آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امریکہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا‘: روبیو کا بیان، مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مدورو سے بھی زیادہ۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
  • وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔
  • چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا 'ریاستی دہشت گردی' اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے 'خطے پر تشویشناک اثرات' مرتب ہو سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سی آئی اے نے صدر مادورو کا سراغ کیسے لگایا؟

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کے مطابق وینزویلا کی حکومت کے اندر موجود ایک سی آئی اے ذریعے نے امریکی فوج کی ایلیٹ ڈیلٹا فورس کو نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل اُن کا مقام اور پتہ معلوم کرنے میں مدد دی تھی۔

    یہ انسانی ذریعہ ایک وسیع انٹیلیجنس نیٹ ورک کا حصہ تھا، جس میں فضائی اور سگنلز انٹیلیجنس بھی شامل تھے۔ یہ کارروائی کئی ماہ کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی اور سی آئی اے و محکمہ دفاع کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ تھی۔

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ادارہ ’انسانی ذرائع کی بھرتی کو ترجیح دے گا۔‘

    یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اس ذریعے کو کب بھرتی کیا گیا تھا۔

    امریکی حکومت نے مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 50 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی تھی۔

  2. ونیزویلا پر حملے کے بعد ٹرمپ کی باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں؟, انتھونی زرچر، نمائندہ بی بی سی برائے جنوبی امریکہ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دو گھنٹوں کے دوران امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے بارہ منٹ سے زیادہ گفتگو کی ہے۔

    انھوں نے وینزویلا پر رات گئے کیے گئے حملے کی کچھ تفصیلات کی تصدیق کی، لیکن کئی بڑے سوالات کے جواب نہیں دیے، توقع ہے کہ وہ اگلے چند لمحوں میں مزید وضاحت کریں گے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق، وینزویلا کے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ امریکہ منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا، اگرچہ کچھ زخمی ضرور ہوئے ہیں۔

    امریکہ اس بات کے لیے تیار ہے کہ وینزویلا میں موجود مادورو کے وفاداروں کے خلاف مزید حملے کیے جائیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اُن کا ماننا ہے کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا کی تیل کی تنصیبات کی بحالی میں ’بڑے پیمانے پر شامل‘ ہوں گی۔

    تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکہ وینزویلا کے باقی حصے — جو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ حال ہے — کی بحالی کے لیے کس حد تک پرعزم ہو گا۔ مادورو کے جانے کے بعد ملک کی قیادت کون سنبھالے گا، اس بارے میں ٹرمپ نے کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ رات کی کارروائی ’ایک پیغام دیتی ہے‘ کہ امریکہ اب دیگر ممالک کے ہاتھوں ’دبنے والا‘ نہیں ہے۔ دنیا کے باقی ممالک، خاص طور پر امریکہ کے ہمسایہ خطے، اس بات پر ضرور فکر مند ہوں گے کہ ایک امریکی صدر، جو فوجی طاقت کے استعمال میں خود کو پُراعتماد دکھاتے ہیں، اس بیان سے کیا مراد لیتے ہیں۔

  3. وینزویلا کے فوجی اڈوں پر تباہ شدہ گاڑیوں اور نقصانات کی تصاویر

    امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے فوجی اڈوں پر تباہ شدہ گاڑیوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر منظرِ عام پر آئی ہیں۔

  4. مادورو کی گرفتاری ’ٹی وی شو کی طرح‘ دیکھی: صدر ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کی کارروائی، جو رات بھر جاری رہی، کو ’بالکل ایسے دیکھا جیسے میں کوئی ٹیلی ویژن شو دیکھ رہا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے (امریکی کارروائی کی) رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔‘

    ٹرمپ نے اپنی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’ناقابلِ یقین کام‘ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔‘

  5. مادورو اور اُن کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد اب نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا اُن دونوں پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور انھیں ہیلی کاپٹر اور جہاز کے ذریعے ریاست (نیویارک) میں لے جایا جائے گا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’انھوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ہے، جن میں امریکی شہری بھی شامل ہیں، حتیٰ کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو بھی۔‘

  6. مادورو کو ایک ایسی جگہ سے گرفتار کیا گیا جو ’گھر سے زیادہ قلعہ تھی‘: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم یہ کارروائی (وینزویلا پر حملہ) چار دن پہلے کرنے والے تھے، لیکن موسم موزوں نہیں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’(ایسی کارروائیوں کے لیے) موسم بالکل درست ہونا چاہیے، اچانک موسم صاف ہوا اور ہم نے کہا اب جاؤ۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ جب مادورو کو گرفتار کیا گیا تو وہ ’ایک ایسے گھر میں تھے جو گھر سے زیادہ قلعہ لگ رہا تھا‘ اور ’چاروں اطراف سے مضبوط سٹیل سے گھرا ہوا تھا۔‘

    انھوں نے دوبارہ کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی ہلاک ہوا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’چند لوگ زخمی ہوئے لیکن وہ واپس آ گئے ہیں اور خیال ہے کہ وہ کافی بہتر حالت میں ہیں۔‘

  7. صدر مادورو کو ایک ہفتہ قبل سرینڈر کرنے کا کہنا تھا: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا پر حملے کے دوران ’ہمارے چند لوگ زخمی ہوئے لیکن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔‘

    صدر ٹرمپ اس وقت فاکس نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ وینزویلا پر حملے سے ایک ہفتے قبل انھوں نے (وینزویلا کے صدر) مادورو سے بات کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ ’تمہیں ہار ماننی ہو گی، تمہیں سرینڈر کرنا ہو گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ آئندہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں ’مضبوط شمولیت‘ اختیار کرے گا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ’ہمیں کچھ ایسا کرنا پڑا جو زیادہ نپی تلی کارروائی ہو مگر کہیں زیادہ طاقتور ہو۔‘

  8. ’ٹرمپ کا حملہ وینزویلا میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے‘, نوبرٹو پریدس، بی بی سی

    اگرچہ اس امکان پر کئی ماہ سے بات ہو رہی تھی، لیکن آج جو کچھ ہوا اس نے وینزویلا کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    نکولس مادورو کی حکومت کی مخالفت کرنے والوں کے لیے یہ وہ لمحہ ہے جس کا انتظار وہ برسوں سے کر رہے تھے۔

    وینزویلا کی اپوزیشن ہر راستہ آزما چکی ہے۔

    انھوں نے سنہ 2018 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور انھیں دھاندلی زدہ قرار دیا۔ سنہ 2024 میں جب نیشنل الیکٹورل کونسل، جو چاویزمو کے قریب سمجھے جانے والے افراد کے زیرِ اثر ہے، نے مادورو کے حق میں نتائج کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

    اور اب وینزویلا کے اندر سے امریکی حملوں کے حق میں کچھ پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔

    کچھ اپوزیشن حامیوں نے ان حملوں کو آخری راستہ اور آخری امید کے طور پر دیکھا ہے تاکہ اس حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے جسے عالمی برادری کا بڑا حصہ آمرانہ قرار دیتا ہے، اور جس کے رہنما پر واشنگٹن اور دیگر لاطینی امریکی حکومتوں نے منشیات سمگلنگ نیٹ ورک کی قیادت کا الزام لگایا ہے۔

    دوسری جانب مادورو کے حامی یہ پوچھ رہے ہیں کہ صدر کہاں ہیں؟ اور اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے؟

    بہت سے لوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ امریکی حملے اور مادورو کو حراست میں لیے جانے کا اعلان وینزویلا میں مزید بڑے پیمانے پر عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے، ایک ایسا ملک جو پہلے ہی برسوں سے سیاسی، اقتصادی اور سماجی بحران کا شکار ہے۔

  9. مادورو کی گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ ’ٹرمپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں‘: امریکی نائب صدر

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔‘

    اپنی ایک پوسٹ میں نائب امریکی صدر نے کہا کہ ’صدر (ٹرمپ) نے کئی مواقع پر راستہ فراہم کیا، لیکن اس پورے عمل کے دوران وہ بالکل واضح رہے: منشیات کی سمگلنگ ختم ہونی چاہیے، اور چوری شدہ تیل امریکہ کو واپس ملنا چاہیے۔‘

    وینس نے مزید کہا کہ ’مادورو وہ حالیہ شخصیت ہیں جنھیں یہ جاننا پڑا کہ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ ہمارے بہادر خصوصی آپریٹرز کو خراجِ تحسین جنھوں نے واقعی ایک شاندار کارروائی انجام دی۔‘

  10. منشیات اور اسلحے کے الزامات کے تحت صدر مادورو پر فردِ جرم عائد: امریکی اٹارنی جنرل

    امریکہ کی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے کہا ہے کہ صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ پر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    بانڈی کے مطابق مادورو پر درج ذیل الزامات لگائے گئے ہیں:

    • ’نارکو ٹیررازم سازش‘
    • ’کوکین درآمد کرنے کی سازش‘
    • ’مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کا الزام‘
    • ’امریکہ کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے مکمل غضب کا سامنا کریں گے۔‘

    تاہم بانڈی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مادورو کی اہلیہ پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے بہادر فوجی اہلکاروں کا بہت شکریہ جنھوں نے ان دونوں مبینہ بین الاقوامی منشیات کے سمگلروں کو گرفتار کرنے کے لیے ناقابلِ یقین اور انتہائی کامیاب مشن مکمل کیا۔‘

  11. بڑا سوال یہ ہے کہ وینزویلا میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو گا؟, ڈینیئل مارکو، مدیر بی بی سی منڈو

    اگر یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا ہے، تو توجہ اس بات پر مرکوز ہو گی کہ وینزویلا کی اگلی حکومت کون چلائے گا۔

    بظاہر وینزویلا پر مزید امریکی حملے نہیں ہوں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ صدر مادورو کو ہٹانے کے بعد خود کو مطمئن سمجھیں گے۔ لیکن اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے: کیا مادورو کے بغیر چاویزمو اقتدار میں برقرار رہ سکے گا؟

    اگر ایسا ہوتا ہے تو تین شخصیات پر قریب سے نظر رکھنی ہو گی: نائب صدر ڈیلسی روڈریگز؛ وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو؛ اور وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو۔

    یہ تینوں افراد حملے کے چند گھنٹوں بعد ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے بیانات دیے ہیں اور یہ ملک کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔

    پادرینو اور کابیو فوج کے اندر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور فوج ان میں سے کسی ایک کے ساتھ وفادار رہ سکتی ہے۔ اس لیے اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا، اس کا فیصلہ کرنے میں مسلح افواج کا کردار کلیدی ہو گا۔

    اس کے برعکس روڈریگز کو فوجی حلقوں تک وہ رسائی حاصل نہیں جو کابیو اور پادرینو کو حاصل ہے۔

    دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ اپوزیشن، جس کی قیادت ماریا کورینا ماچادو کر رہی ہیں، کیا کرے گی۔

    جولائی 2024 کے انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرنے کے بعد اپوزیشن حقیقی سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ وہ صرف مادورو کو صدارتی محل سے ہٹانے پر اپوزیشن مطمئن نہ ہو۔

  12. لاطینی امریکہ اضطراب کی حالت میں: کولمبیا کے صدر نے سرحد پر افواج تعینات کر دیں

    قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے وینزویلا کی سرحد کے ساتھ افواج کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

    بوگوٹا سے اطلاع ہے کہ امریکی حملوں کے بعد کاراکاس اور ملک کے دیگر علاقوں سے وینزویلا کے پناہ گزینوں کی ممکنہ بڑے پیمانے پر آمد کے پیش نظر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    لاطینی امریکہ اس وقت اضطراب کی حالت میں ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی گرفتاری کے دعوے سے متعلق مزید تفصیلات وقت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔

    کولمبیا کے صدر پیٹرو نے وینزویلا میں دھماکوں کی اطلاع ملنے کے بعد سے بارہا امن اور مذاکرات کی اپیل کی تھی۔

    کولمبیا اور وینزویلا کے درمیان 2,000 کلومیٹر سے زیادہ طویل زمینی سرحد ہے، اور تاریخی طور پر دونوں ممالک میں اقتصادی اور سلامتی کے بحرانوں نے لاکھوں افراد کو ایک دوسرے کے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔

  13. امریکہ کا وینزویلا پر حملہ: اب تک ہم کیا نہیں جانتے ہیں؟

    امریکہ کے وینزویلا پر حملے کے بعد بہت سے ایسی باتیں ہیں جو ابھی واضح نہیں ہیں۔

    • صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لینے کے بعد کہاں رکھا گیا ہے
    • کیا امریکی حملوں کے نتیجے میں وینزویلا میں کوئی ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے
    • وینزویلا کے مختلف حصوں میں کیے گئے امریکی حملے کے بعد کتنا نقصان پہنچا ہے
    • امریکہ کی جانب سے کتنے حملے کیے گئے اور کن مقامات پر کیے گئے
    • ٹرمپ نے یہ اقدام کیوں کیا، اس پر مزید تفصیلات متوقع ہیں، اور وہ اس بارے میں شام چار بجے (جی ایم ٹی) پریس کانفرنس میں بات کریں گے
  14. امریکہ کا وینزویلا پر حملہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے کر بیرون ملک منتقل کر دیا ہے
    • وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس پر امریکی حملے کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر کے اوقات میں کیا گیا، عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز یں بہت گونج دار تھی جس کے باعث گھر لرزنے لگے
    • امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور اہلیہ کو حراست میں لینے کا آپریشن کیا ہے
    • وینزویلا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں جبکہ کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے
    • وینزویلا کی نائب صدر نے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کے ’زندہ ہونے کا ثبوت‘ مانگ لیا ہے
    • وینزویلا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ تمام مسلح افواج ملک میں تعینات کی جائیں گی اور جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا
    • ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیر دفاع مارکو روبیو کا خیال ہے کہ صدر مادورو کو امریکی تحویل میں لیے جانے کے بعد اب وینزویلا میں مزید کوئی کارروائی متوقع نہیں ہے جبکہ صدر نکولس مادورو امریکہ میں فوجداری الزامات پر مقدمے کا سامنا کریں گے
  15. ’وینزویلا میں مزید کارروائی متوقع نہیں، مادورو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کریں گے‘

    ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ امریکہ میں فوجداری الزامات پر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ یہ تصدیق سینیٹر مائیک کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد سامنے آئی ہے۔

    سینیٹر لی نے کہا کہ ’روبیو کا خیال ہے کہ اب جبکہ مادورو امریکی تحویل میں ہیں تو وینزویلا میں مزید کوئی کارروائی متوقع نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکی حملے ’ان افراد کے تحفظ اور دفاع کے لیے کیے گئے تھے جو گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کر رہے تھے۔‘

    اس سے قبل لی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’میں یہ جاننے کا منتظر ہوں کہ جنگ کے اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے بغیر اس اقدام کو آئینی طور پر کس چیز سے جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔‘

  16. تجزیہ: ’یہ واقعہ جدید دور میں بے مثال ہے‘, جو انووڈ، نمائندہ برائے بین الاقوامی اُمور

    اگر، جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے، امریکہ نے ڈیلٹا فورس کو وینزویلا کے دارالحکومت کے قلب میں بھیج کر صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا ہے، تو یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔

    اس کے قریب ترین موازنہ سنہ 1989 میں پاناما کے فوجی رہنما مانوئل نوریگا کی گرفتاری ہے، جو خصوصی امریکی فوجی دستوں کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔

    ان دونوں رہنماؤں نے حالیہ متنازعہ انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا، دونوں پر امریکہ نے منشیات سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، اور دونوں کے خلاف کارروائی سے قبل امریکہ نے بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کی تھی۔

    تاہم نوریگا کی گرفتاری ایک مختصر اور فیصلہ کن جنگ کے بعد ہوئی تھی، جس میں پاناما کی افواج جلد ہی شکست کھا گئیں۔

    نوریگا نے ویٹیکن کے سفارتخانے میں پناہ لی، جہاں وہ 11 دن تک مقیم رہے۔

    بالآخر انھیں ’نفسیاتی جنگ‘ کے ذریعے باہر آنے پر مجبور کیا گیا، خاص طور پر بلند آواز میں راک موسیقی بجا کر، جس میں دی کلاش، وین ہیلن اور یو2 کے گانے شامل تھے۔

    بعد ازاں انھیں امریکہ لے جایا گیا، جہاں وہ منشیات کے جرائم میں مجرم قرار پائے۔

    نکولس مادورو کی گرفتاری کی کارروائی کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن بظاہر یہ ایک اور بھی زیادہ پرخطر اور وسیع آپریشن تھا، جس میں صدر اور ان کی اہلیہ کو روایتی زمینی افواج کو داخل کیے بغیر ہی ڈیلٹا فورس نے نکال لیا۔

    ان کا مستقبل غیر واضح ہے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ امریکی جیل میں ہی موجود ہوں گے۔

  17. تجزیہ: اگر صدر مادورو واقعی اقتدار سے ہٹا دیے گئے ہیں تو اب آگے کیا ہو گا؟, ایون ویلز، نمائندہ بی بی سی برائے جنوبی امریکہ

    سنہ 1989 میں پاناما پر حملہ کرنے اور اس کے فوجی رہنما مانوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے امریکہ نے لاطینی خطے میں اس طرح کی براہِ راست مداخلت نہیں کی ہے جیسی اب وینزویلا میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    اگر صدر مادورو کو زبردستی وینزویلا میں اقتدار سے بیدخل کر دیا گیا ہے، جیسا کہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں، تو یہ امریکی انتظامیہ کے اُن سخت گیر حلقوں کے لیے بڑی کامیابی سمجھی جائے گی جو کھلے عام وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

    امریکہ نے صدر مادورو پر ایک منشیات سمگلنگ تنظیم کی قیادت کرنے کا الزام لگایا ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

    امریکہ انھیں سنہ 2024 کے انتخابات کے بعد وینزویلا کا جائز صدر بھی تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ قرار دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب وینزویلا نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اس کے قیمتی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جو دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر سمجھے جاتے ہیں۔

    اصل سوال یہ ہے کہ اگر صدر مادورو واقعی اقتدار سے ہٹ گئے ہیں تو وینزویلا میں اب کیا ہو گا۔

    امریکی مداخلت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے وینزویلا کی اپوزیشن کو اقتدار سنبھالنے کا موقع ملے گا، جس کی قیادت نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو اور سنہ 2024 کے اپوزیشن امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کر سکتے ہیں۔

    تاہم دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ وینزویلا کی فوج اور نیم فوجی دستے مادورو کے وفادار رہے ہیں، اور حتیٰ کہ صدر مادورو کے بعض ناقدین کو بھی خدشہ تھا کہ براہِ راست امریکی مداخلت ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

    یقیناً مادورو کے دیگر قریبی اتحادی بھی ان کی گرفتاری کی خبر کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں گے۔

  18. تمام مسلح افواج ملک میں تعینات کی جائیں گی: وینزویلا کے وزیرِ دفاع کا اعلان

    وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

    ہسپانوی زبان میں اپنے ایک ویڈیو خطاب کے دوران وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا ہے کہ وینزویلا کو اپنی تاریخ کی ’اب تک کی بدترین جارحیت‘ کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا صدر مادورو کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسلح افواج کو ملک بھر میں تعینات کر رہا ہے۔

    وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔‘

  19. وینزویلا کی نائب صدر نے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کے ’زندہ ہونے کا ثبوت‘ مانگ لیا

    تیزی سے بدلتی صورتحال کے بیچ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وینزویلا کی حکومت کو صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت دونوں کے لیے ’پروف آف لائف‘ (یعنی زندہ ہونے کا ثبوت) فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

  20. کولمبیا اور کیوبا کی وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت

    کولمبیا اور کیوبا کی حکومتوں نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔

    کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کولمبیا کی حکومت وینزویلا میں حالیہ گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے، اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کو باعثِ تشویش سمجھتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کولمبیا کا مؤقف خطے میں امن قائم رکھنے پر مبنی ہے اور ہم فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تصادم کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔‘

    دوسری جانب کیوبا کے صدر میگل ڈيازکینل نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ’فوری‘ ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے کو ’جرائم پر مبنی حملہ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے امن زون کو بُری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بہادر وینزویلائی عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔‘