یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کے مطابق پروازیں منسوخ کرنے کے حکم کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق آج رات نو بجے سے سوموار کی صبح چھ بجے تک ہو گا۔ پروازوں کی منسوخی اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایرانی میزائل حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں سے تمام پروازوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کے مطابق پروازیں منسوخ کرنے کے حکم کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق آج رات نو بجے سے سوموار کی صبح چھ بجے تک ہو گا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے اس حکم کا اطلاق ’کچھ‘ ہوائی اڈوں پر ہوتا ہے جب کہ ایک اور ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حکم کا اطلاق تمام ہوائی اڈوں پر ہوتا ہے۔
پروازوں کی منسوخی اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایرانی میزائل حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد ہوئی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل جوابی حملہ کب اور کیسے کرے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر 2024 کو اسرائیل پر تقریبا 200 میزائیل داغے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اس سے قبل ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد ایران بھر میں تقریباً 48 گھنٹوں کے لیے پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔

لبنان کے دارلحکومت بیروت میں نقل مکانی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے بہت سے مراکزنے آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس اب جگہ ختم ہو گئی ہے اور وہ نئے آنے والوں کو اپنے ہاں نہیں ٹہرا سکتے۔
بیروت کا ایک پناہ گاہ بننے والے سکول میں 350 افراد کے رہنے کی گنجائش تھی تاہم وہاں اس وقت 550 بے گھر افراد مقیمم ہیں۔
شہر کے جنوب سے جان بچا کر نکلنے والی ایک بزرگ خاتون نے مجھے بتایا کہ ’میں سلائی کڑھائی کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہوں اور اس تھوڑی سی آمدنی میں بہت کم بچت ہوتی تھی۔ اب مجھے اخراجات کے بارے میں مجھے بہت محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ اگر میرے پاس پیسہ ختم ہو ۔یے تو میں کیسے زندہ رہوں گی۔‘
ایک اور پناہ گاہ میں تقریباً 1,000 لوگ ہیں جن میں چالیس فیصد تعداد بچوں کی ہے آ اس پناہ گاہ میں صرف چھ شاور ہیں۔
سکول پہلے ہی ہر فرد کے لیے دو وقت کا کھانا فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ لبنانی فوڈ بینک سے تعلق رکھنے والے ویڈ لبان کا کہنا ہے کہ وہ یومیہ ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور کوئی بھی طویل مدتی منصوبے بنانے سے قاصر ہیں۔
’ہر روز ہم دعا کرتے ہیں کہ اگلے دن کے لیے ان کے پاس اتنی رقم ہو کہ گزارا ہو سکے۔ مقامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے پیدا ہونے والا بحران چار سال قبل بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے کے اثرات سے بھی بدتر ہے کیونکہ یہ زیادہ وسیع ہے اور زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔‘
بیروت کے میئر کا کہنا ہے کہ حکومت تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی۔ فنڈز کی اس کمی نے منفی اثر ڈالا ہے۔
اسرائیل پر غزہ کی عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب سے سات اکتوبر 2023 کو کیے جانے والے حملوں کو ایک برس مکمل ہو رہا ہے اور ملک بھر میں لوگ اس دن کے سوگ اور دکھ کے حوالے سے منانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔
سات اکتوبر کا دن اسرائیل بھر میں ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک دن قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمیونٹیز اپنے پیاروں کی یاد منانے کے لیے یادگاری تقریبات کا اہتمام کر رہی ہیں۔
جنوبی اسرائیل کے قصبے كيبوتز نیر عوز میں اس حملے کے دوران 46 افراد ہلاک ہوئے تھے اور سوموار کے روز اس قصبے کے قبرستان میں ایک یادگاری تقریب منعقد کی جائے گی اور رہائشی وہاں اپنے پیاروں کے نام پر ’امید کے درخت‘ لگائیں گے۔
شی لیونسن کی والدہ کو کبٹز میں قتل کیا گیا تھا اور حماس نے اس قتل کی ویڈیو اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی تھی۔
وہ کہتی ہیں ’جیسے جیسے اب ایک سال گزر گیا ہے مجھے اب اس واقعے پر غصہ محسوس ہوتا ہے۔ فلسطینیوں اور ان کی قیادت کے اوپر غصہ… مجھے انتہائی دکھ اور مایوسی ان یرغمالیوں کے لیے محسوس ہوتی ہے انھوں نے حماس کی سرنگوں میں قید پورا ایک سال گزارا ہے۔‘
کبٹز کے قریب ہی واقع ایک اور قصبے میں ایک نجی یادگاری تقریب کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وہاں کے ایک رہائشی نے بتایا ’ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ایک سال گزر گیا ہے۔‘
تل ابیب میں غیر سرکاری سطح پر ایک بڑی یادگاری تقریب کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ گو کہ راکٹ حملوں کے خطرے کی وجہ سے حاضرین کی تعداد کو محدود کر دیا گیا ہے۔
ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ ریاستی یادگاری دستاویزی فلم کے بھی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے کی توقع ہے۔
یہاں یروشلم میں یرغمال خاندانوں کے فورم نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ تک ایک ریلی کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس گروپ نے آج ایک بیان میں کہا، ’ہم یاد رکھنے، کارروائی کا مطالبہ کرنے اور اپنے پیاروں کو گھر لانے کے لیے جمع ہوں گے۔‘
اسرائیلی بھی اس دن کو نجی طور پر منائیں گے۔
52 سالہ تل ابیب کے رہائشی لیور کا کہنا ہے کہ ’کل میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک افسوسناک دن ہوگا کیونکہ یہ دن خوفناک قتل عام کی یاد دلائے گا۔‘
’صبح میں میں اپنے بچوں کے ساتھ ہوسٹجز سکوائر میں مدد کے لیے جاؤں گا۔ میں قتل ہونے والوں کی زندگی کی کہانیاں پڑھوں گا جیسا کہ میں سات اکتوبر سے کر رہا ہوں تاکہ وہ سب یاد رکھوں اورکبھی نہ بھولوں۔‘
اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس دوران خطرے سے آگاہ کرنے والے سائرن کی گونج بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے رات بھر میں لبنان سے آنے والے ان 30 سے زائد راکٹ حملوں کو روکا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر یہ میزائل داغنے کی کوشش کی تھی۔
اسرایئلی ڈیفینس فورس نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ شمال سے حیفہ تک اور جنوب میں حدیرہ تک سائرن بھی سنائی دے رہے ہیں۔
لبنان میں اسرائئلی حملوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور ایسے میں لبنان کے وزیر تعلیم نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کو موخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
لبنان کے وزیر تعلیم کے مطابق 'سکیورٹی رسک' کی وجہ سے تعلیمی سال کے آغاز میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
وزیر تعلیم عباس حلبی کا کہنا ہے کہاس عمل سے 10 لاکھ سے زائد طلبا متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے نئے تعلیمی سال کا آغاز اب چار نومبر سے کیا جائے گا۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق،عباس حلبی نے پرائیویٹ یونیورسٹیز کے حوالے سے اعلان میں کہا ہے کہ نجی یونیورسٹیاں اپنے حالات کے مطابق کلاسز کل سے دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMDA
اسرائیل میں ایک بس سٹیشن پر ’حملے‘ کی ذد میں آ کر ایک 25 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی ہیں جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبا ایک گھنٹے قبل جنوبی اسرائیل میں ایک „مشتبہ دہشت گردانہ حملہ‘ کیا گیا جس کے نتیجے میں خاتون کی ہلاکت ہوئی جبکہ پولیس کے مطابق حملہ آور مارا گیا ہے۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
یہ حملہ بیر شیبہ کے مرکزی بس سٹیشن ٹرمینل کے اندر واقع میکڈونلڈ کے قریب ہوا ہے اور یہاں کئی دکانیں اور ریستورانٹس ہیں۔
آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو فوٹیجز میں مبینہ حملہ آور کو خون میں لت پت دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ جیسے ہی اس نے حملہ کیا اس کے فوراً بعد حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
اسرائیلی پولیس نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں بس سٹیشن کی عمارت کے اندر زمین پر ایک بڑا چاقو دکھایا گیا ہے۔
طبی حکام کے مطابق بعض زخمیوں کو گولی لگنے کے زخم بھی آئے ہیں۔
لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی طرف سے ایک بیان شیئر کیا گیا ہے جس کے مطابق عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہ (اسلامک ریزیسٹینس گروپ) نے صبح سویرے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں تین اہداف پر ڈرون حملے کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ گروپ حزب اللہ اور خطے میں اسرائیل کے مخالف ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروپوں کا اتحادی ہے۔
تاہم اس دعوے پر اسرائیل کا نہ ہی تبصرہ سامنے آیا نہ فوری طور پر کسی نقصان کی اطلاع مل سکی ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی فوج نے حزب اللہ کے ایک کمانڈر خدر علی تاول کو حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خدر علی دو دیگررہنماؤں محمد حیدر اور حسن نذیر الرعینی کے ساتھ اسرائیل پر کیے جانے والے ایک حملے میں ملوث تھے۔
تاہم حزب اللہ کی جانب سے اب تک خدر علی تاول کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
آئی ڈی ایف کے مطابق وہ دونوں رہنما رواں ہفتے کے آغاز میں مارے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد نے جنوری میں اسرائیل کی شمالی سرحد پر واقع قصبے یوفال پر ٹینک شکن میزائل سے حملہ کیا تھا اور اس حملے کے نتیجے میں شہر کے ایمرجنسی رسپانس سکواڈ کا حصہ رہنے والے بارک ایلون اور ان کی 76 سالہ والدہ ہلاک ہو گئیں تھیں۔
آج صبح سے ،جب سے اسرائیلی فوج نے یہ بیان پوسٹ کیا ہے،حزب اللہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مضافات میں رہنے والوں کے لیے ایک بار پھر انخلا کے تازہ احکامات جاری کیے ہیں۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ایک ترجمان کی جانب سے انخلا اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں نئی کارروائیاں شروع کرنے جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جنوبی لبنان کے تقریباً 25 دیہات کے مکینوں سے فوری نقل مکانی کی ہدایات کی ہیں۔
الرٹ کے مطابق ’جو بھی حزب اللہ کے ارکان، تنصیبات یا ہتھیاروں کے نزدیک ہے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ گاؤں کے باشندوں، آپ کو اپنے گھر خالی کرنے ہوں گے۔‘
ترجمان کے مطابق علاقہ مکینوں کو لبنان کے جنوبی شہر سیڈون سے بالکل شمال کی جانب منتقل ہونا چاہیے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو واپس اپنے گھروں کو جانے کے مناسب اور محفوظ وقت سے آگاہ کریں گے تب تک کے لیے آپ وہیں مقیم رہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہtwitter
بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر رات گئے اسرائیلی حملوں کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات شامل کر رہے ہیں جن کا تجزیہ بی بی سی ویریفائی نے کیا ہے۔
ہم نے ایک ویڈیو کے جغرافیائی محل وقوع سے متعلق تحقیق کی ہے جس میں بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والی اہم سڑکوں میں سے ایک میں زور دار دھماکے، آسمان سے باتیں کرتے آگے کے شعلوں اوردھویں کے بادلوں کو دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو کے پس منظر میں نظر آنے والے ایک فیول سٹیشن کا پتہ لگا کر اور سیٹلائٹ کی تصویروں میں نظر آنے والی سڑک کی ترتیب اور قریبی عمارتوں کے محل وقوع میں ہم اس مقام کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
ویڈیو کے متعدد فریمز کو ریورس امیج میں تلاش کرکے ہم نے جانا کہ اسرائیل ڈیفنس فورسز کی جانب سے اسی سڑک پر ایک کثیر المنزلہ عمارت سے متعلق انخلا کا حکم جاری کیا گیا تھا جس کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں
اس وڈیو کلپ کو آن لائن شیئر کیا جانے لگا۔
ایک علیحدہ ویڈیو،جس میں آگ کو قریب سے دکھایا گیا ہے، دھوئیں کے نارنجی بادل جس مقام سے بلند ہو رہے ہیں وہ بھی آئی ڈی ایف کے جاری کردہ انخلا کے حکم میں نشان زد مقام سے مطابقت رکھتا ہے۔
آئی ڈی ایف نے انخلا سے متعلق الرٹ ایکس پرسنیچر کے روز شیئر کیا تھا۔
یاد رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر گذشتہ شب دھماکے اور آتش زدگی کے مناظر دیکھے گئے تھےاور اطلاعات تھیں کہ اسرائیلی فوج نے ایک پیٹرول سٹیشن پر حملہ کیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے لوگوں کو ضاحیہ سے نکلنے کی تنبیہ کی تھی۔ گراؤنڈ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے چھ دھماکے اور ڈرون کا گشت سنا تھا۔
سنیچر کو اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ داغے۔

،تصویر کا ذریعہہیوگو بچیگا/بی بی سی
لبنانی کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات جنوبی لبنان اور ملک کی مشرقی علاقوں بشمول وادی بقاع اور بعلبک ھرمان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 23 افراد ہلاک اور 93 زخمی ہوئے ہیں۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیوگو بچیگا نے آج صبح جنوبی بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے کے ایک مقام کا دورہ کیا۔ 12 گھنٹوں کے بعد بھی عمارت کے ملبے سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔
ان کے مطابق اس عمارت کے نیچے زیرِ زمین تین منزلیں تھیں جو کہ مکمل طور پر ڈھے چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہہیوگو بچیگا/بی بی سی
اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت میں ایک مٹھائی کی دُکان بھی تھی اور وہاں موجود ملبے میں بھی بی بی سی کے نامہ نگار نے جامنی رنگ کی تھیلیاں پڑی ہوئی دیکھیں جن پر اکاوی سوئیٹس لکھا ہوا تھا۔
اس عمارت کے اطراف میں جو عمارتیں ہیں ان کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
علاقے میں مقیم ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقام سے قریب ہی ایک سکول بھی واقع ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سڑک کی دوسری طرف رہائشی عمارتیں ہیں جنھیں اسرائیلی فوج کے حملے کے اعلان کے بعد خالی کروالیا گیا تھا۔
ہمارے پاس اس حملے کے حوالے مزید معلومات تو موجود نہیں لیکن اسرائیلی فوج اکثر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ حزب اللہ رہائشی علاقوں میں اپنا اسلحہ چھپاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہCivil Defence Gaza
غزہ کے مرکزی علاقے دیر البلح کی ایک مسجد اور سکول پر اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں حکام کے مطابق کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے سرکاری حکام کے مطابق اس سکول میں بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی۔ یہ حملہ الاقصہ مسجد ہسپتال کے قریب ہوا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس سکول اور مسجد میں موجود ’حماس کے دہشتگردوں‘ کے خلاف کارروائی کی گئی جو وہاں سے اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر چلا رہے تھے۔
الاقصیٰ شہدا ہسپتال کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں سر کٹے بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔ بے گھر افراد کی پنا گاہ اس مسجد پر حملے کے بعد ہم لاشوں اور زخمیوں میں فرق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
دریں اثنا فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اتوار کی رات اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے جبالیہ کے متعدد علاقوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں شمالی غزہ میں جبالیہ کے کئی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کے حکام کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں قریب 42 ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں حماس کے سات اکتوبر کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت پر گذشتہ شب دھماکے اور آتش زدگی کے مناظر دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک پیٹرول سٹیشن پر حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے لوگوں کو ضاحیہ سے نکلنے کی تنبیہ کی تھی۔ گراؤنڈ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے چھ دھماکے اور ڈرون کا گشت سنا۔
سنیچر کو اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ داغے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اسرائیل کے لیے ہتھیاروں پر پابندی اور لبنان میں فوری جنگ بندی کے مطالبات کرنے پر فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں پر بھی تنقید کی۔ فرانس نے اسرائیل کے اس ردعمل کو بھی دونوں ملکوں کے درمیان دوستی سے منافی قرار دیا ہے۔
پیرس میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ انھیں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی طرف سے لبنان میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے پرانھیں افسوس ہے اور کہا کہ یہ ایسے ممالک کی پالیسی میں تسلسل نہیں ہے جو ایک طرف تو اسرائیل کو ’جنگی ہتھیار‘ فراہم کرتے ہیں اور پھر ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے فرانسیسی صدر کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اسرائیل کے ساتھ نہیں کھڑا وہ پھر ایران اور اس کے اتحادیوں اور گماشتوں کا حمایتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’جب اسرائیل ایران کی قیادت میں ظالمانہ قوتوں سے برسرپیکار ہے تو ایسے میں تمام مہذب ممالک کو مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘ نتن یاہو نے مزید کہا کہ ’اس کے باوجود صدر ایمانویل میکخواں اور دیگر مغربی رہنما اب اسرائیل کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
نتن یاہو نے کہا کہ ’انھیں شرم آنی چاہیے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کے بعد ایمانویل میکخوں کے دفتر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اسرائیل کا ایک بہت مضبوط دوست ہے۔ اس بیان میں فرانس نے نتن یاہو کے ردعمل کو ’فرانس اور اسرائیل کی دوستی کے منافی اور ’حد سے متجاوز‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ کے بارے میں ابھی تک کی تازہ ترین صورتحال:
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے میزائل حملوں کو ’تاریخ کے سب سے بڑے بیلسٹک میزائل حملے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ان کا جواب دے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’دنیا میں کوئی بھی ملک اپنے شہروں پر ایسے حملے قبول نہیں کرے گا اور اسرائیل بھی یہ قبول نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کا فرض اور حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے اور ان حملوں کا جواب دے اور ہم ایسا ہی کریں گے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ’شرمناک‘ میزائل حملے کا جواب اپنی مرضی کے مقام اور وقت پر دیں گے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ٹی وی پیغام میں اس بات کی تصدیق بھی ہے کہ منگل کو ایرانی حملے میں اسرائیلی کے دو فضائی اڈے نشانہ بنے تھے تاہم حملے کے باوجود دونوں اڈے مکمل طور پر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایک اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج اس ہفتے کے دوران ایرانی میزائل حملے کا ’جواب دینے کی تیاری‘ کر رہی ہے۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے فوجی اہلکار نے اس ’جواب‘ کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے یہ بھی بتایا ہے کہ لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک حزب اللہ کے 30 کمانڈروں سمیت 440 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ حزب اللہ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے میں اس کے کتنے جنگجو مارے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج اس ہفتے کے دوران ایرانی میزائل حملے کا ’جواب دینے کی تیاری‘ کر رہی ہے۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے فوجی اہلکار نے اس ’جواب‘ کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے منگل کی شام ایران نے اسرائیل کی جانب تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے زیادہ تر میزائلوں کا ناکارہ بنا دیا تھا تاہم ان میں سے کچھ جنوبی اسرائیل میں گرے تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے سنیچر کے روز اسرائیل پر 90 راکٹ فائر کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 14:09 پر بالائی اور وسطی گلیلی کے علاقے میں 30 پروجیکٹائل فائر کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا تھا۔
تقریباً 14:52 پر مزید 30 راکٹ بالائی گلیلی کی جانب مارے گئے۔
اس سے قبل لبنان اسرائیل سرحد کے نزدیک موجود بی بی سی کے ایک رپورٹر نے بتایا تھا کہ جہاں سے ان کی ٹیم رپورٹ کر رہی تھی اس کے 100 میٹر کے اندر ایک راکٹ پھٹنے کی آواز سنی گئی تھی۔