ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ آج چھٹے بھی جاری ہے اور ایک ہفتے سے جاری اس احتجاج میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
بی بی سی فارسی نے ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبہ لرستان کے شہر ازنا اور ڈیلفان میں متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان کے چیف جسٹس سعید شہواری نے ان علاقوں کے چیف جسٹسز اور پبلک اور انقلابی پراسیکیوٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فسادات پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں۔
ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ چھ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔
’بدسلوکی اور عدم تحفظ کی اجازت نہیں دی جائے گی‘: ایرانی پولیس
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی مدد اور مداخلت کے انتباہ کے باوجود وہ حکومت مخالف مظاہرین پر دباؤ جاری رکھیں گے۔
ایران کی قومی سلامتی کمان کے ترجمان سعید منتظر المہدی نے کہا کہ پولیس شہری احتجاج کو عدم تحفظ اور افراتفری میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
جمعرات کو جھڑپوں اور ہلاکتوں کا مشاہدہ کرنے والے لرستان کے علاقے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر قانونی مظاہروں سے پوری شدت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف یہ مظاہرے ایک ہفتے سے جاری ہیں جس نے ایران کے کئی شہروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مداخلت سے علاقائی انتشار پھیلے گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق احتجاج میں شریک مظاہرین نے گزشتہ رات صبح تک سڑکوں پر گزاری۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز سے لگتا ہے کہ گزشتہ رات تہران کے کئی علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔
ان تصاویر کے مطابق اصفہان میں مظاہرین نے پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کا بینر جلا دیا۔
تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کے وقت اور مقام کی تصدیق نہیں کر سکا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز تک ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار بھی ’کوہدشت‘ میں مارا گیا ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار اب تک زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران میں حتجاج کا آغاز چھ روز قبل تہران میں ہوا جہاں دکاندار ایرانی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں بے تحاشہ کمی پر برہم تھے۔
اگلے روز یعنی منگل کو یونیورسٹی کے طلبا بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور مظاہرے کئی شہروں تک پھیل گئے۔ یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے خلاف شروع ہونے والی بڑی احتجاجی تحریک کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ہیں۔