ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے۔
جمعہ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معاملات طے نہ پائے تو ہم مختلف طریقہ کار اپنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم ملتوی کیا ہے تاہم اگر معاملات حل نہ ہوئے تو اسے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اب کی بار پراجیکٹ فریڈم پلس ہو گا۔ ’پراجیکٹ فریڈم کے ساتھ دیگر چیزیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں کیا انھیں لگتا ہے کہ ایران جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جلد ہی پتہ لگ جائے گا۔‘
یاد رہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ نامی اس کارروائی کا اعلان امریکی صدر نے اتوار کو کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خلیج میں پھنسے جہاز رانوں کی مدد کے لیے ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت اٹھایا جانے والا قدم ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا تھا کہ یہ علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے ’انتہائی ضروری‘ ہے۔
منگل کے روز ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
اسی روز بعد میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی ’قلیل وقت کے لیے‘ معطل کر دی جائے گی اور کہا کہ یہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ہونے والی ’بڑی پیش رفت‘ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق خلیج میں 1550 تجارتی جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران پھنسے ہوئے ہیں۔















