لائیو, ایرانی میڈیا کی امریکی حملوں میں سیمنان ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق، ’تہران پر نئے حملوں کی دوسری لہر مکمل‘

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ رات کو امریکی حملوں میں سیمنان ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تاہم تاحال کسی نقصان کی اطلاعات نہیں۔ دوسری جانب سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ تہران پر امریکی حملوں کی دوسری لہر مکمل ہو چکی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران نے ایک امریکی خاتون کو رہا کر دیا، ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایک ایسی امریکی خاتون کو رہا کر دیا ہے جنھیں ٹرمپ کے بقول، دسمبر 2024 میں بلاوجہ حراست میں لیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے خاتون امریکی شہری کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    امریکی صدر نے زیرِ حراست فرد کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم انھوں نے بتایا کہ ’یہ خاتون اب محفوظ ہیں، مکمل صحت مند ہیں اور ایران سے باہر جا چکی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ خاتون کو دسمبر 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب جو بائیڈن امریکی صدر تھے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  2. بریکنگ, ایرانی شہر سیمنان کا ایئرپورٹ امریکی حملوں کا نشانہ بنا، تاحال نقصان کی اطلاعات نہیں: ارنا

    ایران پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ رات کے وقت ہونے والے امریکی حملوں میں سیمنان ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ارنا کا حوالہ دے کر رپورٹ کیا ہے کہ سیمنان کے حکام نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ متعدد پروجیکٹائل سیمنان ایئرپورٹ کے احاطے میں آ کر گرے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    سرکاری اہلکار کے مطابق ’سیمنان ایئرپورٹ سے ٹکرانے والے کئی پروجیکٹائل ہی شہر میں دھماکوں کی آوازوں کی وجہ بنے۔‘

    ارنا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت اس حملے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    یاد رہے کہ سیمنان ایران کے شمالی حصے میں واقع ایک اہم صوبہ ہے تاہم تاحال حملے کی نوعیت یا نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

  3. اقوام متحدہ کا امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    چابہار

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو سے لیے گئے اس منظر میں 15 جولائی کو ایران کے بندرگاہی شہر چابہار سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

    اپنے بیان میں انھوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جاتی ہے تو اس کی قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑے گی۔

    سٹیفن ڈوجارک کے مطابق ’مکمل اور بڑے پیمانے کی جنگ شہری آبادی کے لیے ناقابل برداشت نتائج لائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی تنازع کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  4. امریکہ کے ایران پر نئے حملے، ٹرمپ کی تہران کو ’بہتر رویہ اختیار کرنے‘ کی تنبیہ

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’بہتر رویہ اختیار کرے‘۔

    امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہونے والی ’ایرانی فوجی صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز پر فائرنگ کی جو ایران کی بندرگاہوں پر عائد کردہ نئی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت سمیت خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے باوجود پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار رہی۔

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے سے ایران کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تہران کے پاس اس کی پابندی کرنے کی ’کوئی وجہ نہیں‘۔

    منگل کی شب ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران اگلے ہفتے مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    بدھ کی شام صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ کارروائی سے قبل کوئی حتمی مہلت دیں گے تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔۔۔ انھیں بہتر رویہ اختیار کرنا ہوگا۔‘

    بعد ازاں ایک دفاعی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’اس وقت خوش نہیں ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت شدت سے تصفیہ چاہتے ہیں۔ انھیں ہماری کارروائیاں پسند نہیں آ رہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں یا معاملے کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔‘

    تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں ’ایرانی انتظامات‘ برقرار رکھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات اور جنگ، دونوں ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کا حصہ ہیں کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک ’وجودی‘ نوعیت کے تنازع میں مصروف ہے۔

    ٹرمپ کے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب انھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد کیے جانے والے 20 فیصد ٹول ٹیکس کی بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ ’بہت بڑے‘ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہTABNAK

    یاد رہے کہ اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی دھمکی پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔‘

    امریکی فوج کے مطابق بدھ کے روز یہ حملوں کی دوسری لہر تھی۔

    فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا ہے۔

    امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق 90 منٹ تک جاری رہنے والے حملوں میں گریٹر تنب جزیرے پر ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

    بدھ کو رات 9 بجے سینٹ کام نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں کی دوسری لہر مکمل ہو چکی ہے۔

    سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکہ نے بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کی سہولیات کو نشانہ بنایا۔ بندر عباس آبنائے ہرمز پر واقع ایران کا اہم شہر ہے۔

    امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ منگل کی شام ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کیے جانے کے بعد دو تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ اس ناکہ بندی کے تحت ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب یا وہاں سے آنے جانے والے بحری جہازوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    یہ ناکہ بندی گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ختم کر دی گئی تھی، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ تھا۔

    تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    امریکی ناکہ بندی کی بحالی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے ’تیل اور گیس کی دیگر برآمدی گزرگاہوں کی بندش‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی گزرگاہیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جبکہ اہم بحری گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک جانے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  5. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعرات کے روز خبروں اور اہم تجزیوں کو شامل کرنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

    • خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے پہاڑی علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
    • امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے حملوں کے مقام، ممکنہ اہداف یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
    • ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ ’حقیقی جنگ‘ کی صورتحال میں ہے۔ اگر مفاہمتی یادداشت سے ایران کو فائدہ نہیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں
    • بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکاروں کی تھیں۔
    • امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خطے کی دیگر اہم بحری تجارتی گزرگاوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
    • اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایک حاضر سروس فوجی اہلکار کو ایک ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کو روکنے کی ویڈیوز بھیجنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
    • ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
  6. امریکی فوج کا ایران پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی فوج کی جانب سے حملوں کے مقام، ممکنہ اہداف یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ساتھ ہی ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    تاہم اب سے کُچھ دیر قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے ایران پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جنھیں آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔

  7. خیبر پختونخوا میں دو مختلف مقامات پر شدت پسندوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ، تین پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے پہاڑی علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    لوئر دیر پولیس کے مطابق یہ حملہ حیدر ٹاپ کے علاقے میں اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک ٹیم سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے لیے روانہ ہو رہی تھی۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔

    ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ ایسے مقام پر کیا گیا جہاں سڑک کی مرمت کا کام جاری تھا۔ ان کے مطابق مسلح افراد پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور انھوں نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بم بھی پھینکے۔

    ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) طلال احمد شاہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا اور انھیں جانی نقصان پہنچایا۔ بیان کے مطابق ڈی پی او بھی موقع پر موجود تھے اور کارروائی کی نگرانی کرتے رہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی شریک تھے۔ زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حملے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انھوں نے لواحقین سے تعزیت اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

    ادھر ضلع بنوں میں بھی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے تھانہ مریان پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔

    مقامی رہائشیوں کے مطابق دھماکے سے تھانے کی عمارت کے علاوہ قریبی دکانوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد چار زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    تاحال کسی گروہ نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

  8. اگر مفاہمتی یادداشت سے ایران کو فائدہ نہیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں: باقر قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ ’حقیقی جنگ‘ کی صورتحال میں ہے۔

    ایک تفصیلی بیان میں انھوں نے کہا کہ ’دشمن کا مقصد نظام کا خاتمہ اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔‘

    بی بی سی فارسی پر سامنے آنے والے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’مفاہمتی یادداشت اسی وقت معنی رکھتی ہے جب اس کی شقیں مؤثر ہوں اور ان پر عمل درآمد ہو۔‘ ان کے بقول ’اگر اسلامی جمہوریہ ایران کو اس معاہدے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو اس پر عمل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مسلح افواج کو دشمن کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ کی طرح مکمل آزادی حاصل ہے۔‘

    قالیباف کے مطابق جنگ یا مذاکرات کا فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر کے اختیار میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’قومی سلامتی اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جنگ یا مذاکرات میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے اور اس حوالے سے حتمی اختیار سپریم لیڈر اور مسلح افواج کے سربراہ کے پاس ہے۔‘

    انھوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ ’وہ اس معاملے میں سپریم لیڈر کے فیصلے کی پیروی کریں۔‘

    آبنائے ہرمز کے بارے میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران نے چالیس روزہ جنگ کے دوران اس اہم بحری گزرگاہ کو اس لیے بند کیا تھا کیونکہ اس سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔‘ ان کے مطابق ’آج بھی ایران کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے انتظامات برقرار رہیں۔‘

  9. بلوچستان: ہرنائی سے چار سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں برآمد

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکاروں کی تھیں۔ برآمد ہونے والی لاشوں میں سے ایک ایئرفورس سکیورٹی فورس کے انسپیکٹر زبیر احمد کی تھی جو کہ گزشتہ ماہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ اغوا ہوئے تھے۔

    ایک سینِئر سرکاری اہلکار نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کئی روز پرانی ہیں۔

    تاحال کسی نے ان افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    برآمد ہونے والی دیگر لاشیں کن کی ہیں؟

    سینئر اہلکار نے بتایا کہ چاروں افراد کی لاشوں کو برآمدگی کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت ہوگئی ہے۔

    زبیر احمد کے علاوہ جن دیگر لاشوں کی شناخت ہوئی ان میں سی ٹی ڈی کے سابق اہلکار خلیل احمد، سکیورٹی فورسز کے ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق اور پولیس کے سپاہی فرید احمد شامل ہیں۔

    اے ایس ایف کے انسپیکٹر زبیر احمد کے والد نصیر احمد نے اپنے بیٹے زبیر احمد کی لاش کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی لاش بدھ کی صبح شعبان کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی اور شام کو چھ بجے زبیر احمد کی تدفین کی گئی۔

    سرکاری اہلکار کے مطابق زبیر احمد اور ان کے دوست خلیل احمد کو نامعلوم افراد نے 21 جون کو کوئٹہ جبکہ ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق کو پانچ جولائی کو زیارت اور پولیس کے سپاہی فرید احمد کو پانچ یا چھ جولائی کو ضلع زیارت ہی کے علاقے مانگی سے اغوا کیا گیا تھا۔

    اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کو نامعلوم مسلح افراد نے چند روز بیشتر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں ضلع کوئٹہ سے متصل ہرنائی کے علاقے شعبان میں پھینک دی تھی۔

    خیال رہے کہ مانگی کے جس علاقے سے پولیس کے سپاہی فرید احمد کو اغوا کیا گیا تھا وہاں نامعلوم مسلح افراد نے چند روز قبل حملہ بھی کیا تھا جس میں نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

    ان میں سے مارے جانے والے بعض پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ نو جولائی سے کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔

    اے ایس یف کے انسپیکٹر زبیر احمد اور ان کے دوست خلیل احمد کے اغوا کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔

    ان کے اغوا کی ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟

    اے ایس ایف کے انسپیکٹر زبیر احمد اور خلیل احمد کے اغوا کا مقدمہ 24 جون کو کوئٹہ میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا۔

    زبیر احمد کے والد نصیر احمد کی مدعیت میں جناح ٹاؤن پولیس سٹیشن میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ زبیر احمد کی ڈیوٹی اسلام آباد ایئرپورٹ پر تھی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ زبیر احمد ایک ماہ کی چھٹی پر کوئٹہ آئے تھے۔ 21 جون کو ان کے ایک دوست خلیل احمد گھر پر آئے اور زبیر احمد کو اپنے ساتھ لے گئے۔

    ایف آئی آر کے مطابق نصیر احمد نے کہا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کا انتظار کیا لیکن جب وہ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد گھر نہیں آئے تو ان کے نمبر پر فون کیا گیا مگر وہ بند جارہا تھا۔

    نصیر احمد کی درخواست پر اغوا کا مقدمہ تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہنہ اوڑک کے علاقے ببری اور زیارت کے علاقے مانگی میں ہونے والے حملوں کے بعد شعبان اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن شعبان کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

    سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

  10. کویت میں امریکی اڈے پر ایرانی فوج کا حملہ: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل کویت میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ایرانی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’کویت کے بڑے جزیرے بوبیان پر ہونے والے حملے اس کارروائی کا ہدف تھے۔‘

    دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران کی مخالف تنظیموں، جنھیں اس نے ’دہشت گرد‘ قرار دیا ہے کے ٹھکانوں پر بھی شدید نوعیت کے کئی حملے کیے گئے ہیں۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’حالیہ مہینوں کے دوران ایران متعدد بار عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد اپوزیشن جماعتوں کے مراکز کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔‘

  11. امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی، معاہدہ ’عملاً ختم‘ ہوگیا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر کے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے اور یہ معاہدہ اب ’عملاً ختم‘ ہو چکا ہے۔

    گذشتہ چار روز سے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔ جہاں واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیوں میں ایران کے ساحلی علاقوں کا نشانہ بنا رہا ہے، وہیں تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری تھے، لیکن پھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ ترک نہیں کرے گا لیکن امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز بھی نہیں کرے گا۔

    انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ’فوجی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے یا آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کے مؤقف میں تبدیلی لا سکتا ہے۔‘

  12. ایران کی آبنائے ہرمز کے بعد خطے کے دیگر اہم بحری تجارتی راستے بند کرنے کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خطے کی دیگر اہم بحری تجارتی گزرگاوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ ختم نہیں کرتا۔ ایرانی حکام نے خطے میں تیل اور گیس کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اہم آبی گزرگاہوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی فوج کی جانب سے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے رات کے وقت بھی ایک سات گھنٹے طویل کارروائی کی گئی تھی۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    تازہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اس اہم بحری راستے سے ٹینکروں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔

    سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ بدھ کی صبح کیے گئے حملوں کا مقصد ’ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا‘ تھا۔

  13. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری، دو جہازوں کا رخ واپس موڑ دیا گیا: سینٹکام

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جارو ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد گزشتہ 17 گھنٹوں کے دوران امریکی افواج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والے دو تجارتی بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا ہے۔‘

    سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’امریکی فوج صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس سے قبل ایکس پر ہی جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ ’امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی ہدایت پر امریکی افواج نے 14 جولائی سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

  14. عمان کے ساحل کے قریب بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں انڈین شہری کی ہلاکت کی تصدیق

    دبئی میں قائم انڈین قونصل خانے نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب تجارتی بحری جہاز جے ایف ایس گلیکسی پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے انڈین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

    30 سالہ ہرمبے کرمارکر کے سسر نے بھی اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ہرمبے کرمارکر قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز پر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جسے اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔

    قبرص میں حکام کے مطابق اس جہاز کے 24 رکنی عملے میں 11 انڈین شہری شامل تھے، جبکہ جہاز کو ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خبردار کیے جانے کے باوجود ایک ’غیر مجاز‘ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

  15. سینٹکام کا ایران میں ساحلی دفاعی نظام اور میزائل سٹوریج مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    سینٹرل کمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہCentcom/X

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی صبح ایران پر حملوں میں جزیرہ تنب میں اس کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل سٹوریج مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سینٹکام نے اس حملے کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایران پر یہ حملے 90 منٹ تک جاری رہے۔

    سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ ’ان حملوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیا۔‘

  16. ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے: سینٹ کام

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایرانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر ایران پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ان حملوں کا مقصد ایرانی افواج کی ان عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنھیں وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔‘

    رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی حکام خطے کے مختلف ممالک، جن میں اردن، بحرین اور کویت شامل ہیں، میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ادھر امریکہ نے گزشتہ روز ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب اپنی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو ایک باضابطہ شکل دی تھی اب ختم ہو چکی ہے۔

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    ،تصویر کا کیپشنایرانی بندرگاہوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ناکہ بندی

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی ہدایت پر امریکی افواج نے 14 جولائی سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

    تاہم اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے، جس میں سرخ حاشیے کے ذریعے ایران کی ان بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بحری ناکہ بندی کی زد میں ہوں گے۔ نقشے کے مطابق ان علاقوں کی جانب کوئی بھی تجارتی یا مال بردار بحری جہاز نہ داخل ہو سکے گا اور نہ ہی اُسے وہاں سے روانہ ہونے کی اجازت ہوگی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی فوج خطے کی سمندری گزرگاہوں میں ان تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کی حمایت جاری رکھے گی جو اس ناکہ بندی پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔

  17. ایرانی فضائی حملوں کی متعدد کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں: بحرین کی فوج کا دعویٰ

    بحرین کی فوج نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح علی الصبح خطرے کے سائرن بجنے کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی متعدد کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    بحرین کی فوج نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ایران شہریوں کو نشانہ بنانے والے مجرمانہ حملوں کے ذریعے اپنی جارحانہ اور منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘

    بیان کے مطابق بحرینی مسلح افواج نے آج صبح ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد فضائی حملوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران انھوں نے کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    اس حوالے سے دونوں ممالک کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

  18. ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کی ویڈیوز بھیجنے کے عوض ’رقم وصول‘ کرنے کے الزام میں اسرائیلی فوجی اہلکار کو سزا

    اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: فوجی اہلکار کو پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے

    اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایک حاضر سروس فوجی اہلکار کو ایک ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کو روکنے کی ویڈیوز بھیجنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    اسرائیلل فوج کے مطابق مذکورہ فوجی اہلکار نے گذشتہ موسمِ گرما میں ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایسی دو ویڈیوز شیئر کیں اور ’ان کے عوض رقم وصول کی۔‘

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ فوجی اہلکار نے شہری علاقوں میں ریکارڈ کی گئی متعدد ویڈیوز بھی ’ایرانی فریق‘ کو فراہم کی تھیں۔

    خیال رہے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران اسرائیلی حکام نے حملوں سے متاثرہ مقامات کی فلم بندی اور تصاویر بنانے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

  19. ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک: حکومتی ترجمان

    جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک ہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: حالیہ امریکی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئے

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا ہے کہ ’ملک کے جنوبی حصوں میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے حملوں میں 30 سے زیادہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘

    ایران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات مختلف علاقوں سے رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق گزشتہ روز صوبہ ہرمزگان کے محکمہ ماحولیات کے حکام نے بتایا کہ صوبے کے شمال میں واقع شہر حاجی آباد پر امریکی میزائل حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ماہر ماحولیات کے خاندان کے تین افراد شامل تھے۔

  20. فوجی چھاؤنی پر کیے گئے امریکی حملے میں سات ہلاکتیں، متعدد زخمی: ایرانی فوج

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بامپور میں ایک فوجی چھاؤنی پر امریکی حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بدھ کی صبح امریکی فوج نے بامپور میں واقع ایرانی زمینی افواج کی ایک بیرک کے رہائشی حصے کو لگ بھگ 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ایران شہر کی 388ویں بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے سات اہلکار، جن میں حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل تھے، ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے بامپور سمیت خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب کئی ساحلی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات دی تھیں۔

    اس دعوے پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔