’امریکہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا‘: روبیو کا بیان، مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مدورو سے بھی زیادہ۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
  • وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔
  • چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا 'ریاستی دہشت گردی' اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے 'خطے پر تشویشناک اثرات' مرتب ہو سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. وینزویلا امریکی حملوں کے بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات اکٹھی کر رہا ہے: وزیرِ دفاع, ایون ویلز، نمائندہ بی بی سی برائے جنوبی امریکہ

    وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس پر آج صبح ہونے والے امریکی حملوں کے بارے میں اب بھی کئی سوالات باقی ہیں۔

    فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کیا ہے؟ اور ان حملوں میں جانی نقصان کتنا ہوا ہے؟

    وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے کہا ہے کہ حکومت ان حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    وینزویلا کے وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا ’غیر ملکی فوجی دستوں کی موجودگی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔‘

  2. امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور اہلیہ کو حراست میں لیا، حکام کا دعویٰ

    وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کو امریکی حکام کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے اپنی حراست میں لیا ہے۔

    ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے، جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔

  3. تصاویر: وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس پر امریکی حملے کے بعد کے مناظر

    وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں دھماکوں کی متعدد آوازیں سُنی گئی ہیں جبکہ چند مقامات پر آگ بھڑکتی نظر آ رہی ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  4. ’صدر مادورو کے پکڑے جانے سے متعلق تفصیلات تاحال مبہم ہیں‘, آیون ویلز، نمائندہ بی بی سی برائے مغربی امریکہ

    امریکہ طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح پر منشیات سمگلنگ کرنے والی مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم صدر مادورو نے ہمیشہ اِن الزامات کی تردید کی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت نہیں کی کہ صدر مادورو کو کس طرح حراست میں لیا گیا یا پکڑے جانے کے بعد انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

    وینزویلا کی حکومت نے ابھی تک ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    اس سے قبل امریکہ نے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

    خطے میں گذشتہ چند ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کو اس انعام کے اعلان کے ساتھ ملا کر اس طرح سمجھا گیا کہ شاید کسی اندرونی شخص کو مادورو کے خلاف اقدام کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مزید کہا ہے کہ آج صبح 11 بجے (امریکی وقت کے مطابق) فلوریڈا میں ان کی رہائش گاہ مار اے لاگو پر پریس کانفرنس ہو گی۔

  5. امریکہ نے وینزویلا کے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر کے بیرون ملک منتقل کر دیا

    صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوینزویلا کے صدر اپنے اہلیہ کے ہمراہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔ آج صبح 11 بجے مار اے لاگو میں پریس کانفرنس ہو گی۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘

    یہ اعلان امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں فراہم کی جائیں گی۔

  6. بریکنگ, دھماکے کی آواز بہت گونج دار تھی، گھر لزرنے لگا، دھماکے کی عینی شاہد, آیون ویلز، بی بی سی نیوز

    کاراکس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے اپنی کھڑکی سے دھماکے کا منظر دیکھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز بہت گونج دار جس سے ان کا گھر لرزنے لگا۔ وینیسہ نے بتایا کہ کاراکس ایک وادی میں واقع ہے، اس لیے آواز پورے شہر میں گونجتی رہی۔

    ’میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میں خوفزدہ تھی کہ دھماکے بہت قریب محسوس ہو رہے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب شہر میں خاموشی ہے، لیکن لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔

    ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انھوں نے آسمان سے کچھ گرتے دیکھا اور دس سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔

  7. کاراکس میں بجلی منقطع، شہر کے اوپر طیاروں کے پرواز کی غیر مصدقہ اطلاعات, ول گرانٹ، وسطی امریکہ اور کیوبا کے نمائندے

    کاراکس کے کئی مقامات پر ایک ہی وقت میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کاراکس کے کئی مقامات پر ایک ہی وقت میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

    لا کارلوتا، جو شہر کے مرکز میں ایک فوجی ہوائی اڈہ ہے اور فورٹے تیونا کا مرکزی فوجی اڈہ متاثر ہونے والے مقامات میں شامل ہے۔

    سوشل میڈیا پر بظاہر ان دونوں جگہ پر دھماکوں کی ویڈیو گردش کر رہی ہیں۔

    آس پاس کی کئی کمیونٹیز بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ شہر کے اوپر طیاروں کے پرواز کی غیر مصدقہ اطلاعات موجود ہیں۔

    یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے کیونکہ واشنگٹن کیریبین میں مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی سپیڈ بوٹس پر فوجی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو غیر قانونی طور پر منتخب کیا گیا اور وہ ذاتی طور پر ملک میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

    وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے حالیہ اقدامات جن میں منظور شدہ تیل کے ٹینکروں کی ضبطی بھی شامل ہے، صدر مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

  8. بریکنگ, وینیزویلا میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ کا نفاذ

    وینیزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینیزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    وینیزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینیزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔

  9. بریکنگ, امریکی حملہ جارحیت، بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتے ہیں: وینزویلا حکومت کا بیان

    وینزویلا پر حملے کی اطلاعات کے بعد اب وہاں کی حکومت کا سرکاری بیان آیا ہے جس میں حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری بیان کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتا ہے۔‘

  10. بریکنگ, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وینیزویلا پر حملے کا حکم : امریکی میڈیا

    وینیزویلا پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا پر حملے کا حکم دے دیا ہے۔

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا کی فوجی تنصیبات سمیت مختلف مقامات پر حملے کا حکم دیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں آج صبح دھماکوں اور طیاروں کی موجودگی کی اطلاعات ملی ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

    امریکی صدر نے وینیزویلا پر منشیات کی سمگلنگ اور جرائم کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔

  11. پاکستان کی فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا: آئی ایس پی آر

    پاکستان کی فضائی فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر سے جاری اعلامیے کےمطابق ’تیمور ائیر لانچڈ کروز میزائل 600 کلومیٹر تک زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت، دشمن کے ائیر اور میزائل ڈیفنس سسٹمزکو چکمہ دینے میں مؤثر ہے جب کہ تیمور کروز میزائل جدید نیوی گیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک افواج کے سینئر افسران اور سائنسدانوں نے کیا جب کہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سائنسدانوں اور انجنیئرز کو مبارکباد دی۔

    دوسری جانب صدرِ مملکت نے پاک فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

  12. ایران میں احتجاج اور حکومت مخالف مظاہرے، کسی کو بدسلوکی کی اجازت نہیں دیں گے: ایرانی پولیس

    ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہUGC

    ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ آج چھٹے بھی جاری ہے اور ایک ہفتے سے جاری اس احتجاج میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبہ لرستان کے شہر ازنا اور ڈیلفان میں متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان کے چیف جسٹس سعید شہواری نے ان علاقوں کے چیف جسٹسز اور پبلک اور انقلابی پراسیکیوٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فسادات پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں۔

    ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ چھ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔

    ’بدسلوکی اور عدم تحفظ کی اجازت نہیں دی جائے گی‘: ایرانی پولیس

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی مدد اور مداخلت کے انتباہ کے باوجود وہ حکومت مخالف مظاہرین پر دباؤ جاری رکھیں گے۔

    ایران کی قومی سلامتی کمان کے ترجمان سعید منتظر المہدی نے کہا کہ پولیس شہری احتجاج کو عدم تحفظ اور افراتفری میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    جمعرات کو جھڑپوں اور ہلاکتوں کا مشاہدہ کرنے والے لرستان کے علاقے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر قانونی مظاہروں سے پوری شدت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

    یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف یہ مظاہرے ایک ہفتے سے جاری ہیں جس نے ایران کے کئی شہروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مداخلت سے علاقائی انتشار پھیلے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق احتجاج میں شریک مظاہرین نے گزشتہ رات صبح تک سڑکوں پر گزاری۔

    ایران مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز سے لگتا ہے کہ گزشتہ رات تہران کے کئی علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

    ان تصاویر کے مطابق اصفہان میں مظاہرین نے پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کا بینر جلا دیا۔

    تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کے وقت اور مقام کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز تک ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار بھی ’کوہدشت‘ میں مارا گیا ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار اب تک زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایران میں حتجاج کا آغاز چھ روز قبل تہران میں ہوا جہاں دکاندار ایرانی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں بے تحاشہ کمی پر برہم تھے۔

    اگلے روز یعنی منگل کو یونیورسٹی کے طلبا بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور مظاہرے کئی شہروں تک پھیل گئے۔ یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے خلاف شروع ہونے والی بڑی احتجاجی تحریک کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ہیں۔

  13. برآمدات میں کمی کے بعد پاکستان کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اس عرصے میں تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 34.6 فیصد بڑھ کر 19 ارب 20 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ عرصے کے دوران درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات 8.7 فیصد کمی کے بعد 15 ارب 18 کروڑ ڈالر رہیں۔

    دسمبر کے مہینے میں تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23.8 فیصد بڑھ کر 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ برآمدات میں نمایاں کمی اور درآمدات میں اضافہ رہا۔

    دسمبر 2025 میں پاکستان کی برآمدات میں ایک سال پہلے کے اسی مہینے کے مقابلے میں 20.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گھٹ کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔

    اس کے برعکس درآمدات میں دو فیصد اضافہ ہوا اور وہ بڑھ کر چھ ارب 2 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

  14. ایران میں ’آٹھ مظاہرین‘ کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    ایران مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران آٹھ مظاہرین کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اقوام متحدہ کی نمائندہ مائی ساتو کا کہنا ہے کہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے چھٹے روز میں داخل ہو گئے ہیں اور اس صورت حال پر ادارہ گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    ان کے مطابق ’موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بڑھ گئی ہیں۔

    انھوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور پرامن اجتماع کے حقوق کا احترام کریں اور مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔

    مائی ساتو کے بیان کے مطابق آزادی کی تحریک کے دوران جو پرتشدد ردعمل دیکھنے میں آیا اسےدہرانا نہیں چاہیے۔’لوگوں کو اپنے اختلاف کا اظہار کرنے اور انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر پرامن احتجاج میں حصہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

  15. ٹرمپ کے بیانات ’مداخلت پسندانہ‘ ہیں: ایران کے اقوامِ متحدہ میں نمائندے امیر سعید ایرانی کا انتونیو گوتیرس کو خط

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو فوری خط لکھا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مداخلت پسند قرار دیا ہے۔

    خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں ایران کے خلاف ’مسلسل دباؤ اور مداخلت کے ایک واضح نمونے‘ کی عکاس ہیں جنھیں ایرانی عوام کی حمایت کے بہانے جاری رکھا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر موجود خط کے عکس کے مطابق ’کسی دوسرے ملک کے اندر براندازانہ یا پرتشدد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی یا حمایت بین الاقوامی قانون کے تحت ایک غیرقانونی عمل ہے اور اس کی ذمہ دار مداخلت کرنے والی ریاست قرار پاتی ہے۔

    ایران کے نمائندے نے زور دیا کہ ’ایسی دھمکیاں، چاہے کسی بھی سیاسی جواز کے تحت دی جائیں، بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہیں۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ یا فوجی مداخلت کے بہانے اندرونی بدامنی کو بھڑکانا، حوصلہ افزائی کرنا یا اسے قانونی حیثیت دینے کی کوئی بھی کوشش اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف کئئ روز سے جاری مظاہروں کے بعد جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران ’پُرامن مظاہرین کو قتل کرے گا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔‘

    تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا تھا۔

    ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا ۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں۔

  16. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    سنیچر کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے آئیے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

    • انڈین حکومت نے ’فحش اور قابلِ اعتراض‘ مواد کی تیاری اور اشاعت پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ انڈیا کی وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ ’یہ وقتاً فوقتاً رپورٹ کیا گیا ہے کہ آپ کے پلیٹ فارم پر گردش کرنے والا کچھ مواد شائستگی اور فحاشی سے متعلق قوانین کی پیروی نہیں کر رہا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایرانی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں نہ روکی گئیں اور ’مظاہرین کو قتل‘ کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو امریکا ان کی ’مدد کے لیے آگے آئے گا۔‘
    • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکا کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا ہے۔
    • اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزام میں صحافی اور یو ٹیوبر صابر شاکر، عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، معید پیرزادہ سمیت دیگر ملزمان کو دو دو بار عمر قید اور لاکھوں کے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا ہے کہ انگلینڈ میں ان کی املاک کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔
    • سوئٹزر لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ تاحال آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں کسی حملے یا دھماکے کے نتیجے میں آگ نہیں لگی تھی۔
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 2300 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس کے 177000 ، 178000 اور 179000 کی حد عبور کر لی۔
  17. گروک کے ذریعے خواتین کی فحش تصاویر بنانے پر تنازع، انڈین حکومت کا ایکس سے فوری کارروائی کا مطالبہ

    گروک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین حکومت نے ’فحش اور قابلِ اعتراض‘ مواد کی تیاری اور اشاعت پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو نوٹس جاری کیا ہے۔

    انڈیا کی وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ ’یہ وقتاً فوقتاً رپورٹ کیا گیا ہے کہ آپ کے پلیٹ فارم پر گردش کرنے والا کچھ مواد شائستگی اور فحاشی سے متعلق قوانین کی پیروی نہیں کر رہا۔‘

    خط میں مزید کہا گیا کہ ’یہ دیکھا گیا ہے کہ صارفین گروک اے آئی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ صارفین جعلی اکاؤنٹس بنا کر خواتین کو بدنام کرنے کے لیے ان کی جنسی نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز تیار، شائع اور شیئر کر رہے ہیں۔‘

    ’یہ چیزیں پلیٹ فارم کی سطح پر سکیورٹی اقدامات اور نفاذ کے طریقہ کار میں سنگین ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ قوانین کی خلاف ورزی اور مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال ہے۔‘

    وزارت نے ایکس انڈیا کو اس حوالے سے فوری کارروائی کرنے اور حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    اس سے قبل شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی نے آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کو اس حوالے سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھا تھا۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’سوشل میڈیا پر خواتین کی قابلِ اعتراض اور فحش تصاویر ان کی اجازت کے بغیر اے آئی ایپس کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں۔ میں نے ایسے بڑھتے واقعات پر معزز آئی ٹی وزیر کی فوری توجہ اور مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔‘

    ’گروک جیسی سہولیات میں ایسے حفاظتی اقدامات ہونے چاہییں جو خواتین کی عزتِ نفس کو پامال نہ کریں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ اور میری خواہش ہے کہ ایسے کاموں میں ملوث مردوں کو گھروں اور سکولوں میں بہتر تعلیم اور تربیت دی جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر اس طرح کے بیمار اور بگڑے ہوئے رویے میں ملوث نہ ہوں۔‘

  18. اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے شیئر کی ایرانی احتجاج کی تصویر جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایڈٹ کی گئی, بی بی سی ویریفائی

    ایران

    بی بی سی ویریفائی نے حالیہ دنوں میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کو جمع کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

    حالیہ مظاہروں کے دوران پیش آنے والے حقیقی واقعات کی کچھ تصاویر ایسی بھی سامنے آئی ہیں، جو بظاہر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تبدیل کی گئی ہیں اور انھیں آن لائن پھیلایا جا رہا ہے۔

    ایک تصویر، جو کل اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی، میں ایک پولیس اہلکار کو دو افراد پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گوگل کے SynthID اے آئی واٹرمارک ڈیٹیکٹر نے بتایا کہ یہ تصویر گوگل اے آئی کے ذریعے تیار یا ایڈیٹ کی گئی ہے۔

    یہ تصویر ایران کے شہر ہمدان کی ایک تصدیق شدہ فوٹیج پر مبنی ہے، جس میں پولیس کی واٹر کینن گاڑی کو سڑک پر مظاہرین پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    اے آئی سے تبدیل شدہ ورژن میں ایک پولیس اہلکار کو قریب سے پائپ کے ذریعے دو افراد پر براہِ راست پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے اس بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

  19. تصدیق شدہ ویڈیوز میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا, تھامس کوپلینڈ، شایان سردارزاده اور غنچہ حبیبیی زاد، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی نے حالیہ دنوں میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کو جمع کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

    ایک ویڈیو، جس کے بارے میں تصدیق ہوئی کہ وہ ایران کے جنوبی شہر ’فسا‘ کی ہے، میں دو پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ ویڈیو شہر کے مرکزی علاقے کی ایک بڑی سڑک پر بنائی گئی تھی جس میں اہلکاروں کو پمپ ایکشن شاٹ گنز سے مجموعی طور پر سات مرتبہ فائر کرتے دکھایا گیا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہX

    فسا سے تقریباً 700 کلومیٹر دور مغربی شہر کوہ‌دشت میں جمعرات کو اسی نوعیت کی ایک اور ویڈیو کی تصدیق ہوئی، جس میں ایرانی پولیس کے اہلکاروں کو فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہX

    تیسری ویڈیو، جو کل پوسٹ کی گئی اور جغرافیائی لحاظ سے لوردگان شہر کی ہے، میں ماسک پہنے مظاہرین کو ایک سرکاری عمارت کے باہر جمع دکھایا گیا ہے۔ پس منظر میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جبکہ ایک شخص چیختا ہے کہ ’وہ فائرنگ کر رہے ہیں۔‘

    ریورس امیج سرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز رواں ہفتے سے پہلے آن لائن موجود نہیں تھیں۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہX

  20. امریکا کے ایرانی عوام سے ہمدردی کے دعوے اُس کے تاریخی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    MEHR

    ،تصویر کا ذریعہMEHR

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مظاہرین کی حمایت میں سامنے آنے والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکا کے ایرانی عوام سے ہمدردی کے دعوے اس کے تاریخی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘

    انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کُچھ پرانے واقعات کا ذکر کیا انھوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے 19 مرداد 1953 کو ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی، سنہ 1988 میں ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا اور بے گناہ خواتین و بچوں کو قتل کیا، اور 8 سالہ جنگ میں صدام حسین کی مکمل حمایت کی۔‘ اب وہ ’ایرانی عوام سے ہمدردی‘ کے بہانے حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آپس کی بات چیت اور ان کے حل کے لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران ’پُرامن مظاہرین کو قتل کرے گا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔‘

    تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ اس واقعے کا پس منظر واضح ہو گیا۔ ہم احتجاج کرنے والے تاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کے مترادف ہو گی۔‘