کے نماز جنازہ میں شرکت کرے گی اور ہمارا مؤقف ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم ہیں جن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ اس واقعہ کے خلاف آج پورے کشمیر میں سوگ منایا جائے گا اور ہڑتال ہو گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت نے ہمارے مطالبات من و عن پورے کر لیے ہیں۔‘

  13. مظفرآباد: عوامی ایکشن کمیٹی کا یوم سیاہ منانے کا اعلان، سکیورٹی کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند

    protest

    ،تصویر کا ذریعہMahtab Ashraf

    پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں مہنگی بجلی اور آٹے کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شٹرڈاؤن ہڑتال آج بھی جاری ہے جہاں کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند ہیں جب کہ خطے میں مظاہرین کی پولیس اور رینجرز سے جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج خطے میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ احتجاج اور مظاہروں کے پیش نظر ریاستی حکومت نے مظفرآباد میں آج بھی تمام تعلیمی ادارے اور ضلعی دفاتر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

    ضلعی مجسٹریٹ مظفرآباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں مہنگائی کے خلاف ہونے والا احتجاج حکومت کی جانب سے بجلی اور آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی دیے جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا ہے اور پیر کو مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کے لیے 23 ارب روپے دینے کے اعلان کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے پیر کی شام بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم اس دوران مظفر آباد میں مظاہرین اور رینجرز کے اہلکاروں کے مابین اس وقت تصادم ہوا جب رینجرز کے دستوں نے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

    حکومت نے کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ مزید دو روز بند رکھنےکا فیصلہ کیا ہے،کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے مظفرآباد سمیت اہم علاقوں میں سکیورٹی سخت اور اہم تنصیبات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    notification

    ،تصویر کا ذریعہhttps://ajk.gov.pk/

  14. چمن: حکومت اور مظاہرین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار، پاک افغان شاہراہ تجارت کے لیے بند, محمد کاظم

    Chaman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں دھرنا کمیٹی اور حکومت بلوچستان کے حکام کے درمیان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث دھرنا کمیٹی نے کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھولنے سے انکار کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی قیادت میں دھرنا کمیٹی کے شرکاء سے مذاکرات کے لیے ایک وفد چمن بھیج دیا تھا جس میں چمن سے تعلق رکھنے والے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالخالق اچکزئی بھی شامل تھے۔

    سرکاری سطح پر رات گئے تک مذاکرات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم رابطہ کرنے پر دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی نے بتایا کہ حکومتی وفد کے دھرنا کمیٹی سے مذاکرات کے دو دور ہوئے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کی جانب سے یہ کہا گیا کہ کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کو پہلے مال بردار گاڑیوں کے کھولا جائے لیکن دھرنا کمیٹی نے اس کے لیے یہ شرط رکھ دی کہ حکومت سب سے پہلے چمن سے افغانستان کے لیے لوگوں کی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خاتمے اور پہلے کی طرح قومی شناختی کارڈ کے ذریعے اسے بحال کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کی جانب سے اس سلسلے میں آمادگی ظاہر نہ کرنے کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر سرکاری وفد واپس کوئٹہ چلاگیا تاہم یہ بتایا گیا کہ دو تین روز میں وزیر اعلیٰ بلوچستان چمن آئیں گے۔

    خیال رہے کہ چمن سے افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں گذشتہ سال اکتوبر سے ایک احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

    تاہم چار مئی کو چمن شہر میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ سے مظاہرین میں سے دو کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد دھرنے کے شرکاء کی جانب سے نہ صرف چمن میں وفاقی حکومت کے متعدد دفاتر کو تالا لگا دیا گیا بلکہ کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کو مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا ہے۔ مال بردار گاڑیوں کے لیے شاہراہ کی بندش سے چمن سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت معطل ہوگئی ہے۔

  15. الیکشن کمیشن نے قومی، صوبائی اسمبلیوں میں اضافی نشستوں پر منتخب 77 ارکان کی رکینت معطل کر دی

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اضافی نشستوں پر منتخب 77 ارکان کی رکینت معطل کر دی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر 22 منتخب ارکان کی رکنیت معطل کی گئی، ان میں 19 خواتین اور تین اقلیتی ارکان شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں خیبر پختوا سے مسلم لیگ (ن) کی چار ، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی ف) کی دو، پیپلز پارٹی کی دو خواتین ارکان کی رکنیت معطل کی۔

    اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں مخصوص نشست پر پنجاب سے منتخب پیپلز پارٹی کی دو اور مسلم لیگ (ن) کی نو خواتین ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی سے 21 خواتین اور چار اقلیتی ارکان معطل ہوئے، پنجاب اسمبلی سے 24 خواتین اور تین اقلیتی رکن معطل ہوئے۔ جبکہ سندھ اسمبلی سے دو خواتین اور ایک اقلیتی رکن کو معطل کیا گیا۔

    قومی اسمبلی سے مسلم لیگ ن کی 14، پی پی کی پانچ اور جے یو آئی کی تین نشتیں معطل کی گئی ہیں۔

    قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلیوں سے سب سے زیادہ مسلم لیگ ن کی 44 نشتیں معطل ہوئیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی سے جے یو آئی کی 10، ن لیگ سات، پی پی کی چھ، اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی ایک ایک نشست معطل ہوئی۔

    یاد رہے کہ چھ مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی اور مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔

  16. بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مظفرآباد میں پُرتشدد مظاہروں میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں مہنگائی کے خلاف ہونے والا احتجاج حکومت کی جانب سے بجلی اور آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی دیے جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا ہے اور پیر کو مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کے لیے 23 ارب روپے دینے کے اعلان کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے پیر کی شام بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم اس دوران مظفر آباد میں مظاہرین اور رینجرز کے اہلکاروں کے مابین اس وقت تصادم ہوا جب رینجرز کے دستوں نے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

    مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا گیا جس سے حکام کے مطابق متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں اہلکاروں کو پتھراؤ کے جواب میں ہوائی فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے تاہم ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی۔

    سی ایم ایچ مظفر آباد کے ڈاکٹر ندیم الرحمان نے بی بی سی کی تابندہ کوکب کو بتایا کہ جھڑپوں کے بعد ہسپتال میں تین لاشیں لائی گئیں اور تمام مرنے والوں کو گولیاں لگی تھیں۔

    ڈاکٹر ندیم الرحمان کے مطابق ہلاک شدگان کے لواحقین پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق ہلاک شدگان میں سے ایک نوجوان برار کوٹ کے مقام پر گولی کا نشانہ بنا جس کے بعد مظاہرین نے وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کم از کم دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دیگر دو ہلاکتیں مظفر آباد میں اس وقت ہوئیں جب برار کوٹ میں نوجوان کی ہلاکت کی خبر وہاں پہنچی اور مشتعل مظاہرین اور رینجرز کے درمیان تصادم ہوا۔

    اس تصادم میں ایک درجن سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، سی ایم ایچ کے حکام کے مطابق ان میں سے دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    تاحال پاکستان رینجرز کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمان ماجد خان کا کہنا ہے کہ حکام صورتحال سے آگاہ ہیں اور معاملے کے تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

  17. ’جو آزادیِ اظہار یہاں ہے وہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی نہیں ہے‘ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اڈیالہ جیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر اڈیالہ جیل عدالت میں میڈیا کو سیاسی بیانات دینے پر پابندی کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’جو آزادیِ اظہار یہاں ہے وہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی نہیں ہے۔ میڈیا جیل سے عدالتی کارروائی کی شفاف طریقے سے فیئر رپورٹنگ کرے۔ جو سن رہے ہیں وہ ضرور ریورٹ کریں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بانی پی ٹی آئی پر احتساب عدالت کی جانب سے اڈیالہ جیل کورٹ میں میڈیا کو سیاسی بیانات دینے پر پابندی کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست گزار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ’جیل حکام نے کمرہ عدالت میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جو ٹرائل عدالت کے حکم پر ہٹادی گئیں لیکن ٹرائل جج نے آرڈر کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کوسیاسی بیانات سے روک دیا۔ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے اس سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ عدالت میں جو کچھ ہو رہا ہے صحافی اسے رپورٹ کر سکتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’اب تو چیزیں ایڈوانس ہوچکی ہیں، وکلا باہر جا کر خود بیان کر دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا، ’کیا ایک وکیل زیرِ التوا کیس کے میرٹس سے متعلق میڈیا پر بیان دے سکتا ہے؟ شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر میرٹس پر بات کرسکتا ہے؟ کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ جیت جائے گا، ہار جائے گا؟‘

    سلمان اکرم راجہ نے اعتراف کیا کہ ’وکیل زیرِ التوا کیس کے میرٹس پر بات نہیں کر سکتا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں عدالتی کارروائی رپورٹ ہوتی ہے۔‘

  18. 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس: ’یہ ڈِیڈ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے ڈیکلیئریشن ہے‘ جسٹس عامر فاروق, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    IHC

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ضمانت کی درخواست میں سوال اٹھایا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے کیوں انڈرٹیکنگ دی کہ وہ ملک ریاض اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھے گی۔‘

    جس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ’کابینہ ممبران نے بند لفافے کی منظوری کیسے دے دی؟ ہو سکتا ہے بند لفافے میں کوئی چیز پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو۔ انھوں نے غیرقانونی کام کیا۔ کیا انھیں ملزم نہیں بنایا گیا؟‘

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’اس میں بینفشری صرف وزیر اعظم تھے اس لیے انھیں ملزم بنایا گیا۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

    نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نے دلائل دیے کہ ’6 نومبر 2019 کو ملک ریاض اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان ایک خفیہ ڈِیڈ پر دستخط ہوئے۔ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے حکومت پاکستان کے نمائندے کے طور پر دستخط کیے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان سیٹلمنٹ کو خفیہ رکھا جائے گا۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’حکومت پاکستان کیوں یہ حلف نامہ دے رہی ہے؟ یہ ڈِیڈ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے کانفیڈنشیلٹی کا ڈیکلیئریشن ہے۔‘

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’تین کابینہ ارکان زبیدہ جلال، ندیم افضل گوندل اور پرویز خٹک کے بیانات ہیں جن کے مطابق شہزاد اکبر نے کابینہ کو بریفنگ دی اور بند لفافے پر یہ کہہ کر منظوری لی گئی کہ یہ معاملہ پاکستان کے مفاد میں ہے جسے خفیہ رکھنا ضروری ہے، کانفیڈنشیل ڈیڈ دکھائی نہیں جا سکتی۔ میٹنگ منٹس میں کابینہ کے کسی ممبر نے اختلاف نہیں کیا۔‘

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کے ’کابینہ ممبران نے بھی تو غیر قانونی کام کیا، بند لفافے کی منظوری دے دی۔ ہو سکتا ہے بند لفافے میں کوئی چیز پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو۔ کابینہ ممبران نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے وہ کیسے دیکھے بغیر منظوری دے سکتے ہیں۔ یہ ملزم نہیں بنتے؟ انھوں نے جرم کا ارتکاب نہیں کیا؟‘

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’اس میں بینفشری صرف وزیراعظم تھے اس لیے انھیں ملزم بنایا گیا۔‘

    جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ ’حکومت اگر کوئی بھی معاہدہ کرے گی تو لا اینڈ جسٹس ڈویژن سے منظوری تو ہو گی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کو انفارم کیے بغیر سائن کی گئی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’برطانیہ سے 171.15 ملین پاؤنڈز کی رقم تین اقساط میں پاکستان آئی۔ 19 نومبر 2019 کو برطانیہ سے رقم کی پہلی قسط سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی تو اس وقت تک وفاقی کابینہ سے منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ تین دسمبر 2019 کو کابینہ نے منظوری دی، اسی روز رقم کی دوسری قسط اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئی۔‘

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سوال کیا کہ ’یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے گی؟ کیا ڈیڈ میں کوئی ایسی بات ہے کہ پیسے اس اکاؤنٹ میں آئیں گے؟‘

    سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’انھوں نے این سی اے اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ایگریمنٹ نہیں لگایا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’حکومت پاکستان کیوں انڈرٹیکنگ دے رہی ہے کہ اس معاہدے کو خفیہ رکھا جائے گا؟‘

    نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ’یہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا تقاضہ تھا۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، اسی دوران برطانیہ میں ملک ریاض کی رقم منجمد کی گئی۔ این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی۔ برطانیہ سے 171.15 ملین پاؤنڈز کی رقم تین اقساط میں پاکستان آئی۔ 19 نومبر 2019 کو برطانیہ سے رقم کی پہلی قسط سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت تک وفاقی کابینہ سے منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ 3 دسمبر 2019 کو کابینہ نے منظوری دی، اسی روز رقم کی دوسری قسط اکاؤنٹ میں آئی۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا پیسہ بھی ملک ریاض کا ہی تھا اسی کو جانا تھا۔‘

    آج کے دلائل کے بعد عمران خان کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت کل 14 مئی کو ہو گی۔

  19. وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز: ’حکومت اور طاقتور ادارے قانون کے مطابق لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں‘

    لاپتا افراد

    بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کہا ہے کہ سرکاری حکام لاپتہ افراد کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اسے الجھا رہے ہیں۔

    کوئٹہ میں پیر کی شام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ’گذشتہ دنوں اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ لوگ ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور ان کے نام بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی نے یہ بھی کہا کہ رواں سال مچھ شہر پر ہونے والے حملے میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارے جانے والے ودود ساتکزئی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملے میں مارے جانے والے کریم جان بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ودود ساتکزئی 12اگست 2022 کو جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے جنھیں 9 فروری 2023 کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان کی بازیابی کی تصدیق ان کے اہلخانہ نے کی تھی۔‘

    تنظیم کے عہدیداروں نے کہا کہ ’اسی طرح تربت سے کریم جان کو 23 مئی 2022 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ لیکن 31جولائی 2022کو ان پر دھماکہ خیز مواد کا الزام لگا کر سی ٹی ڈی نے ان کو عدالت میں پیش کیا تاہم اگست 2022کو عدالت نے ان کو رہا کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ودود ساتکزئی اور کریم جان کی بازیابی کے بعد نہ ان کے رشتہ داروں اور نہ ہی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ان کی جبری گمشدگی کے حوالے سے کوئی دعویٰ کیا۔‘

    تنظیم کے عہدیداروں نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور ملک کے طاقتور ادارے ملکی قوانین کے تحت لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان سے لوگوں کی مبینہ جبری گمشدگی میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور پہلے سے لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارا جائے گا۔

  20. ’اگر آرٹیکل 6 لگانا ہے تو آغاز جنرل ایوب خان سے کرنا ہوگا‘ وزیرِ دفاع خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وفاقی وزیر دفاع اور مُسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کی تقریر کے بعد اب اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اس مُلک میں ایوب خان جنھوں نے پہلا مارشل لا لگایا تھا ان کی میت قبر سے نکال کر پانسی لگانا چاہیے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت، ابتدا وہاں سے ہونے چاہیے اور انتہا یہاں ہونی چھہیے کہ جس دن تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے اسمبلی توڑی گئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں قائد حزب اختلاف کی بات سے اتفاق کرتا ہوں بلکہ سارا ہاؤس اس بات پر متفق ہے کہ آرٹیکل 6 لگنا چاہیے مگر میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ باری باری سب پر لگنا چاہیے یعنی 1958 سے 2022 کی رات تک۔‘

    وزیر دفاع کی جانب سے جب یہ کہا گیا کہ سب پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے تو اس پر آپوزیشن میں بیٹھے اراکینِ اسمبلی کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور خواجہ آصف کو اپنی بات مکمل کرنے سے روکا گیا تاہم اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مداخلت کے بعد ایک مرتبہ پھر اسمبلی کی کارروائی کا آغاز ہوا اور خواجہ آصف نے اپنی تقریر پھر شروع کی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’مُلک میں مارشل کی داغ بیل ڈالنے والوں کو پھانسی دینی چاہیے۔‘

    خواجہ آصف کی تقریر کے دوران آپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔