سڈنی کے ساحل بونڈائی پر ’دہشت گردی‘: حملہ آور باپ بیٹا تھے، ایک حملہ آور ہلاک دوسرا شدید زخمی، 15 عام شہری حملے میں مارے گئے: پولیس

سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں

خلاصہ

  • سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں جبکہ بچوں سمیت 42 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں
  • امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں
  • امریکی افواج کا کہنا کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مبینہ حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہو گیا ہے
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک حملے میں القسام بریگیڈ کے سینیئر رہنما رائید سعد کو ہلاک کر دیا ہے

لائیو کوریج

  1. شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو نے تین امریکی فوجی ہلاک کر دیے: امریکی افواج

    US Army

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن2015 سے امریکی افواج شام میں موجود ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کے کاروائیوں کے لیے دیگر فورسز کو تربیت فراہم کی جا سکے۔

    امریکی افواج کا کہنا کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مبینہ حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہو گیا ہے جبکہ اس حملے میں امریکی افواج کے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شام میں امریکہ کے خلاف ’داعش کا حملے پر بہت سخت جواب دیا جائے گا۔‘ صدر ٹرمپ نے کہا کہ زخمی امریکی فوجیوں کی حالت بہتر ہے۔ شام کی حکومت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

    امریکی سینٹ کام نے داعش کے حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت نہیں جاری کی ہے۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو نے گھات لگا کر حملہ کیا‘ جبکہ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اس حملے میں داعش ملوث ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے لیکن بی بی سی مانٹیرنگ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے حامی اس حملے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شام کے وسط میں پلمائراہ کے علاقے میں ہوا اور یہ شام کا وہ علاقہ ہے جہاں صدر احمد الشرع کا کنٹرول نہیں ہے۔

    شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں شام کی سکیورٹی فورسز میں شامل دو افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکہ کے سیکریٹری دفاع کا کہنا ہے کہ ’میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ دنیا میں کسی بھی جگہ پر امریکیوں کو نشانہ بنائیں گے تو چاہے آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں آپ کو فکر مند ہونا چاہیے کہ امریکہ آپ کو تلاش کرے گا اور بے رحمی سے مارے گا۔‘

    شام میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دولتِ اسلامیہ کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور ملک کے صدر احمد الشرع کے امریکہ سے تعلقات بھی بہتر ہیں۔

    گذشتہ ماہ شام کے صدر نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

    شام نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے جس کا مقصد نام نہاد اسلامک اسٹیٹ کے باقی ماندہ عناصر کو ختم کرنا اور مشرق وسطیٰ میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کو روکنا ہے

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں اس گروپ کے اب بھی 5000 سے 7000 کے درمیان جنگجو موجود ہیں۔

    2015 سے امریکی افواج شام میں موجود ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کے کاروائیوں کے لیے دیگر فورسز کو تربیت فراہم کی جا سکے۔

  2. براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ: کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی حملہ آور کی تلاش جاری

    امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد کئی گھنٹے گزر گئے ہیں لیکن حکام نے حملہ آور کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

    اس حملے میں دو افراد ہلاک اور مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ابھی تک صرف یہی معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور مرد تھا اور وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس سے قبل حکام نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ حملہ آور کی تصویر جلد جاری کریں گے۔

    براؤن یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد وہ کمیونٹی اور خاندانوں کے افراد سے رابطے کر رہے ہیں۔

    یونیورسٹی کے مطابق طالبِ علموں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انھیں تمام سہولیات میسر ہیں۔

    براؤن یونیورسٹی کی لیب میں کام کرنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ انھیں ایک ٹیکس میسج کے ذریعے پتہ چلا کہ نزدیک ہی کہیں فائرنگ ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میرے ساتھ تین اور ساتھی بھی تھے پھر ہم نے لائٹس بجھا دیں اور اپنے ڈیسک کے نیچے چھپ گئے۔

    ’مجھے اُمید تھی کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور لگا کہ یہاں ہم لیب میں محفوظ ہیں۔‘

    ایک اور طالبِ علم نے کہا کہ وہ دو گھنٹے تک ڈیسک کے نیچے چھپے رہے اور اُس کے پولیس نے آ کر ہمیں نکالا۔

  3. امریکہ کی براؤن ہونیورسٹی میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک، حملہ آور تاحال گرفتار نہ ہو سکا: حکام

    براؤن یونیورسٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے مرکزی شہر پروویڈنس کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پروویڈنس کے میئر بریٹ سمائلی کے مطابق یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد آٹھ زخمی افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اب ان کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔

    میئر بریٹ سمائلی کے مطابق فائرنگ کرنے والے مسلح شخص کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

    دوسری جانب پروویڈنس پولیس کے ڈپٹی چیف ٹم اوہارا نے مشتبہ حملہ آور کے بارے میں بتایا ہے کہ اس نے سیاہ لباس پہنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور واقعے کے بعد کسی گاڑی میں نہیں بلکہ پیدل فرار ہوا ہے۔

    ڈپٹی پولیس چیف نے مزید بتایا کہ انھیں تاحال نہیں معلوم کہ حملہ آور نے ماسک پہنا ہوا تھا یا نہیں اور ان کے پاس فائرنگ کرنے والے شخص کی کوئی تصویر نہیں ہے۔

    جب ان سے فائرنگ کے واقعے پر پولیس کے ردِ عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار براؤن یونیورسٹی کی باروس اینڈ ہولی انجینیئرنگ بلڈنگ میں داخل ہوئے اور وہاں تلاشی لی گئی لیکن انھیں وہاں مسلح حملہ آور نہیں ملا۔

    پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں فی الحال نہیں معلوم کہ یونیورسٹی میں حملے میں کونسا ہتھیار استعمال ہوا ہے۔

    پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم یہ بات جلد ہی واضح ہوگئی کہ اس شخص کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں، جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے پر وائٹ ہاؤس میں گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ہم متاثر ہونے والوں اور زخمیوں کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کے لیے ’دعا کریں‘ اور ’ہم آپ کو بعد میں آگاہ کریں گے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

  4. بلوچستان: سٹنٹ مین سلطان گولڈن نے ایک میل کا فاصلہ 57 سیکنڈز میں طے کر کے ریورس ڈرائیو 2022 کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سٹنٹ مین سلطان گولڈن

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سٹنٹ مین سلطان گولڈن نے تیز ترین ریورس ڈرائیو 2022 کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    عالمی ریکارڈ توڑنے کے لیے ریورس ڈرائیو کا مظاہرہ انھوں نے سینیچر کو کوئٹہ میں کیا۔

    پاکستان کے نجی سپورٹس چینل جیو سوپر کے مطابق سلطان محمد گولڈن نے مقررہ فاصلہ صرف 57 سیکنڈز میں طے کرکے نیا ریکارڈ بنا دیا۔ سلطان گولڈن نے تیز ترین ریورس ڈرائیو میں ایک میل کا فاصلہ 57 سیکنڈز میں طے کیا۔

    اس سے قبل طویل فاصلے تک ریورس ڈرائیو کا ریکارڈ 1 منٹ 15 سیکنڈز کا تھا۔ تیزترین ریورس ڈرائیو کا ریکارڈ امریکی سٹنٹ مین نے 2022 میں قائم کیا تھا۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سلطان گولڈن کے لیے 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق سرفراز بگٹی نے سلطان گولڈن کے لیے دو نئے عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر اس انعام کا اعلان کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سلطان گولڈن نے عالمی سطح پر بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کر دیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سلطان گولڈن کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔

  5. روس کے حملے کے بعد یوکرین میں دس لاکھ گھر بجلی سے محروم

    روس کے حملے کے بعد یوکرین میں دس لاکھ گھر بجلی سے محروم

    ،تصویر کا ذریعہState Emergency Service Of Ukraine

    یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ رات گئے روسی فوج کے حملوں کی وجہ سے توانائی اور صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث اس وقت ایک ملین (دس لاکھ) سے زیادہ گھرانے بجلی سے محروم ہیں۔

    سنیچر کے روز یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے رات بھر کے حملوں میں 450 سے زیادہ ڈرون اور 30 ​​میزائل استعمال کیے ہیں۔

    یوکرین کے داخلی امور کے وزیر ایہور کلیمینکو کے بیان کے مطابق روسی حملوں سے پانچ علاقے متاثر ہوئے اور کم از کم پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ان کے مطابق آگ بجھانے اور رسد کی بحالی کے لیے امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    ادھر روس کی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں ہائپرسونک میزائلوں سمیت ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جن کا سراغ لگانا مشکل ہے کیونکہ وہ درمیانی پرواز کی سمت بدل سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملے پوری جنگ کے دوران عام رہے ہیں تاہم موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی روس کی جانب سے حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس ہفتے کے آخر تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کی جرمنی میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے جنگ کے خاتمے پر مزید بات چیت کے لیے ملاقات طے ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان وائٹ ہاؤس کی ثالثی کی کوششوں کی قیادت کرنے والے سٹیووٹکوف برلن میں مجوزہ امن معاہدے کے تازہ ترین ورژن پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ برلن مذاکرات میں کون سے یورپی رہنما شریک ہوں گے۔

  6. عمران خان کو اقتدار میں لانا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے نگران جنرل فیض حمید رہے: خواجہ آصف کا دعویٰ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں لانا ایک منظم منصوبے کا حصہ تھا، جس کا آغاز ایک دہائی قبل ہوا اور جس پر عمل درآمد جنرل (ر) فیض حمید کی نگرانی میں کیا گیا۔

    سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سیاسی اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے نمایاں ترقی کی، تاہم انھیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سپریم کورٹ میں مقدمات کے ذریعے نااہل اور بعد ازاں قید کی سزا دی گئی۔

    خواجہ آصف نے دعویٰ کیا 2018 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا، جبکہ اس عمل کی نگرانی اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید اس حکومت کے سب سے طاقتور کردار بن کر ابھرے اور عمران خان کے چار سالہ دور میں ہونے والی معاشی اور سیاسی تباہی کے دونوں ذمہ دار ہیں۔

    وفاقی وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ اس دور میں سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو عملی طور پر ایک ماتحت ادارہ بنا دیا گیا اور اہم فیصلے منتخب اداروں کے بجائے پس پردہ کیے جاتے رہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس سمیت دیگر سنگین الزامات موجود ہیں، جنھیں پاکستان کی تاریخ کے شرمناک ابواب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق میاں نواز شریف، ان کے اہلِ خانہ، پارٹی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما تھی جس کا فائدہ براہِ راست عمران خان کو پہنچا۔

    نو مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بھی اسی منصوبے کا تسلسل تھی، جبکہ مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں میں افرادی قوت پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فراہم کی۔

    وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر عمران خان اور جنرل فیض حمید کا گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں پاکستان نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا اور عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا۔

    انھوں نے زور دیا کہ ملک دشمن عناصر کا احتساب ناگزیر ہے اور یہ عمل یہیں ختم نہیں ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جو افراد اپنے ذاتی مفادات کے لیے ریاستی اداروں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں، انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

    سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے انڈیا اور افغانستان میں موجود عناصر ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی عناصر طالبان سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز اور شہری دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر طالبان کی مالی معاونت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی ایک وجہ صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تاہم سول اور عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے ملک کو دوبارہ مستحکم کیا جا رہا ہے۔

  7. پاکستانی حکام کی تاجروں کو چمن بارڈر پر پھنسے ٹرکوں اور مال کی حفاظت کی یقین دہانی

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحد کی بندش کی وجہ سے بلوچستان کے شہر چمن میں پھنسی گاڑیوں اور ان میں موجود مال کے تحفظ کے حوالے سے تاجروں کے نمائندوں نے مقامی حکام سے ملاقات کی ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق، ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور کسٹمز حکام سے ملاقات کرنے والے وفد میں چیئرمین بونڈڈ کیریئر شمس برنی اور کراچی ٹرانزٹ ٹریڈ کے نمائندے شامل تھے۔

    خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے دیگر سرحدی گزرگاہوں کی طرح چمن سرحد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے علاوہ ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

    سرحد کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں مال سے لدی گاڑیاں پاکستان کی سرحد کی جانب پھنسی ہوئی ہیں۔

    سرکاری اعلامیہ کے مطابق، ملاقات میں پاک افغان سرحدی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر ضلعی حکام اور ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز ارشد زبیر نے سرحد کی بندش سے گاڑیوں میں لوڈ مال کی سیفٹی اور سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

    اعلامیہ کے مطابق، ڈی سی چمن اور کسٹمز حکام نے ٹرانزٹ ٹریڈ یونین کے نمائندوں اور ٹرک مالکان کو ہر قسم کی مدد اور تعاون کا یقین دلایا۔

    حکام کا کہنا تھا کہ کہ ٹرکوں اور مال کی ہر قسم کی سیفٹی اور سکیورٹی کیلئے تمام حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تمام متعلقہ ادارے مل کر آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کریں گے اور تاجروں کے مسائل کا حل نکالیں گے۔

    اعلامیہ کے مطابق، ٹرانزٹ ٹریڈ یونین اور ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالکان کو پاک افغان سرحد اور چمن ماسٹر پلان کا معائنہ کرایا گیا۔

    ‎ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالکان کو سکیورٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

  8. دو بچوں سمیت 11 پاکستانی ماہی گیر انڈیا کی حراست میں: ’ظہیر ضد کر کے اپنے چچا کے ساتھ گیا تھا، سکول سے چھٹی تھی اس لیے جانے دیا‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کشتی ماہی گیر

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

    انڈین حکام نے بحیرہ عرب سے پاکستان کے 11 ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں دو نو عمر بچے بھی شامل ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق، انڈین کوسٹ گارڈز نے 10 دسمبر کو 11 پاکستانی ماہی گیروں کو حراست میں لیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ انڈین سمندری حدود کے اندر داخل ہوئے تھے۔

    کراچی میں ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کام کرنے والے سماجی کارکن کمال شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر یہ خبر اور تصویر دیکھنے کے بعد انھوں نے کشتی کے ناخدا (کپتان) حسین ناکو کو پہچانا اور اس کی تصدیق کے لیے جب گبول محلے میں ان کے خاندان سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ انڈیا کی جانب سے پکڑی جانے والی کشتی ان کے خاندان کی ہے۔

    گرفتار ہونے والوں میں 52 سالہ شفیع محمد ٹنڈیل، 52 سالہ ابراہیم،31 سالہ غلام مصطفیٰ، 32 سالہ سومر، 15 سالہ حبیب، 35 سالہ سلطان احمد، 51 سالہ سومو، 24 سالہ سرفراز، 25 سالہ مہتاب، 12 سالہ ظہیر اور 56 سالہ حسین شامل ہیں۔

    گرفتار ہونے والے 12 سالہ ظہیر کی والدہ سلطانہ نے بتایا کہ جمعہ کے روز وہ ضد کر کے اپنے چچا کے ساتھ گیا تھا، وہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور والد انتقال کر چکے ہیں۔ والدہ کے مطابق، سکول سے چھٹی تھی اسی لیے انھوں نے ظہیر کو جانے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ یہ حادثہ ہو جائے گا۔

    فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کی چیئرپرسن فاطمہ مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی انھیں اس بارے میں علم ہوا جس کے بعد وہ متعلقہ محکموں سے رابطہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی قانون کے تحت ماہی گیروں کو صرف چیکنگ کے بعد رہا کر دینا چاہیے مگر سرحدی کشیدگی کی وجہ سے وہ اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ رواں سال اکتوبر میں انڈیا نے 55 ماہی گیروں کو رہا کیا تھا جو کئی سالوں سے انڈیا کی جیلوں میں قید تھے۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے فروری میں 22 ماہی گیروں کو رہا کیا گیا تھا۔

    ماہی گیر

    ،تصویر کا ذریعہkamal shah

  9. ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد 50 فیصد ٹیرف ختم کرنے کے حق میں امریکی کانگریس میں قرارداد پیش

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد ٹیرف کو ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔

    یہ قرارداد کانگریس کے ارکان راجہ کرشنامورتی، ڈیبورا روز اور مارک وی سی کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

    اس قرارداد کا مقصد ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو ختم کرنا اور تجارت پر امریکی کانگریس کے آئینی اختیار کو بحال کرنا بتایا گیا ہے۔

    راجہ کرشنامورتی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انڈیا کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ ٹیرف کی حکمت عملی ایک اہم شراکت داری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    ’امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کے بجائے، یہ ٹیرف سپلائی چین میں خلل ڈالتے ہیں، امریکی ورکروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور صارفین کے لیے لاگت میں اضافہ کرتے ہیں۔‘

    دوسری جانب مارک وی سی کا کہنا ہے انڈیا ایک اہم اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر ہے اور یہ غیر قانونی ٹیرف عام لوگوں پر ایک طرح کا ٹیکس ہیں۔

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں سال انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر، انھوں نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا لیکن اگست میں، روس سے تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے انڈیا پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا تھا۔

    انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے تاہم اب تک مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

  10. ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلان کے باوجود تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جھرپیں جاری

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جھرپیں جاری

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی پر رضامندی کے بیان کے بعد بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سنیچر کی صبح لڑائی جاری رہی۔

    تھائی وزیر اعظم انوتین چرنویراکول کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ جنگ بندی تب ہی ممکن ہو گی جب کمبوڈیا اپنی تمام افواج واپس بلا لے اور بارودی سرنگیں ہٹا دے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ اس وقت تک فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک وہ اپنی سرزمین اور لوگوں کی حفاظت یقینی نہ بنا لے۔ ’آج صبح کے ہمارے اقدامات اس کا واضح اعلان ہیں۔‘

    تھائی افواج کی جانب سے متعدد مقامات پر قبضے کے لیے رات بھر گولہ باری کی گئی۔

    تازہ ترین لڑائی میں اب تک کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مجموعی طور پر دونوں طرف کے سات لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے اعظم جنگ بند کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

    جمعہ کے روز سوشل میڈِیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ کے ساتھ فون پر بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے تمام جارحیت روکنے اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی مدد سے میرے اور تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان طے پائے گئے امن معاہدے پر لوٹنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سڑک کنارے نصب بم جس کے نتیجے میں متعدد تھائی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے دراصل ایک حادثہ تھا تاہم تھائی لینڈ نے اس کے باوجود بہت سخت جوابی کارروائی کی۔

    ’دونوں ممالک امن اور امریکہ کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  11. یوکرین امن منصوبہ: امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کی رواں ہفتے جرمنی میں زیلنسکی، یورپی رہنماؤں سے ملاقات طے

    سٹیو وٹکوف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اس ہفتے کے آخر میں جرمنی جائیں گے جہاں وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تازہ ترین دور میں حصہ لیں گے۔

    سٹیو وٹکوف یوکرین اور روس کے درمیان وائٹ ہاؤس کی ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کرسمس تک ایک معاہدے پر پہنچنے زور دے رہی ہے۔

    یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں یوکرینی اور روسی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں تاہم اس میں کسی پیش رفت کے امکانات بہت کم ہیں۔

    فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ برلن میں ہونے والے مذاکرات میں کون سے یورپی رہنما شریک ہوں گے۔

    اس بارے میں امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے خبر دی تھی۔ وال سٹریٹ کی خبر کے مطابق، برطانیہ کے وزیراعظم سر کیر اسٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوان اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز شرکت کریں گے۔

    وِٹکوف اور زیلینسکی کی ملاقات کی تصدیق یوکرین کی جانب سے امریکی 20 نکاتی امن منصوبے کا نظرثانی شدہ ورژن دینے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔

  12. اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کا پاکستانی حکومت سے عمران خان کی ’قیدِ تنہائی‘ فوری ختم کرنے کا مطالبہ

    عنران خان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے وہ غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

    جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ حراست کے دوران غیر انسانی اور ناروا سلوک کی خبروں کے متعلق فوری اور موثر کارروائی کرے۔

    ’میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ [عمران] خان کی نظر بندی پوری طرح سے بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہو۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں عمران خان کی قانونی ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کے خلاف اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے سے رجوع کیا تھا۔

    اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خصوصی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انھیں دن میں 23 گھنٹے ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے سیل کی مبینہ طور پر کیمرے سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت طویل یا غیر معینہ قید تنہائی ممنوع ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’بنا کسی تاخیر کے [عمران] خان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔‘

    اس متعلق حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماضی میں بارہا حکومتی نمائندوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ عمران خان کو جیل میں دوسرے قیدیوں کی نسبت کہیں زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں تقریباً ایک مہینے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ملاقات منگل ان کی بہن عظمیٰ خان سے کروائی گئی جس کے بعد صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ’صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے، مگر وہ بہت غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ انھیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    عظمیٰ خان کے مطابق ان کی عمران خان سے ملاقات 20 منٹ پر محیط تھی اور انھیں ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ انھیں ’پورا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے، صرف تھوڑی دیر کمرے سے نکلنے دیا جاتا ہے۔‘

  13. تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے اعظم جنگ بند کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

    جمعہ کے روز سوشل میڈِیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ کے ساتھ فون پر بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے تمام جارحیت روکنے اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی مدد سے میرے اور تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان طے پائے گئے امن معاہدے پر لوٹنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    یاد رہے کہ اکتوبر کے اواخر میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے ایک مشترکہ ’امن معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشدیگی ختم ہو گئی تھی۔

    تاہم گزشتہ کئی روز سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر سے مسلح جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

    جمعہ کے روز جاری پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سڑک کنارے نصب بم جس کے نتیجے میں متعدد تھائی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے دراصل ایک حادثہ تھا تاہم تھائی لینڈ نے اس کے باوجود بہت سخت جوابی کارروائی کی۔

    ’دونوں ممالک امن اور امریکہ کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    خیال رہے کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کمبوڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ اور تھائی لینڈ کے ساتھ نایاب معدنیات کا معاہدہ کیا تھا۔

    اُس وقت ان کا کہنا تھا کہ جب تک کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان امن قائم رہے گا، امریکہ ان کے ساتھ بہت ساری لین دین کرے گا۔

  14. امن کا نوبیل انعام جیتنے والی نرگس محمدی کو ایران میں ’پُرتشدد طریقے سے گرفتار‘ کرلیا گیا، شوہر کی تصدیق, آندرے روڈن پال، بی بی سی نیوز

    نرگس محمدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنہ 2023 میں امن کا نوبیل انعام جیتنے والی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن نرگس محمدی کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے ’پُرتشدد طریقے سے گرفتار‘ کر لیا ہے۔

    ان کی نرگس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ 53 سالہ نرگس کو ایران کے مشرقی شہر مشہد میں دیگر کارکنان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا ہے۔

    نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ انھیں ’آج نرگس محمدی کی ظالمانہ گرفتاری پر تشویش‘ ہے اور وہ ایرانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ’یہ واضح کریں کہ نرگس محمدی کہاں ہیں، ان کی حفاظت و تکریم کو یقینی بنائیں اور بغیر کوئی شرائط رکھے انھیں رہا کریں۔‘

    ایران نے اس معاملے پر بظاہر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    نرگس محمدی کو سنہ 2023 میں ایران میں خواتین کے استحصال کے خلاف ان کے کاموں اور انسانی حقوق کو فروغ دینے پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

    نرگس محمدی سنہ 2021 سے تہران کی بدنامِ زمانہ ایوین جیل میں قید تھیں اور انھیں دسمبر 2024 میں طبّی بنیادوں پر تین ہفتوں کے لیے عارضی رہائی ملی تھی۔

    اطلاعات کے مطابق ان کی تازہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب انھوں نے خسرو علی کُردی نامی وکیل کی ایک میموریل تقریب میں شرکت کی تھی۔ خسرو گذشتہ ہفتے اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے تھے۔

    ناروے میں موجود ایران ہیومن رائٹس گروپ نے ان کی موت کی وجہ جاننے کے لیے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ خسرو کی موت ’مشکوک‘ صورتحال میں ہوئی ہے۔

    نرگس محمدی کے ساتھ اس میموریل تقریب میں موجود متعدد دیگر کارکنان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق انھوں نے ’آمر مردہ باد‘ اور ’ایران زندہ باد‘ جیسے نعرے لگائے تھے۔

    نرگس محمدی کے شوہر تقی رحمانی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’انھوں نے نرگس کو پُرتشدد طریقے سے گرفتار کیا۔ وکیل کے بھائی نے میموریل کے دوران ان کی گرفتاری دیکھی تھی۔‘

    ’یہ عمل انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف ہے اور ایک قسم کا انتقام ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مشہد میں آج جو ہوا وہ تشویشناک ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں اسٹیبلمشنٹ کے کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے۔‘

    نرگس محمدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نرگس محمدی نے حالیہ دنوں میں جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہونے کے بعد ایرانی حکام پر استحصال میں شدت لانے کا الزام عائد کیا تھا۔

    گذشتہ ہفتے انھوں نے ٹائم میگزین میں لکھا تھا کہ ایرانی ریاست ان کی ذاتی اور عوامی زندگیوں کے ہر پہلو کو کنٹرول کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ان کا ’امن سرویلنس، سینسرشپ، گرفتاری، تشدد اور تشدد کے مسلسل خطرے کے سبب تباہ ہو گیا ہے۔‘

    انھوں نے نوبیل کمیٹی کو بتایا تھا کہ انھیں ’حکومتی ایجنٹس‘ کی طرف سے متعدد ذرائع اور وکیلوں کے ذریعے وارننگز بھی موصول ہوئی ہیں۔

    نوبیل کمیٹی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ’جو دھمکیاں نرگس محمد کو پہنچائی گئی تھیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وہ ایران میں عوامی رابطے، بین الاقوامی ایکٹوازم اور میڈیا پر جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی حمایت بند نہیں کرتیں تو ان کی حفاظت کو خطرہ ہی لاحق رہے گا۔‘

    گذشتہ ایک برس میں نرگس محمدی نے اپنی مزاحمت جاری رکھی ہوئی تھی، سر پر سکارف پہننے سے انکار کیا تھا اور وہ پورے ملک میں ساتھی کارکنان سے ملاقاتیں کر رہی تھیں۔

    نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق امن کا نوبیل انعام جیتنے والی خواتین کے حقوق کی کارکن اپنی زندگی میں 13 مرتبہ گرفتار ہو چکی ہیں اور انھیں مجموعی طور پر 36 برسوں کی قید اور 154 کوڑے مارنے کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

  15. غزہ میں طوفانی بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم، وزارت صحت کا 12 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ, باربرا اور جیکولین، بی بی سی ویریفائی

    غزہ میں طوفانی بارشیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں موسم سرما میں ہونے والی طوفانی بارشوں سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ خیموں میں مقیم افراد کا نظام زندگی بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔

    بی بی سی ویری فائی نے غزہ میں موسمِ سرما میں آنے والے طوفانوں کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    اس کے لیے ایک خاص قسم کی سیٹلائٹ تصاویر استعمال کیں جنھیں سینتھیٹک اپرچرریڈار یعنی سار (Synthetic Aperture Radar) کہا جاتا ہےاور اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملی ہے کہ جنوبی غزہ کے کون سے علاقے ممکنہ طور پر طوفانی بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔

    یہ ریڈار پانی کی موجودگی کو خاص طور پر مؤثر انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اُس وقت بھی فائدہ مند ہوتی ہے جب بادل بہت زیادہ ہوں، کیونکہ ریڈار بادلوں کو چیر کر بغیر ڈیٹا جمع کر لیتا ہے۔

    نیچے دیے گئے نقشے میں ان علاقوں کو نیلے رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے۔

    غزہ میں طوفانی بارشوں کی سٹیلائٹ تصاویر

    موسم سرما کی ان شدید بارشوں کے باعث جنگ زدہ علاقے میں بے گھر یا خیمے میں مقیم افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بزرگ افراد اور بچے سردی اور بارش سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

  16. این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں بلکہ حق ہے: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں بلکہ حق ہے۔ گلگت بلتستان اور (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیے جانے چاہئیں۔

    یہ بات انھوں نے لاہور میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں کہی۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم سے کہوں گا کہ جی بی ،آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیے جائیں۔‘

    پاکستان زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے میرٹ کا نفاذ بہت ضروری ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں آئندہ سال جولائی میں عام انتخابات ہونے ہیں۔

    نواز شریف کا دعویٰ تھا کہ ’پاکستان کے قومی الیکشن ہوں یا کسی صوبے کے ہم نے میرٹ پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، پرانے ساتھیوں کو میرٹ پرٹکٹ دیا جائے۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’ہم نے صوبوں میں جو سرمایہ کاری کی ہے اس کے مقابلے میں این ایف سی ایوارڈ بھی پیچھے رہ جائے گا۔‘

    صوبہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بار کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ستھرا پنجاب منصوبے نے پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنا دیا ہے، پنجاب میں امن و امان کا معاملہ بھی بہت بہتر ہے، پنجاب بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔‘

  17. پاکستان اور بائنانس کے درمیان سرکاری اثاثوں میں بلاک چین کے استعمال کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان اور عالمی ڈیجیٹل کرنسی کمپنی بائنانس نے آج ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

    پاکستان اور عالمی ڈیجیٹل کرنسی کمپنی بائنانس نے آج ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے سرکاری مالیاتی اثاثوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے کام کیا جا سکے گا۔

    وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور بائنانس کے سربراہ رچرڈ ٹینگ کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت پاکستان اور بائنانس مل کر یہ جائزہ لیں گے کہ ملک کے کچھ سرکاری اثاثے جیسے سرکاری بانڈز، ٹریژری بلز اور حکومتی ذخائر کو جدید بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ شفاف اور بہتر انداز میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کی سرمایہ کاری تک رسائی بڑھانا اور مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

    مفاہمتی یادداشت سے آگے اس منصوبے پر کسی حتمی فیصلے کے لیے قانونی منظوری درکار ہو گی کیونکہ ان اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

    اس مفاہمتی یادداشت کے تحت بائنانس پاکستان کو تکنیکی مدد، تربیت اور مشاورت فراہم کرے گی تاکہ حکومت اس ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور اس کے ممکنہ فوائد کا اندازہ لگا سکے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کے سفر میں ایک اہم قدم ہے۔

    ان کے مطابق حکومت اب اس منصوبے پر تیزی سے عملی پیش رفت چاہتی ہے۔

    بائنانس کے بانی سی زیڈ نے اس معاہدے کو پاکستان کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے نوجوانوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

    وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی یادداشت ہے، جس کا مقصد تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ کسی بھی حتمی معاہدے پر آئندہ چھ ماہ میں بات چیت ہوگی اور اس پر پاکستان کے قوانین کا اطلاق ہوگا۔

  18. شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات، ’پاکستان کے سیکورٹی خدشات دور کرنے کے لیے افغان حکومت بامعنی کارروائی کرے‘

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات میں علامی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کے دوران زور دیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان کے سنگین سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے افغانستان حکومت بامعنی کارروائی کرے۔

    اشک آباد میں تقریب کے دوران ہونے والی دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران رواں سال بیرونی جارحیت کے سامنا کرنے کے وقت ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کو سراہا۔

    وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد-بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں فریقین کے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ایرانی صدرپیزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو ان کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی کے لیے تہہ دل سے تہنیتی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  19. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں تقریباً 1300 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں تقریباً 1300 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 169864 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری اور وصولی کے بعد مثبت رجحان دیکھا گیا ہے اور اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کے منیجمنٹ پلان کے تحت تیل و گیس شعبے کی کمپنیوں کو پیسوں کی ادائیگی سے مارکیٹ مین تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط کی منظوری اور اس کی وصولی نے مارکیٹ پر مثبت اثر مرتب کیا۔

    ان کے مطابق ’اس کے ساتھ حکومت نے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے تحت پیسوں کی ادائیگی شروع کی ہے جس سے تیل و گیس شعبے کی کمپنیوں کے حصص میں خریداری ریکارڈ کی گئی ہے۔‘

    شہر یار بٹ کے مطابق ’کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے آئندہ کے مالیاتی نتائج میں اچھا منافع دے سکتی ہیں۔‘

  20. افغان طالبان رجیم اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں روکے: شہباز شریف کا عالمی برادری سے مطالبہ

    وزیراعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم پر زوردیا جائے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کروائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

    انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ’دہشت گرد ی کا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے۔‘ان کے مطابق ’اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرے اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو روکے۔‘

    یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے پیچھے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کا الزام عائد کیا ہوتاہم دوسری جانب افغانستان ہمیشہ پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ شہباز شریف ترکمانستان میں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی30 سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے دو روزہ دورے پر وہاں موجود ہیں۔

    شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کو دنیا کے لیے بڑے چیلنجز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک سب کے لیے منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات بڑھانے پر زور

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اشک آباد میں کانفرنس کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی، گہرے اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم نے اس سال کے دوران پاکستان اور ترکی کی قیادت کے مابین مسلسل روابط پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاعی اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں ترکی کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    اس حوالے سے انہوں نے پاک ترک جے ایم سی کے 16ویں اجلاس کے انعقاد پر بھی خوشی کا اظہار کیا جو ساتویں اعلیٰ سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔

    وزیر اعظم نے توانائی، پیٹرولیم اور معدنیات کے شعبوں میں ترکی کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر بروقت عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔