گرین لینڈ کے ایسے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت ہم جو چاہے کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مجوزہ معاہدے کے متعلق کہنا ہے کہ اس معاہدے پر بات چیت ابھی جاری ہے۔
سوئڑٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس سے واپسی پر سرکاری جہاز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کر سکیں۔ ہم فوج [تعینات] کر سکیں، ہم جو چاہیں کر سکیں گے، اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ اچھا ہی ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں، یہ ہمیشہ کے لیے ہو گا۔
ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا مجوزہ معاہدے سے امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کریں گے۔ ہم سب مل کر کام کرنے جا رہے ہیں، اور درحقیقت نیٹو بھی ہمارے ساتھ شامل ہونے جا رہا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے جا رہے ہیں اور اصل میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں امریکہ کا گولڈن ڈوم کی تعمیر کے علاوہ کوئی خرچہ نہیں ہوگا۔
ایک سوال پر کہ مجوزہ گرین لینڈ معاہدہ موجودہ صورتحال سے کتنا مختلف ہوگا، ’یہ بہت زیادہ تفصیلی ہے.. یہ ایک بہت زیادہ فراخدل معاہدہ ہے جو کہ اسے ہونا بھی چاہیے۔ ہم گولڈن ڈوم بنا رہے ہیں، اور آپ دیکھیں کہ یہ جیسے کام کرتا ہے یہ ہمارے اور یورپ کے لیے بہت بہتر ہے - برف کے اس ٹکڑے کو گولڈن ڈوم سے تحفظ فراہم کرنا۔
ایک صحافی کی جانب سے سوال پر کہ کیا گرین لینڈ کے کچھ حصوں پر امریکہ کو خودمختاری حاصل ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں بہت سی بہترین چیزیں شامل ہیں جو کہ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے لیے بھی بہتر ہوں گی۔ ’کیونکہ جب ہم اچھے ہوں گے، تو وہ بھی اچھے ہوں گے۔ اور اگر ہم اچھے نہیں ہوں گے، تو یہ ان کے لیے صحیح نہیں ہو گا.... ہم سب اس میں ایک ساتھ ہیں۔‘


