آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امریکہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا‘: روبیو کا بیان، مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مدورو سے بھی زیادہ۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
  • وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔
  • چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا 'ریاستی دہشت گردی' اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے 'خطے پر تشویشناک اثرات' مرتب ہو سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. وینیزویلا کی فوجی تنصیب ’فورٹے تیونا‘ کی سٹیلائیٹ تصاویر کا موازنہ: بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی نے امریکی حملوں کے بعد وینیزویلا کی فوجی تنصیب فورٹے تیونا کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ وانتور کی جانب سے لی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر سے کیا ہے۔ یہ تصاویر وینیزویلا کے ایک اہم فوجی کمپلیکس کی کئی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر کرتی ہیں۔

    پہلے اور بعد کی یہ تصاویر دارالحکومت کاراکس میں واقع فورٹے تیونا کمپلیکس کا 22 دسمبر اور آج کا فضائی موازنہ پیش کررہی ہیں ۔

    کمپلیکس کے اندر کم ازکم چھ جگہ عمارات کے ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    ایک تصویر میں جو عمارت کے شمالی حصے کو دکھاتی ہے، سرخ چھتوں والی ایک بڑی عمارت سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے جبکہ اس کے جنوب میں تین چھوٹی عمارتیں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

    یہ مناظر آپ نیچے دی گئی تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ فورٹے تیونا وینیزویلا کی سب سے بڑی فوجی تنصیبات میں سے ایک ہے اور یہاں ملک کے دفاع کی نگرانی کے ذمہ دار کئی اہم ادارے موجود ہیں۔

    بی بی سی ویری فائی امریکی فوج کی جانب سے نشانہ بنائے گئے مقامات کی مزید سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کر رہا ہے۔

  2. یکطرفہ طور پر کسی خودمختار ملک پر حملہ کرنا جنگی اقدام ہے: نیویارک کے میئر زہران ممدانی

    نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑنے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور ان کی نیویارک سٹی میں فیڈرل حراست میں مجوزہ قید کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلین، نیویارک کے فیڈرل ادارے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا جا رہا ہے۔

    زہران ممدانی نے اس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یکطرفہ طور پر کسی خودمختار ملک پر حملہ کرنا جنگی اقدام ہے اور یہ وفاقی و بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ریجیم چینج کی یہ کھلی کوشش صرف بیرونِ ملک کے لوگوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ براہِ راست نیویارک کے شہریوں کو بھی متاثر کرتی ہے جن میں وہ ہزاروں وینیزویلین شامل ہیں جو اس شہر کو اپنا گھر کہتے ہیں۔‘

    زہران ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید لکھا کہ ’میری ترجیح ان کی حفاظت اور نیویارک کے ہر شہری کی حفاظت ہے۔ میری انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے گی اور ضرورت کے مطابق رہنمائی جاری کرے گی۔‘

    یاد رہے کہ امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے پر قرآن پر حلف اٹھانے والے پہلے نیو یارک سٹی کے میئر ہیں۔

    امریکہ میں نوجوان سیاستدان زہران ممدانی نہ صرف نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے تھے بلکہ وہ امریکی ووٹروں میں بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرتے اور سیکولر شناخت بناتے بھی نظر آئے۔

  3. امریکہ کے وینیزویلا پر حملے کے بعد اب کاراکس کے مناظر کیا ہیں

    امریکہ کے وینیزویلا پر حملے کے بعد آج ہم وہاں نہ صرف خالی سڑکیں دیکھ رہے ہیں بلکہ دوسری جانب شہری دکانوں کے بار راشن اور دیگر اشیا کی خریداری کے لیے ہجوم کی صورت میں اکھٹا ہیں۔

    غیر یقینی صورتحال کے درمیان لوگ سپر مارکیٹوں اور دکانوں پر قطار میں کھڑے ہو کر کھانے پینے کی اشیا کی خریداری میں جمع ہیں۔

    دوسری جانب کئی مقامات پر حکومت کے حامی صدر مادورو کی واپسی کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج بھی کرتے رہے۔

  4. اقوامِ متحدہ کا امریکہ کی وینیزویلا میں کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل کے ’خطے پر تشویشناک اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’وینیزویلا کی صورتحال سے قطع نظر یہ پیش رفت ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام تمام ممالک کی جانب سے ہونا چاہیے۔ انھیں گہری تشویش ہے کہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام نہیں کیا گیا۔‘

    انتونیو گوتریس کے ترجمان نے بیان میں وینیزویلا پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے احترام کے ساتھ ’جامع مکالمے‘ میں شامل ہو۔

    یاد رہے کہ کولمبیا نے روس اور چین کی حمایت کے ساتھ پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

  5. وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک پہنچا دیا گیا: امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا میں نشر ہونے والی رپورٹس کے مطابق وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں سے انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن کے ویسٹ سائیڈ ہیلی پورٹ لے جایا جائے گا اور پھر امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا جائے گا۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مادورو کو بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر (ایم ڈی سی) لے جایا جائے گا تاہم بی بی سی اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    یہ بھی توقع ہے کہ انھیں اگلے ہفتے مین ہٹن کی فیڈرل کورٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں وہ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا کریں گے۔

    یاد رہے کہ بدنام زمانہ جیل، جسے عام طور پر ایم ڈی سی کہا جاتا ہے، کئی ہائی پروفائل مقدمات کے حوالے سے مشہور ہے۔

    وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو ممکنہ طور پر منتقل کیے جانے کے دوران تین ہیلی کاپٹر ہڈسن دریا کے اوپر سے گزرے اور نیویارک ہاربر میں سٹیچو آف لبرٹی کے قریب سے گزرے۔

  6. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔ خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے اہم نکات پیش خدمت ہیں۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ’وینیزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوزنے سنیچر کی دوپہر خبر دی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی فوجی تنصیبات سمیت مختلف مقامات پر حملے کا حکم دیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ وینیزویلا پر دوسرا اور ’کہیں بڑا‘ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
    • صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔
    • ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑ لیا گیا ہے اور وہ امریکہ میں فوجداری الزامات پر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ یہ تصدیق سینیٹر مائیک کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد سامنے آئی ہے۔
    • امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینیزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ وینیزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینیزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔
    • پاکستان کی فضائی فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے۔آئی ایس پی آر سے جاری اعلامیے کےمطابق ’تیمور ائیر لانچڈ کروز میزائل 600 کلومیٹر تک زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
    • ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ آج چھٹے بھی جاری رہا اور ایک ہفتے سے جاری اس احتجاج میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
  7. وینیزویلا میں ایک واضح حکومت موجود ہے: نائب صدر ڈیلسی روڈریگز

    وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے چند لمحے قبل سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ملک پر ہونے والی ’مسلح جارحیت‘ کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی دفاعی کونسل کو ’فعال‘ کر دیا گیا ہے۔

    روڈریگز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید ردعمل آئندہ چند گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

    انھوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے مُلک وینیزویلا میں ہمارے لوگوں کے لیے یہاں ایک واضح حکومتی نظام موجود ہے۔‘ ساتھ ہی انھوں نے زور دیا کہ وینیزویلا باوقار اور قانونی مکالمے کے لیے تیار ہے۔

  8. بریکنگ, مادورو ہی وینیزویلا کے واحد صدر ہیں: نائب صدر ڈیلسی روڈریگز

    وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نکولس مادورو ہی وینیزویلا کے واحد صدر ہیں۔‘

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد روڈریگز نے ملک کی نئی سربراہ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔

    روڈریگز نے کہا کہ حکومت وینیزویلا کے دفاع کے لیے تیار ہے، جبکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ملک کو ’چلائے گا۔‘

    انھوں نے عوام سے پرسکون رہنے اور اتحاد قائم رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔

  9. یورپی رہنماؤں کا وینیزویلا آپریشن پر ردعمل

    برطانیہ: وزیرِاعظم کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھا اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ مزید تبصرہ کرنے سے پہلے ’حقائق جاننے کے لیے‘امریکی صدر ٹرمپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

    فرانس: صدر ایمانوئل میکرون نے مادورو کے سنہ 2024 کے مخالف امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کو ’صدر‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ’پرامن اور جمہوری‘ انتقالِ اقتدار کی نگرانی کریں۔

    جرمنی: جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ’مادورو اپنے ملک کو تباہی کی طرف لے گئے‘، تاہم انھوں نے مزید کہا کہ جرمن حکومت یہ فیصلہ کرنے میں وقت لے رہی ہے کہ آیا امریکی اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں۔

    اٹلی: وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ ’بیرونی فوجی کارروائی آمریتوں کو ختم کرنے کا طریقہ نہیں ہے‘، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اپنی سلامتی پر حملوں کے خلاف دفاع کرنا جائز ہے۔‘

    سپین: وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ سپین نے مادورو کی حکومت کو ’تسلیم نہیں کیا‘، لیکن ’ایسی مداخلت کو بھی تسلیم نہیں کرے گا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو۔‘ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے احترام کا مطالبہ کیا۔

    یورپی یونین: خارجہ امور کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ’بارہا واضح کر چکا ہے کہ مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، تاہم انھوں نے ’تحمل‘ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی۔

  10. یکطرفہ طور پر کسی خودمختار ملک پر حملہ جنگی اقدام ہے: زہران ممدانی

    حال ہی میں حلف اٹھانے والے نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور ’نیویارک میں وفاقی تحویل میں ان کی مجوزہ قید‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلین، نیویارک کے وفاقی ادارے میٹروپولیٹن ڈٹینشن سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    تاہم میئر ممدانی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یکطرفہ طور پر کسی خودمختار ملک پر حملہ جنگی اقدام ہے اور وفاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ریجیم چینج کی یہ کھلی کوشش صرف بیرونِ ملک اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ براہِ راست نیویارک کے عوام کو متاثر کرتی ہے جن میں وہ ہزاروں وینیزویلا کے باشندے بھی شامل ہیں جو اس شہر کو اپنا گھر کہتے اور سمجھتے ہیں۔‘

  11. امریکی صدر نے وینیزویلا میں فوجی کارروائی کی نگرانی کے دوران لی گئی تصاویر شئیر کی ہیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر چند تصاویر جاری کی ہیں۔

    امریکہ صدر ٹرمپ نے جو تصاویر شئیر کی ہیں اُن میں بظاہر انھیں اور دیگر امریکی حکام کو گزشتہ رات وینیزویلا پر حملوں اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی گرفتاری کے مناظر دیکھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

  12. امریکی صدر ٹرمپ نے وینیزویلا میں آپریشن سے متعلق کیا کہا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے چند اہم نکات:

    • امریکہ وینیزویلا کو چلائے گا: ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’امریکہ وینیزویلا کو چلانے جا رہا ہے جب تک کہ وہاں محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ یہ کام کس طرح کرے گا، تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
    • تیل کی تنصیبات: ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکی کمپنیاں وینیزویلا جائیں گی تاکہ اس کے تیل کے انفراسٹرکچر کو درست کریں تاکہ یہ ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں۔‘
    • امریکہ دوسرے حملے کے لیے تیار ہے: ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ وینیزویلا پر دوسرا حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم غالب امکان ہے کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے۔‘
    • شراکت داری: ٹرمپ نے امریکہ اور وینیزویلا کے درمیان ایک ’شراکت داری‘ کی بات کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وینیزویلا کے عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی۔ انھوں نے مادورو کو ’غیر قانونی آمر‘ قرار دیا۔
    • اب آگے کیا ہوگا: امریکی صدر کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات کی سمگلنگ سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے کے لیے نیویارک لے جایا جا رہا ہے۔ مادورو نے ماضی میں منشیات کے کارٹیل کا سربراہ ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
  13. امریکہ وینیزویلا کو چلائے گا، فوج کی موجودگی سے خوفزدہ نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا کی صورتحال پر پریس کانفرنس کے بعد سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ملک کو چلانے کے لیے امریکی فوجی موجودگی درکار ہوئی تو ہم زمین پر پہلے سے موجود (وینیزویلا کی) فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں۔‘ ان کے مطابق گزشتہ رات ’امریکی فوج نے ایک بڑا آپریشن کیا اور وہ سب اُن کی موجودگی میں ہوا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ملک کو درست طریقے سے چلایا جائے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس طریقہ کار سے وینیزویلا کو چلائے گا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی لوگوں کو نامزد کر رہے ہیں اور جلد آپ کو بتائیں گے کہ وہ کون ہیں۔‘

    مزید سوال پر کہ وینیزویلا کو کون چلائے گا، ٹرمپ نے اپنے اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ عرصے کے لیے یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے پیچھے کھڑے ہیں۔‘

  14. اس آپریشن سے قبل مہینوں تیاری کی گئی: جنرل ڈین کین

    جنرل ڈین کین نے پریس کانفرنس میں وینیزویلا میں کیے گئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کے بارے میں تفصیلات سے متعلق آگاہ کیا ہے، اس آپریشن کو ’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘ کا نام دیا گیا۔

    امریکی صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں خطاب کے بعد جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کو ’خاموش‘ اور ’انتہائی درست‘ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ اس میں مشترکہ افواج کے ہر شعبے بری، بحریہ، فضائیہ، میرینز اور دیگر نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر حصہ لیا۔

    جنرل کین کے مطابق اس آپریشن میں ’بے مثال‘ انٹیلی جنس صلاحیتوں اور ’دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے برسوں کے تجربے‘ کو بروئے کار لایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مادورو کو نکالنے کی کارروائی اتنی درست تھی کہ اس کے لیے 150 سے زائد طیاروں کو ایک ہی وقت اور مقام پر اکٹھا کیا گیا۔

    تیاری کے حوالے سے جنرل کین نے کہا کہ اس آپریشن سے قبل ’مہینوں‘ تک انٹیلیجنس اداروں نے کام کیا، جس کے دوران مادورو کی رہائش اور حتیٰ کہ ان کی خوراک تک کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔

  15. وینیزویلا کی عوام اب معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ ہو گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور وینیزویلا کی ’شراکت داری‘ وینیزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی۔ ان کے مطابق امریکہ میں مقیم وینیزویلا کے شہری ’انتہائی خوش‘ ہوں گے اور ’اب انھیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔‘

    ٹرمپ نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’غیر قانونی آمر‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ امریکہ میں ’مہلک منشیات کی بھاری مقدار‘ لانے کے ذمہ دار ہیں اور ’کارٹیل دے لوس سولیس‘ کے سربراہ ہیں۔ مادورو نے ماضی میں ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’مادورو اور ان کی اہلیہ ایک جہاز کے ذریعے نیویارک جا رہے ہیں اور جلد فیصلہ کیا جائے گا کہ انھیں نیویارک یا میامی میں قانونی کارروائی کے لیے پیش کیا جائے۔‘

  16. امریکہ وینیزویلا پر دوسرا اور کہیں بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ وینیزویلا پر دوسرا اور ’کہیں بڑا‘ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینیزویلا کا تیل کا کاروبار ’ناکام‘ ہو چکا ہے اور بڑی امریکی کمپنیاں جلد وہاں جا کر انفراسٹرکچر درست کریں گی اور ’ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘

    ان کے مطابق امریکی افواج نے ابتدا میں ’دوسری لہر‘ کے حملے کی تیاری کر رکھی تھی اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس کی ضرورت پڑے گی، لیکن گزشتہ رات کے کامیاب حملے کے بعد اب غالب امکان ہے کہ دوسرا حملہ نہ کیا جائے۔

  17. وینیزویلا کی افواج ہمارے انتظار میں تھیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا کی افواج ’ہمارے انتظار میں تھیں‘ اور کئی بحری جہاز تعینات کیے گئے تھے، لیکن امریکی فوجی کارروائی کے دوران وہ ’مکمل طور پر ناکارہ‘ ہو گئے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا پر امریکی حملوں اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد تازہ صورتِ حال سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس آپریشن میں ایک بھی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی سازوسامان ضائع ہوا۔‘

    ٹرمپ نے امریکی فوج کو ’ناقابلِ یقین رفتار، طاقت، درستگی اور مہارت‘ پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ ’اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو‘ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کر رہے تھے۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے سمندر کے راستے آنے والی منشیات کا 97 فیصد خاتمہ کر دیا ہے اور الزام لگایا کہ ہر منشیات بردار کشتی اوسطاً 25 ہزار افراد کی جان لیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر منشیات وینیزویلا سے آتی ہیں۔

    تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  18. امریکہ وینیزویلا کو چلائے گا جب تک محفوظ اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ’وینیزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔

    یہ بیان وینیزویلا کی سیاسی صورتحال اور امریکی مداخلت پر عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

  19. مادورو اور ان کی اہلیہ اب امریکی انصاف کا سامنا کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔

    ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس حملے میں وینیزویلا کی تمام فوجی صلاحیتیں ’بے اثر‘ کر دی گئیں اور کاراکاس میں آپریشن کے دوران امریکہ نے اپنی مہارت سے بجلی کی فراہمی بھی معطل کر دی۔

    ٹرمپ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ پر نیویارک کے جنوبی ضلع میں ’مہلک منشیات پر مبنی دہشت گردی کی مہم‘ چلانے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور اب دونوں ’امریکی انصاف‘ کا سامنا کریں گے۔

  20. آنکھوں پر ماسک، ہاتھ میں پانی اور جسم پر ٹریک سوٹ: ٹرمپ نے زیر حراست صدر مادورو کی تصویر جاری کر دی

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکہ لے جا رہا ہے۔

    تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق، امریکی فوجی طیارہ جس میں مادورو موجود ہیں، آج نیویارک کے سٹیورٹ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی توقع ہے۔

    سٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انھیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    مادورو کو اگلے ہفتے نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے، ممکنہ طور پر پیر کے روز ہی۔