ایران میں تمام پروازیں آج رات سے کل صبح چھ بجے تک منسوخ کر دی گئیں
ایران کے مطابق پروازیں منسوخ کرنے کے حکم کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق آج رات نو بجے سے سوموار کی صبح چھ بجے تک ہو گا۔ پروازوں کی منسوخی اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایرانی میزائل حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد ہوئی ہے۔
خلاصہ
ایران نے ملک کے ہوائی اڈوں سے تمام پروازوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اس حکم کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق آج رات نو بجے سے سوموار کی صبح چھ بجے تک ہو گا۔
لبنان میں ’سکیورٹی رسک‘ کے باعث نئے تعلیمی سال کے آغاز میں تاخیر کا اعلان کر دیا گیا۔
اسرائیل میں ایک بس سٹیشن پر حملے کی ذد میں آ کر ایک 25 سالہ خاتون ہلاک جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جنوبی لبنان کے تقریباً 25 دیہاتوں کے مکینوں سے فوری نقل مکانی کی ہدایات کی ہیں۔ الرٹ کے مطابق ’جو بھی حزب اللہ کے ارکان، تنصیبات یا ہتھیاروں کے نزدیک ہے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
لبنانی کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات جنوبی لبنان اور ملک کے مشرقی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 23 افراد ہلاک اور 93 زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کے مرکزی علاقے دیر البلح کی ایک مسجد اور سکول پر اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں حکام کے مطابق کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
سنیچر کے روز حزب اللہ نے 90 راکٹ داغے ہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیلی
فوج کے مطابق حزب اللہ نے سنیچر کے روز اسرائیل پر 90 راکٹ فائر کیے ہیں۔
آئی
ڈی ایف کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 14:09 پر بالائی اور وسطی گلیلی
کے علاقے میں 30 پروجیکٹائل فائر کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا تھا۔
تقریباً
14:52 پر مزید 30 راکٹ بالائی گلیلی کی جانب مارے گئے۔
اس
سے قبل لبنان-اسرائیل کے نزدیک موجود بی بی سی کے ایک رپورٹر نے بتایا تھا کہ جہاں
سے ان کی ٹیم رپورٹ کر رہی تھی اس کے 100 میٹر کے اندر ایک راکٹ پھٹنے کی آواز سنی
گئی تھی۔
لبنان کو پناہ گزینوں کے ’خوفناک‘ بحران کا سامنا ہے: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام
متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرانڈی آج سہ پہر بیروت پہنچے ہیں۔
سوشل
میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا ہے کہ لبنان کو پناہ گزینوں
کے ایک ’خوفناک‘ بحران کا سامنا ہے جہاں لوگ اسرائیلی فضائی حملوں کی نتیجے میں
بے گھر ہو رہے ہیں۔
لبنانی
حکام کے مطابق 23 ستمبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں گیارہ سو سے زائد افراد ہلاک
ہو چکے ہیں جبکہ حالیہ لڑائی سے 12 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
لبنان میں حماس کتنی اہم ہے؟, رافی برگ، ڈیجیٹل ایڈیٹر مشرقِ وسطیٰ
ہم
نے کچھ دیر پہلے شمالی لبنان میں اسرائیلی حملے میں دو سینیئر حماس رہنماؤں کی ہلاکت
کی اطلاع دی ہے۔
غزہ
کے مقابلے میں لبنان میں حماس کی موجودگی کہیں کم ہے۔ حماس نے لبنان میں 1980 کی
دہائی کے اواخر میں کام کرنا شروع کیا لیکن کافی عرصے تک لبنان میں موجود دیگر فلسطینی
مسلح گروپوں کے مقابلے میں اس کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی۔
لبنان
میں حماس اور حزب اللہ کے درمیان تعلقات بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ آغاز میں
دونوں اتحادی تھے لیکن یہ اتحاد اس وقت ٹوٹ گیا جب حماس اور حزب اللہ نے شام کی
خانہ جنگی میں مختلف فریقوں کی حمایت کی۔
تاہم
بعد میں حماس نے شام میں اپوزیشن کی حمایت سے دوری اختیار کرلی اور دوبارہ حزب
اللہ کے قریب ہو گئی۔
حماس
کی مسلح کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اس کی لبنان کے متعدد فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں
بھی مقبولیت بڑھی ہے۔ 2019 میں حماس کے نائب سیاسی رہنما صالح العروری اپنے فوجی
انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے لبنان منتقل ہو گئے۔
پچھلے
سال اپریل میں لبنان سے اسرائیل پر بڑی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے تھے۔ اسرائیل نے
اس حملے کا الزام حماس پر لگایا تھا۔ عروری رواں سال جنوری میں بیروت میں ایک
اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
ان
کی ہلاکت اس بات کا اشارہ ہے اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے لیے لبنان میں بھی کارروائی
کرے گا۔
اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملے جاری, نک بیک، بی بی سی نامہ نگار
شمالی
اسرائیل میں ہم نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹوں کی آواز سنی
ہے۔ ان میں ایک دھماکہ سو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے۔
یہاں
رہنے والے لوگوں کے پاس عموماً راکٹ گرنے سے پہلے پناہ گاہ تک پہنچنے کے لیے تقریباً
10 سے 15 سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے۔ تاہم اکثر ان راکٹوں کو آئرن ڈوم کے ذریعے گرنے سے
پہلے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
تقریباً
ایک سال سے حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اسرائیل نے
ان حملوں کو جواز بنا کر گذشتہ ہفتے جنوبی لبنان پر زمینی حملے کیا ہے۔
وزیر
اعظم بنیا من نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ زمینی حملے کا مقصد حزب اللہ کو پیچھے دھکیلنا،
ان کے ہتھیاروں کو تباہ کرنا ہے اور ایک بفر زون قائم کرنا ہے تاکہ شمالی اسرائیل
سے نقل مکانی کرنے والے خاندان بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔
آئی
ڈی ایف کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں حزب اللہ نے 700 سے زیادہ راکٹ فائر کیے
ہیں۔
اسرائیل کا لبنان میں دو حماس رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی
فوج نے لبنان میں حماس کے دو سینیئر رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
آئی
ڈی ایف کا کہنا ہے کہ محمد حسین علی المحمود آج ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
اس
سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس رہنما سید علاء نایف علی شمالی رات
گئے لبنان کے شہر طرابلس میں اسرائیلی آپریشن میں مارے گئے تھے۔
دوسری
جانب حماس کے مسلح ونگ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے دو ارکان کی ہلاکت
کی تصدیق تو کی ہے لیکن ان کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد حسین ال لوئیس
اور سعید عطا اللہ علی کے نام سے کی گئی ہے۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ایک اور حملہ
بیروت
میں موجود بی بی سی کی ٹیموں نے شہر کے جنوب میں ایک اور فضائی حملے کی اطلاع دی
ہے۔
بظاہر
ایسا لگتا ہے کہ حملے کا نشانہ بیروت ایئر پورٹ کے نزدیک برج البرجنہ کا علاقے ہے۔
یہ اس
علاقے میں آج ہونے والا تیسرا حملہ ہوگا۔
بی
بی سی کو موصول ہونے تصاویر میں بیروت کے جنوب میں حملے کے بعد شہر سے دھواں اٹھتا
دکھائی دے رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
حزب اللہ کا گروپ کے ممکنہ نئے سربراہ ہاشم صفی الدین سے رابطہ منقطع، حملے کی جگہ تک رسائی ناممکن
،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امدادی کارکن تاحال اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والے اس مقام تک رسائی حاصل نہیں کرسکے ہیں جس کے بارے میں دعویٰ جا رہا تھا
کہ وہاں حزب اللہ کے ممکنہ نئے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
گذشتہ روز امریکی خبر
رساں اداروں نے اطلاع دی تھی کہ آئی ڈی ایف نے جمعرات کی رات ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ
ہفتے اسرائیلی حملے میں حسن نصراللہ کی موت کے بعد ہاشم صفی الدین حزب
اللہ کا سربراہ بننے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا
حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز کا کہنا ہے کہ صفی الدین پر مبینہ حملے کے بعد سے بیروت پر مسلسل فضائی حملوں نے اس جگہ کو ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔
حزب اللہ نے تاحال
صفی الدین پر حملے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
روئٹرز
سے بات کرتے ہوِئے سکیورٹی ذرائع میں سے ایک کا کہنا تھا، ’کل کے حملے کے بعد سے
صفی الدین سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پارٹی کے سیکرٹری
جنرل حسن نصر اللہ کی جگہ لیں گے۔‘
بیروت پر میزائل حملوں کے بعد کے مناظر
بیروت کے جنوبی
مضافاتی علاقوں سے موصول ہونے والی تصاویر میں گذشتہ رات کے میزائل حملوں کے نتیجے
میں ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 'درجنوں' جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیل کا کہنا
ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور زمین کے اوپر
اور زیرِ زمین موجود ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا
کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے اسلحے کے ذخائر تباہ کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا
مزید کہنا ہے کہ اس نے سرحد کے قریب زیر زمین لڑائی میں ’حزب اللہ کے دہشت گردوں
کے زیر استعمال سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔‘
آئی ڈی ایف کا
کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں اس کی زمینی افواج اور فضائیہ نے مشترکہ کارروائیوں میں حزب اللہ کے ’درجنوں‘
جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
دوسری جانب حزب
اللہ کا کہنا ہے کہ عدیسہ کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان کے مزید چار ہسپتال بند, جوئل گنٹر، بی بی سی بیروت
جنوبی لبنان میں
ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز کے اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جنوبی لبنان میں
کم از کم چار ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے مقامی آبادی
کو سخت مشکلات کا سامنہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ
مرجائیون کے سرکاری ہسپتال میں پچھلے کئی دنوں سے 20 ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک ٹیم
کام جاری رکھے ہوئے تھی۔ اس سے قبل اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے عملے کے
بقیہ 120 نے کام پر آنا بند کر دیا تھا۔
تاہم، جمعے کے
روز ہسپتال پر براہ راست حملے کے بعد سے ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات
کرتے ہوئے ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مونس کالاکش کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے داخلی
دروازے پر کھڑی دو ایمبولینسوں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں طبی عملے کے سات
افراد کی ہلاکت کے بعد ہسپتال سروسز معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
ان کاکہنا تھا، ’جب
تک ممکن ہوسکا ہم ڈٹے رہے۔ لیکن حملے کے بعد نرسیں اور ڈاکٹرز خوفزدہ ہو گئے تھے۔
ہم نے انہیں پرسکون رکھنے اور کام جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ ممکن نہیں ہو
سکا۔‘
ہسپتال کی ایمرجنسی
ڈائریکٹر ڈاکٹر شوشانہ مزارانی کا کہنا یے وہ حملے میں زخمی ہونے والے طبی عملے کے
رونے کی آوازیں سن کر تباہ شدہ ایمبولینسوں کی جانب بھاگیں۔ لیکن ڈاکٹر مزارانی کے
مطابق ان کے ساتھیوں نے آگے جانے سے روک دیا کیوں کہ انھیں خدشہ تھا کہ ایک اور
حملہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر مزارانی کا
کہنا ہے ہسپتال کا بند ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔
عالمی ادارہ صحت
کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر فضائی حملے کے آغاز کے بعد سے گذشتہ دو
ہفتوں کے دوران کم از کم 37 صحت کی سہولیات کے مراکز بند ہو چکے ہیں۔
جمعے کی رات اسرائیلی
فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حزب اللہ اپنے جنگجوؤں اور
ہتھیاروں کے نقل و حمل کے لیے طبی گاڑیاں استعمال کر رہا ہے۔
دو لاکھ افراد لبنان سے شام نقل مکانی کر چکے ہیں: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کا
کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں لبنان سے دو لاکھ سے زائد افراد
پناہ کی غرض سے ہمسایہ ملک شام منتقل ہو چکے ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں لبنانی شہریوں
کے علاوہ وہ شامی شہری بھی شامل ہیں جو لبنان میں مقیم تھے۔
لبنانی حکومت کے
اعداد و شمار کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی کل تعداد تین لاکھ ہے۔
گذشتہ روز لبنان
اور شام کی مرکزی سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک اسرائیلی فضائی حملے بعد سے گاڑیوں کی نقل
و حرکت منقطع ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
ہے کہ اس نے مسنا کراسنگ کے قریب حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے قبل
اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حزب اللہ اس سرحدی گزرگاہ کو لبنان میں
ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
حزب اللہ کا حیفہ کے قریب اسرائیلی ایئربیس پر راکٹ حملے کا دعویٰ
حزب اللہ نے شمالی
اسرائیل کے شہر حیفہ کے قریب واقع رامات ڈیوڈ ایئربیس پر راکٹوں سے حملے کا دعویٰ
کیا ہے۔
عسکریت پسند گروپ
کا مزید کہنا ہے کہ اس نے لبنان اسرائیل سرحد کے قریب ایک اسرائیلی ٹینک کو میزائل
سے نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کے دعوؤں
پر اسرائیل نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن خیال رہے کہ آج صبح پورے شمالی
اسرائیل میں سائرن بجائے گئے تھے۔
جنوبی لبنان میں حملے کا نشانہ ہسپتال سے متصل مسجد میں قائم حزب اللہ کا کمانڈ سینٹر تھا: اسرئیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے
گزشتہ رات جنوبی لبنان میں کیے گئے حملے کے بارے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ
کیا ہے کہ حملے کا نشانہ ’صلاح غندور ہسپتال سے متصل مسجد کے اندر‘ قائم حزب اللہ
کے کمانڈ سینٹر میں موجود عسکری گروپ کے ارکان تھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ شام دیر گئے جنوبی لبنان
کے قصبے بنت جبیل کے ایک ہسپتال کے کمپاؤنڈ پر اسرائیلی حملے کی اطلاعات ہیں۔
ہسپتال کا کہنا
ہے کہ اس حملے میں اس کے طبی عملے کے نو ارکان زخمی ہوئے تھے۔ تاہم بیشتر افراد
اسرائیلی انتباہ کے بعد وہاں سے نکل گئے تھے۔
بریکنگ, حماس کے اہم رہنما کی’ بیوی اور بچوں‘ سمیت ہلاکت کی اطلاعات
لبنان اور اسرائیل جنگ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران حماس کے اہم رہنما سعید عطا اللہ کے ہلاک کیے جانے کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔
حماس سے وابستہ سمجھے جانے والے اخبار فلاستن نے رپورٹ کیا ہے کہ ایسی اطلاع ملی ہے کہ سعید اللہ اپنے خاندان کے تین افراد کے ساتھ شمالی لبنان کے شہر طرابلس میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر حملے میں مارے گئے ہیں۔
لبنان کے ایک روزنامے النہار کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں ان کی بیوی اور دو بچے بھی شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں وہ اپارٹمنٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جس میں عطا اللہ اپنے خاندان کے ساتھ مقیم تھے۔
تاہم حماس نے ابھی تک ان کی موت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
‘بیروت وار زون بن گیا ہے‘, نفیسہ کوناورد، بی بی سی بیروت
،تصویر کا ذریعہNafiseh Kohnavard / BBC
،تصویر کا کیپشنبیروت میں لوگ فضا میں نگرانی کے ڈرون کی جانب اشارہ کر رہے ہیں
گزشتہ شب بیروت میں ہم نے یکے بعد دیگرے زبردست دھماکوں کی آواز سنیں۔ میں نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 12 فضائی حملوں کو گِنا۔
متاثرہ علاقہ جسے ’ضاحیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، درحقیقت عربی میں اس کا مطلب ’مضافاتی علاقہ‘ ہے۔
ہمیں اس کے نام سے یہ احساس ہوتا تھا کہ جس علاقے پر حملہ ہوا ہے وہ بیروت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ اب ایسا ہی ہے۔
ضاحیہ میرے گھر سے صرف 10 منٹ کی مسافت پر ہے،
ہمارے پاس شہر میں دن رات اسرائیلی نگرانی کرنے والے ڈرون منڈلاتے ہیں جو زیادہ دور نہیں جاتے ہیں۔
ہر وقت فضا میں دھماکوں اور طیاروں گونج یہاں کے پس منظر کا مستقل شور بن گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہNafiseh Kohnavard / BBC
شہر کے مختلف کونے اب عارضی خیموں سے بھر گئے ہیں۔ کل بیروت کے مشہور شہدا سکوائر میں میں نے چند خاندانوں سے ملاقات کی جو وہاں سے انخلا کر کے یہاں بھاگ آئے تھے ۔
اس لیے نہیں کہ ان کے گھروں پر بمباری کی گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ حملے ان سے صرف پانچ منٹ کی دوری پر ہوئے۔ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ضاحیہ سے نہیں تھا۔ جب میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں تب بھی مجھے دھماکے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
یہ شہر کے ’جنوبی مضافاتی علاقوں‘ پر فضائی حملوں کا ایک اور دور ہے جو اب محض مضافاتی علاقے نہیں رہے۔ اس کو بیان کرنا آسان نہیں ہے، لیکن کئی تنازعات کا احاطہ کرنے والے ایک نامہ نگار کے طور پر میرے خیال میں بیروت اب ایک جنگی علاقہ ہے۔ چاہے ہم اس پر یقین کریں یا نہ کریں۔
ان تمام حملوں، ڈرونز، جیٹ طیاروں اور نقل مکانی کے ساتھ یہ ایک وار زون ہے۔
رات بھر کی لڑائی میں اسرائیل پر حاوی رہے: حزب اللہ کا دعویٰ
لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے وقت ہونے والے سرحدی گاؤں ادیسیہ میں اسرائیلی حملے کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
حزب اللہ نے اپنے تازہ بیان میں مزید کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا اور پیش قدمی کرنے والی اسرائئلی افواج پر حملہ کیا۔
حزب اللہ کے مطابق دھماکے کے باعث اسرائیلی افواج پسپائی پر مجبور ہوئے اور ان میں سے کچھ زحمی بھی ہوئے۔
آئی ڈی ایف حزب اللہ کے دعوے کے جواب میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں شدت، 12 لاکھ سے زائد مکینوں کا مضافات سے انخلا, نک بیک، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان کی سرحد پر حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے اور رات بھر ان علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی آواز سنائی دیتی رہیں۔
لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ وہ آئی ڈی ایف فورسز کے ساتھ زمینی لڑائی لڑ رہا ہے تاہم دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل پر درجنوں راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
لبنان میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے تقریبا 12 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے زبردستی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ بیروت کے جنوبی مضافات سمیت مزید علاقوں سے بھی لوگوں کو انخلا کا حکم دیا گیا ہے،۔
یہودیوں کے نئے سال کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ اب توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیل اس ہفتے کے دوران ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کا جوابی کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ آیا دارالحکومت پر ہونے والے پہلے حملے میں گروپ کے نئے سربراہ کے لیے متوقع امیدوار ہاشم صفی الدین ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں تاہم رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو یقین ہے کہ اس نے انھیں ہلاک کر دیا ہے۔
شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرنوں کے دوران بیروت سے راکٹ فائر کئے گئے: آئی ڈی ایف
لبنان کی جانب سے حملوں کے خدشات کے پیش نظر شمالی اسرائیل میں رات گئے سے ہی خطرے کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر قبل جیسے ہی سائرن بجائے گئے اسی دوران لبنان کی جانب سے راکٹ بھی فائر کئے گئے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے فائر کیے جانے والے پانچ راکٹس (پروجیکٹائل) میں سے کچھ کو زمین پر گرنے سے قبل روکا گیا جبکہ دیگر کھلے مقامات پر گرے۔
اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ روز لبنان کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر 222 میزائل فائر کئے گئے تھے۔
دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار نک بیک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا لبنان پر زمینی اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ اسرائیل نے کچھ دیر قبل ہی لبنان کے دیہی علاقوں پر مزید حملوں سے خبردار کیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ایک ترجمان نے نقل مکانی کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اگلے ہدایات تک واپس ان علاقوں میں نہ آئیں۔
لبنان سے نکلنے کی اہم سڑک اسرائیلی بمباری میں تباہ، جنگ کے چوتھے روز کیا ہوا؟, فرانسز ماؤ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان اور شام کی سرحد کے درمیان ایک اہم شاہراہ اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آ گئی ہے، جہاں سے لوگ شام کا رخ کرتے ہیں۔ اسرائیلی حملے سے قبل بھی اس شاہراہ پر گڑھوں اور ملبے کے ڈھیر تھے مگر اس سب کے باوجود بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں نے اپنے سامان کے ساتھ شام کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مسنا کراسنگ کے قریب حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حزب اللہ اس کراسنگ سے لبنان کو اسلحے کی سمگلنگ کرتا ہے۔
جمعے کو کیے جانے والے حملے میں اسرائیل نے اس گزرگاہ کے ایک حصے کو تباہ کیا ہے اوراب اس شاہراہ پر گاڑیاں نہیں چل سکتیں۔ ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں کہ تمام تر مشکلات کے باوجود لوگ یہاں سے شام کی طرف جا رہے ہیں۔ جہاں پر حملہ ہوا ہے یہ جگہ لبنان کی جانب چیک پوائنٹ سے 700 میٹر فاصلے پر واقع تھی اور اس کا سرحد سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔
لبنان کے سرکاری اعددوشمار کے مطابق گذشتہ دن دنوں میں بمباری سے بچنے کے لیے تین لاکھ سے زائد لوگ لبنان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
امداد بہم پہنچانے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ منسا کے قریب سڑک کی تباہی سے جہاں لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے وہیں لبنان میں خوراک اور دیگر انسانی امداد کی اشیا لے جانے میں بھی رکاوٹ آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ میتھیو ہولینگورتھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اب جس مقام سے لبنان کے لیے کم سے کم وقت اور ارزاں نرخوں پر جو اشیا لائی جاتی تھیں اب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شاہراہ لبنان کے دیگر حصوں خاص طور پر شمالی علاقوں تک پہنچنے کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی تھی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی ریڈیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہم اس بات پر ہی زور دیں گے کہ یہ رستہ کھلا رکھا جائے کیونکہ یہ لوگوں کی نقل مکانی کے لیے بھی اہم ہے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔
لبنان سے شام، سوڈان اور دیگر خلیجی ممالک میں جانے کے لیے مسنا کراسنگ اہم مقام رہا ہے۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت کو جانے والی شاہراہ پر بھی حالیہ دنوں میں شدید بمباری کی گئی ہے۔
جمعے کو اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بارڈر کراسنگ پر ایک ایسے مقام کو ہدف بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ کے لیے ہتھیار بھیجے جاتے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے لبنان اور شام کے درمیان زیر زمین ایک ساڑھے تین کلومیٹر طویل سرنگ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس خاص جگہ کا نام نہیں بتایا کہ کہاں پر یہ سرنگ واقع تھی۔
حملے سے قبل اسرائیل فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کے لیے استعمال کرتا ہے اور وہ عام ٹرکوں اور گاڑیوں کو بھی اپنی سمگلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرکوں کی جامع نگرانی کریں۔
لبنان سے جنگ سے بچ کر لوگ شام کا رخ کرتے ہیں۔ بی بی سی نے بیروت میں ایک خاتون سے بات کی ہے جنھوں نے اس ہفتے اپنے بیٹے کو واپس شام بھیج دیا ہے کیونکہ لبنان کے دارالحکومت میں رہنا بہت خطرناک ہوچکا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’ان کے پڑوس سے بہت سے لوگ شام کی طرف جا رہے تھے تو میں نے بھی اپنا بیٹا ان کے ہمراہ شام بھیج دیا۔‘
اتوار کو شام کی حکومت نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے سے سرحد سے داخل ہونے کے لیے لوگوں کو 100 ڈالر کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
جمعے کو حملوں میں لبنان کے واحد کمرشل ایئرپورٹ ’بیروت ریفک حریری‘ کے قریب بھی حملے کیے ہیں۔
حزب اللہ کا ’حیدر‘ یونٹ مشرقی بقاع وادی میں جب کہ ضحیہ یونٹ بیروت کے گنجان آباد مضافات میں تعینات ہے جہاں حزب اللہ کا ہیڈ کوارٹر تھا اور اسی علاقے میں اسرائیلی حملے سے جمعے کو حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل یہاں فضائی حملوں میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ہدف بنایا ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ اسرائیل کی طرف سے نئے حملوں کا مقصد حزب اللہ کی نئی قیادت جس میں ممکنہ نئے سربراہ ہاشم سیف الدین کو نشانہ بنانا تھا۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں جمعرات کو 37 افراد مارے گئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 151 بنتی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں اب تک لبنان میں 200 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ جمعے کو اسرائیلی افواج نے جنوب میں مقامی مرکز نباتیح سمیت دو درجن سے زائد قصبو اور گاؤں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ علاقے خالی کر دیں۔
یہ علاقے دریائے لیطانی کے شمال میں اسرائیل کی سرحد سے 30 کلومیٹر دوری پر واقع ہیں۔
یہ وہ علاقہ ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ سرحدی زون کا شمالی کنارہ ہے۔ سلامتی کونسل نے 2006 کی جنگ کے بعد ایک قرارداد میں، دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات کے بعد یہ زون قائم کیا تھا۔
مگر اب لبنان میں اس حوالے سے یہ تحفظات بھی پائے جاتے ہیں کہ اسرائیل شہریوں کے انخلا کی صورت میں ان جنوبی علاقوں پر پھر قابض ہو جائے گا۔
امریکی فوج کے یمن میں حوثی اہداف پر حملے, سیبستین اشر اور میکس میتزا، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہDVIDS
امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروپ حوثی باغیوں پر حملے کیے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں فوج نے ’ایئرکرافٹس‘ اور جنگی طیاروں کی مدد سے یہ حملے کیے تا کہ سمندری جہازوں کے لیے آبی رستوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دارالخلافہ صنعا سمیت یمن کے چند اہم شہروں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
خیال رہے کہ نومبر سے حوثی بحیرہ احمر میں 100 کے قریب سمندری جہازوں پر حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں دو جہاز ڈوبے بھی ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے جواب میں وہ ایسا کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی سنٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حوثیوں کے ہتھیاروں، اڈوں اور حوثیوں سے متعلقہ دیگر اثاثہ جات کو ہدف بنایا گیا ہے۔
حوثیوں کے حمایت یافتہ میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جن شہروں پر حملے کیے ہیں ان میں ملک کا دارالخلافہ صنعا بھی شامل ہے۔
پیر کے روز حوثیوں نے کہا کہ انھوں نے یمن پر پرواز کرنے والے ایک امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ امریکہ نے اپنے ایک ایسے ڈرون کے کھو جانے کی تصدیق کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ ہفتے پینٹاگون کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے خطے میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ’ایک پیچیدہ حملہ‘ کیا تاہم اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا اور حوثیوں کی طرف سے فائر کردہ تمام ہتھیاروں کو ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔
یمن میں گذشتہ دو برس سے متعدد متحارب گروہوں کی لڑائی کے بعد سے صنعا پر بمباری میں ایک وقفہ چلا آ رہا تھا۔ واضح رہے کہ بحیرہ احمد میں سمندری جہاوزوں پر حملوں کے علاوہ ان حوثیوں نے براہ راست اسرائیل پر میزائل اور ڈرون سے حملے بھی کیے۔
جولائی میں یمن سے تل ابیب پر فائر کیے گئے ایک میزائل سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی اور اس حملے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے۔ گذشتہ ماہ اس گروپ نے اسرائیل پر متعدد میزائل بھی فائر کیے، جن میں سے ایک حملے میں اسرائیل کے نمایاں ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے دونوں بار یمن میں اہداف کو نشانہ بنا کر ان حملوں کا جواب دیا۔
اس برس کے آغاز میں امریکہ اور برطانیہ سمیت بارہ ممالک نے بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حوثیوں کے خلاف ’آپریشن پراپیئرٹی گارڈیئن‘ شروع کیا۔ حوثی مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا مسلح گروہ ہیں جنھیں ایران کے علاوہ حزب اللہ اور حماس کی حمایت بھی حاصل ہے۔
بحیرہ احمر: اہم راستہ کیوں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
بحیرہ احمر تیل اور مائع قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
کنسلٹنگ کمپنی ’ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس‘ کے ایک حالیہ تجزیے سے پتا چلا ہے کہ ایشیا اور خلیج سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں درآمد کی جانے والی تقریباً 15 فیصد اشیا بحیرہ احمر کے راستے بھیجی جاتی ہیں۔ ان میں 21.5 فیصد ریفائنڈ تیل اور 13 فیصد سے زیادہ خام تیل مصنوعات شامل ہیں۔
حوثی باغی آبنائے ماندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں جسے ’گیٹ آف ٹیئرز‘ (یعنی اشکوں کا دروازہ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 32 کلومیٹر چوڑا چینل ہے اور یہ جہاز رانی کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
یہ جزیرہ نما عرب میں یمن اور افریقی ساحل پر جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جس سے بحری جہاز جنوب سے نہر سویز تک پہنچ سکتے ہیں، جو ایک اہم سمندری راستہ ہے۔