’امریکہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا‘: روبیو کا بیان، مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مدورو سے بھی زیادہ۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
  • وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔
  • چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا 'ریاستی دہشت گردی' اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے 'خطے پر تشویشناک اثرات' مرتب ہو سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران میں احتجاجی مظاہروں میں مزید گرفتاریاں، سرکاری ایرانی میڈیا کی خاموشی, بی بی سی مانیٹرنگ

    BBC

    بی بی سی مانیٹرنگ کی جانب سے ایران میں جاری احتجاج سے جمع کی جانے والی تفصیلات میں سامنے آیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے یکم جنوری کو مختلف صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    تہران کے مغرب میں ملارد کاؤنٹی میں حکام کے مطابق 30 افراد کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ انھوں نے شہریوں کے قانونی حقِ احتجاج کا ’غلط استعمال‘ کیا اور ’امن و امان کی صورتحال‘ کو متاثر کرنے کی کوشش کیا۔‘

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شمالی البرز صوبے میں حکام نے 14 افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد، پیٹرول بمب تیار کرنے کا ایک جھوٹا کارخانہ چلا رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ تھا۔

    اسی دوران لرستان صوبے میں پراسیکیوٹرز نے کوہداشت میں 20 مبینہ ’شدت پسند مظاہرین‘ کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر ’حکومت کے خلاف نعرے‘ لگائے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا ۔‘

    تاہم دوسری جانب ریاستی نشریاتی ادارے نے احتجاج کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو نے گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر اپنے صبح کے بلیٹنز میں نہیں کیا۔ اس کے بجائے معمول کی داخلی خبریں اور پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کی تقریبات کو نمایاں کیا گیا۔ یاد رہے کہ سلیمانی 3 جنوری 2020 کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    صبح کے پروگرامز میں بشمول 30 منٹ کا مرکزی نیوز بلیٹن، چینل آئی آر آئی این این نے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے سلیمانی کی برسی کے حوالے سے ریاستی ریلیوں پر طویل رپورٹیں نشر کیں۔

    تاہم خبر نامے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک مختصر بیان شامل کیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’عوام کی آواز اور رائے سنی جانی چاہیے‘، تاہم اس کی مزید وضاحت یا سیاق و سباق پیش نہیں کیا گیا۔

  2. ایرانی عوام کی زندگیاں معاشی مُشکلات کا شکار ہیں، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے: مولوی عبدالحمید

    kalemehtv

    ،تصویر کا ذریعہkalemehtv

    ایران کے شہر زاہدان میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالحمید اسماعیل زاہی نے جمعہ کے روز اپنے خطاب میں مُلک میں جاری حالیہ مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی عوام کی زندگی اور معاشی حالت شدید مُشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کو مظاہرین کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہم سب ایرانی ہیں۔ آج لوگ بھوک کا شکار ہیں اور بعض سرمایہ دار بھی سنگین مشکلات میں مبتلا ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ عوام کی آواز سنیں اور اُن کے مطالبات پر غور کریں۔‘

    مولوی عبدالحمید نے مُلک میں رائج کوپن سسٹم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی سکیمیں یا منصوبے کارآمد نہیں۔ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں، عوام کی راہ اور خواہش ہی معیار ہے، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے۔‘

    ایران کا ’کوپن سسٹم‘ ایک پرانا نظام ہے کہ جو وقتاً فوقتاً معاشی دباؤ اور پابندیوں کے دوران دوبارہ نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان (تیل، چینی، گوشت، چاول) اور ایندھن سبسڈی کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

  3. ’ایران کے اندرونی معاملے میں مداخلت خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کا باعث بنے گی،‘ علی لاریجانی کا امریکی صدر کے بیان پر ردعمل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@alilarijani_ir

    ،تصویر کا کیپشنعلی لاریجانی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکا کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان سے اب ’پسِ پردہ کہانی واضح ہو گئی ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ اس واقعے کا پس منظر واضح ہو گیا۔ ہم احتجاج کرنے والے تاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کے مترادف ہو گی۔‘

    لاریجانی نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ نے ایک مہم جوئی شروع کی ہے، اپنے فوجیوں کا خیال رکھیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایران میں مظاہروں کے معاملے پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر ایرانی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں نہ روکی گئیں اور ’مظاہرین کو قتل‘ کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو امریکا اُن (مظاہرین) کی ’مدد کے لیے آگے آئے گا۔‘

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر مزید کہا کہ’اگر ایران پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کرتا رہے گا اور انھیں قتل کرتا رہے گا، جیسا کہ اس کی روایت رہی ہے، تو امریکا اُن کی مدد کے لیے پہنچے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایران میں جاری مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا تھا ’ہم ان رپورٹس اور ویڈیوز پر گہری تشویش رکھتے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ ایران میں پُرامن مظاہرین کو دھمکیوں، تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بنیادی حقوق کا مطالبہ جرم نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو عوام کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور جبر ختم کرنا چاہیے۔‘

  4. ایران میں پانچ روز سے جاری مظاہروں اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران
    • ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے
    • مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں
    • ایران میں آزاد میڈیا کی عدم موجودگی اور میڈیا قدغنوں کے باعث بی بی سی آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ اور ہیومن رائٹس گروپ ’ ھنگاو‘ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ملک کے جنوب مغربی شہر ’لردگان‘ میں دو افراد، شہر ’ازنا‘ میں تین جبکہ شہر ’ کوهدشت‘ میں ایک شخص مظاہروں کے دوران ہلاک ہوا ہے
    • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار بھی ’کوہدشت‘ میں مارا گیا ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار اب تک زخمی ہو چکے ہیں
    • جمعرات کو سوشل میڈیا پر چند ایسی ویڈیوز بھی پوسٹ کی گئی جن میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ ہنگاموں کے دوران چند گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا
    • ان غیرمصدقہ ویڈیوز میں بہت سے مظاہرین ایران میں رہبر اعلیٰ کی حکمرانی کے خاتمے اور چند ملک میں ’بادشاہت‘ کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں
    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنایران میں پانچ روز سے جاری مظاہروں میں اب تک چھ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں
    • بی بی سی فارسی کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں جمعرات کو مرکزی شہر لردگان، دارالحکومت تہران اور جنوبی صوبہ فارس کے شہر مرودشت میں احتجاجی مظاہرے دکھائے گئے ہیں
    • بدھ کے روز ملک بھر میں سکول، یونیورسٹیاں اور عوامی ادارے بند رہے جبکہ جب حکام نے بظاہر بدامنی کو روکنے کی کوشش میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام بظاہر سرد موسم میں توانائی بچانے کے لیے کیا گیا تھا تاہم بہت سے ایرانیوں نے اسے احتجاج کو قابو پانے کی کوشش کے طور پر بیان کیا ہے
    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناِن مظاہروں کی ابتدا ایرانی کرنسی کی قدر میں بےتحاشہ کمی کے معاملے پر ہوئی اور اس دوران دکانیں اور مارکیٹیں بند کی گئیں
    • احتجاج کا آغاز پانچ روز قبل تہران میں ہوا، جہاں دکاندار ایرانی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں بے تحاشہ کمی پر برہم تھے۔ اگلے روز یعنی منگل کو یونیورسٹی کے طلبا بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور مظاہرے کئی شہروں تک پھیل گئے
    • یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے خلاف شروع ہونے والی بڑی احتجاجی تحریک کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ہیں
    • مزید کسی بگاڑ کو روکنے کے لیے اب تہران کے اُن علاقوں میں سخت سکیورٹی نافذ کی گئی ہے جہاں سے مظاہروں کا آغاز ہوا تھا
    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ کو سُنے گی تاہم ملک کے اٹارنی جنرل محمد موحدی‌آزاد نے خبردار کیا ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا سامنا ’فیصلہ کن ردعمل‘ سے دیا جائے گا
  5. اگر ایران نے اپنی روایت کے مطابق پُرامن مظاہرین کو قتل کیا تو امریکہ انھیں بچانے کے لیے آگے آئے گا: صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایرانی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں نہ روکی گئیں اور ’مظاہرین کو قتل‘ کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو امریکا ان کی ’مدد کے لیے آگے آئے گا۔‘

    امریکی صدر نے سوشل نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران میں مظاہروں سے متعلق اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ’اگر ایران پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کرتا رہے گا اور انھیں قتل کرتا رہے گا، جیسا کہ اس کی روایت ہے تو امریکا ان کی مدد کے لیے پہنچے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایران میں جاری مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا تھا ’ہم ان رپورٹس اور ویڈیوز پر گہری تشویش رکھتے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ ایران میں پُرامن مظاہرین کو دھمکیوں، تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بنیادی حقوق کا مطالبہ جرم نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو عوام کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور جبر ختم کرنا چاہیے۔‘

    Fararu

    ،تصویر کا ذریعہFararu

    واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے پانچویں روز مزید دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس اور انسانی حقوق کی تنظیم ہنگاو کے مطابق جنوب مغربی شہر لوردگان میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے۔ فارس نے مزید بتایا کہ مغربی علاقوں میں ازنا میں تین اور کوہداشت میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

    کئی مظاہرین نے ملک کے سپریم لیڈر کی حکمرانی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بعض نے بادشاہت کی واپسی کے لیے بھی آواز بلند کی ہے۔

    ilna

    ،تصویر کا ذریعہilna

    تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ کو سننے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ عوامی آواز کو اہمیت دی جائے گی۔

    دوسری جانب ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد موحدی‌آزاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر کوئی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے ملک کے کئی شہروں میں مسلسل جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ مظاہرے تاجروں اور دکانداروں کے احتجاج سے تب شروع ہوئے تھے کہ جب کئی دکانیں تہران اور دیگر شہروں میں بند کر دی گئیں تھیں۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ فروخت کے بعد انھیں وہی سامان زیادہ قیمت پر دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔

  6. نو مئی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، صابر شاکر، معید پیرزادہ سمیت دیگر کو دو دو بار عمر قید کی سزا

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزام میں صحافی اور یو ٹیوبر صابر شاکر، عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، معید پیرزادہ سمیت دیگر ملزمان کو دو دو بار عمر قید اور لاکھوں کے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    جمعے کے روز عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے پر پہلے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائی۔

    اپنے فیصلے میں عدالت نے ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔

    یاد رہے کہ یہ مقدمہ نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں کے خلاف کی گئی ڈیجیٹل دہشتگردی سے متعلق تھا جس میں ملزمان نے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک کی سلامتی اور عوامی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

    پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کے مقدمہ میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صبہائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔

    عدالت نے پراسیکوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔

    اس مقدمے میں پراسکیوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی جبکہ ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    گلفام گورائیہ ایڈوکیٹ کو عدالت کیجانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

  7. پاکستان سٹاک ایکسچینج مین تیزی ، انڈیکس 179000 کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 2300 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس کے 177000 ، 178000 اور 179000 کی حد عبور کر لی۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے دوران انڈیکس 179016 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا جو اس کی بلند ترین سطح ہے۔

    انڈیکس کاروبار کے آغاز پر مثبت زون میں اوپن کیا۔

    مارکیٹ میں سب سے زیادہ تیزی تیل و گیس کے شعبے کی کمپنیوں میں دیکھی گئی۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تیل و گیس کے شعبے میں تیزی کی وجہ گذشتہ روز ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہے جب ائل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’تیل وگیس کمپنیوں کا انڈیکس میں بڑا حصہ ہے اس لیے ان کے حصص کی خرید وفروخت انڈیکس میں کافی رد و بدل کرتی ہے۔ آج ان کے حصص کی خریداری کے رجحان کی وجہ سے انڈیکس کافی زیادہ بڑھا ہے۔‘

    جبران سرفرازنے کہا ’اس کے علاوہ دسمبر میں مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار بھی جاری ہو چکے ہیں جس کے مطابق مہنگائی کنٹرول میں ہے جس کا بھی مارکیٹ پر مثبت اثر ہوا۔‘

  8. ایران میں احتجاج کے پانچویں دن مزید کشیدگی اور ہلاکتوں کی اطلاع

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پانچویں دن کے احتجاجی مظاہروں میں مزید جانوں کا نقصان ہونے کے اطلاعات ہیں۔

    نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگاو، دونوں نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لارڈیگن میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    فارس نے رپورٹ کیا کہ ازنا میں مزید تین اور کوہدشت میں ایک اور شخص ہلاک ہوا، یہ سب ملک کے مغرب میں ہیں۔

    جمعرات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔بہت سے مظاہرین نے ملک کے سپریم لیڈر کی حکمرانی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کچھ نے بادشاہت کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    ملک بھر میں احتجاج کے پانچویں دن، کرنسی کے زوال سے شروع ہونے والی بدامنی کی مزید رپورٹس آئیں۔

    بی بی سی فارسی کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں جمعرات کو مرکزی شہر لارڈیگن، دارالحکومت تہران اور جنوبی فارس صوبے کے مرودشت میں مظاہرے دکھائے گئے ہیں۔

    فارس نے رپورٹ کیا کہ ایک اہلکارکے مطابق لارڈیگن میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین تھے یا سکیورٹی فورسز کے ارکان۔ اس نے پڑوسی صوبہ لرستان کے ازنا میں تین ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی تاہم ان کی بھی شناخت نہیں بتائی گئی۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے کہا کہ لارڈیگن میں مارے گئے دو افراد مظاہرین تھے، اور ان کے نام احمد جلیل اور سجاد ولامنش کے طور پر بتائے گئے۔ بی بی سی فارسی آزادانہ طور پر اموات کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    ایک دوسرے واقعے میں سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران کے پادارانِ انقلاب کا ایک رکن بدھ کی رات مغربی صوبہ لرستان کے شہر کوہدشت میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گیا۔

    بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرنے والا شخص ان میں سے ایک تھا اور سکیورٹی فورسز نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مزید 13 پولیس افسران اور بسیج کے ارکان پتھر پھینکنے سے زخمی ہوئے۔ بدھ کے روز ملک بھر میں سکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کر دیے گئے جب حکام نے بظاہر بدامنی کو دبانے کی کوشش میں بینک ہالیڈے کا اعلان کیا۔

    یہ بظاہر سرد موسم کی وجہ سے توانائی بچانے کے لیے تھا، اگرچہ بہت سے ایرانیوں نے اسے احتجاج کو روکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ احتجاج کا آعاز تہران میں ان دکانداروں نے کیا جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی پر ناراض تھے۔

  9. پی ٹی آئی کے رہنما شہزاد اکبر کا ایک ہفتے میں خود پر دوسری مرتبہ سنگین حملے کا الزام، حکومتِ برطانیہ سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا ہے کہ انگلینڈ میں ان کی املاک کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ 31 دسمبر کی شام میری رہائش کو کیمبرج شائر، انگلینڈ میں ایک جان بوجھ کر اور ہدف شدہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد سنگین نقصان پہنچانا تھا۔ ملزمان نے جائیداد کو مجرمانہ طور پر نقصان پہنچایا اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی، جس سے فوری طور پر جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’یہ ایک ہفتے کے اندر میرے گھر، مجھ اور میرے خاندان پر دوسرا سنگین حملہ ہے، جو واضح طور پر بدنیتی کے ارادے سے کیا گیا۔‘

    ان کا الزام تھا کہ ’یہ الگ تھلگ یا بے ترتیب واقعات نہیں ہیں۔ مجھے 24 دسمبر کو ایک ہدف شدہ حملے میں جسمانی طور پر مارا گیا، جس کے نتیجے میں مجھے شدید چوٹیں آئیں۔‘

    انھوں نے تفصیلی پوسٹ میں بتایا کہ ’برطانوی حکام دونوں واقعات کی فعال تحقیقات کر رہے ہیں، جنہیں ہدفی حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے برطانوی حکام سے اپیل کی کہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تمام دستیاب اختیارات اور وسائل استعمال کریں تاکہ ان کا ملک سب کے لیے محفوظ رہے، ’خاص طور پر سیاسی مخالفین اور ان افراد کے لیے جو ظلم و ستم کے خطرے میں ہیں۔‘

    مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر دو پاکستانی شہریوں عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو ’وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پراپیگنڈا کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے۔‘

    اس وقت بھی مرزا شہزاد اکبر نے برطانوی حکومت اور ہائی کمشنر سے درخواست کی تھی کہ انھیں یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے ان کے خلاف ’بدترین کارروائیاں‘ کی گئی ہیں اور ’پاکستان میں میرے کچھ اہلخانہ کو بھی اغوا‘ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیرقانونی پناہ گزینوں اور مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ کوئی باقاعدہ ’ایکسٹراڈیشن ٹریٹی‘ نہیں۔ سنہ 2022 میں پاکستان اور برطانیہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی کی جا سکتی ہے۔ تاہم برطانیہ میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی برطانیہ سے باقاعدہ پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

  10. سوئٹزر لینڈ کے شراب خانے میں آتشزدگی ’کوئی حملہ نہیں تھا‘

    سوئٹزر لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوئٹزر لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ تاحال آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں کسی حملے یا دھماکے کے نتیجے میں آگ نہیں لگی تھی۔

    اب تک حکام کو یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ بار میں کتنے لوگ موجود تھے جب آتشزدگی ہوئی۔

    اٹارنی جنرل بیٹرس پیلوڈ سے پریس کانفرنس کے دوران ان قیاس آرائیوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا کہ آیا آتشزدگی شیمپین کی بوتلوں پر آگ لگانے سے ہوئی۔ بعض عینی شاہدین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شیمپین کی بوتلوں پر سالگرہ کی موم بتیاں جلائی گئی تھیں جس سے چھت پر آگ لگنا شروع ہوئی۔

    جبکہ بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ شراب خانے کی سیڑھیاں بہت تنگ تھی جس کی وجہ سے وہاں سے نکلنے میں مشکلات ہوئیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ تحقیقات جاری ہے لہذا وہ کسی افواہ کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں یہ علم نہیں کہ شراب خانے کے مالکان کا تعلق کس ملک سے تھا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ شراب خانے کی سیڑھیاں بظاہر تنگ ہیں لیکن تفتیش کار یہ جائزہ لیں گے کہ آیا یہ عمارت قواعد و ضوابط کے مطابق تھی۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • سوئٹزر لینڈ میں حکام کے مطابق نئے سال کے موقع پر سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی سے قریب 40 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے صدر گائے پرملن کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ملکی تاریخ کے ’بدترین سانحوں میں سے ایک ہے‘
    • ایران میں چار روز سے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران تصادم میں پاسدران انقلاب کے ایک اہلکار کی ہلاکت ہوئی جبکہ 13 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
    • مغربی افریقہ کے ممالک مالی اور برکینا فاسو نے امریکی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دونوں ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے جواب میں کیا گیا ہے۔
    • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے دفاعی اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال اپنی تربیت یافتہ سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا۔اس عرصے کے دوران ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکاروں نے بھی سکیورٹی، جرائم کی روک تھام، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں تربیت مکمل کی۔