بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ سکیورٹی اہلکاروں کی تھیں۔ برآمد ہونے والی لاشوں میں سے ایک ایئرفورس سکیورٹی فورس کے انسپیکٹر
زبیر احمد کی تھی جو کہ گزشتہ ماہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ اغوا ہوئے تھے۔
ایک سینِئر سرکاری اہلکار نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق
کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کئی روز پرانی ہیں۔
تاحال کسی نے ان افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول
نہیں کی ہے۔
برآمد ہونے والی دیگر لاشیں کن کی ہیں؟
سینئر اہلکار نے بتایا کہ چاروں افراد کی لاشوں کو برآمدگی
کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت ہوگئی ہے۔
زبیر احمد کے علاوہ جن دیگر لاشوں کی شناخت ہوئی ان
میں سی ٹی ڈی کے سابق اہلکار خلیل احمد، سکیورٹی فورسز کے ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق
اور پولیس کے سپاہی فرید احمد شامل ہیں۔
اے ایس ایف کے انسپیکٹر زبیر احمد کے والد نصیر احمد
نے اپنے بیٹے زبیر احمد کی لاش کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی لاش بدھ
کی صبح شعبان کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی اور شام کو چھ بجے زبیر احمد کی تدفین کی
گئی۔
سرکاری اہلکار کے مطابق زبیر احمد اور ان کے دوست خلیل
احمد کو نامعلوم افراد نے 21 جون کو کوئٹہ جبکہ ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق کو پانچ
جولائی کو زیارت اور پولیس کے سپاہی فرید احمد کو پانچ یا چھ جولائی کو ضلع زیارت ہی
کے علاقے مانگی سے اغوا کیا گیا تھا۔
اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کو نامعلوم مسلح افراد
نے چند روز بیشتر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں ضلع کوئٹہ سے متصل ہرنائی کے علاقے
شعبان میں پھینک دی تھی۔
خیال رہے کہ مانگی کے جس علاقے سے پولیس کے سپاہی فرید
احمد کو اغوا کیا گیا تھا وہاں نامعلوم مسلح افراد نے چند روز قبل حملہ بھی کیا تھا
جس میں نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
ان میں سے مارے جانے والے بعض پولیس اہلکاروں کی لاشوں
کے ہمراہ نو جولائی سے کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔
اے ایس یف کے انسپیکٹر زبیر احمد اور ان کے دوست خلیل
احمد کے اغوا کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔
ان کے اغوا کی ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟
اے ایس ایف کے انسپیکٹر زبیر احمد اور خلیل احمد کے
اغوا کا مقدمہ 24 جون کو کوئٹہ میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا۔
زبیر احمد کے والد نصیر احمد کی مدعیت میں جناح ٹاؤن
پولیس سٹیشن میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ زبیر احمد کی ڈیوٹی اسلام
آباد ایئرپورٹ پر تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ زبیر احمد ایک ماہ کی
چھٹی پر کوئٹہ آئے تھے۔ 21 جون کو ان کے ایک دوست خلیل احمد گھر پر آئے اور زبیر احمد
کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق نصیر احمد نے کہا کہ انھوں نے اپنے
بیٹے کا انتظار کیا لیکن جب وہ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد گھر نہیں آئے تو ان کے نمبر
پر فون کیا گیا مگر وہ بند جارہا تھا۔
نصیر احمد کی درخواست پر اغوا کا مقدمہ تعزیرات پاکستان
کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہنہ اوڑک کے علاقے
ببری اور زیارت کے علاقے مانگی میں ہونے والے حملوں کے بعد شعبان اور اس کے گردونواح
کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن شعبان کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن
جاری ہے۔
سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد
میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔