لائیو, کویت اور بحرین کا مختلف مقامات پر ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

کویت اور بحرین کی دفاعی افواج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایران کی جانب سے مختلف اہم مقامات پر داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی دونوں مُمالک نے ان ایرانی حملوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے خوزستان میں زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے: ایران کا دعویٰ

    ایران کی جوہری توانائی تنظیم (اے ای او آئی) نے ملک کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ادارے نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ نے مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر 39 منٹ کے قریب اس جوہری تنصیب پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔‘

    بیان میں ڈارخوین جوہری بجلی گھر کو ’ایرانی قوم کے وقار اور سائنسی خود کفالت کی علامت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’دشمن نے زیرِ تعمیر منصوبے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹائل استعمال کیے۔‘

    ایرانی ادارے کے مطابق ’امریکہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرنے والی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کا حصہ ہیں۔‘

  2. روس کا بیلسٹک میزائلوں سے کیئو پر حملہ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر کیئو اور اس کے گردونواح کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اسے روس کے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے کیئو پر ہونے والے ’سب سے بڑے بیلسٹک حملوں میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے داغے گئے 41 میزائلوں میں سے 18 کو تباہ کر دیا، جبکہ 108 ڈرون بھی مار گرائے گئے۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی تنصیبات پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوکرینی فوج کے مطابق ڈرون حملوں میں بحیرۂ اسود میں موجود روس کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جو قازقستان کا خام تیل روس کی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک تک پہنچاتا ہے، نے تصدیق کی کہ اس کے ٹرمینل کو بھی حملے میں نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا تیل کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر روس کے جنوب مغربی علاقے سٹاوروپول کے گورنر نے کہا کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک صنعتی پارک میں آگ لگ گئی۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے حالیہ حملوں میں سکندر اور ہائپر سونک زرکون میزائلوں سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے، جبکہ مجموعی طور پر 125 ڈرون بھی حملوں میں شامل تھے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کیئو کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک سپر مارکیٹ، طلبہ کی رہائش گاہ اور دو گودام بھی شامل ہیں، جہاں آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کارروائیاں کرتے رہے۔

    صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر تقریباً ایک ہزار 450 حملہ آور ڈرون، ایک ہزار 640 سے زائد گائیڈڈ بم اور مختلف نوعیت کے 99 میزائل داغے ہیں۔

  3. بحرینی فوج کا ایرانی فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    بحرین کی دفاعی فورس کی جنرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ایک بار پھر بحرین میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بحرینی فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔‘

    اتوار کے روز بحرین کی دفاعی افواج کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے بیان میں جنرل کمانڈ نے کہا کہ ’بحرین کی دفاعی فورس کے فضائی دفاعی نظام نے مکمل جنگی تیاری اور اعلیٰ دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔‘

    بیان کے مطابق ’بحرین کی تمام دفاعی یونٹس اور ہتھیار ملک کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی تیاری اور دفاعی الرٹ پر موجود ہیں۔‘

    بحرینی فوج نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ ’حملوں کے بعد گرنے والی کسی بھی مشتبہ یا نامعلوم چیز کے قریب نہ جائیں اور ایسی اشیا کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔‘

    جنرل کمانڈ نے بتایا کہ ’رائل فیلڈ انجینئرنگ یونٹ کی ٹیمیں مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی مشتبہ ملبے یا دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں تاکہ شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’شہریوں اور نجی املاک کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

  4. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اہواز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے مُلک کے جنوبی شہر اہواز میں فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی ’ایم کیو نائن‘ ڈرون مار گرایا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’یہ ڈرون پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے، جو ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرتا ہے نے نشانہ بنایا۔‘

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں فضائی دفاعی نظام کو ایک فضائی ہدف پر حملہ کرتے ہوئے دکھانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ایسی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں تباہ ہونے والے ڈرون کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل یا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  5. ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے: کویتی فوج کا دعویٰ

    کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہی ہے۔

    کویتی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام اس وقت ’ایرانی جارحیت‘ کے جواب میں دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

    اس سے قبل ایران کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’ڈرون حملوں کے ذریعے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کویت میں حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق کویت میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس، بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات اور تیل سے متعلق اہم مراکز کو نشانہ بنانے کے دعووں پر خلیجی عرب ممالک نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

    خلیج تعاون کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پڑوسی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ’جنگی جرم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔‘

  6. عراق کا ترکی اور شام کی بندرگاہوں تک تیل کی ترسیل کے لیے پائپ لائن بچھانے پر غور

    عراق

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت بصرہ سے کرکوک اور وہاں سے ترکی کی بندرگاہ جیہان اور شام کی بندرگاہ بانیاس تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز واشنگٹن میں عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ تیل کے پاس ’واضح وژن اور حکمتِ عملی‘ موجود ہے، جس کا مقصد عراق کی تیل برآمد کرنے کی راہوں میں تنوع پیدا کرنا اور صرف آبنائے ہرمز پر انحصار نہ کرنا ہے۔

    ان کے مطابق عراقی وزارتِ تیل اس وقت ایک سٹریٹیجک پائپ لائن کی تعمیر کا جائزہ لے رہی ہے جو بصرہ سے کرکوک تک جائے گی اور وہاں سے ترکی کی بندرگاہ جیہان تک پہنچے گی۔

    عراقی وزیرِ تیل نے کہا کہ اس منصوبے میں پائپ لائن کو شام کے شہر بانیاس تک توسیع دینے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    بانیاس شام کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں واقع ایک شہر ہے، جہاں ملک کی اہم آئل ریفائنریوں میں سے ایک موجود ہے اور بحیرۂ روم پر تیل برآمد کرنے کا ایک ٹرمینل بھی قائم ہے۔

  7. ایرانی فوج کا کویت میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے شہری علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں ’آپریشن لائٹننگ‘ کے 17ویں مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔

    بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایک بار پھر کویت میں واقع کیمپ الادیری میں امریکی ’اسلحہ گودام‘ اور علی السالم ایئر بیس پر ’ساز و سامان اور اہلکاروں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد سے کویت میں امریکی ٹھکانے ایرانی حملوں کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔

  8. لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی اطلاعات: ’ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی‘, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈین فوج

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں اطلاعات ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب فائرنگ ہوئی جسے گذشتہ سال پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد کی پہلی بڑی سرحدی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جموں میں تعینات انڈین فوج کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ’جمعے کی رات تقریباً 9:50 پر تارکنڈی فارورڈ ایریا میں ایل او سی کے قریب کچھ مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جب ہمارے جوانوں نے چیلنج کیا تو سرحد پار سے چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹروں سے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی گئی۔‘

    مقامی لوگوں کے مطابق رات دس بجے کے قریب شروع ہونے والا فائرنگ کا یہ تبادلہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا جس سے سرحدی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی صبح سے ہی پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی درانداز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی حدود میں چھپا نہ ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ ’وائٹ نائٹ کور کے سینیئر کمانڈرز صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اگلے کمانڈروں کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘

    پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپوں کے بعد سے ایل او سی پر مجموعی طور پر خاموشی تھی۔ اگرچہ اس کے فوری بعد چند معمولی واقعات پیش آئے تھے، لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    کل رات کی فائرنگ کے دوران ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی‘

    سرحد کے بالکل قریب واقع دیہات کے مکینوں کے لیے یہ رات کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ تارکنڈی کے رہائشی، محمد رشید نے بی بی سی اردو کو بتایا ’ہم رات کا کھانا کھا کر سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک گولیوں کی آوازوں سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ آپریشن سندور کے بعد ہمیں لگا تھا کہ شاید اب سکون رہے گا، لیکن کل رات کی فائرنگ کے دوران ہمیں لگا شائد جنگ شروع ہو گئی ہے۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہمیں اپنے بچوں سمیت رات گھر کے اندرونی حصوں یا بنکروں میں گزارنی پڑی۔‘

    ایک اور مقامی خاتون زبیدہ بیگم نے کہا کہ ’جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو بجلی چلی گئی اور اندھیرے میں بچے خوفزہ ہوکر رو رہے تھے۔ ہمیں مسلسل خوف رہتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا تو ہماری فصلیں، مال مویشی اور زندگیاں سب خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘

  9. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع راجوری میں بارشوں اور بادل پھٹنے سے سیلاب، سینکڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں اتوار کی صبح آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی اور مسلسل بارشوں کے باعث خطہ پیر پنچال کے اس پہاڑی خطے میں دریا اور نالے بپھر گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خطے میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز (اچانک سیلاب) کا الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اتوار کی صبح سویرے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔

    مقامی حکام کے مطابق، راجوری شہر کے درمیان سے گزرنے والے دریا ’درہالی‘ میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر چلی گئی ہے۔

    سیلابی ریلے نے بیلا کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند (فلڈ پروٹیکشن وال) کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلاب کا پانی شہر کے نیو بس سٹینڈ اور رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ اس اچانک آنے والے ریلے کی وجہ سے بس اسٹینڈ پر کھڑی درجنوں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں یا مکمل طور پر ڈوب گئیں۔

    اس کے علاوہ عبداللہ برج اور طارق برج کے قریبی علاقوں میں قائم کچی آبادیوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    راجوری کے ایک رہائشی، محمد فاروق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’رات کو ہم سو رہے تھے کہ اچانک پانی کے شور نے ہمیں جگا دیا۔ جب باہر دیکھا تو گلیوں میں دریا بہہ رہا تھا۔ ہم نے اپنے بچوں کو اٹھایا اور جان بچانے کے لیے اونچے مقامات کی طرف بھاگے۔‘

    فاروق کا کہنا ہے کہ ان کا پورا گھر کا سامان، راشن اور جمع پونجی پانی کی نذر ہو چکی ہے۔ ’بیلا کالونی اور بس اسٹینڈ کا منظر دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی قیامت آ گئی ہو، گاڑیاں کھلونوں کی طرح تیر رہی تھیں۔‘

    عبداللہ برج کے قریب رہنے والی ایک اور خاتون شبنم بیگم نے بتایا کہ ’ہماری کچی بستی میں پانی اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ ہمیں کچھ سنبھالنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہماری جھونپڑیاں اور گھر سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ اب ہم کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور حکومت کی طرف سے کسی ٹھوس امداد کے منتظر ہیں۔‘

    سیلاب کی وجہ سے نہ صرف راجوری شہر بلکہ دور دراز دیہی علاقوں جیسے تھانہ منڈی، درہال اور منجاکوٹ میں بھی بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان ہوا ہے۔ کئی مقامات پر مٹی کے مکانات گرنے اور زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے سمیت کئی اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

    مقامی ایم ایل اے افتخار احمد نے جموں میں جاری اپنا سیاسی پروگرام منسوخ کر کے راجوری کا رخ کیا ہے۔ انہھں نے کہا کہ ’اس سیلاب نے عوامی اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور انتظامیہ کو فوری طور پر بحالی اور امدادی کام شروع کرنے چاہیئیں۔‘

    دوسری طرف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سرکاری امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    مقامی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں ہنگامی کنٹرول رومز کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی نے عوام اور انتظامیہ دونوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

  10. سینٹکام کا اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کمانڈر اِن چیف یعنی امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھویں رات کیے جانے والے حملوں کے دوران امریکی افواج نے ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

    بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران امریکی فوج نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو بھی نشانہ بنایا۔

    سینٹکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

  11. ایران کے حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں: سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

    سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سلامتی کی صورتِ حال کو بدستور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ٹریول ایڈوائزری یا سفری ہدایت نامے میں امریکی شہریوں کو بدستور احتیاط سے کام لینے اور تازہ پیش رفت سے آگاہ رہنے کے لیے خبروں پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ’امریکی محکمہ خارجہ دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں مقیم افراد، کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں۔ بیرونِ ملک موجود امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قریب ترین امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔‘

    ہدایت نامے میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی اور وقتاً فوقتاً فضائی حدود کی بندش کے باعث سفر میں رکاوٹیں بھی پیش آ سکتی ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر علاقوں میں واقع امریکی سفارتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’ایران کے حامی گروہ بیرونِ ملک امریکی مفادات یا دنیا بھر میں امریکہ اور امریکی شہریوں سے وابستہ مقامات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

  12. ایران کے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں میں تازہ امریکی حملوں کی اطلاعات

    ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ نے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے مختلف علاقوں پر نئے امریکی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق خوزستان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 55 منٹ پر شادگان شہر کے نزدیک ایک مقام کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ہنگامی امداد کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے بھی خبر دی ہے کہ صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر جزیرہ قشم کے بعض علاقوں کو ایک بار پھر امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا، جہاں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    تسنیم نیوز کے مطابق میزائل حملوں کے مقامات اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل بھی قشم کے دیگر مقامات پر بھی کئی میزائل داغے گئے تھے۔

    امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ ان حملوں کی تفصیلات کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  13. ایرانی فوج کا کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی ڈرون

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ’آپریشن لائٹننگ‘ کے سولھویں مرحلے میں کویت میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’العدیری کیمپ میں ایک اسلحہ ڈپو، جبکہ علی السالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ایک ریڈار‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جن میں شہری انفراسٹرکچر اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاحال کویتی فوج یا حکومت اور امریکی حکام کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں کوئی باین سامنے نہیں آیا ہے۔ بی بی سی ایرانی فوج کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  14. آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کردہ جنوبی راستہ ایران کو ’کسی صورت‘ قبول نہیں: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کیے گئے جنوبی راستے کو ’کسی بھی صورت‘ قبول نہیں کرے گا اور اس آبی گذرگاہ پر اپنی خودمختاری کا ’ہر قیمت پر‘ دفاع کرے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق غریب آبادی کا کہنا ہے تھا نے کہا کہ براستہ عمان بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا راستہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم ایران کا عمان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ’پورے علاقے‘ کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تہران نے ابھی تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں اور نہ ہی وہ واشنگٹن سے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کرے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ اس تجویز کے تحت جہاز عمانی سمندری حدود سے ہوتے ہوئے جنوبی راستے کے ذریعے گزر سکیں گے اور اس کے لیے ایران کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تاہم ایرانی حکام اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

  15. امریکی حملے میں سریک میں ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا: ایرانی حکام

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار درمیانی شب ڈیڑھ بجے سریک کے قریب ایک مقام کو امریکی فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے بھی علاقے کے رہائشیوں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سریک میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ایجنسی کے مطابق صوبائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل علاقے میں ایک مقام پر آ کر گرا ہے۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    تسنیم کی خبر کے مطابق حالیہ دنوں میں سریک کو کئی مرتبہ امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے شہر کو نقصان پہنچا ہے۔

  16. متحدہ عرب امارات کا خطے کی صورتحال پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار: ’ایسے اقدامات سے بچا جائے جو تشدد اور عدم استحکام کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے‘

    متحدہ عرب امارات نے گذشتہ چند روز کے دوران خطے میں ہونے والی پیش رفت پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافے کو فوری طور پر روکنے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید عدم استحکام کا باعث بنیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا اظہار کرنے کا اور ایسے کسی بھی اقدام سے بچنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو تشدد اور عدم استحکام کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے سکتا ہو۔

    متحدہ عرب امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور مذاکرات کی میز پر جلد واپسی یقینی بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی برقرار رکھنا عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ خطے میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات، جن میں سکول، جامعات، ہسپتال، ڈی سیلینیشن پلانٹس، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے مراکز، اور رہائشی علاقے شامل ہیں، پر حملے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ان مراکز کو نشانہ بنانا کسی بھی صورتِ حال میں نہ قابلِ قبول ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔

  17. ایرانی حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ایران پر تازہ حملے

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے صدر کے حکم پر تہران کے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور گذشتہ رات اردن میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے پاسدارانِ انقلاب کو ’فوری سزا دینا‘ تھا۔

    یہ حملے سینٹکام کی جانب سے اردن میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کیے گئے ہیں۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی قربانی امریکہ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

  18. اردن میں دو فوجیوں کی ہلاکت ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی: امریکی وزیر دفاع

    USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اردن میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانی امریکہ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

    پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’محفوظ سفر، ہیروز۔ ان کی قربانی صرف ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق 17 جولائی کو امریکی اور اتحادی افواج اردن کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کی کارروائی میں مصروف تھیں، جس دوران دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی اہلکار تاحال لاپتہ ہے، جبکہ چار زخمی فوجیوں کو علاج کے لیے اردن کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا جہاں سے انہیں بعد ازاں فارغ کر دیا گیا۔ معمولی زخمی ہونے والے کئی دیگر فوجی طبی معائنے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

    سینٹ کام نے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے احترام میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور دیگر تفصیلات اس وقت تک جاری نہیں کی جائیں گی جب تک ان کے اہلِ خانہ کو باضابطہ طور پر اطلاع دیے جانے کے بعد 24 گھنٹے مکمل نہیں ہو جاتے۔

    اپریل کے آغاز میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ لڑائی کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور امریکی جوابی کارروائیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

    ادھر جمعے کی رات ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کے اہم تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

  19. اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتہ: سینٹ کام

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا ہے۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران متعدد دیگر امریکی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جانی نقصان ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کے دوران پیش آیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چار امریکی فوجیوں کو زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے اردن کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، تاہم طبی امداد ملنے کے بعد انھیں ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق معمولی زخمی دیگر اہلکاروں کا بھی معائنہ کیا گیا اور وہ اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔

    سینٹکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے احترام میں مزید تفصیلات، بشمول ان کی شناخت، فی الحال جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ معلومات قریبی عزیزوں کو باضابطہ اطلاع دینے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

    ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، تاہم حملے کے اثرات اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بحرین، کویت اور اردن میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری مقامات پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔

    امریکی حکام نے لاپتہ فوجی کی تلاش اور زخمیوں کے علاج کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا کہا ہے، جبکہ واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  20. ایرانی سرکاری ٹی وی پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب تحریری پیغام: ’ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، امریکہ کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا جائے گا‘

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نیا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ’ناقابلِ فراموش سبق‘ دیا جائے گا۔

    اس تحریری پیغام میں، جو ایران کے رہبراعلیٰ سے منسوب کیا گیا ہے میں کہا گیا ہے کہ

    ’مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی حیثیت یا اعتبار نہیں۔‘

    مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’بڑے شیطان نے ایک بار پھر اپنا حقیقی اور بے نقاب چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے، تاکہ جرم اور غداری کا یہ تلخ تجربہ امریکہ کی جھوٹی، غیر منطقی، ناقابلِ اعتماد اور مذموم فطرت کا ایک اور مضبوط ثبوت بن جائے۔‘

    پیغام کے مطابق، ’اب جبکہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے اور خود کو مزید بھاری اخراجات اور بڑی رسوائی سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ ایران کی عزیز قوم اور محاذِ مزاحمت اس کے لیے ناقابلِ فراموش اسباق رکھتے ہیں۔‘

    اپنے والد کے جانشین بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے ہیں، اور نہ ہی ان کی کوئی آواز یا ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔

    اب تک ان سے منسوب تمام پیغامات صرف تحریری شکل میں ہی منظرِ عام پر آئے ہیں۔