جنرل عاصم منیر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے: وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2027 تک اس عہدے پر موجود رہیں گے جس سے ’نظام کو تسلسل ملے گا۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کی پارلیمان نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی ہے۔
  • سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کرنے کا بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
  • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ڈھائی فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب شرح سود 15 فیصد پرآ گئی ہے۔
  • مشرق وسطیٰ میں ’بی 52 ‘ بمبار طیارے ایران کو خبردار کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں: امریکہ
  • سویز نہر سے اسرائیلی جنگی جہاز گزرنے کے معاملے پر تنقید کے بعد سویز کینال اتھارٹی کا ردعمل ’حکام قسطنطنیہ کنونشن پر عمل کے لیے پُرعزم ہیں‘

لائیو کوریج

  1. لاہور میں سموگ کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے تمام پرائمری سکول بند، نوٹیفکیشن جاری

    لاہورمیں سموگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشننوٹیفکیشن کے تحت چھٹی کا اطلاق پبلک اور پرائیوٹ سکولوں پر ہوگا اور پرائمری سیکشن تک سکول چار سے نو نومبر تک بند رہیں گے

    لاہور میں سموگ کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے پرائمری سکول بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت چھٹی کا اطلاق پبلک اور پرائیوٹ سکولوں پر ہوگا اور پرائمری سیکشن تک سکول چار سے نو نومبر تک بند رہیں گے۔

    سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے پرائمری سکول بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’سموگ کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پانچویں جماعت تک سکولوں کو ایک ہفتے کی چھٹی دی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ روز انڈیا سے پاکستان کی جانب آنے والی آلودہ ہوا کے باعث لاہور میں سموگ کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ انڈیا میں فصلوں کی باقیات جلانے اور دھویں سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا، امرتسر اور چندی گڑھ سے ہوا پاکستان آئی تو اس میں سموگ بہت تیز تھی، انڈیا کی طرف سے چلنے والی ہواؤں سے سب سے زیادہ لاہور متاثر ہوا۔‘

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’یہ معاملہ انڈیا سے بات کیے بغیر حل نہیں ہو سکتا، سموگ کورونا کی طرح ہے جو سرحدوں سے آرہی ہے، سموگ خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں کی جائےگی۔‘

    سموگ کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات بارے میں آگاہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

    ’سموگ کے تدارک کے لیے میں پہلی بار پنجاب حکومت نے تمام محکموں کو بٹھا کر لائحہ عمل دیا، 550 سے زائد بھٹوں کو مسمار کیا گیا ہے، پلاسٹک بیگز پر پابندی لگائی گئی ہے، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ہزار سے تجاوز کر گیا ہے، کل مختلف علاقوں میں اے کیو آئی 1900 تک ہپہنچا بعد میں یہ اے کیو آئی کافی کم ہوگیا تھا۔

    پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں پر سموگ زیادہ اثر انداز ہوتی ہے: محکمہ ماحولیات

    لاہور کے تمام سرکاری اور نجی سکولز ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کے نوٹیفکیشن میں محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں پر سموگ زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو چھٹی دی گئی ہے۔

    نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں کسی اکول میں ایک ہفتے کے لیے پہلی سے پانچویں جماعت تک کلاسز نہیں ہوں گی۔

    لاہور میں سموگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور میں گرین لاک ڈاؤن

    یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے بدھ کے روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے اور ان علاقوں میں ’گرین لاک ڈاؤن‘ لگایا جا رہا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ سب سے زیادہ آلودہ علاقے شملہ پہاڑی سے شروع ہو گا۔

    شملہ پہاڑی کے ایک کلومیٹر کے دائرے کے اندر ہر قسم کے تعمیراتی کام، چنگ چی رکشوں کے داخلے، کمرشل جینریٹرز کے استعمال، رات 8 بجے کے بعد بار بی کیو پر مکمل پابندی ہو گی۔

    اس کے ساتھ تمام شادی ہال رات دس بجے بند ہو جائیں گے اور ہوٹل اور ریستورانوں میں کچن میں کوئلے، لکڑی یا چارکول کی مدد سے کھانے پکانے پر مکمل پابندی ہو گی۔

    نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چار اکتوبر سے ’ہاٹ سپاٹ‘ قرار دیے جانے والے علاقوں میں تمام سرکاری اور نجی اداروں میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کروانے کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔

  2. اسرائیل کا شمالی لبنان میں بحری کارروائی میں حزب اللہ کے سینیئر رکن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے سنیچر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ کے کمانڈوز نے لبنان کے ساحلی شہر بطرون میں ’خصوصی آپریشن‘ کے دوران حزب اللہ کے ایک اہم رکن کو گرفتار کیا اور اسے تحقیقات کے لیے اسرائیل لائے ہیں۔

    اسرائیلی افواج نے جس شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاحال ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے بحریہ کے ایک سینیئر رکن عماد امحاز ہیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ ایک ’نامعلوم فوجی فورس‘ صبح کے وقت ساحل سمندر میں داخل ہوئی، قریبی عمارت پر دھاوا بولا اور ایک شخص کو یرغمال بنا کر سپیڈ بوٹس بھگاتے ہوئے لے گئے۔

    اس چھاپے نے لبنانی حکام کو ناراض کیا ہے اور لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کے دفتر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے نگراں حکومت میں امور خارجہ اور تارکین وطن کے وزیر عبداللہ بو حبیب سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری شکایت جمع کرائیں۔

    لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ میقاتی ’بطرون کے علاقے میں لبنانی شہری عماد امحاز کے اغوا کے معاملے کی پیروی کر رہے ہیں۔‘

    وزیر اعظم نجیب میقاتی کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور وزیراعظم نے ان سے جلد نتائج کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی کرتی ہے جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد دشمنی کے خاتمے کے لیے منظور کی گئی تھی۔

    مقامی میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا: ’اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اغوا سمندر کے ذریعے لبنان میں داخل ہو کر کیا گیا تو پھر قرارداد 1701 پر عمل درآمد کا کیا ہو گا؟‘

    حزب اللہ نے ابھی تک اسرائیل کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے کہ اغوا کیے جانے والے شخص کا تعلق ان کے گروپ سے ہے یا نہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے وزیر برائے ورکس اینڈ ٹرانسپورٹ علی حمیہ نے میڈیا کو بتایا کہ عماد امحاز ایک سویلین نیول آفیسر ہے جو سویلین اور تجارتی بحری جہازوں کا سمندری کپتان ہے اور وہ ایک سویلین انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اس کا لبنانی فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں فوجیوں کا ایک گروپ ایک قیدی کو عمارتوں کے درمیان لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے آپریشن کی کچھ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی شائیت 13 یونٹ نے کی ہے جو سمندر کے راستے خشکی میں آپریشن کرنے والا بحری کمانڈو یونٹ ہے۔

    بطرون بیروت کے شمال میں ایک مسیحی قصبہ ہے جو اب تک لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے محفوظ رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں کا مرکز لبنان کے جنوب اور مشرق میں وادی بیکا اور بیروت کے جنوبی محلے رہے ہیں۔

    30 ستمبر کو لبنان پر اسرائیلی زمینی حملے کے بعد سے اب تک 2200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان میں اس کے 38 فوجی مارے گئے ہیں۔

    اسرائیل نے سنیچر کو نباتیہ، وادی بیکا اور قدیم شہروں صور اور بعلبیک پر حملے کیے ہیں۔

    حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون فائر کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق راکٹوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  3. عمران خان کے لاپتہ وکیل انتظار پنجوتھہ حسن ابدال سے بازیاب: پولیس

    انتظار پنجوتھہ

    ،تصویر کا ذریعہX/Murtaza Ali Shah

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی قانون ٹیم کے ’لاپتہ‘ رُکن انتظار پنجوتھہ کو حسن ابدال سے بازیاب کروالیا گیا ہے۔

    حسن ابدال کے تھانہ صدر کے محرر طارق عزیز نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ انتظار پنجوتھہ ’بازیاب‘ ہو گئے ہیں۔

    محرر طارق کے مطابق انھیں حتمی طور پر نہیں پتہ کہ انتظار پنجوتھہ کو کس وقت بازیاب کروایا گیا ہے۔

    ’وہ ہمارے پاس پہنچے نہیں ہیں، جو ان کی بازیابی کی تفصیلات مجھے پتہ تھیں وہ میں نے آپ کو بتا دی ہیں، جو نیوز چینلز پر بھی چل رہی ہیں۔‘

    انتظار پنجوتھہ کے بھائی نعیم حیدر پنجوتھہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’انتظار بھائی سے ابھی فون پر بات ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ تھوڑی دیر تک ہمارے پاس پہنچ جائیں گے۔‘

    سوشل میڈیا پر انتطار پنجوتھہ کی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس میں سے ایک ویڈیو میں وہ ایک گاڑی میں بیٹھے ہیں، جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ کسی تھانے میں بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستانی میڈیا پر نشر کیے جانے والے اٹک پولیس کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹک پولیس نے حسن ابدال میں ایک مشکوک گاڑی کو روکا تو اس میں سوار اغوا کاروں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق اغوا کار مغوی اور گاڑی کو چھوڑ کر فرار ہو گئے اور مغوی انتظار پنجوتھہ کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

    خیال رہے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل گذشتہ ماہ 8 اکتوبر سے لاپتہ تھے اور ان کی بازیابی کے حوالے سے ایک کیس بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔

    یکم نومبر کو اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ انتطار پنجوتھہ کو اگلے 24 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا جائے گا۔

  4. مریم نواز نے قومی ایئرلائن پی آئی اے خریدنے کی صلاح مانگی ہے، اب اس پر غور ہو رہا ہے: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز نے ان سے قومی ایئرلائن پی آئی اے خریدنے کی صلاح مانگی ہے۔ ان کو رائے دی ہے کہ یا تو پی آئی اے خرید لیں یا کوئی نئی ایئر لائن شروع کر دیں۔

    لندن روانگی سے قبل امریکہ میں پارٹی ورکرز سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پی آئی اے خریدنے پر غوروخوض کر رہی ہے۔

    نوازشریف نے بتایا کہ پنجاب حکومت کو تجویز دی ہے کہ پی آئی اے خرید لیں یا کوئی نئی ایئرلائن شروع کریں ‏جو ڈائریکٹ لاہور، کراچی یا پشاور سے نیو یارک ، لندن اور ٹوکیو سمحت دنیا کے ہر حصے میں جائے گی، ہم اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

    آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنے خسارے میں چلنے والے چند قومی اداروں کی نجکاری کرنا ہے اور اسی سلسلے میں قومی ائیرلائن کی نجکاری کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں بولی لگائی گئی۔

    پاکستان کے نجکاری کمیشن کی جانب سے بولی سے قبل اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے رکھی گئی تھی تاہم پاکستان کی قومی ایئر لائنز پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں ایک نجی کمپنی کی طرف سے اسے محض 10 ارب روپے میں خریدنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

    پی آئی  اے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنیچر کے روز لندن واپسی سے قبل امریکہ میں ورکرز سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پی آئی اے خریدنے پر غور کررہی ہے۔

    ’مریم نے مجھے کہا کہ ہم پی آئی کو ایکوایر نہ کر لیں اور برینڈ نیو جہاز لے کر آئیں۔ اسے ایئر پنجاب کا نام دے سکتے ہیں۔ جس پر جواباً میں (نواز شریف) نے کہا کہ آپ نئی ایئر لائن بھی اسٹیبلش کر سکتی ہیں جو دنیا کے ہر حصے میں جائے۔ اب اس کے حوالے سے غور ہو رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو ہم نے خدا حافظ کیا اور یہ واپس لے آئے۔ ہمارے دور میں ہم ترقی کی شرح 5.8 تک لے کر گئے تھے۔ اگر اس رفتار پر چلنے دیا جاتا تو آج ہم ایک مختلف ملک ہوتے۔

    میاں نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ ’پی آئی اے کو برباد کرنے والا وہ وزیر ہے جو بانی پی ٹی آئی کے زمانے میں لگایا گیا تھا، جس نے کہا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹس کے پاس لائسنس نہیں ہے، ‏کیا یہ بات عوامی طور پر بولنے والی تھی۔‘

    خیال رہے کہ پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔

    پی آئی اے مسلسل کئی برسوں سے خسارے کا شکار ہے اور اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔

    گذشتہ ادوار میں انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے بہتری لانے کی تمام تر کوششوں کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کی کئی کوششیں بھی ناکام ہوئی ہیں۔

  5. دشمنوں کو ’منھ توڑ جواب‘ دیا جائے گا: آیت اللہ علی خامنہ ای

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دشمنوں کے اقدامات کا ’منھ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تہران میں ایک عوامی خطاب میں ایران کے بارے میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کی۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ’صیہونی حکومت اور امریکہ دونوں دشمن ایران کے عوام اور مزاحمتی محاذ کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا منھ توڑ جواب ضرور دیا جائے گا۔‘

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ’ہم یقینی طور پر وہ سب کچھ کریں گے جو ایرانی قوم کے لیے بہتر ہے چاہے وہ دفاعی معاملات ہوں یا عسکری اور سیاسی معاملات ہوں، ذمہ دار حکام ہر سطح پر کام کر رہے ہیں۔‘

    اسرائیل کو ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ صرف انتقام کا نہیں ہے، مسئلہ ایک منطقی تحریک کا ہے اور ایران کے عوام اور ملکی حکام اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے۔ اس بات کا یقین رکھیں۔‘

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے دشمنوں کو منہہ توڑ جواب دینے سے متعلق عوامی سطح پر کہے جانے والے یہ الفاظ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے ایرانی فوجی اڈوں پر حملوں کو ایک ہفتہ ہی ہوا ہے جب کہ تین روز بعد امریکہ میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔

    اس سے قبل حملوں کے دو روز یعنی اتوار کے روز آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے مختصر بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی حملے کو نہ بڑھاوا دیا جائے نہ حقیر سمجھا جائے۔

    ایئرفورس کے زیر زمین کمانڈ سینٹر میں موجود اسرائیل کے چیف آف جنرل سٹاف ایران پر کیے گئے حملوں کو کمانڈ کرتے ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    ،تصویر کا کیپشنایئرفورس کے زیر زمین کمانڈ سینٹر میں موجود اسرائیل کے چیف آف جنرل سٹاف ایران پر کیے گئے حملوں کو کمانڈ کرتے ہوئے

    حالیہ دنوں میں میڈیا اور سفارتی حلقوں میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایران کا اسرائیل کے خلاف ممکنہ ردعمل کب اور کیسے ہو گا۔

    یاد رہے کہ 26 اکتوبرکو اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایران میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

    اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں کے ذریعے ایران نے اسرائیل پر حال ہی میں کیے گئے میزائل حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ’یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

  6. بریکنگ, سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس پانچ نومبر دوپہر دو بجے طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس منگل پانچ نومبر کو دن دو بجے طلب کر لیا ہے۔

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا پہلا اجلاس منگل پانچ نومبر کو طلب کیا ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی شرکت کریں گے۔

    یاد رہے کہ 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں پہلی بار پانچ اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اس اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے نامزد ارکان پارلیمنٹ کو بھی شرکت کی ہدایات کی گئی ہیں۔

    ان اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب احمد، پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے جبکہ خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔

    یاد رہے سنیچر کی دوپہر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو ارسال کیے تھے اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے تین سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیئر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سنیچر کے روز پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے ہیں۔

  7. نو نومبر کو صوابی میں بھرپور احتجاج ہو گا، پرامن رہ کر بہت ماریں کھا لی ہیں: علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے کہا ہے کہ نو نومبر کے لیے فائنل کال دے دی ہے، اس دن صوابی میں احتجاج ہو گا جس میں ملک کو بند کرنے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’صوابی انٹرچینج پر احتجاج ہماری فائنل کال ہوگی۔ اب ہم سرپر کفن باندھ کر نکلیں گے، پرامن رہ کر بہت ماریں کھا لی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لوگ اپنے گھروں میں بتا کر آجائیں، پرامن رہ کر ہماری پارٹی کے ساتھ اور ہمارے لیڈر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ناقابل برداشت ہے۔‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا ’ہم عوامی طاقت کے ساتھ آخری کیل ٹھوکنے کے لیے پورا لائحہ عمل دیں گے، ہم اپنے حقوق لینے کے لیے نکلیں گے اور اپنے حقوق لے کر ہی واپس جائیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ ’میں نے آٹھ تاریخ کا جلسہ منسوخ نہیں کیا صرف جلسے کا مقام تبدیل کیا ہےاب آٹھ تاریخ کو پشاور میمیں ہونے والا جلسہ نو تاریخ کو موٹروے صوابی انٹرچینج پر ہوگا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے تمام فیصلہ سازوں کو آخری کال کی وارننگ دی ہے، ہم ایک لائحہ عمل کے ساتھ ایک تاریخ دیں گے، خیبرپختونخوا کا ایک جرگہ ہوگا اور پورے پاکستان سے لوگ آئیں گے۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ مشاورت کے مطابق اعلان کیا جائے گا کہ پاکستان کو کیسے بند کرنا ہے۔

  8. مستونگ میں دھماکے اور ہلاکتوں کےخلاف احتجاج، طلبا نے ڈی سی آفس کے قریب کوئٹہ کراچی ہائی وے بلاک کر دی, خیر محمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، کوئٹہ

    مستونگ میں احتجاج

    مستونگ میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف سنیچر کے روز طلبا نے ڈپٹی کمشنر مستونگ آفس کے قریب کوئٹہ کراچی ہائی وے کو بلاک کر دیا ہے۔

    دھماکے کے نتیجے میں طلبا اور طالبات کی ہلاکتوں کے خلاف شہر میں تعلیمی ادارے بھی آج بند رہے۔

    مستونگ میں احتجاج
    مستونگ میں احتجاج

    یاد رہے کہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں پولیس کی گاڑی کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں اس دھماکے میں پرائمری سکول کے 10 سے 12 سال کے پانچ طلبا اور طالبات سمیت آٹھ افراد ہلاک اور 30افراد زخمی ہوگئے تھے۔

    اس واقعے کی آج ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس کے مطابق پولیس کی سرکاری گاڑی، رکشوں اور دیگر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے خلاف نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

  9. سپیکر قومی اسمبلی نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن اراکین کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ایاز صادق

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly

    اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کے ارکان کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی ہے اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے لیے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب احمد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کے لیے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور سینیٹر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے خاتون کی نشست پر روشن خورشید بھروچا کو نامزد کیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔

    یہ بھی واضح رہے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پہلی بار ملک میں پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں۔

    سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے تین سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیئر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔

    یاد رہے کہ 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں پانچ اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے ہیں۔

    چیف جسٹس کی تعیناتی، آئینی بینچ اور سود کے خاتمے سمیت 26ویں آئینی ترمیم کن اُمور کا احاطہ کرتی ہے

    سپریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    26 ویں آئینی ترمیم کے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے بل کے مطابق سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کی گئی تھی۔

    ترمیم کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججز سمیت چار اراکین پارلیمنٹ بھی ہوں گے، جن میں سے ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام وزیر اعظم جبکہ ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف دیں گے۔

    اس بل کے مطابق ججز کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے 12 ارکان ہوں گے جن میں سے آٹھ کا تعلق قومی اسمبلی جبکہ چار کا تعلق سینیٹ سے ہو گا۔

    ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیئر جج کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی بجائے تین نام اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور 12 رکنی کمیٹی ان ناموں میں سے ایک کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی سفارش کرے گی۔ جس کے بعد وزیر اعظم اس ضمن میں صدر کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی سفارش کریں گے۔

  10. مستونگ میں سکول کے باہر ہونے والے بم دھماکے کی ایف آئی آر درج

    مستونگ

    بلوچستان کے شہر مستونگ میں جمعے کو ہونے والے بم دھماکے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی تھانہ کوئٹہ میں درج کی گئی ہے۔

    ایس ایچ او سٹی تھانہ مستونگ عبدالفتاح کی مدعیت یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق دھماکہ منظور شہید لائبریری کے قریب مسجد روڈ پر ایک موٹر سائیکل میں ہوا جس کے لیے 7سے 8 کلو دھماکہ خیز مواد اور بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا تھا۔

    اس دھماکے میں پرائمری سکول کے 10 سے 12 سال کے پانچ طلبا اور طالبات سمیت آٹھ افراد ہلاک اور 30افراد زخمی ہوگئے تھے۔

    زخمیوں میں سکول کے طلبا اور طالبات کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق پولیس کی سرکاری گاڑی، رکشوں اور دیگر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔

    اس واقعے کے خلاف نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    درایں اثنا گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں مستونگ بم دھماکے میں زخمی ہونے بعض افراد زیر علاج ہیں ۔ گورنر نے دھماکے میں زخمی پولیس اور لیویز اہلکاروں کی خیریت دریافت کی۔

    اس بم حملے کی زد میں آ کر زخمی ہونے والے ایک 12 سالہ طالب علم نے بتایا کہ ’ہم وین میں سکول جا رہے تھے، جونہی سامنے سے آنے والی پولیس موبائل ہماری وین کے قریب سے گزری تو زوردار دھماکہ ہوا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی سکول وین میں 20 بچے سوار تھے۔

    مستونگ کوئٹہ شہر سے جنوب میں اندازاً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ضلع مستونگ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پرمشتمل ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع مستونگ میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اس ضلع کا شمار بلوچستان کے شورش سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

    مستونگ میں طویل عرصے سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

  11. حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 11 اسرائیلی زخمی، ایک راکٹ گھر پر آ کر لگا

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کے روز حزب الہہ کی جانب سے داغے گئے راکٹ حملوں میں وسطی اسرائیل میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ان میں سے ایک راکٹ ایک گھر پر آ کر لگا۔

    حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی افواج اور لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    تیرا نامی جس علاقے میں یہ حملہ ہوا وہاں کے رہائشی قاسم محب نے روئٹرز کو بتایا کہ ’باہر نکلے تو ہمیں دھول نظر آئی، بچوں اور خواتین سمیت سب چیخ رہے تھے اور سب لوگ اس گھر کی جانب بھاگے جس پر حملہ ہوا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا ’ہم گھر کے اندر موجود لوگوں کو نکالنے اور بچانے میں کامیاب ہو گئے اور شکر ہے کہ کوئی ہلاک نہیں ہوا۔‘

    اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ چھرے لگنے سے 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ لبنان سے راکٹ فائر ہونے کے ساتھ ہی شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بجنے شروع ہو گئے تھے۔

  12. امریکہ مشرقِ وسطی میں مزید بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز، فائٹر سکواڈرن، ٹینکر طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے بھیج رہا ہے

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے مزید بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز، فائٹر سکواڈرن، ٹینکر طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے تعینات کر رہا ہے۔

    امریکہ کے سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں اور افواج کے تحفظ، اسرائیل کے دفاع اور ڈیٹرنس اور سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کے ہمارے وعدوں کے مطابق اضافی بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

    ایک لڑاکا سکواڈرن، ٹینکر ائیر کرافٹ اور کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار بی 52 طیارے بھی اس تعیناتی میں شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ افواج آنے والے مہینوں میں مشرقِ وسطی پہنچنا شروع ہوں گی۔

    یاد ہے یو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی جہاز جس پر ایف 35 سی لڑاکا طیارے موجود ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی جانب رواں ہے اور یہاں پہلے سے تعینات ایک اور امریکی جنگی بحری جہاز کی جگہ لینے جا رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعیناتیاں حالیہ فیصلے کا حصہ ہیں جس میں ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) میزائل سسٹم کو اسرائیل بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مشرقی بحیرہ روم میں اپنی ایمفی بیس ریڈی گروپ میرین ایکسپڈیشنری یونٹ کی موجودگی بھر برقرار رکھی ہوئی ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی فوج دنیا بھر کہیں بھی تیزی اور آسانی سے پہنچ سکتی ہے تاکہ نئے سیکیورٹی خطرات کا سامنا کیا جا سکے۔

    سکریٹری آسٹن نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران یا اس کے اتحادیوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر امریکی افراد یا مفادات پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

  13. سپین میں بدترین سیلاب سے تباہی: 200 سے زائد ہلاک، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپین میں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کا کام ابھی تک جاری ہے۔

    اب تک تقریباً 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں والینسیا کے علاقے میں ہوئی ہیں۔

    ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    سیلاب نے پل تباہ کر دیے ہیں اور شہر کیچڑ سے بھرے ہیں۔ پلوں کی تباہی کے باعث کئی آبادیاں پانی، خوراک یا بجلی کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں۔

    کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر مقامی حکام سیلاب کے خطرے کے بارے میں جلد خبردار کر دیتے تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

    اگرچہ والینسیا اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں موسم اب بہتر ہے تاہم جنوبی سپین میں رہنے والوں کے لیے خطرہ برقرار ہے اور سنیچر کو مزید شدید بارشوں کا امکان ہے۔

  14. پنجاب کالج میں مبینہ ریپ کے قابل بھروسہ ثبوت نہیں ملے، طلبا کے بیانیے کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی: ایچ آر سی پی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کا کہنا ہے کہ اسے لاہور کے ایک نجی کالج میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ ریپ کے حوالے سے قابل بھروسہ ثبوت نہیں مل سکے۔

    یاد رہے گذشتہ ماہ لاہور کے ایک نجی کالج کی طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پنجاب کالج‘ کے خواتین کے لیے مخصوص گلبرگ کیمپس میں فرسٹ ایئر کی ایک طالبہ کو اُسی کالج کے ایک سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔

    یہ خبر سامنے آنے کے بعد نجی کالج کی انتظامیہ، پنجاب کی صوبائی حکومت، پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے ایسے کسی بھی مبینہ واقعے کے رونما ہونے کی تردید کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ناصرف لاہور بلکہ راولپنڈی اور گوجرانوالہ سمیت متعدد شہروں میں طلبا نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جس کے دوران اُن کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور متعدد طلبا کو گرفتار کیا گیا۔

    احتجاج کرنے والے طلبا کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے تھے کہ کالج کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے دستیاب تمام شواہد بھی ختم کر دیے ہیں۔

    ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فورینسک شواہد اور قابل بھروسہ شہادتوں کی عدم موجودگی میں یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اکتوبر 2024 کے اوائل میں لاہور کے ایک نجی کالج میں ایک طالبہ کے ریپ کے الزامات حقیقت پر مبنی تھے۔

    کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے پیش آنے والے واقعات نے پنجاب کالج کیمپس 10 میں طالب علموں میں شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کو جنم دیا۔ ان واقعات میں سوشل میڈیا پر ریپ کے غیر تصدیق شدہ دعوے، کالج انتظامیہ کا تاخیری اور غیرمعقول ردعمل اور حکومتی نمائندوں کے متضاد بیانات شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی چیف سیکریٹری کی سربراہی میں سات رُکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’کالج کی انتظامیہ صورتحال کو پیشہ وارانہ طریقے‘ سے ہینڈل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشن نے احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبا کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کی صورت حال اور جنسی ہراسانی کے مسلسل واقعات اور متاثرین ہی کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش سے بہت نالاں ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والے شور سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیگر فریقین نے طلبا کے بیانیے کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

    یاد رہے گذشتہ ماہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ سے متعلق ایک ایسی کہانی گھڑی گئی جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا اور ’یہ خطرناک منصوبہ ایک جماعت کی جانب سے بار بار انتشار پھیلانے، جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں ناکامی کے بعد بنایا گیا۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مریم نواز نے کہا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر اس واقعے کو پھیلایا گیا اور کہانیاں گھڑی گئیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پنجاب میں طلبا کو مشتعل اور گمراہ کر کے حکومت کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی گئی۔ بار بار انتشار پھیلانے اور جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں ناکامی کے بعد یہ خطرناک ترین منصوبہ بنایا۔ خاص کر ایسے وقت میں جب شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونے جا رہا تھا۔ تحریک انصاف کا ایجنڈہ ہی یہی ہے کہ جب پاکستان اوپر جا رہا ہوتا ہے یہ اسے نیچے کرنے کی سازش کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس سازش کی تہہ تک گئے ہیں، اس معاملے میں بچوں کو استعمال کیا گیا اور اُن یوٹیوبرز اور صحافیوں کو استعمال کیا گیا جو اُن کے پے رول پر ہیں۔‘

    دیگر سفارشات کے ساتھ ساتھ، مشن نے تجویز کیا ہے کہ کیمپس 10 پر اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دورانیے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فورینسک معائنہ کروایا جائے۔

    مزید یہ کہ طالبعلموں پر تشدد کرنے اور مبینہ جرم کے الزام میں ایک شخص کو ایف آئی آر کے بغیر حراست میں رکھنے پر پولیس کا محاسبہ کیا جائے۔

    ساتھ ہی مشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی اور جنسی تشدد کے الزامات کو سنجیدہ لیا جائے اور تمام تعلیمی اداروں میں انسداد ہراسانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن تک طلبا کی رازداری کی ضمانت کے ساتھ بآسانی رسائی ہو۔

  15. مستونگ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکہ: سکول جانے والے طلبا و طالبات سمیت آٹھ افراد ہلاک، کم از کم 23 زخمی

    police

    بلوچستان کے شہر مستونگ میں پولیس کی گاڑی کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں سکول جانے والے طلبا و طالبات سمیت آٹھ افراد ہلاک جبکہ کم از کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ کیپٹن ریٹائرڈ میر باز خان مری نے آٹھ افراد کی ہلاکت اور 23 سے زائد زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ دھماکہ مستونگ شہر میں مسجد روڈ پر سول ہسپتال چوک کے قریب ہوا۔

    پولیس حکام کے مطابق پولیس اہلکار پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔

    ایس ایچ او عبدالفتاح نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب ایک سکول واقع ہے اور دھماکے کے وقت سکول جانے والی طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی جس کے باعث وہ دھماکے کی زد میں آگئیں۔

    مستونگ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جسے نامعلوم افراد نے اس وقت اڑایا جب پولیس کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے لیے اندازاً چھ سے سات کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

    مستونگ پولیس کے سربراہ رحمت اللہ نے بتایا کہ دھماکے کی زد میں آنے والی گاڑی میں وہ پولیس اہلکار سوار تھے جنھوں نے پولیو کے ٹیموں کو سیکورٹی فراہم کرنی تھی۔ ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں نجی بینک کا ایک ملازم ، ایک پولیس اہلکار اور ایک مزدور شامل تھے۔

    مستونگ پولیس کے ایس ایچ او عبدالفتاح نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دو طلبا آپس میں بھائی تھے۔

    نیشنل پارٹی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے واقعے میں ملوث عسکریت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    ’ہماری وین میں سوار متعدد بچے زخمی ہوئے‘

    اس بم حملے کی زد میں آ کر زخمی ہونے والے ایک 12 سالہ طالب علم نے بتایا کہ ’ہم وین میں سکول جا رہے تھے، جونہی سامنے سے آنے والی پولیس موبائل ہماری وین کے قریب سے گزری تو زوردار دھماکہ ہوا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی سکول وین میں 20 بچے سوار تھے۔

    اس حملے میں زخمی ہونے والے 12 سالہ طالب علم کو مستونگ میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    سول ہسپتال کوئٹہ میں موجود ریحان بلوچ جن کی تین رشتہ دار طالبات اس بم حملے میں زخمی ہوئی ہیں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے اور باقی رشتہ دار بچے اور بچیاں ہمارے محلے سے ہر روز کی طرح صبح رکشے میں سکول جا رہے تھے۔ بدقسمتی سے یہ رکشہ بھی دھماکے کی زد میں آگیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کی رشتہ دار بچیوں کو چھرے لگے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    موٹر سائیکل

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ کوئٹہ شہر سے جنوب میں اندازاً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ضلع مستونگ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پرمشتمل ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع مستونگ میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اس ضلع کا شمار بلوچستان کے شورش سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

    مستونگ میں طویل عرصے سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

    رواں برس مستونگ میں اب تک متعدد واقعات پیش آئے جبکہ گذشتہ سال ستمبر میں 12ربیع الاول کے جلوس پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اس سے قبل 2018 کے عام انتخابات میں مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ایک خود کش حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    مستونگ میں رونما ہونے والے واقعات میں سے بعض کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں جبکہ بعض کہ ذمہ داری مذہبی شدت پسندتنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس واقعے کی ذمہ داری فی الحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

  16. انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا بِل: دہشتگردی میں ملوث ملزمان کی مدتِ حراست تین سے بڑھا کر چھ ماہ تک کرنے کی تجویز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا بِل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے جس کے مطابق عسکری اور غیر عسکری اداروں کے احکامات پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شبے میں کسی بھی شخص کو اب تین ماہ کے بجائے چھ ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا۔

    خیال رہے موجودہ انسدادِ دہشتگردی کے قانون کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ’مستند معلومات‘ یا ’شکایت‘ پر کسی بھی شخص کو دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شبے میں تین ماہ کے لیے حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

    نئے ترمیم بِل کے مطابق اب عسکری ادارے اور غیر عسکری ادارے کسی بھی شخص کو مزید تین مہینوں کے لیے حراست میں رکھ پائیں گے لیکن حراست کی اس مدت میں اضافہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 10 کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا جو کہ ملزم کو انصاف پر مبنی عدالتی کارروائی کا حق دیتا ہے۔

    ترمیمی بِل کے مطابق ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیے گئے شخص کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی جس میں پولیس سے ایس پی رینک کا افسر، عسکری و غیر عسکری انٹیلیجنس ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اراکین شامل ہوں گے۔

    قومی اسمبلی میں متعارف کروائے گئے بِل کے مطابق انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں کی گئی تبدیلیاں اگلے دو سالوں تک کے لیے نافذِ العمل ہوں گی۔

  17. خیبرپختونخوا حکومت کے 82 ملازمین اڈیالہ جیل سے رہا کر دیے گئے

    خیبرپختونخوا حکومت کے 82 ملازمین کو گذشتہ رات کے پہلے پہر تقریباً دو بجے اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل سے رہا ہونے والے افراد میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے دو ایم پی اے بھی شامل ہیں۔

    سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں اس حوالے سے رپورٹ جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئے قواعد کے تحت کورئیر کے ذریعے روبکار آتی ہے، روبکار دیر سے موصول ہونے کی وجہ سے رہائی میں تاخیر ہوئی۔

    یاد رہے یہ افراد تھانہ سنگجانی کی حدود میں پولیس سے ملزمان چھڑانے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔

    چار روز قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں تھیں اور ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نہ ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت میں توہین عدالت درخواست دائر کی گئی تھی۔

    خیبرپختونخوا حکومت کے رہا ہونے والے ملازمین رات گئے صوبے میں واپس پہنچ گئے ہیں۔

  18. بریکنگ, مستونگ میں پولیس کی گاڑی کے قریب بم دھماکہ: سکول جانے والی پانچ طالبات سمیت سات افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    bbc

    بلوچستان کے شہر مستونگ میں پولیس کی گاڑی کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں سکول جانے والی پانچ طالبات سمیت سات افراد ہلاک جبکہ کم از کم 25 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکول جانے والی پانچ طالبات سمیت ایک پولیس اہلکار اور ایک راہگیر شامل ہیں۔

    یہ دھماکہ مستونگ شہر میں مسجد روڈ پر سول ہسپتال چوک کے قریب ہوا۔

    مستونگ سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبدالفتاح نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب یہاں سے پولیس کی ایک گاڑی گزر رہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔

    ایس ایچ او عبدالفتاح نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب ایک سکول واقع ہے اور دھماکے کے وقت سکول جانے والی طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی جس کے باعث وہ دھماکے کی زد میں آگئیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے نو افراد کو مزید طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشت گردوں نے سافٹ ٹارگٹ میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    وزیر اعلٰی بلوچستان کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں اور بے گناہ افراد کے خون کا حساب لیا جائے گا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان نے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

    bbc

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ کوئٹہ شہر سے جنوب میں اندازاً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ضلع مستونگ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پرمشتمل ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع مستونگ میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اس ضلع کا شمار بلوچستان کے شورش سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

    مستونگ میں طویل عرصے سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

    رواں برس مستونگ میں اب تک متعدد واقعات پیش آئے جبکہ گذشتہ سال ستمبر میں 12ربیع الاول کے جلوس پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اس سے قبل 2018 کے عام انتخابات میں مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ایک خود کش حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    مستونگ میں رونما ہونے والے واقعات میں سے بعض کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں جبکہ بعض کہ ذمہ داری مذہبی شدت پسندتنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس واقعے کی ذمہ داری فی الحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

  19. شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے دو راکٹ حملوں میں سات افراد ہلاک ’اب تک کا سب سے جان لیوا حملہ‘

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے دو مختلف راکٹ حملوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ جمعرات کو ہوا اور اسے کئی مہینوں سے جاری جنگ کے ’سب سے جان لیوا حملوں میں سے ایک‘ قرار دیا گیا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر خارجہ کاٹز نے کہا ہے کہ لبنان کی سرحد پر واقع ایک قصبے میٹولا کے قریب راکٹ گرنے سے ایک اسرائیلی کسان اور چار غیر ملکی زرعی کارکن ہلاک ہوئے۔

    بعد ازاں ساحلی شہر حیفہ کے مضافات میں کبتز افیک کے قریب زیتون کے ایک باغ میں ایک اسرائیلی خاتون اور اس کا بیٹا راکٹ حملے میں ہلاک ہوئے۔

    حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے ’حیفہ کے شمال میں کریوت کے علاقے اور لبنانی قصبے خیام کے جنوب میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا اور متعدد راکٹ داغے۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’دوپہر کے وقت مغربی گلیل کے علاقے (جہاں کبوتز واقع ہے) کے علاوہ وسطی گلیل اور بالائی گلیل کی طرف کل 55 میزائل داغے گئے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کچھ میزائلوں کو روک لیا گیا تاہم کئی اسرائیلی علاقوں میں گرے۔‘

    لبنانی حکام کے مطابق اس جنگ میں اب تک لبنان میں 2800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 2200 گذشتہ پانچ ہفتوں میں ہلاک ہوئے ہیں اور 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں حزب اللہ کے راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  20. حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے

    Govt of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

    حکومتِ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہو گا۔

    پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر کے اضافے کے بعد نئی قیمت 248 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 85 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 255 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 48 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 161 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں دو روپے 61 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 147 روپے 51 پیسے فی لیٹر ہوگی۔