سڈنی کے ساحل بونڈائی پر ’دہشت گردی‘: حملہ آور باپ بیٹا تھے، ایک حملہ آور ہلاک دوسرا شدید زخمی، 15 عام شہری حملے میں مارے گئے: پولیس

سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں

خلاصہ

  • سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں جبکہ بچوں سمیت 42 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں
  • امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں
  • امریکی افواج کا کہنا کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مبینہ حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہو گیا ہے
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک حملے میں القسام بریگیڈ کے سینیئر رہنما رائید سعد کو ہلاک کر دیا ہے

لائیو کوریج

  1. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے،جن لوگوں نے ابھی ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے، جمعے کے روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 2022 میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں ’کوئی ذاتی طور پر عاصم منیر صاحب کو جانتا نہیں تھا‘ اور ان کی ’حکومت میرٹ کو یقینی بنا رہی تھی۔‘
    • بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہویدکی چوکی شیخ لنڈک پر شدت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے تاہم پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کاروائی کی جس میں شدت پسندوں کو بھی جانی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
    • سندھ کے ضلع سجاول میں صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کی کھلی کچہری کے دوران ایک معمر شخص پر تشدد کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    • آسٹریا نے سکولوں میں چودہ سال سے کم عمر لڑکیوں کے سر پر سکارف پہننے پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔
    • جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی کے مطابق، جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں 6.7 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔ ایجنسی نے جاپان کے مشرقی ساحل کے کچھ حصوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ لہریں ایک میٹر یعنی 3.3 فٹ تک پہنچ سکتی ہیں۔
    • میکسیکو کی پارلیمنٹ نے ان ممالک کے خلاف ٹیرف کو 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے جن کے ساتھ اس کا آزادانہ تجارتی معاہدہ (FTA) نہیں ہے۔ میکسیکو کی طرف سے یہ ٹیرف انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سمیت کئی ایشیائی ممالک کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ ان ممالک سے برآمدات اب میکسیکو کے لیے مہنگی ہو جائیں گی
    • مغربی فوجی اتحاد کے سربراہ نے ایک سخت نئی وارننگ میں کہا ہے کہ روس اگلے پانچ سالوں میں نیٹو کے کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ مارک روٹے نے جرمنی میں ایک تقریر میں کہا کہ ’روس پہلے ہی ہمارے خلاف اپنی خفیہ مہم بڑھا رہا ہے۔ ہمیں اس جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا جو ہمارے اباؤ اجداد نے برداشت کی۔‘
  2. سندھ میں صوبائی وزیر کی کھلی کچہری کے دوران معمر شہری پر تشدد، تین افراد گرفتار, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ میں صوبائی وزیر کی کھلی کچہری کے دوران معمر شہری پر تشدد، تین افراد گرفتار

    ،تصویر کا ذریعہSadam Kolachi

    سندھ کے ضلع سجاول میں صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کی کھلی کچہری کے دوران ایک معمر شخص پر تشدد کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی علینا راجپر کے مطابق سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ ضیا لنجار نے جمعے کی صبح سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تحقیقات اور گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔

    سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ ’ایک بزرگ شخص جن کا کوئی ذاتی مسئلہ تھا وہاں دوسری پارٹی بھی موجود تھی۔ ان کا آپس میں تصادم ہوا۔ پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کیا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ اس طرح کے تنازعات میں بڑے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔‘

    صوبائی وزیر برائے وویمن ڈیویلپمنٹ شاہینہ شیر علی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کھلی کچہری چل رہی تھی، آخر میں ایک بزرگ شخص نے صدا لگائی۔ پیچھے شرارتی شخص نے اور تین چار لوگ بھی آئے، مارپیٹ کی۔ اس دوران پولیس نے بندے کو محفوظ نکال لیا۔‘

    ’ان کا زمین کا کوئی مسئلہ ہے جو آٹھ سال جاری ہے اور اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔‘

    سندھ میں صوبائی وزیر کی کھلی کچہری کے دوران معمر شہری پر تشدد، تین افراد گرفتار

    ،تصویر کا ذریعہSadam Kolachi

    صوبائی وزیر کے مطابق انھوں نے ایس ایس پی اور ڈی سی کو ملزمان کی گرفتاری کی حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ سجاول میں کھلی کچہری کے دوران رجب میمن نامی شخص نے شکایت کی کہ ان کی زمین پر پیپلز پارٹی کے ضلعی چیئرمین دانش ملکانی نے قبضہ کیا ہے، اس اثنا میں چار پانچ لوگ اٹھے اور انھوں نے اس شخص کو مارپیٹ کرنا شروع کردی۔ پولیس نے انھیں چھڑوایا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں نظر آتا ہے کہ آدھے درجن سے زائد افراد ایک شخص کو لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں جو زمین پر گرا ہوا ہے۔

    تاہم دوسری جانب ضلعی چیئرمین داشن ملکانی کا کہنا ہے کہ ان کا واقعے سے تعلق نہیں ہے۔ ’رجب میمن کا زمین کا تنازع جت برداری کے لوگوں سے ہے، انھیں سیاسی مخالفین استعمال کر رہے ہیں۔‘

  3. کرپٹو میں 40 ارب ڈالر کا نقصان کرنے والے دھوکے باز کو 15 سال قید

    دو کوون

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک سابق کرپٹو کاروباری شخصیت کو نیو یارک کے ایک جج نے ایک ’عظیم‘ فراڈ کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    وہ ایسیدو ڈیجیٹل کرنسیوں کے پیچھے تھے جو تباہ ہو گئیں اور اندازا 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

    دو کوون، جو جنوبی کوریا کے شہری ہیں، سنگاپور میں قائم ٹیرافارم لیبز کے شریک بانی تھے، جس نے ٹیرا یو ایس ڈی اور لونا ڈیجیٹل کوائنز تیار کیے۔

    کوون نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے سرمایہ کاروں کو ٹیرا یو ایس ڈی کے بارے میں گمراہ کیا، جو ایک نام نہاد سٹیبل کوائن ہے اور جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر برقرار رکھنے والا تھا۔

    وہ امریکہ میں 2022 میں ڈیجیٹل ٹوکنز کی کمی کے بعد کئی کرپٹو سربراہان میں سے ایک تھے جن پر مقدمات چلائے گئے، جس کی وجہ سے کئی کمپنیوں کی ناکام ہو گئیں۔

    سزا سنانے والے امریکی ڈسٹرکٹ جج پال اے اینگلمائر نے کہا کہ سٹینفورڈ کے فارغ التحصیل ملزم نے بار بار ان سرمایہ کاروں سے جھوٹ بولا جنہوں نے ان پر اپنے پیسے کا بھروسہ کیا۔

    ’یہ ایک عظیم اور نسلی سطح پر دھوکہ تھا‘۔ انھوں نے جمعرات کو مین ہٹن میں عدالت کی سماعت کے دوران کہا کہ ’وفاقی مقدمات کی تاریخ میں، بہت کم فراڈ ایسے ہیں جنھوں نے آپ جتنا نقصان پہنچایا ہو۔‘

    کوون نے اگست میں دھوکہ دہی اور وائر فراڈ کی سازش کا اعتراف کیا تھا۔ انھوں نے جج کے سامنے افسوس کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا ’میں نے پچھلے چند سالوں کے تقریبا ہر جاگتے لمحے میں یہ سوچتے ہوئے گزارا ہے کہ میں کیا مختلف کر سکتا تھا اور اب کیا کر سکتا ہوں تاکہ سب کچھ درست ہو سکے۔‘

    پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ جب مئی 2021 میں ٹیرا یو ایس ڈی اپنی ایک ڈالر کی قیمت سے نیچے گر گیا، تو کوون نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ ایک کمپیوٹر الگورتھم نے اس کی قدر بحال کر دی ہے۔

    عدالت کے دستاویزات کے مطابق اس کے بجائے، کوون نے ایک تجارتی فرم کو خفیہ طور پر لاکھوں ڈالر کے سکے خریدنے کا انتظام کیا تاکہ اس کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھائی جا سکے۔

  4. یورپی ملک آسٹریا نے 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے سکولوں میں حجاب پر پابندی عائد

    سکارف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریا نے سکولوں میں چودہ سال سے کم عمر لڑکیوں کے سر پر سکارف پہننے پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔

    کنزرویٹو کی زیرقیادت مخلوط حکومت، جو تین مرکزی جماعتوں پر مشتمل ہے، پیپلز پارٹی، سوشلسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ قانون ’صنفی مساوات کے لیے واضح عزم‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔

    دوسری طرف مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ’ملک میں مسلم مخالف جذبات کو ہوا دے گا‘ اور یہ غیر آئینی ہو سکتا ہے۔

    اس اقدام کا اطلاق سرکاری اور نجی سکولوں میں لڑکیوں پر ہوگا۔

    نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کو حجاب یا برقع جیسے ’روایتی اسلامی‘ سر کو ڈھانپنے سے منع کیا جائے گا۔

    اگر کوئی طالبہ پابندی کی خلاف ورزی کرتی ہے، تو سکول انتظامیہ اس کے اور اس کے والدین کے ساتھ بات چیت کا ایک سلسلہ منعقد کرے گی۔ اگر خلاف ورزیاں دہرائی جاتی ہیں تو چائلڈ اینڈ یوتھ ویلفیئر ایجنسی کو مطلع کیا جائے گا۔

    آخری حربے کے طور پر، خاندانوں یا والدین کو زیادہ سے زیادہ 800 یورو (700 پاؤنڈ سٹرلنگ) تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہے اور اس کا مقصد انھیں کسی بھی قسم کے ’ظلم‘ سے بچانا ہے۔

    اس سے پہلے کہ پارلیمنٹ اس قانون پر ووٹ ڈالے، لبرل نیوس پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے رہنما یانک شیٹی نے کہا کہ یہ اقدام ’کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں، بلکہ اس ملک میں لڑکیوں کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس پابندی سے تقریباً 12,000 بچے متاثر ہوں گے۔

    انتہائی دائیں بازو کی آسٹرین فریڈم پارٹی، جنھوں نے پابندی کے حق میں ووٹ دیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ناکافی ہے اور اسے بڑھایا جانا چاہیے۔

    انھوں نے پابندی کو ایک ’پہلا قدم‘ قرار دیا جس میں تمام طلباء اور سکول کے عملے کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی جانی چاہیے۔

    آسٹریا میں سرکاری اسلامی تنظیم نے کہا کہ یہ پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے معاشرتی تقسیم ہو گی۔

    اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں، گروپ نے کہا ’بچوں کو بااختیار بنانے کے بجائے، وہ بدنام اور پسماندہ کیے جائیں گے۔‘

  5. جاپان کے شمال مشرق میں ایک ہفتے کے دوران دوسرا بڑا زلزلہ، سونامی کی وراننگ جاری

    جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی کے مطابق، جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں 6.7 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔

    مقامی وقت کے مطابق 11.44 پر 20کلومیٹر گہرائی میں یہ زلزلہ آیا اور اس کے بعد کئی چھوٹے زلزلے آئے۔

    ایجنسی نے جاپان کے مشرقی ساحل کے کچھ حصوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ لہریں ایک میٹر یعنی 3.3 فٹ تک پہنچ سکتی ہیں۔

    آج کا زلزلہ اس ہفتے کے شروع میں اسی علاقے میں 7.5 شدت کے زلزلے کے بعد آیا ہے، جس میں درجنوں رہائشی زخمی ہو گئے تھے۔

    زلزلے کا مرکز آوموری پریفیکچر کے مشرقی ساحل کے قریب ہے۔

    جاپان موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایک میٹر تک کی سونامی لہریں آ سکتی ہیں۔

    جاپانی ایمرجنسی وارننگ ایپ کے مطابق، موتسو شہر، آوموری پریفیکچر میں تقریبا 6,000 افراد کو انخلا کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

  6. بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کا حملہ، پانچ اہلکار زخمی

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہویدکی چوکی شیخ لنڈک پر شدت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔ حملے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

    واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور ایمبولنس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

    چار زخمیوں کو بنوں ڈی ایچ کیو منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ایک معمولی زخمی کانسٹیبل پوسٹ پر ہی موجود ہیں۔

    پولیس کے مطابق چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کاروائی کی جس میں شدت پسندوں کو بھی جانی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    بنوں میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے اور علاقے میں شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔

  7. میکسیکو نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا

    میکسیکو کی پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    میکسیکو کی پارلیمنٹ نے ان ممالک کے خلاف ٹیرف کو 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے جن کے ساتھ اس کا آزادانہ تجارتی معاہدہ (FTA) نہیں ہے۔

    میکسیکو کی طرف سے یہ ٹیرف انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سمیت کئی ایشیائی ممالک کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔

    ان ممالک سے برآمدات اب میکسیکو کے لیے مہنگی ہو جائیں گی۔

    میکسیکو کے صدر کلاڈیو شین بام نے کہا ہے کہ ٹیرف میں اضافے کا یہ قدم ملکی پیداوار اور روزگار میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ میکسیکو کے اس اقدام سے انڈیا میں کام کرنے والی ووکس ویگن اور ہنڈائی جیسی آٹو کمپنیوں کی 9,000 کروڑ روپے کی کار برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

    انڈیا کی کار برآمدات کو دھچکا

    روئٹرز کے مطابق انڈیا سے برآمد ہونے والی کاروں پر ڈیوٹی 20 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گی۔ اس سے ووکس ویگن، ہنڈائی، نسان اور ماروتی سوزوکی کی برآمدات متاثر ہوں گی۔

    یہ وہ کمپنیاں ہیں جو انڈیا سے میکسیکو کو زیادہ سے زیادہ کاریں برآمد کرتی ہیں۔

    میکسیکو جنوبی افریقہ اور سعودی عرب کے بعد انڈین کاروں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

    روئٹرز کے مطابق، سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (SIAM)، جو انڈیا کی کار انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ہے، نے وزارت تجارت سے درخواست کی تھی کہ وہ میکسیکو سے انڈیا سے برآمد ہونے والی کاروں پر موجودہ ٹیرف کی شرح برقرار رکھنے کا مطالبہ کرے۔

    اطلاعات کے مطابق سیام نے یہ مطالبہ وزارت تجارت کو خط لکھ کر کیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق، مالی سال 2024-25 کے دوران، ہ انڈیا نے میکسیکو کو 5.3 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا، جس میں سے تقریباً 1 بلین ڈالر، یا 9,000 کروڑ روپے کی کاریں تھیں۔

    انڈیا سے میکسیکو کو برآمد کی جانے والی کل کاروں میں سے تقریباً 50 فیصد سکوڈا آٹو کی ہیں۔

    ہنڈائی نے 200 ملین ڈالر، نسان نے 140 ملین ڈالر اور سوزوکی نے 120 ملین ڈالر کی کاریں میکسیکو بھیجیں۔

    گزشتہ ماہ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں، کار مینوفیکچررز نے کہا کہ انڈیا سے میکسیکو بھیجی جانے والی زیادہ تر کاریں چھوٹی گاڑیاں ہیں جو خاص طور پر میکسیکن مارکیٹ کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، امریکہ کو مزید برآمد کے لیے نہیں۔

    کار کمپنیوں نے انڈین حکام کو یہ بھی بتایا کہ میکسیکو میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ مسافر گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں جن میں سے تقریباً دو تہائی درآمد کی جاتی ہیں۔

  8. بریکنگ, روس پانچ سال کے اندر نیٹو پر حملہ کر سکتا ہے: اتحاد کے سربراہ کی تنبیہ

    مارک روٹے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی فوجی اتحاد کے سربراہ نے ایک سخت نئی وارننگ میں کہا ہے کہ روس اگلے پانچ سالوں میں نیٹو کے کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔

    مارک روٹے نے جرمنی میں ایک تقریر میں کہا کہ ’روس پہلے ہی ہمارے خلاف اپنی خفیہ مہم بڑھا رہا ہے۔ ہمیں اس جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا جو ہمارے اباؤ اجداد نے برداشت کی۔‘

    انھوں نے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے روس کے ارادوں کے بارے میں بھی اسی طرح کے بیانات کی تائید کی، جنہیں ماسکو جنون قرار دیتا ہے۔

    روٹے کی وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو فروری 2022 میں شروع ہوا تھا۔ اس ماہ کے شروع میں، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ان کا ملک یورپ کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر یورپ چاہے یا جنگ شروع کرے تو وہ ’اب بھی‘ تیار ہے۔

    لیکن ماسکو نے 2022 میں بھی اسی طرح کی یقین دہانیاں دیں، بالکل اس وقت جب 200,000 روسی فوجی سرحد عبور کر کے یوکرین پر حملہ کر چکے تھے۔

    پوٹن نے یورپی ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین میں امن قائم کرنے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے حال ہی میں امریکی امن منصوبے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کا ابتدائی مسودہ روس کے حق میں سمجھا گیا تھا۔

    لیکن نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے جرمن دارالحکومت برلن میں کہا کہ پوتن مخلص نہیں تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی حمایت یورپی سلامتی کی ضمانت ہے۔

    ’ذرا تصور کریں اگر پوتن اپنی مرضی منوا لیتا تو یوکرین روسی قبضے کے جوتے تلے ہے، اس کی افواج نیٹو کے ساتھ طویل سرحد پر دباؤ ڈال رہی ہیں، اور ہمارے خلاف مسلح حملے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہے۔‘

    روس کی معیشت تین سال سے زیادہ عرصے سے جنگی حالت میں ہے اس کی فیکٹریاں ڈرون، میزائل اور توپ خانے کے گولے مزید فراہم کر رہی ہیں۔

    کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، روس ہر ماہ تقریبا 150 ٹینک، 550 انفنٹری لڑاکا گاڑیاں، 120 لینسیٹ ڈرونز اور 50 سے زائد توپیں تیار کر رہا ہے۔

    برطانیہ اور اس کے زیادہ تر مغربی اتحادی اس مقام کے قریب بھی نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ کی فیکٹریوں کو روس کی بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی پیداوار کے قریب پہنچنے میں کئی سال لگیں گے۔

    فرانس اور جرمنی دونوں نے حال ہی میں 18 سالہ نوجوانوں کے لیے رضاکارانہ فوجی خدمات کے نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

    نام نہاد ’ہائبرڈ‘ یا ’گرے زون‘ جنگ، جس میں ایسے واقعات شامل ہیں جن کی اکثر تردید کی جا سکتی ہے، جیسے سائبر حملے، غلط معلومات اور نیٹو ممالک کے ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں کے قریب مبینہ ڈرونز کا حملہ، اس سال شدت اختیار کر رہی ہے۔ لیکن جتنی تشویشناک باتیں ہیں، یہ اس بحران کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو روسی فوجی حملے سے پیدا ہوگا، خاص طور پر اگر اس میں علاقے پر قبضہ کرنا اور لوگوں کی ہلاکتیں شامل ہوں۔

    نیٹو میں30 یورپی ممالک شامل ہیں اس کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ بھی، جو اتحاد کے سب سے طاقتور فوجی رکن ہیں۔ ٹرمپ کے دباؤ میں، اس کے ارکان نے فوجی اخراجات بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

    نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’اتحادی دفاعی اخراجات اور پیداوار کو تیزی سے بڑھنا چاہیے، ہماری مسلح افواج کے پاس وہ سب کچھ ہونا چاہیے جو ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے چاہیے۔‘

  9. جنرل (ر) باجوہ نے ٹیک اوور کرنے کی دھمکی دی، فیض حمید کو فوج کا سربراہ بنانا چاہتے تھے: خواجہ آصف کا دعویٰ

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 2022 میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں ’کوئی ذاتی طور پر عاصم منیر صاحب کو جانتا نہیں تھا‘ اور ان کی ’حکومت میرٹ کو یقینی بنا رہی تھی۔‘

    جمعرات کو جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سنہ 2022 میں فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے عمل کے دوران اس وقت کے آرمی چیف ’جنرل باجوہ نے آٹھ، نو دن مزاحمت کی‘ اور ’دھمکیاں دیں کہ میں ٹیک اوور کرلوں گا، مجھے ایکسٹینشن دے دیں۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق اس دوران جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ ’کبھی لالچ کبھی دھمکی دیتے رہے۔‘

    پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے ’پہلے کوشش کی کہ فیض حمید ہی فوج کے سربراہ بن جائیں۔‘

    خواجہ آصف کے یہ دعوے ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی میں چار الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

    آئی ایس پی آر کا لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ’ملزم کے خلاف چار الزامات پر مقدمہ چلایا گیا جن میں سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی جس نے ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچایا، اپنے اختیارات اور حکومتی وسائل کا غلط استعمال اور شہریوں کو نقصان پہنچانا‘ شامل تھے۔

    لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے بی بی سی کچ بتایا کہ انھیں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایات مل چکی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’فیصلے کی کاپی اور متعلقہ ریکارڈ کے لیے درخواست ملٹری کورٹ میں دائر کریں گے اور 40 دن کے اندر اندر کورٹ آف اپیل میں اپیل فائل کرنا ضروری ہے۔‘

  10. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پاکستان کی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی، کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کورٹ مارشل کی کارروائی میں چار الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کو یہ رقم موصول ہو گئی ہے اور یہ 12 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں شامل کی جائے گی۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے بند نہ ہوئے تو وہ اپنے دفاع میں ’تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا دوسری جانب اس اجلاس میں شامل انڈین مندوب نے پاکستان پر ’تجارتی دہشتگردی‘ کا الزام لگایا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے ساحل کے نزدیک سے ایک تیل کے ٹینکر کو قبضے میں لیے جانے کے بعد وینزویلا نے امریکہ پر ’چوری‘ اور بین الاقوامی سمندروں میں ’قزاقی‘ کا الزام لگایا ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹرمپ گولڈ کارڈ‘ کے نام سے ایک فاسٹ ٹریک امریکی ویزوں کی سکیم شروع کی ہے۔ تاہم اس کو حاصل کرنے کے لیے غیر ملکیوں کو کم از کم دس لاکھ ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔