لائیو, ایران کی نیوکلیئر پاور پلانٹ پر امریکی حملے کی تصدیق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا واقعے کی تحقیقات کا عندیہ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے علاقے ڈارخوین میں زیرِ تعمیر مجوزہ جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر رات گئے ہونے والے مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تاہم ایران نے زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. قطری امیر اور عراقی وزیراعظم کی ملاقات، امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا مطالبہ

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اتوار کے روز دوحہ میں عراق کے وزیراعظم علی زیدی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    قطری امیر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کی پاسداری کریں اور امریکہ و ایران کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

    ملاقات میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

  2. اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں کارروائیاں، ہارس پر ’ساؤنڈ بم‘ جبکہ متعدد علاقوں پر گولہ باری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے ہارس پر ایک ساؤنڈ بم گرایا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے قصبوں شمع، مجدل زون اور بیوت الصیاد بھی اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کی زد میں آئے۔

    تاحال ان کارروائیوں کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

  3. لبنانی صدر جوزف عون کی واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات

    @SecRubio

    ،تصویر کا ذریعہ@SecRubio

    لبنان کے صدر جوزف عون نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان اٹلی میں ہونے والے مذاکرات کے تازہ دور کے اختتام کے بعد ہوئی ہے۔

    یہ سنہ 2009 کے بعد کسی لبنانی صدر کا پہلا امریکی دورہ ہے۔ اس سے قبل سابق صدر میشل سلیمان نے امریکی صدر براک اوباما کے دور میں امریکی دورہ کیا تھا اور اُن سے ملاقات کی تھی۔

    لبنانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر جوزف عون منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اسرائیل اور لبنان جن کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں اپریل سے امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔

    اطلاعات کے مطابق دونوں فریق ایک مجوزہ معاہدے کے تحت اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے انخلا کرے گی، جبکہ لبنانی فوج دو ’علاقوں‘ میں اپنی تعیناتی کرے گی۔ تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد کو حزب اللہ کی غیر مسلح ہونے کی شرط سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ لبنانی حکومت کے مذاکرات ملک کے آئین کے منافی ہیں۔

  4. بریکنگ, آبادان کے مضافات میں میزائل حملے کی اطلاع، خوزستان حکام کا دعویٰ

    ایران کے صوبے خوزستان کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبادان کے مضافاتی علاقے میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر برائے سکیورٹی و قانون کے حوالے سے بتایا کہ ’اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

    اس خبر کے نشر ہونے سے چند منٹ قبل ایرانی نشریاتی ادارے آئی سی سی نے اطلاع دی تھی کہ آبادان میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ صحت کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین کرمان پور نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’18 جولائی کی صبح سات بجے تک امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں 517 افراد زخمی اور 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں 35 خواتین اور 19 افراد کی عمریں 18 سال سے کم تھیں، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور دو کم عمر بچے شامل ہیں۔

    حسین کرمان پور نے مزید کہا کہ ’468 افراد کو علاج کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ 33 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔‘

  5. ڈارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر مبینہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی

    Mehr News

    ،تصویر کا ذریعہMehr News

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے علاقے ڈارخوین میں زیرِ تعمیر مجوزہ جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر رات گئے ہونے والے مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

    ایجنسی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تنصیب ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آئی اے ای اے کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔‘

    آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ’مبینہ حملے سے تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے۔‘ تاہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی کارروائیوں میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔

    تاہم ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے ملک کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ادارے نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ نے مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر 39 منٹ کے قریب اس جوہری تنصیب پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔‘

    بیان میں ڈارخوین جوہری بجلی گھر کو ’ایرانی قوم کے وقار اور سائنسی خود کفالت کی علامت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’دشمن نے زیرِ تعمیر منصوبے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹائل استعمال کیے۔‘

    ایرانی ادارے کے مطابق ’امریکہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرنے والی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کا حصہ ہیں۔‘

  6. روس کا بیلسٹک میزائلوں سے کیئو پر حملہ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر کیئو اور اس کے گردونواح کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اسے روس کے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے کیئو پر ہونے والے ’سب سے بڑے بیلسٹک حملوں میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے داغے گئے 41 میزائلوں میں سے 18 کو تباہ کر دیا، جبکہ 108 ڈرون بھی مار گرائے گئے۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی تنصیبات پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوکرینی فوج کے مطابق ڈرون حملوں میں بحیرۂ اسود میں موجود روس کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جو قازقستان کا خام تیل روس کی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک تک پہنچاتا ہے، نے تصدیق کی کہ اس کے ٹرمینل کو بھی حملے میں نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا تیل کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر روس کے جنوب مغربی علاقے سٹاوروپول کے گورنر نے کہا کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک صنعتی پارک میں آگ لگ گئی۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے حالیہ حملوں میں سکندر اور ہائپر سونک زرکون میزائلوں سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے، جبکہ مجموعی طور پر 125 ڈرون بھی حملوں میں شامل تھے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کیئو کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک سپر مارکیٹ، طلبہ کی رہائش گاہ اور دو گودام بھی شامل ہیں، جہاں آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کارروائیاں کرتے رہے۔

    صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر تقریباً ایک ہزار 450 حملہ آور ڈرون، ایک ہزار 640 سے زائد گائیڈڈ بم اور مختلف نوعیت کے 99 میزائل داغے ہیں۔

  7. بحرینی فوج کا ایرانی فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    بحرین کی دفاعی فورس کی جنرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ایک بار پھر بحرین میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بحرینی فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔‘

    اتوار کے روز بحرین کی دفاعی افواج کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے بیان میں جنرل کمانڈ نے کہا کہ ’بحرین کی دفاعی فورس کے فضائی دفاعی نظام نے مکمل جنگی تیاری اور اعلیٰ دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔‘

    بیان کے مطابق ’بحرین کی تمام دفاعی یونٹس اور ہتھیار ملک کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی تیاری اور دفاعی الرٹ پر موجود ہیں۔‘

    بحرینی فوج نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ ’حملوں کے بعد گرنے والی کسی بھی مشتبہ یا نامعلوم چیز کے قریب نہ جائیں اور ایسی اشیا کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔‘

    جنرل کمانڈ نے بتایا کہ ’رائل فیلڈ انجینئرنگ یونٹ کی ٹیمیں مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی مشتبہ ملبے یا دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں تاکہ شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’شہریوں اور نجی املاک کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

  8. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اہواز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے مُلک کے جنوبی شہر اہواز میں فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی ’ایم کیو نائن‘ ڈرون مار گرایا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’یہ ڈرون پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے، جو ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرتا ہے نے نشانہ بنایا۔‘

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں فضائی دفاعی نظام کو ایک فضائی ہدف پر حملہ کرتے ہوئے دکھانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ایسی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں تباہ ہونے والے ڈرون کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل یا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  9. ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے: کویتی فوج کا دعویٰ

    کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہی ہے۔

    کویتی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام اس وقت ’ایرانی جارحیت‘ کے جواب میں دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

    اس سے قبل ایران کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’ڈرون حملوں کے ذریعے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کویت میں حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق کویت میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس، بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات اور تیل سے متعلق اہم مراکز کو نشانہ بنانے کے دعووں پر خلیجی عرب ممالک نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

    خلیج تعاون کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پڑوسی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ’جنگی جرم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔‘

  10. عراق کا ترکی اور شام کی بندرگاہوں تک تیل کی ترسیل کے لیے پائپ لائن بچھانے پر غور

    عراق

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت بصرہ سے کرکوک اور وہاں سے ترکی کی بندرگاہ جیہان اور شام کی بندرگاہ بانیاس تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز واشنگٹن میں عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ تیل کے پاس ’واضح وژن اور حکمتِ عملی‘ موجود ہے، جس کا مقصد عراق کی تیل برآمد کرنے کی راہوں میں تنوع پیدا کرنا اور صرف آبنائے ہرمز پر انحصار نہ کرنا ہے۔

    ان کے مطابق عراقی وزارتِ تیل اس وقت ایک سٹریٹیجک پائپ لائن کی تعمیر کا جائزہ لے رہی ہے جو بصرہ سے کرکوک تک جائے گی اور وہاں سے ترکی کی بندرگاہ جیہان تک پہنچے گی۔

    عراقی وزیرِ تیل نے کہا کہ اس منصوبے میں پائپ لائن کو شام کے شہر بانیاس تک توسیع دینے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    بانیاس شام کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں واقع ایک شہر ہے، جہاں ملک کی اہم آئل ریفائنریوں میں سے ایک موجود ہے اور بحیرۂ روم پر تیل برآمد کرنے کا ایک ٹرمینل بھی قائم ہے۔

  11. ایرانی فوج کا کویت میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے شہری علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں ’آپریشن لائٹننگ‘ کے 17ویں مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔

    بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایک بار پھر کویت میں واقع کیمپ الادیری میں امریکی ’اسلحہ گودام‘ اور علی السالم ایئر بیس پر ’ساز و سامان اور اہلکاروں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد سے کویت میں امریکی ٹھکانے ایرانی حملوں کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔

  12. لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی اطلاعات: ’ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی‘, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈین فوج

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں اطلاعات ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب فائرنگ ہوئی جسے گذشتہ سال پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد کی پہلی بڑی سرحدی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جموں میں تعینات انڈین فوج کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ’جمعے کی رات تقریباً 9:50 پر تارکنڈی فارورڈ ایریا میں ایل او سی کے قریب کچھ مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جب ہمارے جوانوں نے چیلنج کیا تو سرحد پار سے چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹروں سے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی گئی۔‘

    مقامی لوگوں کے مطابق رات دس بجے کے قریب شروع ہونے والا فائرنگ کا یہ تبادلہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا جس سے سرحدی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی صبح سے ہی پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی درانداز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی حدود میں چھپا نہ ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ ’وائٹ نائٹ کور کے سینیئر کمانڈرز صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اگلے کمانڈروں کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘

    پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپوں کے بعد سے ایل او سی پر مجموعی طور پر خاموشی تھی۔ اگرچہ اس کے فوری بعد چند معمولی واقعات پیش آئے تھے، لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    کل رات کی فائرنگ کے دوران ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی‘

    سرحد کے بالکل قریب واقع دیہات کے مکینوں کے لیے یہ رات کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ تارکنڈی کے رہائشی، محمد رشید نے بی بی سی اردو کو بتایا ’ہم رات کا کھانا کھا کر سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک گولیوں کی آوازوں سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ آپریشن سندور کے بعد ہمیں لگا تھا کہ شاید اب سکون رہے گا، لیکن کل رات کی فائرنگ کے دوران ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی ہے۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہمیں اپنے بچوں سمیت رات گھر کے اندرونی حصوں یا بنکروں میں گزارنی پڑی۔‘

    ایک اور مقامی خاتون زبیدہ بیگم نے کہا کہ ’جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو بجلی چلی گئی اور اندھیرے میں بچے خوفزہ ہوکر رو رہے تھے۔ ہمیں مسلسل خوف رہتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا تو ہماری فصلیں، مال مویشی اور زندگیاں سب خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘

  13. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع راجوری میں بارشوں اور بادل پھٹنے سے سیلاب، سینکڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں اتوار کی صبح آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی اور مسلسل بارشوں کے باعث خطہ پیر پنچال کے اس پہاڑی خطے میں دریا اور نالے بپھر گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خطے میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز (اچانک سیلاب) کا الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اتوار کی صبح سویرے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔

    مقامی حکام کے مطابق، راجوری شہر کے درمیان سے گزرنے والے دریا ’درہالی‘ میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر چلی گئی ہے۔

    سیلابی ریلے نے بیلا کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند (فلڈ پروٹیکشن وال) کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلاب کا پانی شہر کے نیو بس سٹینڈ اور رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ اس اچانک آنے والے ریلے کی وجہ سے بس اسٹینڈ پر کھڑی درجنوں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں یا مکمل طور پر ڈوب گئیں۔

    اس کے علاوہ عبداللہ برج اور طارق برج کے قریبی علاقوں میں قائم کچی آبادیوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    راجوری کے ایک رہائشی، محمد فاروق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’رات کو ہم سو رہے تھے کہ اچانک پانی کے شور نے ہمیں جگا دیا۔ جب باہر دیکھا تو گلیوں میں دریا بہہ رہا تھا۔ ہم نے اپنے بچوں کو اٹھایا اور جان بچانے کے لیے اونچے مقامات کی طرف بھاگے۔‘

    فاروق کا کہنا ہے کہ ان کا پورا گھر کا سامان، راشن اور جمع پونجی پانی کی نذر ہو چکی ہے۔ ’بیلا کالونی اور بس اسٹینڈ کا منظر دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی قیامت آ گئی ہو، گاڑیاں کھلونوں کی طرح تیر رہی تھیں۔‘

    عبداللہ برج کے قریب رہنے والی ایک اور خاتون شبنم بیگم نے بتایا کہ ’ہماری کچی بستی میں پانی اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ ہمیں کچھ سنبھالنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہماری جھونپڑیاں اور گھر سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ اب ہم کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور حکومت کی طرف سے کسی ٹھوس امداد کے منتظر ہیں۔‘

    سیلاب کی وجہ سے نہ صرف راجوری شہر بلکہ دور دراز دیہی علاقوں جیسے تھانہ منڈی، درہال اور منجاکوٹ میں بھی بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان ہوا ہے۔ کئی مقامات پر مٹی کے مکانات گرنے اور زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے سمیت کئی اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

    مقامی ایم ایل اے افتخار احمد نے جموں میں جاری اپنا سیاسی پروگرام منسوخ کر کے راجوری کا رخ کیا ہے۔ انہھں نے کہا کہ ’اس سیلاب نے عوامی اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور انتظامیہ کو فوری طور پر بحالی اور امدادی کام شروع کرنے چاہیئیں۔‘

    دوسری طرف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سرکاری امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    مقامی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں ہنگامی کنٹرول رومز کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی نے عوام اور انتظامیہ دونوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

  14. سینٹکام کا اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کمانڈر اِن چیف یعنی امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھویں رات کیے جانے والے حملوں کے دوران امریکی افواج نے ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

    بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران امریکی فوج نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو بھی نشانہ بنایا۔

    سینٹکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

  15. ایران کے حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں: سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

    سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سلامتی کی صورتِ حال کو بدستور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ٹریول ایڈوائزری یا سفری ہدایت نامے میں امریکی شہریوں کو بدستور احتیاط سے کام لینے اور تازہ پیش رفت سے آگاہ رہنے کے لیے خبروں پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ’امریکی محکمہ خارجہ دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں مقیم افراد، کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں۔ بیرونِ ملک موجود امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قریب ترین امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔‘

    ہدایت نامے میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی اور وقتاً فوقتاً فضائی حدود کی بندش کے باعث سفر میں رکاوٹیں بھی پیش آ سکتی ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر علاقوں میں واقع امریکی سفارتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’ایران کے حامی گروہ بیرونِ ملک امریکی مفادات یا دنیا بھر میں امریکہ اور امریکی شہریوں سے وابستہ مقامات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

  16. ایران کے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں میں تازہ امریکی حملوں کی اطلاعات

    ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ نے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے مختلف علاقوں پر نئے امریکی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق خوزستان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 55 منٹ پر شادگان شہر کے نزدیک ایک مقام کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ہنگامی امداد کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے بھی خبر دی ہے کہ صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر جزیرہ قشم کے بعض علاقوں کو ایک بار پھر امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا، جہاں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    تسنیم نیوز کے مطابق میزائل حملوں کے مقامات اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل بھی قشم کے دیگر مقامات پر بھی کئی میزائل داغے گئے تھے۔

    امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ ان حملوں کی تفصیلات کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  17. ایرانی فوج کا کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی ڈرون

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ’آپریشن لائٹننگ‘ کے سولھویں مرحلے میں کویت میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’العدیری کیمپ میں ایک اسلحہ ڈپو، جبکہ علی السالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ایک ریڈار‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جن میں شہری انفراسٹرکچر اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاحال کویتی فوج یا حکومت اور امریکی حکام کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں کوئی باین سامنے نہیں آیا ہے۔ بی بی سی ایرانی فوج کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  18. آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کردہ جنوبی راستہ ایران کو ’کسی صورت‘ قبول نہیں: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کیے گئے جنوبی راستے کو ’کسی بھی صورت‘ قبول نہیں کرے گا اور اس آبی گذرگاہ پر اپنی خودمختاری کا ’ہر قیمت پر‘ دفاع کرے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق غریب آبادی کا کہنا ہے تھا نے کہا کہ براستہ عمان بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا راستہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم ایران کا عمان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ’پورے علاقے‘ کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تہران نے ابھی تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں اور نہ ہی وہ واشنگٹن سے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کرے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ اس تجویز کے تحت جہاز عمانی سمندری حدود سے ہوتے ہوئے جنوبی راستے کے ذریعے گزر سکیں گے اور اس کے لیے ایران کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تاہم ایرانی حکام اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

  19. امریکی حملے میں سریک میں ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا: ایرانی حکام

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار درمیانی شب ڈیڑھ بجے سریک کے قریب ایک مقام کو امریکی فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے بھی علاقے کے رہائشیوں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سریک میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ایجنسی کے مطابق صوبائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل علاقے میں ایک مقام پر آ کر گرا ہے۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    تسنیم کی خبر کے مطابق حالیہ دنوں میں سریک کو کئی مرتبہ امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے شہر کو نقصان پہنچا ہے۔

  20. متحدہ عرب امارات کا خطے کی صورتحال پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار: ’ایسے اقدامات سے بچا جائے جو تشدد اور عدم استحکام کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے‘

    متحدہ عرب امارات نے گذشتہ چند روز کے دوران خطے میں ہونے والی پیش رفت پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافے کو فوری طور پر روکنے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید عدم استحکام کا باعث بنیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا اظہار کرنے کا اور ایسے کسی بھی اقدام سے بچنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو تشدد اور عدم استحکام کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے سکتا ہو۔

    متحدہ عرب امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور مذاکرات کی میز پر جلد واپسی یقینی بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی برقرار رکھنا عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ خطے میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات، جن میں سکول، جامعات، ہسپتال، ڈی سیلینیشن پلانٹس، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے مراکز، اور رہائشی علاقے شامل ہیں، پر حملے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ان مراکز کو نشانہ بنانا کسی بھی صورتِ حال میں نہ قابلِ قبول ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔