ایران کا جواب مکمل طور پر نا قابل قبول ہے: امریکی صدر ٹرمپ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔
خلاصہ
ایران نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ’جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کی تازہ مجوزہ دستاویز' پر اپنا جواب آج پاکستان کے ذریعے بھیج دیا ہے‘
بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے میں 15 اہلکار ہلاک، تین کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا
مئی 2025 کی لڑائی کے بعد انڈیا نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دعویٰ
ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا: ولادیمیر پوتن
لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 39 افراد ہلاک: وزارت صحت
بحرین کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ
برطانیہ نے اپنا جنگی بحری جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا
قطری وزیرِ اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور
لائیو کوریج
خیبر پختونخوا پولیس کی فتح خیل چوکی پر حملے میں اب تک پانچ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ضلع بنوں کی چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
بنوں کے رینجل پولیس آفسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے دو اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ریسکیو و سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سجاد خان نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر 15 اہلکار تعینات تھے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان کا تعین آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔
روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی اور انھوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فتح خیل چوکی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے۔
ایرانی پولیس کا جنگ کے آغاز سے اب تک 185 میزائل ناکارہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی پولیس (فرجا) کے ترجمان سعید منتظرالمہدی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی پولیس نے مختلف نوعیت کے 185 میزائل ناکارہ بنائے ہیں۔
منتظرالمہدی نے بتایا کہ شہروں اور دیہات میں زیرِ زمین یا نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے عمل کے دوران فرجا فورسز نے ایم کے 84 میزائلوں کے علاوہ ٹوما ہاک، کروز اور سپائک میزائلوں کی مختلف اقسام اور ہرمیز ڈرونز کو ناکارہ بنانے اور محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا: ولادیمیر پوتن
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران تنازع جلد ختم ہو جائے گا، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
سنیچر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پوتن کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے اور یہ ہمیں ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال دیتا ہے، کیونکہ ایران اور خلیجِ فارس کے ممالک کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔‘
ایران اور امریکہ کے ساتھ جاری رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا، ’میری رائے میں کوئی بھی فریق اس تنازع کو جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔‘
اس سے قبل روس کہہ چکا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں روس کے دورے کے دوران مسٹر پوتن سے ملاقات کی تھی۔
بنوں کی چوکی فتح خیل پر حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک
صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے مطابق بنوں کی چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے
حملے میں کم از کم تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنوں کے رینجل پولیس آفسر سجاد خان نے تین
ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہاں ڈیوٹی پر 15 اہلکار تعینات تھے اور
مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان کا تعین آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔
روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی
مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی اور انھوں نے عمارت میں داخل ہونے
کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 39 افراد ہلاک: وزارت صحت
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق شدید اسرائیلی حملوں کے ایک اور دن میں 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق جنوبی قصبے سکسکیہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہے اور وہ ’غیر متعلقہ شہریوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سے آگاہ‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی افواج اور حزب اللہ ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے زیادہ تر فضائی حملے جنوبی لبنان میں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ سے منسلک انفراسٹرکچر اور افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔
سنیچر کے روز لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی جن میں سکسکیہ بھی شامل ہے۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک لڑکی شامل ہے اور 15 افراد زخمی ہوئے جن میں تین بچے شامل ہیں۔
تاہم آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے علاقے میں ’فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈھانچے کے اندر سرگرم حزب اللہ کے جنگجوؤں‘ کو نشانہ بنایا۔
فوج کے بیان کے مطابق حملے سے قبل شہریوں کو نقصان کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے جن میں درست نشانہ بنانے والا اسلحہ اور فضائی نگرانی شامل تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا کہ نبطیہ میں ایک موٹرسائیکل پر اسرائیلی حملے میں ’ایک شامی شہری اور اس کی 12 سالہ بیٹی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق وہ پہلے حملے کی جگہ سے ہٹنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن ڈرون نے دوسری بار حملہ کیا جس میں والد ہلاک ہوئے، اس کے بعد ڈرون نے تیسری بار ’براہ راست‘ لڑکی کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ لڑکی کی جان بچانے کے لیے سرجری کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ڈرون حملہ کیا جس میں اسرائیلی فوج کے مطابق تین فوجی زخمی ہوئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم وزارتِ صحت ان میں جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں کرتی۔
اسرائیلی فوج لبنان کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک پٹی پر بھی قابض ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ سے پاک ایک سکیورٹی زون بنانا ہے تاکہ اسرائیل کے شمالی علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ان علاقوں میں کئی دیہات تباہ ہو چکے ہیں، جن کی مثال اسرائیلی فوج کے غزہ میں اختیار کیے گئے اقدامات سے ملتی جلتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
ادھر حزب اللہ نے لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی دستوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ اس نے سنیچر کو اسرائیلی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔
اسرائیل اور حزب اللہ نے نومبر 2024 میں ایک سابقہ تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے حزب اللہ سے منسلک اہداف اور افراد پر تقریباً روزانہ حملے کیے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے 2 مارچ کو جوابی طور پر اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی افواج مارچ کے اوائل میں دوبارہ جنوبی لبنان میں داخل ہوئیں جہاں گس نے دیہات تباہ کیے اور اب بھی 10 کلومیٹر لبنانی علاقے پر قابض ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اب تک لبنان میں مجموعی طور پر 2 ہزار 795 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں 17 فوجی اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شمالی اسرائیل میں دو شہری مارے گئے ہیں۔
بریکنگ, بنوں میں چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع بنوں میں واقع چوکی فتح خیل پر شدت
پسندوں کے ایک حملے میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
بنوں کے ریجنل پولیس آفس (آر پی او) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق حملے
کے بعد ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان کی
قیادت میں سکیورٹی آپریشن کیا گیا۔ ’پولیس کے مزید دستے موقع پر پہنچ گئے تھے جبکہ
علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ صورتحال مکمل
طور پر کنٹرول میں ہے اور علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو پولیس اہلکار کو باحفاظت زندہ
بازیاب کیا گیا جبکہ دو پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
مقامی لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دھماکے سے چوکی کی عمارت
کا بڑا حصہ منہدم ہوا ہے جبکہ قریبی مکانات
کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق کالعدم تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس حملے کی
ذمہ داری قبول کی ہے مگر تاحال پولیس حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آور چوکی کے اندر
داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور اس دوران فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔
گوادر میں ایرانی تیل کیوں مہنگا ہو گیا؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی اور ساحلی ضلع گوادر میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
گوادر میں تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ حکومت پاکستان کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں گذشتہ روز کیے جانے والے اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ سرحدی علاقے کنٹانی ہور پر کاروبار کی بندش کی وجہ سے ہوا ہے۔
مکران ڈویژن میں سرکاری حکام نے کنٹانی ہور کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے وفاقی اتھارٹیز نے بند کیا ہے۔
کنٹانی ہور کو کیوں بند کیا گیا؟
سنیچر کو سوشل میڈیا پر کنٹانی ہور کی بندش کے حوالے سے کوسٹ گارڈز کا ایک بیان گردش کرنے لگا تھا۔
جب اس سلسلے میں مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کنٹانی ہور کے علاقے کو ہر قسم کے کاروبار کے لیے بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پابندی کوسٹ گارڈز کی جانب سے لگائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی جمعے کے روز گوادر کے سرحدی علاقے جیونی میں ہونے والے حملے کے بعد لگائی گئی جس میں کوسٹ گارڈ کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔ انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے یہ حملہ جیونی کے علاقے میں سمندر میں کیا گیا تھا۔
گذشتہ چار ہفتوں کے دوران گوادر میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل اپریل کے دوسرے ہفتے میں اسی طرح کے ایک حملے میں کوسٹ گارڈز کے تین اہلکار مارے گئے تھے۔
اپریل میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
’گوادر میں ایرانی تیل کنٹانی ہور کے علاقے سے آتا ہے‘
گوادر سمیت بلوچستان کے تمام سرحدی اضلاع اور ان سے متصل دیگر سرحدی علاقوں میں پاکستانی تیل کمپنیوں کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں تیل کے لیے نہ صرف عام لوگوں بلکہ خود سرکاری اداروں کا بھی انحصار ایرانی تیل پر ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایران سے متصل جیونی کے علاقے میں واقع کنٹانی ہور کے علاقے سے سمندر کے راستے ایرانی تیل گوادر میں آتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گوادر میں ماہی گیروں سمیت تمام طبقات کی اکثریت کی معاش اور روزگار کا انحصار ایرانی تیل پر ہے۔
گوادر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ ماجد اصغر نے فون پر بتایا کہ کنٹانی ہور کی بندش کے باعث سنیچر کے روز ایرانی تیل کی قیمتوں میں 30 سے 40 روپے کا اضافہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے گوادر میں ایرانی پیٹرول فی لیٹر 170 روپے سے 180 روپے میں فروخت ہو رہا تھا لیکن کنٹانی ہور کی بندش کی اطلاعات کے بعد سنیچر کے روز فی لیٹر قیمت 200 روپے سے 210 روپے تک پہنچ گئی۔
انڈیا کے ساتھ چار روزہ لڑائی کا ایک برس مکمل ہونے پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے بیانات، تنازع کشمیر کے حل پر زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ لڑائی کا ایک برس مکمل ہونے پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی جانب سے بیانات جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان نے اس لڑائی کو ’معرکہ حق‘ کا نام دیا تھا، اس مناسبت سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن بامعنی مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کسی بھی جارحیت کا فوری، موزوں اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہم اپنی سرحدوں پر حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم اور چوکس ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوئی کہانی کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہے، جو برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں استحکام ایک خواب ہی رہے گا جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کشمیریوں کے بنیادی حق آزادی اور حق خود ارادیت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی ’معرکہ حق‘ کا ایک برس مکمل ہونے پر اپنے بیان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی قوم کو مبارکباد دی ہے۔
برطانیہ نے اپنا جنگی بحری جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ رائل نیوی کے ڈسٹرائر ایچ ایم ایس ڈریگن کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جائے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدام تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کے بین الاقوامی مشن کا حصہ ہو سکتا ہے۔
یہ ڈسٹرائر ایک ایسے وقت میں خطے کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے جب حالیہ کشیدگی کے باعث یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے بارے میں خیالات پیش کیے ہیں۔
یورپی ممالک نے اس مشن میں اپنی شمولیت کو جنگ کے خاتمے تک ملتوی کر دیا ہے۔
ورلڈ کپ میں لازمی طور پر شرکت کریں گے، مگر ہمارے خدشات کا مدنظر رکھنا چاہیے: ایرانی فٹبال فیڈریشن
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی ٹیم آئندہ ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں لازمی شرکت کرے گی، تاہم ’میزبان ملک کو ہمارے خدشات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیڈریشن نے زور دیا کہ ’ایران کی شرکت یقینی ہے اور کوئی بیرونی دباؤ اسے روک نہیں سکتا، جبکہ میزبان ملک کو ایرانی خدشات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔‘
فیڈریشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران اپنے عقائد اور ثقافت کی پاسداری کرتے ہوئے ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گا۔‘
فیڈریشن کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی جنگ فٹبال کے میدان کے اندر ہے، میزبان ملک کو تنازعات کو دوسرے میدانوں میں منتقل کرنے کی کوشش سے باز رہنا چاہیے۔
خیال رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 آئندہ ماہ سے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے دوران مارچ میں کہا تھا کہ فٹبال ورلڈ کپ میں وہ ایران کی ٹیم کی شمولیت کا 'خیرمقدم' کریں گے تاہم وہ 'نہیں سمجھتے کہ ٹیم کا ٹورنامنٹ میں حصہ لینا مناسب' ہوگا۔
خیال رہے کہ ایرانی فٹبال فیڈریشن اس سے قبل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر امریکہ میں اپنے میچز کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ ایران اس برس ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں 'شرکت کرے گا'، جو کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔
ایران کی ٹیم گروپ جی میں شامل ہے اور اسے 15، 21 اور 26 جون کو نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر کے خلاف اپنے گروپ میچز لاس اینجلس اور سیاٹل میں کھیلنے ہیں۔
بحرین کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 41 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب سکیورٹی اہلکاروں نے پاسداران انقلاب سے منسلک ایک گروپ کا پردہ فاش کیا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ استغاثہ کی تحقیقات میں ایرانی حملوں کے لیے ’ہمدردی‘ سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔
تقریباً دو ہفتے قبل، بحرین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 69 افراد کی شہریت ’ایران کے مخالفانہ اقدامات کی تعریف یا ہمدردی یا غیر ملکی جماعتوں سے تعلقات رکھنے‘ پر منسوخ کر دی ہے۔
گذشتہ سال 29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے بحرین اور خلیج فارس کے دیگر کئی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکہ کے اڈے ہیں۔
جنگ کے دوران ایران میں 30 ہزار گاڑیوں کو نقصان پہنچا: سینٹرل انشورنس کمپنی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی سینٹرل انشورنس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے تازہ ترین جائزے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں تقریباً 30 ہزار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
سنیچر کے روز ان اعداد وشمار کا اعلان کرتے ہوئے، سینٹرل انشورنس کے سربراہ موسیٰ رضائی نے کہا کہ ’حالیہ ہفتوں میں 30 ملین تومان سے کم نقصانات ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ اس سے زیادہ کے نقصانات کا بھی تخمینہ لگا لیا گیا ہے۔
رضائی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کے نقصانات کی ادائیگی کے لیے درکار وسائل کو محفوظ کر لیا گیا ہے اور آج یا کل تک تازہ ترین ادائیگی کر دی جائے گی تاکہ ایران انشورنس ادائیگی کا عمل شروع کر سکے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینٹرل انشورنس ایجنسی کے حکم کے مطابق، باڈی انشورنس کے بغیر خراب گاڑیوں کے معاوضے کی ادائیگی ایرانی انشورنس اکاؤنٹ میں مطلوبہ کریڈٹ کی ادائیگی پر ’جلد‘ شروع ہو جائے گی۔
’دُشمن کے ساتھ تعاون کا الزام،‘ ایران میں 262 افراد کی جائیدادیں ضبط
ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 262 جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں۔
یہ جائیدادیں اُن افراد کی ہیں جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے جنگ کے دوران’ دُشمن کے ساتھ تعاون کیا۔‘ ان میں صحافی، سیاست دان، فنکار اور اداکار شامل ہیں۔
اصغر جہانگیر کے مطابق ان مقدمات کو عدالت میں حتمی شکل دینے کے بعد ایرانی قوم کے فائدے کے لیے ضبط کر لیا جائے گا۔‘
ان افراد کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے قانونی عمل کی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔
اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران، اسلامی جمہوریہ کی حمایت کرنے والے کارکنوں نے سائبر سپیس پر اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کی شناخت کی اپیل کی تھی اور انھیں ’جنگ کے حامی‘ کہا تھا۔
جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس اتوار کو طلب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے کے بعد پہلی مرتبہ ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان عباس کودرزی نے اعلان کیا کہ جنگ کے بعد پہلی بار کونسل اپنا پہلا اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کرے گی۔
کودرزی نے کہا کہ اجلاس کل اتوار کو ’اعلان کردہ اقدامات کی تعمیل اور موجودہ حالات کی بنیاد پر، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ جنگ کے باعث معاشی معاملات اور شہریوں کے ذریعہ معاش کے خدشات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کا آخری عوامی اجلاس 16 فروری کو منعقد ہوا تھا اور اس کا اختتام نئے ایرانی سال کے بجٹ کے مسودہ قانون میں ترمیم پر بحث کے ساتھ ہوا۔
اسرائیلی فوج کا لبنانی شہریوں کو جنوبی لبنان کے متعدد دیہات خالی کرنے کا حکم
آسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں کے رہائشیوں کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے پیشِ نظر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث اسرائیلی فوج اس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔
انھوں نے رہائشیوں کو دیہاتوں اور قصبوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور جانے کا کہا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی جاری ہے۔
بیروت اور جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیل حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
چین میں تعینات ایرانی سفارتکار کی چینی تیل بردار جہاز پر حملے کی تردید
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
چین میں تعینات ایرانی سفارتکار نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ایرانی فورسز نے مارشل آئی لینڈ کے ایک تیل بردار ٹینکر پر حملہ کیا ہے جس پر چینی ملاح بھی سوار تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اس خبر کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں کو پھیلانے کا مقصد وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ بیجنگ سے حاصل ہونے والے نتائج کی اہمیت کو کم کرنا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی تھی کہ آبنائے ہرمز میں تیل مصنوعات سے لدے ایک ٹینکر، جس پر چینی عملہ سوار تھا، حملے کا نشانہ بنا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ جہاز پر چینی شہری بھی موجود تھے، تاہم اب تک عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
یاد رہے کہ چینی خبر رساں ادارے شیامن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک چینی ملکیت کا تیل بردار جہاز پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا ہے۔
ایران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے، سی آئی اے کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق تہران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔
سی آئی اے کی رپورٹ سے باخبر ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے اندازے کے مطابق تہران کم از کم مزید چار ماہ تک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال پا رہا۔
اس رپورٹ کے متعلق سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی۔
تاہم ایک سینیئر انٹیلیجنس عہدیدار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کی رپورٹ کے متعلق دعوے ’درست‘ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا تھا اور اس کی معیشت تیزی سے گر رہی تھی۔
تنازع کے خاتمے کی امریکی تجویز پر ایران کا جواب آج متوقع ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔
وہ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ان کے ایک نمائندے نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا انھیں ایران کی جانب سے کوئی جواب موصول ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ آج ایران کی جانب سے کوئی جواب موصول ہو۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں لگتا ہے کہ ایران جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جلد ہی پتہ لگ جائے گا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکہ کو آج ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب موصول ہو جانا چاہیے۔
اٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’(ایران سے جواب موصول ہونے پر) ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا جو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے۔‘
ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے نزدیک تیل کے پھیلاؤ کی سیٹلائٹ تصاویر
،تصویر کا ذریعہReuters
سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے نزدیک تیل کے
پھیلاؤ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ممکنہ رساؤ کی وجہ کیا ہے۔ یہ تیل
مغربی ساحل کے قریب خلیجِ فارس میں واقع اس چھوٹے سے جزیرے کے پاس دیکھا گیا جو
ایران میں تیل کی برآمد کا اہم مرکز ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق تیل کے رساؤ کی نگرانی کرنے والی کمپنی
اوربیٹل ای او ایس نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ جمعرات تک اس پھیلاؤ کا رقبہ
تقریباً 52 مربع کلومیٹر (20 مربع میل) تھا۔
غیر سرکاری ادارے ’کانفلکٹ
اینڈ انوائرنمنٹ آبزرویٹری‘ نے بھی ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے
کہ تاحال یہ پتا نہیں
چل سکا کہ رساؤ کہاں سے شروع ہوا ہے تاہم یہ جنوب کی جانب پھیل رہا ہے۔ تنظیم کے
مطابق بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر کوششیں کی جا رہی
ہیں۔
ایرانی پارلیمان میں صوبہ بوشہر کے رکن جعفر پورکبگانی نے ’سمندر میں تیل چھوڑے جانے‘ کی
اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھبے یورپی ٹینکر کی جانب سے سمندر میں چھوڑے
گئے بیلسٹ پانی میں موجود تیل اور فضلے کی وجہ سے ہیں اور ان کی وجہ سے ماحول کو
نقصان پہنچ رہا ہے۔
جزیرہ خارگ جو کہ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکز ہے خلیجِ فارس کے
ساحل پر آبنائے ہرمز سے چند سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
جزیرہ خارگ میں ایران کی سب سے بڑی تیل برداری تنصیب، پائپ لائنیں،
ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور تیل کی برآمدات سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔
قطری وزیرِ اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور
قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آلثانی نے جمعے کے روز واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔
قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران فریقین نے خطے کی تازہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی، خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ثالثی کی ان کوششوں پر بھی بات ہوئی۔
بیان کے مطابق قطری وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق جاری ثالثی کی کوششوں میں بھرپور طور پر شریک ہوں، تاکہ پُرامن ذرائع اور بات چیت کے ذریعے بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی راہ ہموار ہو سکے، اور اس کے نتیجے میں ایک جامع معاہدہ طے پائے اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو۔
بی بی سی عربی کے مطابق، قطر طویل عرصے سے امریکہ کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ حماس سے روابط میں بھی شامل رہا ہے، تاکہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی قائم کی جا سکے۔
حالیہ جنگ کے دوران ایران نے متعدد مرتبہ قطر میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کی وجہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈے کو قرار دیا ہے۔