انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں اتوار کی صبح آنے
والے سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع
ہو گئے ہیں۔
سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی اور مسلسل بارشوں کے باعث خطہ
پیر پنچال کے اس پہاڑی خطے میں دریا اور نالے بپھر گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خطے
میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز (اچانک سیلاب) کا الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اتوار
کی صبح سویرے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔
مقامی حکام کے مطابق، راجوری شہر کے درمیان سے گزرنے والے دریا ’درہالی‘ میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے
اوپر چلی گئی ہے۔
سیلابی ریلے نے بیلا کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند (فلڈ پروٹیکشن
وال) کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلاب کا پانی شہر کے نیو بس سٹینڈ اور رہائشی
علاقوں میں داخل ہو گیا۔ اس اچانک آنے والے ریلے کی وجہ سے بس اسٹینڈ پر کھڑی
درجنوں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں یا مکمل طور پر ڈوب گئیں۔
اس کے علاوہ عبداللہ برج اور طارق برج کے قریبی علاقوں میں قائم کچی
آبادیوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے ہنگامی
کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
راجوری کے ایک رہائشی، محمد فاروق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا
کہ ’رات کو ہم سو رہے تھے کہ اچانک پانی
کے شور نے ہمیں جگا دیا۔ جب باہر دیکھا تو گلیوں میں دریا بہہ رہا تھا۔ ہم نے اپنے
بچوں کو اٹھایا اور جان بچانے کے لیے اونچے مقامات کی طرف بھاگے۔‘
فاروق کا کہنا ہے کہ ان کا پورا گھر
کا سامان، راشن اور جمع پونجی پانی کی نذر ہو چکی ہے۔ ’بیلا کالونی اور بس اسٹینڈ کا منظر
دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی قیامت آ گئی ہو، گاڑیاں کھلونوں کی طرح تیر رہی
تھیں۔‘
عبداللہ برج کے قریب رہنے والی ایک اور خاتون شبنم بیگم نے بتایا کہ ’ہماری کچی بستی میں پانی اتنی تیزی
سے داخل ہوا کہ ہمیں کچھ سنبھالنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہماری جھونپڑیاں اور گھر
سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ اب ہم کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور حکومت کی طرف
سے کسی ٹھوس امداد کے منتظر ہیں۔‘
سیلاب کی وجہ سے نہ صرف راجوری شہر بلکہ دور دراز دیہی علاقوں جیسے
تھانہ منڈی، درہال اور منجاکوٹ میں بھی بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کا
نقصان ہوا ہے۔ کئی مقامات پر مٹی کے مکانات گرنے اور زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ)
کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے سمیت کئی اہم رابطہ
سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔
مقامی ایم ایل اے افتخار احمد نے جموں میں جاری اپنا سیاسی پروگرام
منسوخ کر کے راجوری کا رخ کیا ہے۔ انہھں نے کہا کہ ’اس سیلاب نے عوامی اور نجی املاک کو
بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور انتظامیہ کو فوری طور پر بحالی اور امدادی کام
شروع کرنے چاہیئیں۔‘
دوسری طرف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا
اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سرکاری امداد فراہم کرنے کی یقین
دہانی کرائی ہے۔
مقامی
انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں ہنگامی کنٹرول رومز کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر
رہی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
نے عوام اور انتظامیہ دونوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔