یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کو پڑھنے کے لیے بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر آئیے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اسی لیے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے اختتام پر ’ہم سفارتی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کو پڑھنے کے لیے بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر آئیے۔
ایران میں رات بھر مختلف علاقوں میں امریکہ کی جانب سے کئی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ایران میں ہرمزگان کے گورنر کے دفتر نے اعلان کیا کہ صوبے میں آج رات کے امریکی حملوں میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
النا نیوز ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’بندر عباس سے خمیر تک کی سڑک کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، اور کیشر سے کوہورستان جانے والی سڑک کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔‘
فارس نیوز ایجنسی نے ہرمزگان گورنر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’بندر عباس ریلوے جنکشن سٹیشن پر بھی رات گئے حملہ کیا گیا۔‘
سرکاری ادارے کا کہنا تھا کہ ’ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورت حال پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
مہر خبررساں ایجنسی نے بوشہر میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ دھماکے بوشہر شہر کے اندر ہوئے۔
ادھر لرستان کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ امریکہ نے صوبے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ سرکاری اہلکار کے مطابق، ’چیگنی کاؤنٹی کے وزیان ضلع کے ایک مقام پر حملہ کیا گیا ہے۔‘
ابھی تک حملوں کے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (IRC) کے ایک رپورٹر نے ایران شہر سے اطلاع دی کہ شہر کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک شخص زخمی ہوا۔
فارس نیوز کے مطابق، ’اس حملے کے بعد ایران شہر ہوائی اڈے کی بجلی کی تنصیبات اور ایندھن کے ٹینکوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘
بوشہر کے نائب سیاسی اور سیکورٹی گورنر احسان جہانیاں نے کہا کہ صوبے پر حملوں کے نئے دور میں، ’آج صبح دشتی کاؤنٹی کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔‘
انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ’متعدد میزائلوں‘ نے ’بوشہر ایئر بیس اور نیول بیس‘ کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں نے ’بندر لنگہ کے قریب‘ کو نشانہ بنایا۔
مہر خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ بندر خمیر میں پلوں پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ حملے میں نو افراد زخمی بھی ہوئے اور زخمیوں کو اس وقت ریسکیو فورسز اور طبی عملے سے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حکام نے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اھواز، بندر عباس، بوشہر اور قشم کے شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
صوبہ خوزستان کے گورنر کے دفتر میں سکیورٹی امور کے نائب سربراہ ولی اللہ حیاتی نے خبر رساں ادارے ایلنا کو بتایا ہے کہ اھواز کے ’نواحی علاقوں‘ میں حملے ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ اطلاعات ایک وقت میں سامنے آئی ہیں جب اب سے کچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مسسلسل چھٹے روز حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM/X
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں سینٹرل کمانڈ نے لکھا کہ ’امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام نے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط ہر سرکاری حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے یہ حملہ جمعرات کو ضلع مستونگ میں کوئٹہ، کراچی ہائی وے پر کیا گیا۔
اگرچہ سرکاری حکام نے انتظامی اور حکومتی سطح پر اس حملے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس میں سیکورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کے بارے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کہاں ہوا؟
کوئٹہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے علاوہ ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملہ ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے علاقے گُرو میں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ایک درجن سے زائد بسوں اور ان کی سکیورٹی پر مامور گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ کی جانب سے کراچی کی جانب جارہا تھا۔
انتطامیہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ اس قافلے میں وہ سیکورٹی اہلکار تھے جو چھٹیوں پر جارہے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جب یہ قافلہ گُرو کے علاقے میں پہنچا تو اس پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں ایک بس کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب کھڈکوچہ کے ایک رہائشی اللہ بخش (فرضی نام) نے بتایا کہ ’حملہ شدید تھا اور دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔‘
’حملہ قافلے کے اگلے حصے پر کیا گیا، جس کے بعد پچھلے حصے کو روک دیا گیا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر تین سے چار گھنٹے تک ٹریفک بند رہی، جبکہ حملے کے کچھ دیر بعد فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔
مستونگ میں نواب غوث بخش شہید میموریل ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے دو سینیئر ڈاکٹروں سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ یہاں کوئی زخمی یا لاش نہیں لائی گئی، تاہم نواب غوث بخش ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹر نے معلومات فراہم نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو معلومات فراہم کی گئی ہے اس لیے وہاں سے رابطہ کیا جائے ۔
کھڈکوچہ کہاں واقع ہے؟
کھڈ کوچہ مستونگ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ ضلع مستونگ کا زرخیز علاقہ ہے، جہاں سیب اور انگور کے علاوہ دیگر پھلوں کے باغات ہیں۔
مستونگ کوئٹہ سے متصل ضلع ہے، جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔
مستونگ میں طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں حالات کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اسی لیے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے اختتام پر ’ہم سفارتی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔‘
جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کیرولائن نے الزام عائد کیا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔
خیال رہے ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور وہ ایسے ہی الزامات واشنگٹن پر بھی عائد کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’ایران اب بھی امریکی صدر کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کو ’یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ کرے اور اس کی کوئی قیمت نہ چکائے۔‘
’ اس پوری کارروائی کے دوران صدر نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم ایران کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی مقام پر نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کویت اور بحرین کی افواج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دونوں ممالک ایک بار پھر ایرانی فضائی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
کویتی فوج نے کہا کہ اس نے ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کو ناکام بنایا اور اسے ’ایرانی جارحیت‘ قرار دیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق کویت کے دار الحکومت کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ریڈار نظام، ایک فضائی دفاعی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تہران کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے کویت اور بحرین کئی مرتبہ ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم کویت اور بحرین کی حکومتوں نے الزام لگایا ہے کہ ایران شہری تنصیبات پر حملے کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران میں کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ضرور ہے لیکن پاکستان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے پاکستان نے کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد کیا ’ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں؟‘
اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’امید ہے کہ بالآخر امن اور مذاکرات کی منطق غالب آ جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسے وقتی طور پر پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ جاری رہتا ہے۔
طاہر اندرابی کے مطابق جس منطق پر امریکہ اور ایران میں مفاہمت کی یادداشت ہوئی تھی وہ اب بھی موجود ہے، ’جب بھی فریقین یہ محسوس کریں گے کہ کشیدگی بڑھانے کی منطق اپنی افادیت کھو چکی ہے، تو امن کی جانب واپسی اسی خاکے کے ذریعے ہو گی جو اسلام آباد ایم او یو میں فراہم کیا گیا ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’پاکستان ایک بار پھر تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے میں امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک دیر پا فریم ورک ہے اور پاکستان تمام فریقوں کو ’تکنیکی سطح کے مذاکرات بحال کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔‘
انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’کہ تمام فریق بقایا مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے سے وابستہ رہیں گے۔‘
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’ہم آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد معمول پر آنے کی امید کا اظہار کرتے ہیں اور بحری جہاز رانی کی مسلسل حفاظت، سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کے جائزے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں ایندھن کی فراہمی، کفایت شعاری اقدامات اور ممکنہ معاشی چیلنجز پر غور کیا گیا۔
بیان میں اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ان کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو خط میں لکھا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ فروخت کے لیے دستیاب ذخائر کم ہو گئے ہیں۔
جبکہ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون نے صنعتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں صرف 14 دن کا پیٹرول کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صنعت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر تقریباً تین لاکھ 79 ہزار 442 ٹن رہ گئے ہیں، جن میں مقامی ریفائنریوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔ موجودہ طلب کے مطابق یہ ذخائر صرف 14 روز کے لیے کافی ہیں۔
رپورٹ میں صنعتی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جولائی کے پہلے 13 دنوں کے دوران پیٹرول کی یومیہ فروخت اوسطاً 25 ہزار ٹن رہی، جو اندازوں سے تقریباً 16 فیصد اور گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔
کھپت میں اضافے کو اس بات سے جوڑا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور ممکنہ اضافے کی توقع کے باعث صارفین اور ڈیلرز نے خریداری بڑھا دی ہے۔
روس نے کہا ہے کہ ’عدم استحکام کے ایک نئے دور‘ کے باعث عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور وہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان رابطوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
روس متعدد مواقع پر ایران اور امریکہ دونوں سے کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے کی اپیل کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGlobal Images Ukraine via Getty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے مقبول وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو اچانک برطرف کیے جانے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے ہیں ان پر درج ہے ’فیڈوروف سے دور رہو‘ اور ’فتح کو سبوتاژ کرنا بند کرو۔‘
زیلنسکی نے تا حال اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کی ہے، جس پر مبصرین، فوجی حلقوں اور سول سوسائٹی کے بعض طبقات میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
35 سالہ فیڈوروف کو جنوری میں وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ انھیں وزارت کو متحرک کرنے، بد عنوانی کے خلاف اقدامات اور محاذِ جنگ پر کارکردگی کا تجزیہ اور بہتری لانے کے لیے ڈیٹا کے استعمال کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔
افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ میخائیلو فیڈوروف کی برطرفی ان کے اور مسلح افواج کے سربراہ اولیکساندر سرسکی کے درمیان کشیدگی سے جڑی ہے۔
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں فیڈوروف نے تقریباً اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زیلنسکی کو مشورہ دیا تھا کہ سرسکی اور چیف آف جنرل سٹاف آندری ہناتوف کو تبدیل کیا جائے۔
فیڈوروف نے کہا: ’جب صدر نے کہا کہ ان کا سرسکی کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو میں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ کام کرنا سیکھ لوں گا۔‘
سرسکی کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’روس کو غیر روایتی انداز میں شکست دینے کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے، جو کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری ہے، انھوں نے ہمارے ملک کو تقسیم کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہElke Scholiers/Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر انڈیا نے بحری جہازوں کے مالکان اور جہاز ران بھرتی کرنے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ اطلاع تک انڈین جہاز رانوں کو ان بحری جہازوں پر تعینات نہ کریں جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔
یہ ہدایت انڈین حکام کی اس تصدیق کے بعد جاری کی گئی ہے کہ گذشتہ ہفتے سے خطے میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈیا کا شمار دنیا میں تجارتی جہاز رانی کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ انڈین وزارتِ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں اس صنعت میں تین لاکھ 20 ہزار سے زائد انڈین جہاز ران کام کر رہے تھے۔
انڈیا کے میری ٹائم ڈائیریکٹوریٹ جنرل نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا: ’اگلے حکم تک کسی بھی انڈین جہاز ران کو ایسے بحری جہاز پر تعینات نہ کیا جائے جس کے سفر کے راستے میں آبنائے ہرمز شامل ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہAmir Levy/Getty Images
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے جمعرات کو ملک کی وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ شامی حکام نے عراق کی سرحد سے شام میں سمگل کیے جانے والے اسلحے اور جدید میزائلوں کی ایک کھیپ پکڑ لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے یہ کھیپ لبنان کی جماعت حزب اللہ کو بھیجی جانی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں بتایا تھا کہ انھوں نے شامی صدر احمد الشرع کے ساتھ حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔
لبنانی صدر جوزف عون کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ احمد الشرع نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ شام لبنان کے داخلی معاملات میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2837 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 178124 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 1767 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔
مسلسل دو روز کی تیزی سے قبل، رواں ہفتے کے ابتدائی دو کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس میں 8000 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں نمایاں مندی دیکھی گئی، تاہم گذشتہ دو روز کے دوران مارکیٹ نے خاطر خواہ ریکوری کی ہے۔
تجزیہ کار جبران سرفراز کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ پر موجود کمپنیاں مالیاتی نتائج کا اعلان کرنے والی ہیں اور بہتر نتائج کی توقعات کے باعث حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ بڑی گراوٹ کے بعد حصص نسبتاً کم قیمتوں پر دستیاب تھے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھی اور مارکیٹ کی ریکوری میں مدد ملی۔

،تصویر کا ذریعہBYC
بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ اپیلیں انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں دونوں رہنماؤں کو سزا سنائی گئی تھی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سکیورٹی اہلکار جولائی 2024 میں ’بلوچ راجی مچی‘ نامی جلسے میں پتھر لگنے سے ہلاک ہوئے تھے۔
بی وائی سی کے دونوں رہنماؤں پر الزام تھا کہ ان کے اکسانے پر ایک ہجوم نے ایف سی کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار جان سے گیا۔
اپیل میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ، شعیب ایڈووکیٹ اور نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والا ٹرائل قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ درخواست گزاروں کے اپنے وکلا موجود ہونے کے باوجود عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔
خالد خان بلوچ کے مطابق مبینہ غیر منصفانہ ٹرائل کے خلاف نہ صرف درخواست گزاروں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا بلکہ فیصلے سے قبل اس حوالے سے ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف اپیلوں پر ہائیکورٹ کے بینچ نے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ان کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل غیر منصفانہ ٹرائل اور جج کی تبدیلی کے لیے ایک آئینی درخواست بھی ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم وہ درخواست تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار کے ساحل کے قریب 500 سے زائد افراد کو لے جانے والی دو کشتیاں ممکنہ طور پر ڈوب گئی ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ کشتیوں پر سوار زیادہ تر مسافر روہنگیا تھے جو تحفظ کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تہران نے خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تازہ حملے شروع کر دیے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے رات بھر ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں اردن، کویت اور بحرین بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے چھٹے روز کی گئیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے، جبکہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو تشدد روکنے اور گذشتہ ماہ اپنی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، ایم او یو، کی بنیاد پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں درپیش چیلنجز کے باوجود، پاکستان تمام فریقوں کو تشدد کے خاتمے اور اس یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد از جلد معمول پر آجائے گی اور اس اہم بحری گزرگاہ میں مسلسل تحفظ، سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘
ایران کی وزارتِ تعلیم نے ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں حتمی امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے وزارتِ تعلیم کے سپریم امتحانی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی موجودہ خصوصی صورتحال کے پیشِ نظر ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں بارہویں جماعت کے تمام تعلیمی شعبوں کے آج ہونے والے حتمی امتحانات اور گیارہویں جماعت کے سنیچر کو ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کے مطابق امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
امریکی حملوں کے ایک نئے سلسلے میں گذشتہ چند روز کے دوران ایران کے جنوبی صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کو تقریباً 1.96 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات بڑھ رہے ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فروخت ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی سلامتی کو مضبوط بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرتی ہے۔ سعودی عرب خلیج فارس کے علاقے کے سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے لیے مجوزہ معاہدے میں لانچرز، وار ہیڈز، سپیئر پارٹس، ٹریننگ اور لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا اور ہوا سے زمینی آپریشنز میں استعمال کے لیے ’جدید درستگی کے ہتھیاروں کے نظام‘ کے لیے 20,000 رہنمائی یونٹ شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کویت کو طیاروں کی تکنیکی مدد کے لیے 484 ملین ڈالر کے علیحدہ پیکج کی بھی منظوری دی ہے۔
کویت کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے میں C-17 طیاروں کے لیے تکنیکی معاونت اور متعلقہ سامان بھی شامل ہے، جس میں پُرزے، دیکھ بھال کی خدمات، سافٹ ویئر، تربیت اور لاجسٹک خدمات شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کی فروخت کو حتمی شکل دی جائے گی اور کانگریس کے جائزے کے بعد لاگو کیا جائے گا۔