انڈیا کا یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انڈین حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل جدید ہتھیاروں کے نظام کے حصول کے لیے انڈین نیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت یا فوج نے وادی تیراہ خالی کروانے کا کوئی حکم نہیں دیا، وزارتِ اطلاعات
  • خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا سیاحوں کو بالائی علاقوں کا رخ نہ کرنے کا مشورہ
  • پاکستان حکومت کا کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کا اعلان
  • افغانستان میں نیٹو کے کردار پر تنقید کے بعد ٹرمپ کی برطانوی سپاہیوں کی تعریف: 'وہ بہترین جنگجوؤں میں سے ہیں'
  • چین میں صدر شی جنپنگ کے قریبی سمجھے جانے والے اعلیٰ ترین فوجی جنرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

لائیو کوریج

  1. نئی امریکی دفاعی حکمتِ عملی: چین کے بجائے داخلی خطرات اولین ترجیح، نیٹو اتحادیوں سے زیادہ ’بوجھ بانٹنے‘ کا مطالبہ

    پینٹاگون

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پینٹاگون نے امریکہ کی نئی نیشنل ڈیفینس سٹریٹیجی جاری کر دی ہے جس میں چین کے بجائے داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اب اپنے اتحادیوں کو پہلے کے مقابلے میں محدود پیمانے پر مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    جمعہ کے روز سامنے آنے والی نئی حکمتِ عملی کے تحت اب امریکی محکمہ دفاع کی اولین ترجیح امریکہ اور مغربی نصف کرہ کی سلامتی ہو گی۔

    چار سال قبل شائع ہونے والی نیشنل ڈیفینس سٹریٹیجی میں چین کی طرف سے لاحق خطرات کو امریکہ کی اولین دفاعی ترجیح قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات اب محاذ آرائی کے بجائے طاقت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔

    پینٹاگون کی نئی دفاعی حکمت عملی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور شمالی کوریا کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادیوں سے زیادہ ’بوجھ بانٹنے‘ کے مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔

    34 صفحات پر مشتمل رپورٹ گذشتہ سال امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی اشاعت کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا تھا کہ یورپ کو تہذیبی زوال کا سامنا ہے جبکہ رپورٹ میں روس کو امریکا کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا گیا۔

    امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے موقع پر روسی حکام کا کہنا تھا کہ یہ دستاویز اب کے وژن کے ساتھ ’بڑی حد تک ہم آہنگ‘ ہے۔

    نئی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے آگے بڑھ کر بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اتحادی شراکت دار اپنے دفاع کے لیے واشنگٹن پر زیادہ انحصار کر رہے تھے۔ رپورٹ میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ حکمتِ عملی میں تبدیلی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکہ ’آئسولیشن ازم‘ یا تنہائی پسندی کی پالیسی اپنا رہا ہے۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کی توجہ اپنی عوام کو لاحق حقیقی خطرات پر ہو گی۔

    نئی امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن امریکی مفادات کو ’باقی دنیا کے مفادات کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں موجود کسی شخص کو لاحق خطرے اور کسی امریکی شہری کے لیے خطرے میں فرق ہے۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب اتحادی، خاص طور پر یورپ، ’ان خطرات کے خلاف قیادت کریں گے جو ہمارے لیے کم لیکن ان کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔‘

    نئی حکمتِ عملی میں روس کو نیٹو کے مشرقی ارکان کے لیے ایک مستقل لیکن ایک ایسا خطرہ قرار دیا گیا ہے جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    اس مرتبہ امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں تائیوان کا ذکر نہیں۔ چین اس جزیرے (تائیوان) کو ایک باغی صوبے کے طور پر دیکھتا ہے جو جلد یا بدیر چین میں دوبارہ ضم ہو جائے گا، بھلے اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔

  2. بامعنی مذاکرات کی عدم موجودگی میں ایران ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے: پینٹاگون

    ایرانی جوہری تنصیبات

    ،تصویر کا ذریعہMaxar / BBC

    امریکی وزارتِ دفاع کے ادارے پینٹاگون نے اپنی ایک دستاویز میں خبردار کیا ہے کہ ایران نہ صرف روایتی فوجی صلاحیت کی تعمیر نو کی کوشش کر سکتا ہے بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کی عدم موجودگی میں وہ ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔

    پینٹاگون کی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی ڈاکیومنٹ (2016) میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور گذشتہ سال ایران کے خلاف آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ اس پالیسی کا عملی مظاہرہ تھا۔

    دستاویز میں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کو اس کے دائرہ کار، پیچیدگی اور تزویراتی لحاظ سے بے مثال قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن نہ صرف ’ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کا باعث بنا‘ بلکہ ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو بھی اہم مدد فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں خطے میں ایران کی پوزیشن نمایاں طور پر کمزور ہوئی۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ ’مزاحمت کا محور‘ کہلائے جانے والے گروہوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے، حزب اللہ اور حماس کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے آپریشن ’ٹارگٹڈ ڈیٹرنس‘ اور ’رف رائڈر‘ کے ذریعے حوثیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی حملہ کرنے کی صلاحیتوں کو شدید متاثر کیا اور انھیں امریکی بحری جہازوں پر حملے روکنے پر مجبور کیا۔

    تاہم ان سب کامیابیوں کے باوجود پینٹاگون کی نئی حکمت عملی میں ایرانی پراکسی گروپوں کے دبارہ منظم ہونے اور آپریشنل صلاحیتیں حاصل کرنے کے امکان کے متعلق خبردار کیا گیا ہے۔

    پینٹاگون کی دستاویز میں ایران کو ’امریکی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور اسے اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بتایا گیا ہے۔

    اس نئی حکمتِ عملی میں اسرائیل کو امریکہ کے ایک قابل اتحادی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو امریکہ کی محدود لیکن موثر حمایت کے ساتھ اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  3. ایمان مزاری کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں وکلا کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ

    ایمان

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان بار کونسل نے آج پورے صونے میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان بار کونسل نے وکیل ایمان مزاری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان مزاری کی گرفتاری آئین، قانون اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    بار کونسل نے ایمان مزاری کی گرفتاری کو پولیس گردی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد وکلا اور انصاف کے نظام پر براہ راست حملہ ہے۔

    بلوچستان بار کونسل نے ایمان مزاری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ وکلا اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔

    بلوچستان بار کونسل نے خبردار کیا کہ غیر آئینی اقدام واپس نہ لیا گیا تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے جمعہ کے روز ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو وفاقی دارالحکومت سے حراست میں لیا تھا۔

    بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

  4. پاکستانی وزیرِ داخلہ اور امریکی سفیر کی ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائی کا فیصلہ

    محسن نقوی، نیٹلی بیکر

    ،تصویر کا ذریعہInterior Ministry

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اسلام اباد میں ملاقات ہوئی جس میں جعلی و فراڈ ویزا نیٹ ورکس کے خلاف جامع ایس او پیز کے تحت مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران پاک امریکہ تعلقات اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    ملاقات کے دوران غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور پری امیگریشن کلیرنس نظام کی افادیت پر بھی بات چیت ہوئی۔

    بیان کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کی ٹریننگ کے لیے ہر سطح پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

    ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا جعلی و فراڈ ویزا نیٹ ورکس کے خلاف جامع ایس او پیز کے تحت مشترکہ کارروائی کی جائے گی۔‎

    وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی ہے، اس ضمن میں امریکی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔‎

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے فول پروف بنایا ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور غیر قانونی طور پر امریکہ جانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے موثر اقدامات سے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔

  5. وادی تیراہ میں برفباری کے باعث نقل مکانی میں مشکلات، 1100 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    وادی تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں افراد علاقے میں شدید برفباری کہ وجہ سے راستے میں ہی پھنس کر رہ گئے ہیں، جنھیں بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق 36 گھنٹوں سے برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ سخت سردی، منفی درجہ حرارت اور دُشوار گزار راستوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو اہلکار فیلڈ میں موجود ہیں اور بلاتعطل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے ایمرجنسی گاڑیوں اور ہیوی مشینری کی مدد سے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک 1100 سے زائد متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا جبکہ 120 سے زائد پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکال لیا گیا ہے۔

    اس وسیع آپریشن میں ضلع خیبر کے ساتھ ساتھ پشاور، مردان، صوابی اور نوشہرہ سے 100 سے زائد ریسکیو افسران اور اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

  6. یورپی ایئر لائنز کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے پروازیں اتوار تک معطل، اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے، ترک وزیر خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے آثار ہیں کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

    ترک وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کا اقدام خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔

    جمعے کو ایک انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ [اسرائیلی حکام] ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔‘

    قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے ایران میں پیش رفت کے بارے میں انقرہ کے نقطہ نظر کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی علاقائی استحکام اور سلامتی کا خیال رکھتا ہے اور ایران میں فوجی مداخلت کا مخالف ہے۔

    ایران میں ملک گیر مظاہروں کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

    ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی گذشتہ پیر کو کہا تھا: ’ہمارے پڑوسی ایران کو اسرائیلی حملے کے بعد اب سماجی بدامنی کے ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ایرانی بھائی اس دور سے گزریں گے۔‘

    ترک وزیر خارجہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ’بڑے بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز‘ کے ساتھ ایران کے مسائل کو حل کرنا ترکی کے مفاد میں ہو گا۔

    دوسری جانب کئی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ اُنھوں نے سنیچر کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر فرانس، لفتھانسا، ایئر کینیڈا اور کے ایل ایم نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم اتوار تک اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں آپریٹ نہیں کریں گے۔

    بی بی سی فارسی نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پروازیں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کے امکان کے درمیان منسوخ کی گئی ہیں۔

    اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل آئی 24 نیوز نے بھی ’ایئرپورٹ کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی پرواز کی معلومات‘ پر مبنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ رائل ڈچ ایئر لائنز اور سوئس نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔

  7. ممکنہ امریکی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم ’پوری طرح تیار‘ ہیں: ایرانی عہدے دار کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEuropean Pressphoto Agency

    ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے سٹرائیک گروپ اور خطے میں دیگر امریکی فوجی سازو سامان کی آمد کے پیشِ نظر ایران کو ’مکمل جنگ‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق مذکورہ ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے گفتگو میں اُمید ظاہر کی کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت کسی بڑے فوجی تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔

    لیکن اُن کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کا متوقع ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق طیارہ بردار امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن اگلے چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے علاقے میں ہو گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ابھی ایران پر حملے کی حدود میں نہیں ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ’عظیم طاقت‘ ایران کی جانب بڑھ رہ یہے۔ لیکن ’وہ کچھ نہ ہونے دینے کو ترجیح دیں گے۔‘ ساتھ ہی صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم انھیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

    خبر رساں ادارے روٹرز کے مطابق امریکی فوج ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے پیشِ نظر یہاں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سمیت خطے کے ممالک میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی اخبار ’ہارٹیز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر کے ایل ایم اور ایئر فرانس نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    اخبار کے مطابق گذشتہ ہفتے لفتھانسا گروپ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے لیے رات کے وقت اپنی پروازیں معطل کر دے گا۔

  8. ’یہ توہین آمیز اور خوفناک ہے‘: صدر ٹرمپ کے افغانستان میں نیٹو سے متعلق بیان پر برطانوی وزیرِ اعظم کی مذمت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار سے متعلق بیان کے بعد یورپی ممالک اور برطانیہ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’توہین آمیز اور خوفناک‘ قرار دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دِیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ کہیں گے کہ اُنھوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے۔۔اُنھوں نے ایسا کیا۔۔لیکن وہ کچھ پیچھے رہے۔۔وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اُن کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی ہم نے کبھی اُن سے کسی چیز کے لیے پوچھا۔

    خیال رہے کہ نائن الیون حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کام کیا تھا۔ برطانیہ نے بھی اس جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اپنے فوجی افغانستان بھجوائے تھے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اگر خود احساس ہوا کہ اُنھوں نے غلط بات کی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر معافی مانگیں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں اپنی افواج کی ہمت اور بہادری اور اپنے ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے فوجی بھی تھے، جو زخمی ہوئے اور کچھ زخموں نے اُن کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

    برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو توہین آمیز اور واضح طور پر خوفناک سمجھتا ہوں اور مجھے کوئی تعجب نہیں ہے کہ اُن کے ان الفاظ نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے پیاروں کو اور درحقیقت پورے ملک میں تکلیف پہنچائی ہے۔‘

    برطانیہ کے علاوہ دیگر حکومتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔

    پولینڈ کے وزیر خارجہ جو افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے 33 ہزار پولینڈ کے فوجیوں میں شامل تھے نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اُڑانے کا حق نہیں ہے۔

    کینیڈا کے وزیر برائے قومی دفاع ڈیوڈ جے میک گینٹی نے کہا کہ کینیڈین فوجی پہلے دن سے ہی محاذ جنگ پر تھے اور اُنھوں نے قندھار میں اتحادی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے 158 فوجیوں کی جانیں گنوائیں۔

    سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں 3500 اتحادی فوجی ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 2461 امریکی جبکہ 457 برطانوی فوجی تھے۔

    افغانستان میں برطانوی فوج میں شامل رہنے والے شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سچائی اور عزت کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔

  9. بریکنگ, ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب میں خودکُش دھماکہ، پانچ افراد ہلاک متعدد زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی ایک تقریب کے دوران دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے میں امن کمیٹی کے رہنما وحید عرف جگری محسود بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    وحید عرف جگری محسود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ماضی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان میں شامل تھے اور ٹی ٹی پی کے سابق رہنما حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وحید عرف جگری محسود نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس تقریب میں امن کمیٹی کے اراکین جیسے نور عالم، نور حسن اور مصباح موجود تھے جبکہ وحید عرف جگری محسود امن کمیٹی کے اراکین کے ساتھی تھے۔ نور عالم اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

    شادی کی یہ تقریب مقامی ٹھیکیدار کے بھتیجے کی تھی جس میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ شادی کی تقریب میں رشتہ دار اور دوست روایتی رقض گتنڑ کر ہے تھے کہ اتنے میں زور دار دھماکہ ہوا۔

    پولیس کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا جس میں حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر سجاد احمد صاحبزادہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں جنھیں سول ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ دھماکہ امن کمیٹی کے رہنماؤں کے گھر میں ہوا ہے۔

    ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آج قریشی موڑ پر واقع ایک ٹھیکیدار کے بھتیجے کی شادی کی تقریب جاری تھی اور اس میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس تقریب میں وحیداللہ محسود عرف جگری محسود بھی ایک کمرے میں موجود تھے جہاں خود کش حملہ آور داخل ہوا اور اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق ان کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں جہاں سے انھوں زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہے۔

    پولیس کے مطابق تباہ ہونے والے کمرے کے ملبے سے مذید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان میں بم دھماکے کا نوٹس لے لیا ہے۔ انھوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے سکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    گورنر صوبہ خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب میں خودکُش دھماکہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے انتظامیہ کو دھماکہ کے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اُن کی جانب سے دھماکہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کیا گیا ہے۔

  10. بریکنگ, آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید برفباری اور پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا امکان: این ڈی ایم اے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں مُلکی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجینسیز آپریشن سینٹر نے پہاڑی اور بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خطرے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ای او سی نے ملک کے مختلف مقامات کے لیے 23 تا 29 جنوری تک شدید موسمی حالات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بالائی و شمالی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا سلسلہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مزید برفباری کا باعث بن سکتا ہے۔

    ادارے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے پہاڑی و شمالی اضلاع میں بھی برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    نیشنل ایمرجینسیز آپریشن سینٹر کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، شمالی کے پی اور شمالی بلوچستان کے بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں رابطہ سٹرکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔

    این ای او سی کے مطابق 24 جنوری کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید سردکی لہر کا امکان ہے جب کہ پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند پر سکتی ہے۔

    ادارے کی جانب سے عوام کو برفباری اور دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، سفر نہایت ضروری ہو تو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کرنے کا کہا گیا ہے۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے کی جانب سے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور ضروری مشینری اور وسائل کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے برف ہٹانے والی مشینری اور ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رکھنے کا کہا گیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. لوئیر چترال میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے نو افراد ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال میں ایک مکان پر برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے افراد ملبے تل دب گئے تھے جن میں سے 9 افراد ہلاک جبکہ ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔

    یہ واقعہ چترال کے علاقے دروش ارندو میں دمیل کے مقام پر پیش آیا۔ لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ’آج یعنی جمعہ کو بعد دوپہر شدید برف باری کی وجہ سے مقامی رہائشی باچا گل کے مکان پر برفانی تودہ گرا۔‘

    اُن کے مطابق ’اس مکان میں موجود افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد موجود تھے۔ گھر پر تودہ گرنے کی وجہ سے ان میں سے نو افراد ہلاک ہو گئے جن کی لاشیں ایک مُشکل ریسکیو آپریشن کے بعد نکال لی گئیں تاہم ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ وفاقی ریسکیو و ریلیف اداروں کو صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون سے امدادی کاروائیاں تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔.

    چترال سے ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حادثے میں چار خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید برف باری کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع لوئر چترال کے علاقے دمیل ارندو میں برفانی تودہ گرنے کے افسوسناک واقعہ اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے اور برف باری سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی فوری بحالی کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا جائے۔

    انھوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے)، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

  12. مری میں برفباری جاری، مال روڈ سے براستہ جھیکاگلی ایکسپریس وے اسلام آباد راولپنڈی کے لیے کھول دی گئی: ترجمان پی ڈی ایم اے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ مری گلیات اور گردونواح میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ ’مری میں گزشتہ روز سے اب تک 18 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ شدید برفباری کی وجہ سے سترہ میل کے مقام سے مری جانے والی سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مال روڈ سے براستہ جھیکاگلی ایکسپریس وے اسلام آباد راولپنڈی کے لیے کھول دی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان کے مطابق مری مال روڈ براستہ کلڈنہ بازار جی ٹی روڈ راولپنڈی کے لیے کھول دی گئی ہے مگر ٹریفک بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جھیکاگلی سے پی سی بھوربن روڈ آزاد کشمیر جانے والوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔‘

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر تمام محکمے فیلڈ میں موجود ہیں۔ برف ہٹانے کا کام ڈی سی اور متعلقہ انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر کر رہی ہے۔

    ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں سیاحوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’دیگر علاقوں سے سفر کرنے والوں سے گزارش ہے کہ احتیاط کریں اور ان علاقوں کی جانب سفر کرنے سے قبل موسم کو مدنظر رکھیں، تاہم مری میں موجود سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور کسی بھی قسم کے ایڈونچر سے گریز کیا جائے۔‘

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

    تاہم بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور شمالی بلوچستان میں موسم شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی توقع ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد ہوائیں چلنے کا بھی امکان۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے موسم کی صورتحال کے ساتھ ہی انتباہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعے کی رات تیز بارش اور شدید برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، مری، گلیات، وادیِ نیلم، باغ، پونچھ، حویلی اور راولاکوٹ میں سڑکوں کے بند ہونے اور پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل کا اندیشہ ہے۔

    تاہم تیز بارش اور شدید برفباری کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی ہے۔

  13. شدید موسمی حالات کے باعث مری میں غیر مقامی افراد کا داخلہ بند، گاڑیوں کے لیے سنو چین اور ونٹر ٹائر لازمی قرار

    مری

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مری میں شدید موسمی حالات کے باعث شہر میں داخلے کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مری کے داخلی راستے صرف مقامی افراد کے لیے کھولے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ہی انٹری کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دیگر ہر قسم کی ٹریفک کو مری میں داخلے سے روکا گیا ہے۔

    انتظامیہ نے سیاحوں کو موسم بہتر ہونے تک مری کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    دوسری جانب، مری پولیس کے ایکس ہینڈل سے مری میں داخل ہونے والے سیاحوں کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    مری پولیس کا کہنا ہے کہ مری میں گذشتہ 15 گھنٹوں سے مسلسل برفباری جاری ہے جس کے باعث سڑکوں پر شدید پھسلن اور حدِ نگاہ بہت کم ہو گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مری میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں میں سنو چین اور ونٹر ٹائر کا ہونا لازمی ہے اور حفاظتی انتظامات کے بغیر مری میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    مری پولیس نے لوگوں کو مری کا غیر ضروری اور بالخصوص رات کے وقت سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  14. برفباری کے باعث خیبر پختونخوا میں کون کون سی شاہراہیں متاثر ہیں؟

    چترال میں اب تک 16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہChitral Police

    ،تصویر کا کیپشنچترال میں اب تک 16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    شدید سردی اور برفباری کی حالیہ لہر کے باعث پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی کئی شاہراہیں بند ہیں جبکہ کئی مقامات پر انتظامیہ نے سڑکیں بحال کر دی ہیں۔

    صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبے کی مختلف شاہراہوں کی صورتحال کے متعلق ایڈائزری جاری کی ہے۔

    ضلع بونیر

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، برفباری کے باعث شاہی دوسر روڈ، چاغرزئی کولائی روڈ گدیزی پر ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ تاہم کسی بھی سیاح یا مقامی آبادی کے پھنسنے کی اطلاع نہیں جبکہ انتظامیہ بحالی کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ضلع شانگلہ

    ضلع شانگلہ کی مرکزی سوات۔بشام روڈ اور یخ تانگی روڈ برفباری سے متاثر ہے۔ علاقے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔ سڑکوں کی بحالی کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔

    ضلع سوات

    ضلع سوات میں کالام روڈ، مالم جبہ روڈ اور گلیشیئر تا مہو ڈنڈ روڈ پر برفباری ہوئی ہے۔ کالام اور مالم جبہ روڈ بحال کر دی گئی ہیں جبکہ گلیشیئر تا مہو ڈنڈ روڈ پر کام جاری ہے۔ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ سیاح یا آبادی متاثر نہیں ہوئی ہے۔

    ضلع چترال لوئر

    لواری ٹنل نارتھ، شیشی کوہ، مدک لشٹ، دروش۔لسپور، آیون۔بونی، چترال۔گرم چشمہ، گرم چشمہ تا گوبور، چترال۔بونی اور بونی روڈ پر برفباری کے باعث آمدورفت متاثر ہے۔

    ضلع چترال اپر

    ضلع چترال اپر میں مختلف رابطہ سڑکیں برفباری سے متاثر ہوئی ہیں۔ کسی سیاح کے پھنسنے کی اطلاع نہیں جبکہ بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع دیر لوئر

    شاہی روڈ اور کالپانی لنک روڈ برفباری سے متاثر ہے جسے مشینری کے ذریعے کھولنے کا عمل جاری ہے۔

    ضلع دیر اپر

    ضلع دیر اپر میں لواری ٹنل عارضی طور پر بند ہے جبکہ کُمراٹ روڈ متاثر ہے۔ بحالی کے لیے مشینری سرگرم ہے۔

    ضلع مانسہرہ

    کاغان ناران روڈ اور بٹال روڈ (اپر) برفباری سے متاثر ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایک سیاح کے پھنسنے کی اطلاع ہے۔ سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع ایبٹ آباد

    ضلع ایبٹ آباد کی مرکزی نتھیاگلی۔مری روڈ، ٹھنڈیانی روڈ، جی ڈی اے اور سی این ڈبلیو ٹاون روڈ برفباری سے متاثر ہیں۔

    ضلع بٹگرام

    الائی بننہ روڈ اور اوغی۔کنڈاؤ روڈ، شملی روڈ، ترنڈ روڈ، شرکول ٹاپ تا چترال (کے کے ایچ) اور بٹال ٹنل کے اطراف برفباری سے سڑکیں متاثر ہیں جنھیں بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ضلع کولئی پالس

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ علاقے میں شراکوٹ روڈ، کولئی روڈ اور خیلی یار روڈ برفباری کے باعث متاثر ہیں جس کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع تورغر

    برفباری کے بعد ٹیلی روڈ بند ہے۔ برفباری رکنے کے بعد کلیئرنس شروع کی جائے گی۔

    ضع صوابی

    ضع صوابی میں بیر گلی روڈ متاثر ہوئی تھی جسے بحال کر دیا گیا ہے۔

    ضلع خیبر

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ میرابان تا تیراہ ویلی روڈ پر برفباری کے باعث وادی تیراہ سے نقلی مکانی کرنے والے افراد پھنس گئے ہیں۔ ریلیف اور سڑک کھولنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    ضلع مہمند

    پی ڈی ایم کا کہناہے کہ ضلع مہمند میں کوئی سڑک متاثر نہیں اور صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

    جنوبی وزیرستان (اپر)

    لادھا روڈ برفباری سے متاثر ہے جسے کھولنے کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔

    ضلع باجوڑ

    برفباری کے باعث ضلع باجوڑ کی بارنگ روڈ پر آمدورفت متاثر ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، سڑک کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع شمالی وزیرستان

    شمالی وزیرستان میں رزمک روڈ ڈنکن کے مقام پر متاثر ہے۔ پی ڈی ایم کا دعویٰ ہے کہ ایک طرفہ ٹریفک بحال کر دی گئی ہے جبکہ مکمل بحالی کا عمل جاری ہے۔

    ضلع کرم

    مختلف سڑکیں برفباری سے متاثر ہیں جن کی بحالی کے لیے مشینری کے ذریعے کام جاری ہے۔

    ضلع اورکزئی

    ضلع اورکزئی میں سن پوگ روڈ، کالایا روڈ اور غلجو تا ڈبوری روڈ برفباری سے متاثر ہیں۔ انتظامیہ سڑکوں کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

    ضلع کوہستان اپر

    کوہستان اپر میں قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) داسو کے آگے متعدد مقامات پر بند ہے۔ مشینری کے ذریعے سڑک کو کھولنے کا عمل جاری ہے۔

  15. پاکستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کے بعد کے مناظر

    مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنپنجاب کے سیاحتی مقام مری میں برفباری کے بعد کے مناظر۔

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور شدید برفباری کا امکان ہے۔

    اب تک صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں اور پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں شدید برفباری ہوئی ہے۔

    مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنمری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے
    لنڈی کوتل، خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہHijrat Ali

    ،تصویر کا کیپشنلنڈی کوتل، خیبر پختونخوا
    چترال 16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہChitral Police

    ،تصویر کا کیپشنچترال 16 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔
    وادی کالام میں اب تک 30 انچ برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Swat

    ،تصویر کا کیپشنوادی کالام میں اب تک 30 انچ برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔
    ،تصویر کا کیپشنکوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔
  16. برفباری، راشن کی قلت اور بے سروسامانی: تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    تیراہ

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    ’ہمارا آدھا گھریلو سامان باہر بڑا ہے۔۔۔آدھا اب ہم گاڑیوں میں ڈال چکے ہیں اور اس دوران شدید سردی میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ دو روز کے لیے رُک جائیں، ہم تو پھنس چکے ہیں، اُدھر علاقے میں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کے لیے راشن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔‘

    یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ کے رہائشی محمد فدا کا۔

    رواں ماہ آٹھ جنوری کو پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    مقامی آبادی کا انخلا کا عمل گذشتہ روز بھی جاری تھا جب اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور سڑکیں بند ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث درجنوں افراد سڑکوں پر موجود اپنی گاڑیوں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    گذشتہ رات خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں علاقے سے لوگوں کے انخلا کے عمل ’زبردستی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انخلا کے دوران لوگ بر فباری میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اُن کی مدد کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا تھا کہ ’تقریباً تین جگہوں پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کُچھ لوگوں کو نزدیک واقع گھروں میں اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائئ گئے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کے ساتھ سگنلز نہ ہونے اور راستہ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

    وادی تیراہ سے آنے والے تاجر شیر افگن نے بی بی سی کو بتایا کہ تیراہ کے علاقے میں شدید برف پڑ رہی ہے اور بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس چکی ہیں اور برفباری کی وجہ سے گھریلو سامان سے لدی گاڑیاں پھسل رہی ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق اسی صورتحال کے باعث جمعرات کو ایک گاڑی کھائی میں جا گری جس سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کے دو افراد ہلاک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا لوگوں کو آئندہ دو روز کے لیے سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بارشیں اور برفباری کا سلسلہ رُک جائے تو پھر سفر کیا جا سکتا ہے۔

    اُن کے بقول علاقے میں سرکاری عملہ موجود ہے اور اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔

    تیراہ

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    اب تک تیراہ سے کتنے افراد نقل مکانی کر چکے ہیں؟

    اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ تفصیل نہیں بتائی جا رہی۔

    بی بی سی نے اس بارے میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    اس منصوبے کے لیے رجسٹریشن اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے حکام بھی اس بابت کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

    سرکاری طور پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 15 جنوری تک نقل مکانی کرنے والے چھ ہزار 775 خاندانوں کی رجسٹریشن کی جا چکی تھی۔

    مقامی افراد کے مطابق اس علاقے میں 30 ہزار خاندان آباد ہیں۔

    برفباری، بارش اور بے سروسامانی

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ بہت سے خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں مگر اب بھی بڑی تعداد میں لوگ تیراہ کے علاقے میں موجود ہیں۔

    شیر افگن نے بتایا کہ گذشتہ دنوں کے دوران یہاں بہت زیادہ برف پڑ چکی ہے اور لوگوں کے پاس گاڑیوں کے ٹائروں پر لگانے کے لیے زنجیریں بھی نہیں ہے جس وجہ سے گاڑیاں بہت آہستہ حرکت کر رہی ہیں اور راستوں میں پھنسے افراد، جن میں حواتین، بچے اوربزرگ بھی شامل ہیں، کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    چند روز قبل تیراہ باغ سے نقل مکانی کر کے باڑہ پہنچنے والے محمد کاشف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ راستوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاروں کی وجہ سے کم سے کم ایک رات اور دو دن راستے میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔

    تیراہ

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    تیراہ کے رہائشی جماعت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مکان مرکزی سڑک سے کافی دُور ہے۔ اس لیے انھیں گھریلو سامان کی منتقلی کے لیے پہلے خچروں اور گدھوں کا انتظام کرنا پڑا تاکہ سامان کو اُوپر سڑک تک لایا جا سکے۔

    اُن کے بقول اُن کے گاؤں میں 20 سے 25 گھرانے ہیں، جو سب خچروں اور گدھوں کا انتظام کر رہے تھے تاکہ سامان سڑک تک لے جائیں جہاں سے پھر گاڑیوں میں سامان لادنا تھا تاکہ علاقے سے نکل سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب بھی آدھا سامان گھروں میں پڑا ہے وہ ابھی لانا ہے۔

    نقل مکانی کرنے والے صاحب جان نے بتایا کہ باڑہ اور پشاور میں کرائے کا مکان حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، یہاں کرائے زیادہ ہیں اور سردی سے بچنے کا انتظام نہیں ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے علاقوں میں سردی سے بچاؤ کے انتظام کیے ہوتے ہیں مگر یہاں اگر ’ہم گیس اور بجلی کا زیادہ استعمال کریں گے تو بھاری بل دینے پڑیں گے۔‘

    تیراہ

    ،تصویر کا ذریعہKhalil Khan

    راشن کی قلت

    مقامی تاجر رہنما شیر افگن نے بتایا کہ جب سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد سے تیراہ میں اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ادھر ڈپٹی کمشنر خیبر کے فیس بک پیج پر ایسے پیغامات بھی جاری کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ دو روز کے لیے وہ روانہ نہ ہوں کیونکہ راستے میں بارش اور برفباری سے حادثات پیش آ رہے ہیں۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی اور حکومت کے ترجمان شفیع جان کل رات تیراہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ متاثرین کی باعزت اور محفوظ نقل مکانی کے لیے اقدامات کریں گے۔

  17. پاکستان میں سردی کی تازہ لہر: اب تک سب سے زیادہ برفباری کہاں ہوئی ہے؟

    برفباری کے بعد کالام بازار کا منظر۔

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Swat

    ،تصویر کا کیپشنبرفباری کے بعد کالام بازار کا منظر۔

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی ملک کے کئی حصوں میں 21 سے 24 جنوری کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں اور شدید برفباری کے متعلق خبردار کر دیا گیا تھا۔

    محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، سردی کی حالیہ لہر کے دوران، سب سے زیادہ برفباری خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مالم جبہ میں اب تک 38 انچ جبکہ وادی کالام میں اب تک 30 انچ برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ چترال اور پاڑا چنار میں بالترتیب 16 اور 15 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے علاقوں قلات اور کوئٹہ میں بھی بالترتیب 1.6 اور 1.5 انچ برفباری ہوئی ہے۔

    برفباری کے بعد بحرین بازار کا منظر۔

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Swat

    ،تصویر کا کیپشنبرفباری کے بعد بحرین بازار کا منظر۔
    برفباری کے بعد کالام بازار کا منظر۔

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Swat

    ،تصویر کا کیپشنبرفباری کے بعد کالام بازار کا منظر۔
  18. مری میں 12 انچ تک برفباری ریکارڈ، آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں اور شدید برفباری کی پیشگوئی

    مری

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں گذشتہ رات سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور حکام کے مطابق اب تک تقریباً 12 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔

    صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مری میں اس وقت بھی برفباری جاری ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور شدید برفباری کی پیشگوئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، مری اور گردونواح میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    حکام کی جانب سے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حکام کنٹرول روم سے موسم کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    مری

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    دوسری جانب مری پولیس کا کہنا ہے کہ برفباری کے باعث ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح مری کا رخ کر رہے ہیں۔

    سیاحوں کے لیے اہم ہدایات

    مری پولیس نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے آنے والے سیاحوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں:

    • سیاح سفر سے قبل موسم اور ٹریفک صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
    • گاڑیوں میں برف کے لیے موزوں ٹائر، چین اور ایمرجنسی سامان لازمی رکھیں۔
    • غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف مجاز راستوں کا استعمال کریں۔
    • سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرنے سے اجتناب کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔
  19. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں، معمولاتِ زندگی متاثر, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    گذشتہ روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ہونے والی بارش اور برفباری کے بعد سے یخ بستہ تیز سائبیرین ہوائوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھاُ جو کہ تاحال جاری ہے۔

    شدید سردی کی وجہ سے نہ صرف سڑکوں اور زمین پر پانی جم گیا ہے بلکہ گھروں کی ٹینکیوں اور نلکوں میں بھی پانی جم گیا ہے جس کے باعث لوگوں کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کوئٹہ، قلات، مستونگ، سوراب، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی سمیت متعدد وسطی اور شمالی علاقوں کا شمار بلوچستان کے سرد علاقوں میں ہوتا ہے۔

    صوبے کے جن علاقوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس کی سہولت دستیاب ہے ان میں کوئٹہ، قلات، مستونگ، زیارت، پشین اور چند دیگر علاقے شامل ہیں تاہم گیس کے پریشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث بیشر علاقوں میں لوگ گیس ہیٹر استعمال نہیں کر پا رہے۔

    دوسری جانب بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور ایندھن کے دیگر سستے ذرائع نہ ہونے کے باعث شدید سردی نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔

    گذشتہ شب برفباری کی وجہ سے سیرو تفریح کے لیے زیارت جانے والے متعدد خاندان پھنس گئے تھے تاہم پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے ۔

  20. ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی

    ٹرمپ کارنی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے طاقتور ممالک کی جانب سے اقتصادی انضمام کو بطور ہتھیار اور محصولات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کھل کر مذمت کی تھی۔

    جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ براہ کرم اس خط کو اس بات کی باضابطہ اطلاع سمجھیں کہ بورڈ آف پیس کی جانب سے آپ کو کینیڈا کی شمولیت کے حوالے سے دیا گیا دعوت نامہ واپس لیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کی۔

    پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بورڈ میں دُنیا کے مختلف ممالک کے کئی ذہین رہنما شریک ہیں اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ مل کر غزہ میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔