لبنان اسرائیل کشیدگی: بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر ابراہیم عقیل کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک

حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ ندیم قاسم نے ابراہیم عقیل کے جنازے میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’ان کا گروہ اس ہفتے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے صدمے کی حالت میں تھا تاہم اب ایسا نہیں۔‘ دوسری جانب عراق عسکریت پسند گروہ نے حزب اللہ کی حمایت کے اعلان کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • حزب اللہ کے فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل کی آخری رسومات حزب اللہ کے مرکز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیح میں ادا کر دی گئی ہیں۔
  • لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ منگل کو بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی پہلی لہر کے دوران زخمی ہونے کے بعد ’اب بہت بہتر‘ ہیں۔
  • لبنان کے وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا لبنان میں ہونے والے ’خوفناک قتل عام‘ پر واضح پوزیشن لے۔
  • ایران کے جنوبی خراسان صوبے کے شہر تباس میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے کم از کم 51 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 24 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کا لاہور میں جلسہ: چھ بجتے ہی لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم بند کر دیے گئے

    لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں چھ بجتے ہی لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم بند کر دیے گئے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پولیس کی گاڑیاں مرکزی سٹیج کے پیچھے پہلے سے ہی موجود تھیں اور جیسے ہی چھ بجے پولیس نے لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کو بند کرا دیا، جس کے بعد جلسے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے جلسہ گاہ سے نکلنا شروع کر دیا۔

    یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے جاری اجازت نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ وہ دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے تک جلسہ کر سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہ@PTIofficial

  2. پی ٹی آئی کا لاہور میں جلسہ شروع، وزیرِ اعلیٰ کے پی سمیت کئی مرکزی رہنما تاحال جلسہ گاہ نہیں پہنچے

    لاہور جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں جلسہ شروع ہوگیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت مانگی تھی تاہم ڈپٹی کمشنر کی جانب سے انھیں لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں جلسے کے لیے این او سی جاری کیا گیا۔ کاہنہ لاہور قصور روڈ پر واقع ہے اور یہ لاہور سے لگ بھگ 24 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری اجازت نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے تک جلسہ کر سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیجز کے مطابق کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جلسہ گاہ پہنچ چکی ہے جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے کئی رہنما بشمول سابق وفاقی وزیر حماد اظہر بھی جلسے میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ جلسہ گاہ پہنچنے والے دیگر پارٹی رہنماؤں میں سابق وفاقی وزیر زرتاج گل، فیصل جاوید، سینیٹر عون عباسی اور پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ شامل ہیں۔

    تاہم تاحال وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت کئی مرکزی رہنما جلسہ گاہ نہیں پہنچے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’دو سال سے ہمارا ملک یرغمال ہے، نہ یہاں جمہوریت ہے، نہ انسانیت، نہ آئین اور نہ قانون۔‘

    پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

  3. ابتدائی تحقیقات کے مطابق واکی ٹاکی، پیجر ڈیوائسز میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا: روئٹرز کی رپورٹ

    لب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں کی ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ان آلات کے لبنان پہنچنے سے پہلے ان میں دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے ان دھماکوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    روئٹرز نے اقوامِ متحدہ میں لبنانی مشن کی جانب سے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط کا حوالہ دیا ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام کو اس بات کا یقین ہے کہ ان آلات میں دھماکہ کرنے کے لیے الیکٹرانک پیغامات بھیجے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق منگل اور بدھ کے روز پیجر ڈیوائس اور واکی ٹاکی دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں میں مجموعی طور پر تین ہزار کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    جمعے کی شب سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے لبنان کے سفارتکار عبداللہ بوحبیب کا کہنا تھا کہ بربریت اور دہشت گردی کے اعتبار سے ایسے اقدام کی نظیر نہیں ملتی ہے۔

    اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے لبنان میں پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    جمعے کی رات سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بظاہر بے ضرر پورٹیبل اشیاء کی شکل میں بوبی ٹریپ آلات کے استعمال پر پابندی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہریوں میں دہشت پھیلانے کے مقصد سے تشدد کا ارتکاب جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے اس معاملے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  4. لبنان میں اسرائیلی حملے: حزب اللہ کے دو سینیئر کمانڈروں سمیت 31 افراد ہلاک

    لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جمعہ کے روز لبنان کے دارالحکومت میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک مقام کو نشانہ بنایا تھا جس میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر ابراہیم عقیل اور دیگر جنگجو ہلاک ہو ئے تھے۔

    کہا جاتا ہے کہابراہیم عقیل ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے دوسرے اہم ترین رہنما تھے۔

    سنیچر کی صبح حزب اللہ نے تصدیق کی کہ جمعے کے روز بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں اس کا ایک اور سینئر کمانڈر احمد وہبی بھی مارے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق احمد وہبی 2024 کے اوائل تک حزب اللہ کی رضوان فورسز کی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے۔

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنسنیچر کی صبح لوگ بیروت کے مضافاتی علاقے جہاں جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حملے ہوئے تھے انتظار کر رہے ہیں۔
    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تقریر کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں نقب لگائی گئی ہے۔ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔‘

    حسن نصراللہ کے مطابق ’اسرائیلی حملوں کا جواب اس انداز سے دیا جائے گا جو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔‘

    اگرچہ اسرائیل نے ابھی تک ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم حسن نصراللہ نے اسرائیل کو ’سخت‘ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 37 افراد ہلاک اور تقریباً 3000 زخمی ہوئے۔

  5. پی ٹی آئی کے لاہور میں جلسے سے چند گھنٹے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ُعلی امین

    ،تصویر کا ذریعہPTI KP TWITTER

    نو مئی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران اسلام آباد کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    ان درخواستوں کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ وکیل ظہور الحسن نے علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کروائی، جس پر پراسیکیوٹر راجا نوید نے کہا کہ عدالت ملزم کا کنڈکٹ دیکھ لے مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    جج طاہرعباس سپرا نے ریمارکس دیے پچھلی مرتبہ حاضری سے معافی کی درخواست دی اور 8 کو جلسے میں طبعیت ٹھیک تھی، جس پر وکیل ظہور الحسن نے کہا عدالت آج استثنیٰ کی درخواست منظور کرے یقین دہانی کرواتا ہوں علی امین حاضر ہوں گے۔

    صحافی رضوان قاضی کے مطابق دوران سماعت علی امین کے وکلا نے عدالت کو درخواست دی کہ آج رستے بند ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت نہیں پہنچ سکے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل اے بی این نیوز سے وابستہ صحافی جمشید قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ علی امین گنڈا پور کے وکلا آج اسلام آباد کی دو مختلف عدالتوں میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اگر عدالت رستے صاف کروا دے تو پھر وزیراعلیٰ پیش ہو سکتے ہیں۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علی امین گنڈاپورکی جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں بھی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ جمشید کے مطابق جج نے ریمارکس دیے کہ بغیر کسی وجہ کے ہر مرتبہ ریلیف نہیں دے سکتے، آخری مرتبہ بھی آپ کی مرضی کی تاریخ دی گئی تھی۔

    جمشید قادر کے مطابق جج طاہر عباس سپرا نے علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد ان کی درخواست ضمانت بھی خارج کردی۔ ان کے مطابق علی امین گنڈا پور کے ضمانتی ان کے وکیل کے منشی تھے جو خود بھی عمرے کی وجہ سے آج عدالت کے سامنے پیش نہں ہو سکے ہیں۔

    رضوان قاضئ کے مطابق جج طاہر عباس سپرا نے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور، واثق قیوم عباسی، راجہ راشد حفیظ اور عامر محمود کیانی کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے عمر تنویر بٹ کو مسلسل غیر حاضری پر اشتہاری اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

    ان رہنماؤں پر 9 مئی سے متعلق دہشتگردی کی دفعات کے تحت تھانہ آئی 9 میں مقدمہ درج ہے۔

  6. پی ٹی آئی کو لاہور میں جلسے کی اجازت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر جلسے میں معافی مانگنے کی بھی شرط عائد, عبادالحق، صحافی

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کو لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے تحریک انصاف کی درخواست پر کاہنہ میں جلسے کرنے کی اجازت دی ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ رات تک ایسی متضاد خبریں چل رہی تھیں کہ یہ جلسہ جلو پارک میں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    جلسے کے لیے تحریک انصاف نے لاہور مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت مانگی تھی تاہم انھیں لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں جلسے کی اجازت دی گئی ہے۔ کاہنہ لاہور قصور روڈ پر واقع ہے اور یہ لاہور سے لگ بھگ 24 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو مینار پاکستان کے مبتادل کاہنہ میں ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دی ہے۔ یہ کسی بھی سیاسی جماعت کا کاہنہ میں اپنی نوعیت کا پہلے جلسہ ہوگا۔ لاہور میں عام طور پر جلسوں کے مشہور مقامات مینار پاکستان، ناصر باغ اور موچی دروازہ ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفکیشن کے مطابق 44 مخلتف شرائط شراط رکھیں گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خبیر پختونخوا کو آٹھ ستمبر کے جلسے میں استعمال کیے جانے والے الفاظ پر جلسے میں معافی مانگنی چاہیے۔

    میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما اشتیاق اے خان کا کہنا تھاکہ ہم علی امین کی طرف سے ذمہ داری نہیں لے سکتے ہیں وہ کوئی معافی مانگیں، ان کی اپنی مرضی ہے، جو بہتر ہوگا وہ اپنی تقریر کریں گے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ آئین کے دائرے میں رہ کر جلسہ کریں گے۔ نہ کوئی توڑ پھوڑ ہو گی اور نہ کوئی ایسی بات ہو گی جو قانون کے خلاف ہو۔

    لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے آج صبح تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی تھی کہ وہ شام پانچ بجے تک جلسے کی اجازت دینے کی درخواست پر فیصلہ کریں۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کے جلسے کی اجازت دینے کے احکامات میں واضح کیا گیا کہ یہ جلسہ دوپہر تین سے شام چھ بجے تک ہو گا۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر اسیر رہنماؤں کا نام لیے بغیر انتظامیہ نے یہ شرط عائد کی ہے کہ جلسے میں کسی مفرور یا سزا یافتہ کی آڈیو اور ویڈیو پیغام نشر نہ کی جائے۔ پی ٹی آئی سے کہا گیا ہے کہ وہ پنے فوکل پرسز مقرر کرے تا کہ وہ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ٹریفک کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

    جلسے کے منتظمین کو پابند کیا گیا ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری پی ٹی آئی قیادت کی ہو گی۔ بچوں اور خواتین کے ساتھ ساتھ سٹیج کے لیے سکیورٹی انتظامات بھی پی ٹی آئی قیادت دیکھے گی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحریک انصاف کے جلسے میں افغان پرچم نہیں لہرایا جائے گا۔

    جلسے میں اُن افراد کو سٹیج پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو 8 ستمبر جلسے میں بیانات دینے کے بعد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی مفرور کو جلسے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی.

    تحریک انصاف کو لاہور جلسے کے لیے پابند کیا گیا ہے کہ جلسے میں کوئی ریاست مخالف اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز بات نہیں کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے ہدایت کی کہ جلسہ گاہ کے لیے ساونڈ سسٹم کے لیے پنجاب ساؤنڈ سسٹم آرڈیننس 2015 کا اطلاق ہوگا اور ساتھ ساؤنڈ سسٹم کی آواز جلسہ گاہ سے باہر نہیں جائے۔

    گاڑی پر جلسے کا اعلان کرنے پر پابندی ہوگی اور جلسے کے لیے وال چاکنگ بھی نہیں کی جا سکتی۔

  7. اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے آپریشن کمانڈر ابراہیم عقیل کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے آپریشن کمانڈر ابراہیم عقیل فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل ڈیفنس فورس کے ترجمان ڈینیئل ہیگری کا کہنا ہے کہ بیروت میں کیے گئے فضائی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر ابراہیم عقیل مارے گئے ہیں۔

    ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان یونٹ کے دیگر ارکان بھی اس حملے میں مارے گئے۔

  8. مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد صرف حکومت کو تحفظ دینا تھا: مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کسی قسم کا مسودہ دینے کے لیے تیار نہیں ہو رہی تھی۔ حکومت بغیر تیاری کے ایوان سے توقع کررہی تھی کہ اس سے تعاون کیا جائے۔

    انھوں نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’پارلیمنٹ بدقسمتی سے عوام کی کم اور طاقتور کی زیادہ خدمت کر رہی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’پارلیمانی کمیٹی میں اپنی تجویزبیان کیں، حکومت نے ایک کاپی پیپلزپارٹی کو اور ایک ہمیں دی ہے۔ حکومت سے کہا کہ ہمیں آئینی ترمیم کا مسودہ دکھائیں، مسودہ دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں فرق ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے نظریات، اصول اور قوم کی آواز کو تقویت دینے کی سیاست کی اور ہر ایسی تجویز کو مسترد کردیا جو مفاد عامہ کے خلاف تھی۔ مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد صرف حکومت کو تحفظ دینا تھا۔ حکومت کے پاس اکثریت نہیں تھی ان کا انحصار جے یو آئی اراکین پر تھا،‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ’آئین میں وفاقی عدالتوں کا تصور ہے اور ہم نے یہ تجویز اس لیے دی ۔سپریم کورٹ میں عام لوگوں کے اس وقت 60 ہزار کیسز زیر التوا ہیں جبکہ پورے ملک کی عدالتوں میں اس وقت 24 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’بلاول بھٹو سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ وہ بھی تجاویز بنائیں ہم بھی مسودہ تیار کرتے ہیں، ہم چاہتے کہ اتفاق رائے پیدا ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ متبادل تجاویز کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے اور کچھ دنوں کے بعد اس کا مسودہ تیار کیا جائے گا، ہمارا آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے موجود ہے۔

    سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا بدقسمتی سے پارلیمان ایک ایسا کردار ادا کررہی ہے جس میں عوام کی خدمت کم اور طاقتوروں کی خدمت زیادہ ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکتی اور مہنگائی اور دیگر مسائل کی وجہ سے عوام کے اندر ناراضگی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

  9. بریکنگ, لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12افراد ہلاک، 66 زخمی

    بیروت میں حملے

    ،تصویر کا ذریعہANWAR AMRO/AFP via Getty Images

    لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق فضائی حملے میں 66 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو کی ایک رپورٹ میں ایک سکیورٹی ذریعے کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ جمعے کو بیروت میں اسرائیل کے حملے کا ہدف حزب اللہ کے آپریشنز کمانڈر ابراہیم عقیل تھے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حزب اللہ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے کمانڈر ان سیکنڈ ابراہیم عقیل اس حملے میں مارے گئے ہیں تاہم بی بی سی ابھی تک اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    اسرائیل کے بیروت پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفضائی حملے میں 59 افراد زخمی ہو چکے ہیں جنھیں بیروت کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا

    یاد رہے کہ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جمعرات کی شام ملک کے جنوب میں کم از کم 52 حملے کیے تھے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان نے بھی شمالی اسرائیل میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

  10. قتل کی ناکام سازش کے بعد علیحدگی پسند امریکی سکھ رہنما کا انڈین حکومت کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ, شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،دلی

    سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنون

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    امریکہ کی ایک عدالت نے سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنون کی ایک سول لا پٹیشن پر انڈیا کی حکومت، قومی سلامتی کے مشیر، خفیہ سروس را کے سربراہ اور کئی دیگر اہلکاروں کو سمن جاری کیا ہے۔

    نیو یارک کی ضلع عدالت نے یہ سمن امریکہ کے شہری اور خالصتان حامی پنون کی جانب سے ہرجانے کا ایک مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد جاری کیا ہے۔

    پنون نے گزشتہ برس مبینہ طور پر انڈیا کی ایما پر انھیں قتل کرنے کی سازش پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

    عدالت نے حکومت اور دیگر اہلکاروں کو جواب دینے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔

    دوسری جانب انڈیا کی حکومت نے اسے بے معنی اور بے بنیاد الزام کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کو یہ سمن ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی چار دن کے امریکہ کے دورہ پر ہیں۔

    نیویارک کی ضلعی عدالت نے انڈین حکومت، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، را کے سربراہ سامنت گوئل، را کے سینئیر افسر وکرم یادو اور ایک انڈین بزنس مین نکھل گپتا کے علاوہ کئی دیگر افراد کوبھی سمن جاری کیا ہے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ نکھل گپتا پر پنون کو قتل کرنے کے لئے کرائے کا قاتل حاصل کرنے کی سازش کا الزام ہے۔ اس وقت وہ نیویارک کی جیل میں ہیں۔

    گرو پتونت سنگھ پنون کینیڈا اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ وہ انڈیا کی ریاست پنجاب کو ایک علیحدہ ملک خالصتان بنانے کے حامی ہیں۔

    وہ ’سکھ فار جسٹس‘ نام کی ایک تنظیم چلاتے ہیں۔ انڈیا کا کہنا ہے پنون اور ان کی تنظیم انڈیا مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور وہ اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    حکومت نے اس تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور پنون کو ایک مطلوبہ دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

    ایک نیوز کانفرنس میں پنون کے سول لا سوٹ کے بارے میں سوال کیے جانے پر انڈیا کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے کہا ’اس کیس کے پیچھے جو شخص ہے اس کے بارے میں تو آپ سبھی جانتے ہیں۔‘

    وکرم مسری کے مطابق ’وہ جس تنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں اسے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ کیونکہ یہ تنظیم انڈیا کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنجانے کے لیے ملک دشمن اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔‘

    نومبر 2023 میں امریکہ کے محمکہ انصاف نے یورپ میں مقیم انڈین بزنس مین نکھل گپتا کے خلاف امریکا کے شہری اور سکھ علیحدگی پسند رہنما کے ناکام قتل کی سازش کا الزام عائد کیا تھا۔

    بعد میں نیویارک کیا ایک عدالت میں محکمہ انصاف کی طرف سے داخل کی گئی فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ انڈین حکومت کے ایک ملازم نے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

    نکھل گپتا کو سکھ رہنما کے قتل کے لیے ایک کرايہ کا قاتل حاصل کرنے کے لیے کام پر لگایا گیا۔ قتل کی اس سازش کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے ناکام کر دیا تھا۔

    امریکہ نے اپنی سرزمین پر اپنے ایک شہری کو مبینہ طور پر خفیہ سروس کے ایجنٹوں کے ذریعے قتل کرانے کی کوشش پر انڈیا سے شدید ناراضگی ظاہر کی تھی۔

    امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے انڈیا کے اپنے ہم منصب سے اس سلسلے میں بات چیت کی تھی۔

    بعد میں انڈیا کی حکومت نے امریکی حکومت کی تشویش دور کرنے کے لیے ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی بنائی تھی۔

    گرپتونت سنگھ پنون نے ناکام قاتلانہ حملے ، اور اعصابی و جذباتی تناؤ کے لیے مالی ازالے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کی زندگی کو اب بھی خطرہ لاحق ہے۔

  11. لبنان سے شمالی اسرائیل پر 140 راکٹ داغے گئے: آئی ڈی ایف

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے لبنان کی حدود سے شمالی اسرائیل میں درجنوں راکٹ داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ 140 راکٹ داغے گئے تاہم ان میں سے زیادہ تر کھلے علاقے میں گرے اور ان حملوں میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

    اسرائیل کی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے ان راکٹوں میں سے کچھ کو روکا بھی ہے۔

    یہ حملے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں، صفد اوردیگرعلاقوں پر کیے گئے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں فائر اور ریسکیو کی ٹیمیں راکٹ فائر کی وجہ سے لگنے والی آگ کو بجھا رہی ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی پولیس نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں بتایا کے ان راکٹ حملوں میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر وسیع فضائی حملوں کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔

    دوسری جانب عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر متعدد حملوں کا اعلان کیا ہے۔ لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف اسرائیلی فوج کے مراکز ہیں۔

    یہ حملے اسرائیل کی جانب سے گزشتہ رات تقریباً دو گھنٹے تک جنوبی لبنان پر بمباری کے ایک گھنٹے بعد کیے گئے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کی میزائل اور آرٹلری بٹالین کو نشانہ بنایا ہے اوربیریا میں فضائی دفاعی میزائل اڈہ بھی ان کا ایک ہدف تھا۔

    حزب اللہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں فلسطینی سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنآئی ڈی ایف کے مطابق کئی علاقوں میں فائر اور ریسکیو کی ٹیمیں راکٹ فائر کی وجہ سے لگنے والی آگ کو بجھا رہی ہیں

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زیادہ راکٹ لانچروں اور دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق جن لانچروں کو نشانہ بنایا گیا ہے انھیں اسرائیلی علاقوں پر حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جمعرات کی شام ملک کے جنوب میں کم از کم 52 حملے کیے تھے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان نے بھی شمالی اسرائیل میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے قبل لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے متنبہ کیا ہے کہ ’اسرائیلی حملوں کا جواب اس انداز میں دیا جائے گا جو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔‘

  12. شمالی اور جنوبی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی کے دوران چھ فوجی اور 12 شدت پسند ہلاک

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف دو علیحدہ علیحدہ آپریشنز میں کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں چھ فوجی اہلکار اور 12 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف یہ آپریشنز خیبرپحتونخواہ کے اضلاع شمالی اور جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 ستمبر کو سات شدت پسندوں کے ایک گروہ نے سرحد پر دراندازی کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے ضلع سپن وام میں دراندازوں کو گھیر لیا۔

    آئی ایس پی آر نے بیان میں بتایا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ساتوں شدت پسند ہلاک کردیے گئے۔

    بیان کے مطابق ان شدت پسندوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔

    بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنوبی وزیرستان کے ضلع لدھا میں شدر پسندوں کے ایک گروپ نے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کے جوانوں نے مقابلہ کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور اس دوران پانچ شدت پسند ہلاک کر دیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران چھ فوجی بھی مارے گئے۔

  13. اجازت نہ دی گئی تو لاہور جلسے کو احتجاج میں بدل دیں گے: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور بانی تحریک انصاف عمران خان نے لاہور میں سنیچر کو ہونے والے پی ٹی آئی جلسے کے حوالے سے کہا ہے کہ سپریم کورٹ جمہوریت اور آزادی کو بچانے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ ہوگا۔ اگر لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے اجازت نہ دی تو مینار پاکستان پر احتجاج کریں گے۔

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’الیکشن سے پہلے بھی جلسہ نہیں کرنے دیا گیا اور اب بھی روکا جا رہا ہے۔ لاہور میں ڈیڑھ سال سے جلسہ نہیں کرنے دیا جا رہا جبکہ جلسہ کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔‘

    یاد رہے کہ جمعے کی صبح لاہور ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے لاہور میں 21 ستمبر کو جلسے کے لیے دی گئی درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلہ کریں۔

    لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا ہے۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’اسٹیبلشمنٹ نے اسلام آباد کا جلسہ کرنے کی گارنٹی دی تھی۔ جس کے باوجود اسلام آباد کے جلسے میں کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ دنیا میں کیا کبھی کسی نے جلسہ ختم کرنے کا وقت دیا ہے؟اسلام آباد کے جلسے سے متعلق ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سابق فوجی صدر مشرف کا الیکشن موجودہ حکومت کے مقابلے میں فری اینڈ فیئر تھا۔

    ’مشرف نے بھی میڈیا اور جلسوں پر پابندی نہیں لگائی۔ قاضی فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر ن لیگ کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کی جو بھی درخواستیں وہ سنی جارہی ہیں اور ہماری مسترد ہو رہی ہیں۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ فروری کے الیکشن میں واضح ہو گیا تھا کہ قوم کہاں کھڑی ہے۔

    ان کے مطابق’ قوم ایک طرف کھڑی ہے اور چھوٹا سا صاحب اقتدار طبقہ جمہوریت اور سپریم کورٹ کو اپنے اقتدار کے لیے تباہ کر رہا ہے۔‘

  14. صورت حال یہی رہی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے: لبنانی وزیر اقتصادیات

    جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زیادہ راکٹ لانچروں اور دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

    لبنان کے وزیر اقتصادیات نے ملک کی صورت حال سے متعلق خبردار کیا ہے کہ اگر صورت حال اسی طرح رہی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

    لبنان کے وزیر اقتصادیات امین سلام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جارحیت اور انتقام کا رجحان دھماکوں اور فضائی حملوں کے دنوں میں رونما ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں لبنان سب سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملوں کی ذد میں رہا ہے۔

    واضح رہے کہ لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے جمعرات کے روز اپنے خطاب میں لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا تھا۔

    حسن نصر اللہ نے کہا تھا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں نقب لگائی گئی ہے۔ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔‘

    حسن نصر اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے دھماکوں اور حملوں کے نئے سلسلے کا جوابی کارروائی کریں گے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقے کے لیے نئے فوجی منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

  15. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 82000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے پہلے سیشن کے اختتام پر انڈیکس 666 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 82 ہزار 125 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جب انڈیکس میں 998 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے 25 ستمبر کو ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کو شامل کرنا ہے جس میں عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دیے جانے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے معاشی اشاریوں میں بہتری خاص کر کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری نے بھی مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ دیا ہے۔

    واضح رہے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کاروبار میں کوئی خاص سرگرمی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔

    جمعے کے روز مارکیٹ میں سیمنٹ، بینک، فرٹیلائزرز اور ریفائنری کے شعبے میں حصص کی زیادہ خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔

  16. پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینی ہے کہ نہیں، پانچ بجے تک فیصلہ کریں: لاہور ہائی کورٹ, عباد الحق, صحافی

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائی کورٹ کے نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے لاہور میں 21 ستمبر کو جلسے کیلئے دی گئی درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلہ کریں۔

    جمعے کے روز جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے پی ٹی آئی کی سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے جلسے کی اجازت کے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس طارق ندیم اور جسٹس علی ضیاء باجوہ شامل ہیں.

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی کہ وہ کسی رپورٹ سے مرعوب ہوئے بغیر پی ٹی آئی کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔

    سماعت کے دوران جسٹس باجوہ کے استفسار پر کہ عالیہ حمزہ کے پاس کیا عہدہ ہے، تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن ہیں اور اس وقت گھر میں محصور ہیں، عدالت حکم دے تو وہ پیش ہوسکتی ہیں۔

    دورانِ سماعت چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے آپ کل بھی اِدھر تھے، آج بھی اِدھر ہیں اور آئی جی بھی ادھر ہیں، کیوں نہ کوئی ایک جگہ مختص کر دی جائے کہ جلسہ ایک مخصوص جگہ پر ہی ہو۔

    جسٹس طارق ندیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب جلسے کی بات ہوتی ہے تو ملک جام ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی جنازہ جا رہا ہوتا ہے تو اس میں رکاوٹ آتی ہے اور بیمار ہسپتال نہیں پہنچ پاتے۔

    انھوں ریمارکس دیے کہ ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی اور ہم آج بھی اظہار رائے کی آزادی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    دورانِ سماعت جسٹس فاروق حیدر نے باور کروایا کہ غیر قانونی ہراساں کرنے کا معاملہ ناقابل برداشت ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا آیا پی ٹی آئی کے کسی عہدے دار کو ہراساں تو نہیں کیا گیا جس پر آئی جی پنجاب پولیس کا کہنا تھا کہ کسی کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہیں کیا گیا ہے۔

    اس پر پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جھوٹ تو نہ بولیں، گذشتہ ایک ہفتے سے پولیس میرے گھر کے باہر کھڑی ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل اشتیاق خان نے نشاندہی کی کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہیں دینی۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی رپورٹ سے مرعوب ہونا ہوتا تو آپ کو نئی درخواست کا نہ کہتے۔

    اس سے قبل پنجاب حکومت کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے مخالفت کی گئی تھی۔ حکومت کا اعتراض تھا کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد کے جلسے میں عدلیہ مخالف تقاریر کی گئیں اور مقررین نے اپنے مخالفین کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی۔

    دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے جلسے کو روکنے کیلئے متفرق درخواست مسترد کردی۔

  17. اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کے 100 راکٹ لانچروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: ’جنگ کے ایک نئے مرحلے‘ کا آغاز

    آسرائیلی جنگی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زیادہ راکٹ لانچروں اور دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے.

    اسرائیلی فوج کے مطابق جن لانچروں کو نشانہ بنایا گیا ہے انھیں اسرائیلی علاقوں پر حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ان حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جمعرات کی شام ملک کے جنوب میں کم از کم 52 حملے کیے تھے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان نے بھی شمالی اسرائیل میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے قبل لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے متنبہ کیا ہے کہ ’اسرائیلی حملوں کا جواب اس انداز میں دیا جائے گا جو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔‘

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جبکہ اس سے قبل منگل کے روز پیجر ڈیوائس دھماکوں کے نتیجے میں 12 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں میں مجموعی طور پر تین ہزار کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل نے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ ’جنگ کے ایک نئے مرحلے‘ کا آغاز ہو رہا ہے اور اسرائیل اب اپنی زیادہ توجہ شمال پر مرکوز کر رہا ہے۔

    گذشتہ برس آٹھ اکتوبر کو شروع ہونے والی حماس اسرائیل جنگ کے بعد سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

    ان سرحد پار جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں بیشتر حزب اللہ کے جنگجو تھے جبکہ سرحد کے دونوں جانب ہزاروں افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    جمعرات کے روز جاری بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے تقریباً 100 لانچروں اور دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں تقریباً 1,000 لانچر بیرل شامل تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ لانچرز مستقبل قریب میں اسرائیلی سرزمین کی طرف فائر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔

    ’آئی ڈی ایف اسرائیلی ریاست کے دفاع کے لیے دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔‘

    خبر رساں ادارے رائٹرز اور نیویارک ٹائمز کے مطابق لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد سے یہ اب تک کے سب سے شدید اسرائیلی حملے تھے۔

    اسرائیلی فوج نے لبنانی سرحد کے قریب آباد اپنے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ بڑے اجتماعات سے گریز کریں، اپنے علاقوں کی حفاظت کریں اور بم پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔

    دوسری جانب جمعرات کی صبح، جنوبی لبنان سے حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سرحد پار دو ٹینک شکن میزائل داغے، جس کے بعد ڈرون حملے بھی کیے گئے۔

    اسرئیل نے دو فوجیوں کی ہلاکت اور ایک کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

  18. وزیرِ اعظم شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے: دفترِ خارجہ

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 ستمبر سے 27 ستمبر تک امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم فلسطین اور کشمیر کے تنازع سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعات کے حل کی اہمیت پر زور دیں گے۔

    دفترِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق اس موقع پر وزیرِ اعظم کئی وزارتی اجلاسوں میں بھی حصہ لیں گے جن میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا سالانہ رابطہ اجلاس، کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کا اجلاس، اور G77 اور چین کا وزارتی اجلاس شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ نان الائینڈ موومنٹ کے وزارتی اجلاس میں بھی حصہ لیں۔

    اس دورے پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شہباز شریف کے ہمراہ ہوں گے۔

  19. اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں: حسن نصر اللہ

    حسن نصراللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں نقب لگائی گئی ہے۔ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔‘

    اسرائیل نے ابھی تک ان حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم حسن نصراللہ کی تقریر کے دوران اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملہ کیا گیا ہے۔

    حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونے تک لبنان پیچھے نہیں ہٹے گا۔ حسن نصر اللہ نے خطاب کے دوران حزب اللہ کی جوابی حکمت عملی سے متعلق بھی بتایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان تمام لوگوں کے نام جو ہلاک ہوئے، جو زخمی ہوئے، ان تمام لوگوں کے نام جو غزہ کے نام پر لڑے، ہم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سمیت تمام دشمنوں کو پیغام دیتے ہیں کہ لبنان اپنے محاذ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک غزہ میں جارحیت رک نہ جائے۔‘

    حسن نصراللہ کے مطابق ’اسرائیلی حملوں کا جواب اس انداز سے دیا جائے گا جو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں جگہ، وقت، مقام، تفصیلات کے بارے میں بات نہیں کروں گا لیکن آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کب ہوگا۔‘

    ملک کی وزارت صحت کے مطابق لبنان میں دو روز میں ہونے والے پیجرز اور واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 37 تک جا پہنچی ہے۔

    ان دھماکوں میں مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    نصراللہ نے جمعرات کے روز اپنے خطاب میں متنبہ کیا کہ لبنان غزہ اور مغربی کنارے کے لوگوں کی حمایت سے باز نہیں رہے گا۔

    حزب اللہ کے رہنما نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ دو دنوں میں اسرائیل نے میں ہزاروں افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی اور یہ دھماکے لبنان اور دنیا دونوں کی تاریخ میں بے مثال تھے۔

  20. حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    لبنان میں اسرائیلی حملہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس میں اسرائیل کے پاس قیمتی مواقع ہیں لیکن اہم خطرات بھی لاحق ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے لیکن فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل کی شمالی آبادیوں کی ان کے گھروں کو محفوظ واپسی یقینی بنانا ہے۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اس کی فوجی توجہ غزہ سے ہٹ کر شمال کی صورت حال پر مرکوز ہو گئی ہے۔

    جمعرات کے روز اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہیلیوی نے حال ہی میں شمالی میدان کے لیے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کی صبح، جنوبی لبنان سے حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سرحد پار دو ٹینک شکن میزائل داغے اور بعد ازاں ڈرون سے بھی حملے کیے۔

    اسرائیلی فوج نے دو اسرائیلی فوجی کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں انھوں نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ’آپ شمال کے لوگوں کو واپس ان کے گھروں میں نہیں لا سکیں گے۔ ‘