لاہور میں سموگ کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے تمام پرائمری سکول بند، نوٹیفکیشن جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں سموگ کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے پرائمری سکول بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت چھٹی کا اطلاق پبلک اور پرائیوٹ سکولوں پر ہوگا اور پرائمری سیکشن تک سکول چار سے نو نومبر تک بند رہیں گے۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے پرائمری سکول بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’سموگ کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پانچویں جماعت تک سکولوں کو ایک ہفتے کی چھٹی دی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ روز انڈیا سے پاکستان کی جانب آنے والی آلودہ ہوا کے باعث لاہور میں سموگ کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ انڈیا میں فصلوں کی باقیات جلانے اور دھویں سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا، امرتسر اور چندی گڑھ سے ہوا پاکستان آئی تو اس میں سموگ بہت تیز تھی، انڈیا کی طرف سے چلنے والی ہواؤں سے سب سے زیادہ لاہور متاثر ہوا۔‘
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’یہ معاملہ انڈیا سے بات کیے بغیر حل نہیں ہو سکتا، سموگ کورونا کی طرح ہے جو سرحدوں سے آرہی ہے، سموگ خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں کی جائےگی۔‘
سموگ کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات بارے میں آگاہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
’سموگ کے تدارک کے لیے میں پہلی بار پنجاب حکومت نے تمام محکموں کو بٹھا کر لائحہ عمل دیا، 550 سے زائد بھٹوں کو مسمار کیا گیا ہے، پلاسٹک بیگز پر پابندی لگائی گئی ہے، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ہزار سے تجاوز کر گیا ہے، کل مختلف علاقوں میں اے کیو آئی 1900 تک ہپہنچا بعد میں یہ اے کیو آئی کافی کم ہوگیا تھا۔
پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں پر سموگ زیادہ اثر انداز ہوتی ہے: محکمہ ماحولیات
لاہور کے تمام سرکاری اور نجی سکولز ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کے نوٹیفکیشن میں محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں پر سموگ زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو چھٹی دی گئی ہے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں کسی اکول میں ایک ہفتے کے لیے پہلی سے پانچویں جماعت تک کلاسز نہیں ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں گرین لاک ڈاؤن
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے بدھ کے روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے اور ان علاقوں میں ’گرین لاک ڈاؤن‘ لگایا جا رہا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ سب سے زیادہ آلودہ علاقے شملہ پہاڑی سے شروع ہو گا۔
شملہ پہاڑی کے ایک کلومیٹر کے دائرے کے اندر ہر قسم کے تعمیراتی کام، چنگ چی رکشوں کے داخلے، کمرشل جینریٹرز کے استعمال، رات 8 بجے کے بعد بار بی کیو پر مکمل پابندی ہو گی۔
اس کے ساتھ تمام شادی ہال رات دس بجے بند ہو جائیں گے اور ہوٹل اور ریستورانوں میں کچن میں کوئلے، لکڑی یا چارکول کی مدد سے کھانے پکانے پر مکمل پابندی ہو گی۔
نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چار اکتوبر سے ’ہاٹ سپاٹ‘ قرار دیے جانے والے علاقوں میں تمام سرکاری اور نجی اداروں میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کروانے کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔


























