آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران اب بھی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ہم اس سے بات چیت کر رہے ہیں: وائٹ ہاؤس کا دعویٰ

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اسی لیے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے اختتام پر ’ہم سفارتی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اھواز، بندر عباس، بوشہر اور قشم کے شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    صوبہ خوزستان کے گورنر کے دفتر میں سکیورٹی امور کے نائب سربراہ ولی اللہ حیاتی نے خبر رساں ادارے ایلنا کو بتایا ہے کہ اھواز کے ’نواحی علاقوں‘ میں حملے ہوئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ اطلاعات ایک وقت میں سامنے آئی ہیں جب اب سے کچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مسسلسل چھٹے روز حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  2. سینٹکام کا ایران پر نئے حملوں کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں سینٹرل کمانڈ نے لکھا کہ ’امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔‘

  3. بلوچستان پر ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی اطلاعات, محمد کاظم، بی بی سی نیوز اردو

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام نے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط ہر سرکاری حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے یہ حملہ جمعرات کو ضلع مستونگ میں کوئٹہ، کراچی ہائی وے پر کیا گیا۔

    اگرچہ سرکاری حکام نے انتظامی اور حکومتی سطح پر اس حملے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس میں سیکورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کے بارے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کہاں ہوا؟

    کوئٹہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے علاوہ ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملہ ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے علاقے گُرو میں کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک درجن سے زائد بسوں اور ان کی سکیورٹی پر مامور گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ کی جانب سے کراچی کی جانب جارہا تھا۔

    انتطامیہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ اس قافلے میں وہ سیکورٹی اہلکار تھے جو چھٹیوں پر جارہے تھے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جب یہ قافلہ گُرو کے علاقے میں پہنچا تو اس پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں ایک بس کو شدید نقصان پہنچا۔

    دوسری جانب کھڈکوچہ کے ایک رہائشی اللہ بخش (فرضی نام) نے بتایا کہ ’حملہ شدید تھا اور دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔‘

    ’حملہ قافلے کے اگلے حصے پر کیا گیا، جس کے بعد پچھلے حصے کو روک دیا گیا۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر تین سے چار گھنٹے تک ٹریفک بند رہی، جبکہ حملے کے کچھ دیر بعد فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔

    مستونگ میں نواب غوث بخش شہید میموریل ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے دو سینیئر ڈاکٹروں سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ یہاں کوئی زخمی یا لاش نہیں لائی گئی، تاہم نواب غوث بخش ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹر نے معلومات فراہم نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو معلومات فراہم کی گئی ہے اس لیے وہاں سے رابطہ کیا جائے ۔

    کھڈکوچہ کہاں واقع ہے؟

    کھڈ کوچہ مستونگ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    یہ ضلع مستونگ کا زرخیز علاقہ ہے، جہاں سیب اور انگور کے علاوہ دیگر پھلوں کے باغات ہیں۔

    مستونگ کوئٹہ سے متصل ضلع ہے، جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

    مستونگ میں طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں حالات کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

  4. ایران اب بھی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ہم اس سے بات چیت کر رہے ہیں: وائٹ ہاؤس کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اسی لیے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے اختتام پر ’ہم سفارتی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔‘

    جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کیرولائن نے الزام عائد کیا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔

    خیال رہے ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور وہ ایسے ہی الزامات واشنگٹن پر بھی عائد کرتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’ایران اب بھی امریکی صدر کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کو ’یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ کرے اور اس کی کوئی قیمت نہ چکائے۔‘

    ’ اس پوری کارروائی کے دوران صدر نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم ایران کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی مقام پر نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

  5. ایران کے کویت اور بحرین پر نئے حملے

    کویت اور بحرین کی افواج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دونوں ممالک ایک بار پھر ایرانی فضائی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔

    کویتی فوج نے کہا کہ اس نے ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کو ناکام بنایا اور اسے ’ایرانی جارحیت‘ قرار دیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق کویت کے دار الحکومت کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ریڈار نظام، ایک فضائی دفاعی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تہران کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے کویت اور بحرین کئی مرتبہ ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم کویت اور بحرین کی حکومتوں نے الزام لگایا ہے کہ ایران شہری تنصیبات پر حملے کر رہا ہے۔

  6. امریکہ، ایران کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ہے لیکن ہتھیار نہیں ڈالے: پاکستان

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران میں کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ضرور ہے لیکن پاکستان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے پاکستان نے کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد کیا ’ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں؟‘

    اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’امید ہے کہ بالآخر امن اور مذاکرات کی منطق غالب آ جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسے وقتی طور پر پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ جاری رہتا ہے۔

    طاہر اندرابی کے مطابق جس منطق پر امریکہ اور ایران میں مفاہمت کی یادداشت ہوئی تھی وہ اب بھی موجود ہے، ’جب بھی فریقین یہ محسوس کریں گے کہ کشیدگی بڑھانے کی منطق اپنی افادیت کھو چکی ہے، تو امن کی جانب واپسی اسی خاکے کے ذریعے ہو گی جو اسلام آباد ایم او یو میں فراہم کیا گیا ہے۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’پاکستان ایک بار پھر تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے میں امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک دیر پا فریم ورک ہے اور پاکستان تمام فریقوں کو ’تکنیکی سطح کے مذاکرات بحال کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔‘

    انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’کہ تمام فریق بقایا مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے سے وابستہ رہیں گے۔‘

    امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’ہم آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد معمول پر آنے کی امید کا اظہار کرتے ہیں اور بحری جہاز رانی کی مسلسل حفاظت، سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘

  7. پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کے جائزے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں ایندھن کی فراہمی، کفایت شعاری اقدامات اور ممکنہ معاشی چیلنجز پر غور کیا گیا۔

    بیان میں اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ان کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو خط میں لکھا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ فروخت کے لیے دستیاب ذخائر کم ہو گئے ہیں۔

    جبکہ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون نے صنعتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں صرف 14 دن کا پیٹرول کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔

    ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صنعت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر تقریباً تین لاکھ 79 ہزار 442 ٹن رہ گئے ہیں، جن میں مقامی ریفائنریوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔ موجودہ طلب کے مطابق یہ ذخائر صرف 14 روز کے لیے کافی ہیں۔

    رپورٹ میں صنعتی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جولائی کے پہلے 13 دنوں کے دوران پیٹرول کی یومیہ فروخت اوسطاً 25 ہزار ٹن رہی، جو اندازوں سے تقریباً 16 فیصد اور گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔

    کھپت میں اضافے کو اس بات سے جوڑا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور ممکنہ اضافے کی توقع کے باعث صارفین اور ڈیلرز نے خریداری بڑھا دی ہے۔

  8. کشیدگی کے دوران ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں: روس

    روس نے کہا ہے کہ ’عدم استحکام کے ایک نئے دور‘ کے باعث عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور وہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان رابطوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    روس متعدد مواقع پر ایران اور امریکہ دونوں سے کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے کی اپیل کر چکا ہے۔

  9. یوکرین میں وزیرِ دفاع کی برطرفی کے خلاف مظاہرے, کیئو سے لورا گوزی، اناستاسیا لیوچینکو اور نامہ نگار برائے مشرقی و جنوبی یورپ سارہ رینزفورڈ

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے مقبول وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو اچانک برطرف کیے جانے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

    مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے ہیں ان پر درج ہے ’فیڈوروف سے دور رہو‘ اور ’فتح کو سبوتاژ کرنا بند کرو۔‘

    زیلنسکی نے تا حال اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کی ہے، جس پر مبصرین، فوجی حلقوں اور سول سوسائٹی کے بعض طبقات میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

    35 سالہ فیڈوروف کو جنوری میں وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ انھیں وزارت کو متحرک کرنے، بد عنوانی کے خلاف اقدامات اور محاذِ جنگ پر کارکردگی کا تجزیہ اور بہتری لانے کے لیے ڈیٹا کے استعمال کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

    افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ میخائیلو فیڈوروف کی برطرفی ان کے اور مسلح افواج کے سربراہ اولیکساندر سرسکی کے درمیان کشیدگی سے جڑی ہے۔

    جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں فیڈوروف نے تقریباً اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زیلنسکی کو مشورہ دیا تھا کہ سرسکی اور چیف آف جنرل سٹاف آندری ہناتوف کو تبدیل کیا جائے۔

    فیڈوروف نے کہا: ’جب صدر نے کہا کہ ان کا سرسکی کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو میں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ کام کرنا سیکھ لوں گا۔‘

    سرسکی کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’روس کو غیر روایتی انداز میں شکست دینے کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے، جو کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری ہے، انھوں نے ہمارے ملک کو تقسیم کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔‘

  10. انڈیا نے اپنے جہاز ران آبنائے ہرمز نہ بھیجنے کی ہدایت کر دی

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر انڈیا نے بحری جہازوں کے مالکان اور جہاز ران بھرتی کرنے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ اطلاع تک انڈین جہاز رانوں کو ان بحری جہازوں پر تعینات نہ کریں جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔

    یہ ہدایت انڈین حکام کی اس تصدیق کے بعد جاری کی گئی ہے کہ گذشتہ ہفتے سے خطے میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم دو بھارتی جہاز ران ہلاک ہو چکے ہیں۔

    انڈیا کا شمار دنیا میں تجارتی جہاز رانی کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ انڈین وزارتِ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں اس صنعت میں تین لاکھ 20 ہزار سے زائد انڈین جہاز ران کام کر رہے تھے۔

    انڈیا کے میری ٹائم ڈائیریکٹوریٹ جنرل نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا: ’اگلے حکم تک کسی بھی انڈین جہاز ران کو ایسے بحری جہاز پر تعینات نہ کیا جائے جس کے سفر کے راستے میں آبنائے ہرمز شامل ہو۔‘

  11. شام نے حزب اللہ کے لیے لبنان سمگل کیے جانے والے اسلحے کی کھیپ ضبط کر لی

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے جمعرات کو ملک کی وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ شامی حکام نے عراق کی سرحد سے شام میں سمگل کیے جانے والے اسلحے اور جدید میزائلوں کی ایک کھیپ پکڑ لی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے یہ کھیپ لبنان کی جماعت حزب اللہ کو بھیجی جانی تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں بتایا تھا کہ انھوں نے شامی صدر احمد الشرع کے ساتھ حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

    لبنانی صدر جوزف عون کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ احمد الشرع نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ شام لبنان کے داخلی معاملات میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے گا۔

  12. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 2800 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2837 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 178124 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 1767 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔

    مسلسل دو روز کی تیزی سے قبل، رواں ہفتے کے ابتدائی دو کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس میں 8000 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں نمایاں مندی دیکھی گئی، تاہم گذشتہ دو روز کے دوران مارکیٹ نے خاطر خواہ ریکوری کی ہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ پر موجود کمپنیاں مالیاتی نتائج کا اعلان کرنے والی ہیں اور بہتر نتائج کی توقعات کے باعث حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    ان کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ بڑی گراوٹ کے بعد حصص نسبتاً کم قیمتوں پر دستیاب تھے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھی اور مارکیٹ کی ریکوری میں مدد ملی۔

  13. ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    یہ اپیلیں انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں دونوں رہنماؤں کو سزا سنائی گئی تھی۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سکیورٹی اہلکار جولائی 2024 میں ’بلوچ راجی مچی‘ نامی جلسے میں پتھر لگنے سے ہلاک ہوئے تھے۔

    بی وائی سی کے دونوں رہنماؤں پر الزام تھا کہ ان کے اکسانے پر ایک ہجوم نے ایف سی کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار جان سے گیا۔

    اپیل میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ، شعیب ایڈووکیٹ اور نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔

    ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والا ٹرائل قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ درخواست گزاروں کے اپنے وکلا موجود ہونے کے باوجود عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔

    خالد خان بلوچ کے مطابق مبینہ غیر منصفانہ ٹرائل کے خلاف نہ صرف درخواست گزاروں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا بلکہ فیصلے سے قبل اس حوالے سے ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف اپیلوں پر ہائیکورٹ کے بینچ نے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل غیر منصفانہ ٹرائل اور جج کی تبدیلی کے لیے ایک آئینی درخواست بھی ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم وہ درخواست تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی ہے۔

  14. میانمار کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتیاں ڈوب گئیں، 500 افراد سوار تھے: اقوام متحدہ

    اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار کے ساحل کے قریب 500 سے زائد افراد کو لے جانے والی دو کشتیاں ممکنہ طور پر ڈوب گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ کشتیوں پر سوار زیادہ تر مسافر روہنگیا تھے جو تحفظ کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر کر رہے تھے۔

  15. تہران کے خلیجی ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر نئے حملے

    تہران نے خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تازہ حملے شروع کر دیے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے رات بھر ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

    تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں اردن، کویت اور بحرین بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے چھٹے روز کی گئیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے، جبکہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

  16. پاکستان کا جنگ کے خاتمے اور ایران۔امریکہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ

    پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو تشدد روکنے اور گذشتہ ماہ اپنی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، ایم او یو، کی بنیاد پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں درپیش چیلنجز کے باوجود، پاکستان تمام فریقوں کو تشدد کے خاتمے اور اس یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال جلد از جلد معمول پر آجائے گی اور اس اہم بحری گزرگاہ میں مسلسل تحفظ، سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔‘

  17. ایرانی وزارتِ تعلیم کا جنوبی صوبوں میں حتمی امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان

    ایران کی وزارتِ تعلیم نے ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں حتمی امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔

    اس حوالے سے وزارتِ تعلیم کے سپریم امتحانی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی موجودہ خصوصی صورتحال کے پیشِ نظر ہرمزگان، بوشہر، خوزستان اور سیستان و بلوچستان صوبوں میں بارہویں جماعت کے تمام تعلیمی شعبوں کے آج ہونے والے حتمی امتحانات اور گیارہویں جماعت کے سنیچر کو ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کے مطابق امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    امریکی حملوں کے ایک نئے سلسلے میں گذشتہ چند روز کے دوران ایران کے جنوبی صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

  18. امریکہ نے سعودی عرب اور کویت کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کو تقریباً 1.96 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات بڑھ رہے ہیں۔

    امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فروخت ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی سلامتی کو مضبوط بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرتی ہے۔ سعودی عرب خلیج فارس کے علاقے کے سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘۔

    وزارت نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے لیے مجوزہ معاہدے میں لانچرز، وار ہیڈز، سپیئر پارٹس، ٹریننگ اور لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا اور ہوا سے زمینی آپریشنز میں استعمال کے لیے ’جدید درستگی کے ہتھیاروں کے نظام‘ کے لیے 20,000 رہنمائی یونٹ شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کویت کو طیاروں کی تکنیکی مدد کے لیے 484 ملین ڈالر کے علیحدہ پیکج کی بھی منظوری دی ہے۔

    کویت کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے میں C-17 طیاروں کے لیے تکنیکی معاونت اور متعلقہ سامان بھی شامل ہے، جس میں پُرزے، دیکھ بھال کی خدمات، سافٹ ویئر، تربیت اور لاجسٹک خدمات شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کی فروخت کو حتمی شکل دی جائے گی اور کانگریس کے جائزے کے بعد لاگو کیا جائے گا۔

  19. ہم نے آٹھ ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنایا: اردن

    اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اردن کی جانب داغے گئے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔

    پیٹرا کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا، جس کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    اس سے قبل ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے حملہ آور ڈرونز نے اردن کے الازرق ایئر بیس میں موجود مواصلاتی نظام، ایک مستقل ریڈار تنصیب اور امریکی فوج کے ایندھن ذخیرہ کرنے کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

    تاہم اردنی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں نے ایرانی حملے کو ناکام بنا دیا اور ملک کے اندر کسی قسم کے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  20. ایران نے ایک امریکی خاتون کو رہا کر دیا، ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایک ایسی امریکی خاتون کو رہا کر دیا ہے جنھیں ٹرمپ کے بقول، دسمبر 2024 میں بلاوجہ حراست میں لیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے خاتون امریکی شہری کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    امریکی صدر نے زیرِ حراست فرد کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم انھوں نے بتایا کہ ’یہ خاتون اب محفوظ ہیں، مکمل صحت مند ہیں اور ایران سے باہر جا چکی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ خاتون کو دسمبر 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب جو بائیڈن امریکی صدر تھے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔