امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’بہتر رویہ اختیار کرے‘۔
امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہونے والی ’ایرانی فوجی صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز پر فائرنگ کی جو ایران کی بندرگاہوں پر عائد کردہ نئی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت سمیت خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے باوجود پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار رہی۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے سے ایران کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تہران کے پاس اس کی پابندی کرنے کی ’کوئی وجہ نہیں‘۔
منگل کی شب ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران اگلے ہفتے مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
بدھ کی شام صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ کارروائی سے قبل کوئی حتمی مہلت دیں گے تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔۔۔ انھیں بہتر رویہ اختیار کرنا ہوگا۔‘
بعد ازاں ایک دفاعی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’اس وقت خوش نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت شدت سے تصفیہ چاہتے ہیں۔ انھیں ہماری کارروائیاں پسند نہیں آ رہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں یا معاملے کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔‘
تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں ’ایرانی انتظامات‘ برقرار رکھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات اور جنگ، دونوں ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کا حصہ ہیں کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک ’وجودی‘ نوعیت کے تنازع میں مصروف ہے۔
ٹرمپ کے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب انھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد کیے جانے والے 20 فیصد ٹول ٹیکس کی بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ ’بہت بڑے‘ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی دھمکی پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔‘
امریکی فوج کے مطابق بدھ کے روز یہ حملوں کی دوسری لہر تھی۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا ہے۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق 90 منٹ تک جاری رہنے والے حملوں میں گریٹر تنب جزیرے پر ایران کے ساحلی دفاعی نظام، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
بدھ کو رات 9 بجے سینٹ کام نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں کی دوسری لہر مکمل ہو چکی ہے۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکہ نے بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کی سہولیات کو نشانہ بنایا۔ بندر عباس آبنائے ہرمز پر واقع ایران کا اہم شہر ہے۔
امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ منگل کی شام ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کیے جانے کے بعد دو تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ اس ناکہ بندی کے تحت ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب یا وہاں سے آنے جانے والے بحری جہازوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ ناکہ بندی گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ختم کر دی گئی تھی، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
امریکی ناکہ بندی کی بحالی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے ’تیل اور گیس کی دیگر برآمدی گزرگاہوں کی بندش‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی گزرگاہیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جبکہ اہم بحری گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک جانے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔