مذاکرات سیاسی قوتوں سے ہوں یا کسی دوسری جگہ، ان کا میرے مقدمات سے کوئی تعلق نہیں: عمران خان

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے نتیجے میں 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے
  • اس سے قبل، اتوار کے روز، جنگ بندی کے اسی معاہدے کے تحت تین اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس نے رہا کیا تھا
  • حماس کی قید سے رہائی پانے والی تین اسرائیلی یرغمالی خواتین بشمول 31 سالہ دورون سٹین بریچر، 28 سالہ ایملی دیماری اور 24 سالہ رومی گونین کو تل ابیب کے ہسپتال میں ابتدائی معائنے کے بعد ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے
  • حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے گئے ہر یرغمالی کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا
  • اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس، اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کروانا اب اگلی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی اور حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اتوار سے اس پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    یہ فیصلہ رات گئے تک جاری رہنے والی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد سامنے آیا۔ دائیں بازو کے دو وزرا نے معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے دفتر کے مطابق سکیورٹی کابینہ نے اس سے قبل معاہدے کی توثیق کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 'جنگ کے مقاصد کے حصول کی حمایت کرتا ہے۔'

    وزیر اعظم کے دفتر اور حماس دونوں نے کہا تھا کہ انھوں نے معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے دو دن بعد قطر، امریکہ اور مصر نے اس کا اعلان کیا تھا۔

    اس معاہدے کے تحت غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔

    غزہ کے گنجان آباد علاقوں سے بھی اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا، بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی اور روزانہ سینکڑوں امدادی گاڑیوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معاہدے کے مطابق آگے کیا ہوا؟

    دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات جس میں باقی یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور 'پائیدار امن کی بحالی' شامل ہے سولہویں دن شروع ہوں گے۔'

    تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو اور باقی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی شامل ہوگی۔

    قطر نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران رہا کیے جانے والے یرغمالیوں میں سویلین خواتین، خواتین فوجی، بچے، بوڑھے اور بیمار اور زخمی شہری شامل ہوں گے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے پہلے دن تین یرغمالیوں کو رہا کیے جانے کی توقع ہے جبکہ اگلے چھ ہفتوں کے دوران باقاعدگی سے مزید افراد کو چھوٹے گروہوں کی صورت میں رہا کیا جائے گا۔

    سات اکتوبر 2023 کو حماں نے اسرآایل میں ایک غیر معمولی حملہ کیا جس میں تقریبا 1،200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ حماس کو امریکہ اور دیگر نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اس غیر معمولی حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج نے حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی۔

    حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 46,870 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔23 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور امداد تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو خوراک، ایندھن، ادویات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معاہدے پر اتفاق رائے میں تاخیر کیوں ہوئی؟

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں سے 94 اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں جن میں سے 34 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ چار اسرائیلی ایسے بھی ہیں جنہیں جنگ سے پہلے اغوا کیا گیا تھا جن میں سے دو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے معاہدے پر ووٹنگ سے قبل نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے وزیر ثقافت مکی زہر نے کہا کہ 'یہ ایک بہت مشکل فیصلہ ہے لیکن ہم نے اس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمارے لیے اپنے تمام بچوں، مردوں اور خواتین کو گھر واپس دیکھنا بہت ضروری ہے۔'

    انھوں نے مزید کہا 'ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہم غزہ میں اپنا کام مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔'

    تاہم انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے کہا کہ وہ معاہدے کی تفصیلات سے 'خوفزدہ' ہیں، جس میں یرغمالیوں کے بدلے 'عمر قید کی سزا پانے والے دہشت گردوں' کو رہا کرنا بھی شامل ہے۔

    جمعرات کو بین گویر نے اعلان کیا تھا کہ اگر معاہدے کی منظوری مل جاتی ہے تو ان کی یہودی طاقت کی جماعت حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وپ پارلیمنٹ میں حکومت نہیں گرائیں گے اور ' اور اس وقت واپس آئیں گے جب حماس کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔'

    معاہدے کی مخالفت کرنے والے ایک اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ نے کہا ہے کہ اگر پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی تو ان کی مذہبی صیہونیت پارٹی مستعفی ہو جائے گی۔

    تین مرحلوں پر معاہدے نے کچھ یرغمالیوں کے خاندانوں میں تقسیم اور اضطراب بھی پیدا کیا ہے۔ انھیں خدشہ ہے کہ پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد ان کے مغوی رشتہ داروں کی رہائی نہیں ہوگی اور وہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دوسرے اور تیسرے مرحلے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

    اینوو زنگوکر کے 25 سالہ بیٹے متان کو بھی اغوا کیا گیا تھا وہ کہتے ہیں '469 دنوں سے ہمارے پیارے قید میں ہیں اور اب آخر کار امید پیدا ہوئی ہے۔'

    ان کا کہنا تھا کہ 'اس معاہدے پر آخر تک عمل کیا جانا چاہیے تاکہ سب کو وطن واپس لایا جا سکے اور جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جنگ کا خاتمہ، سب کی واپسی اور حالات معمول پر لانا اسرائیل کے مفاد میں ہے۔'

    حکومت کی رائے شماری جمعرات کو متوقع تھی لیکن نتن یاہو کی جانب سے حماس پر معاہدے کے کچھ حصوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد اجلاس میں تاخیر ہوئی۔

    جمعے کی علی الصبح وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ دوحہ میں اسرائیلی مذاکراتی ٹیم نے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    حماس نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی شرائط کے سلسلے میں پیدا ہونے والی 'رکاوٹوں' کو حل کر لیا گیا ہے۔

    حماس کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ رہائی پانے والے پہلے تین یرغمالی خواتین ہوں گی۔

  2. القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے،واضح تھا کہ عمران خان کو انصاف نہیں ملے گا: بیرسٹر سیف

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ فیصلہ بار بار موخر کرنے سے پہلے ہی واضح ہو چکا تھا کہ عمران خان کو انصاف نہیں ملے گا۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ’ہم اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ جعلی مقدمات کے ذریعے عمران خان کا حوصلہ پست نہیں کیا جا سکتا اور باقی مقدمات کی طرح یہ جعلی مقدمہ بھی اپنے انجام کوپہنچے گا۔

    رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انصاف میں تاخیر اور انصاف سے انکار پر آج مہرِ تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’تین بار فیصلہ موخر کرنے سے انصاف کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، جعلی مقدمے میں سزا سنانا انتہائی افسوسناک ہے۔

  3. 190 ملین پاؤنڈز کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟

    دسمبر 2019 کے دوران پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو تصفیے کی مد میں 190 ملین پاؤنڈز ادا کیے۔ اس سیٹلمنٹ میں لندن کی ایک پراپرٹی ون ہائیڈ پارک پلیس شامل تھی جس کی مالیت 50 ملین پاؤنڈز بتائی گئی۔

    جمعے کو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جو رقم این سی اے نے تصفیے کی صورت میں حاصل کی یہ واپس پاکستان کی وفاقی حکومت کو ملنی تھی جسے سٹیٹ بینک کا اکاؤنٹ نمبر ون کہتے ہیں۔

    تاہم ان کے مطابق عمران خان کی کابینہ کے ایک اجلاس میں بند لفافے کے ذریعے منظوری لی گئی کہ اسے سپریم کورٹ کی طرف سے سندھ کے عوام کے لیے طے کردہ اس معاوضے میں ایڈجسٹ کیا جائے جو بحریہ ٹاؤن نے ادا کرنے ہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے میں نیب کو تحقیقات کی ہدایت کی جبکہ اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ یہ پیسہ پاکستان کے عوام کا ہے لہذا اسے وفاقی حکومت کو واپس کیا جائے۔

    وزیر قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے کیس درج ہونے کے بعد یہ پیسہ وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا تھا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2024 کے دوران بحریہ ٹاؤن تصفیے میں عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے 35 ارب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

  4. حالیہ فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، تمام مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں: عمران خان

    عمران خآن

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنایا ہے۔

    عدالت نے اسی مقدمے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا ہے۔

    یہ فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 18 دسمبر 2024 کو محفوظ کیا تھا جو تین مرتبہ موخر کیے جانے کے بعد جمعے کو اڈیالہ جیل میں سنایا گیا

    سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل کے اندر سے جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کے خلاف سنائے گئے حالیہ فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس فیصلے سے مقدمے میں انصاف اور غیرجانبداری کا فقدان واضح دکھائی دے رہا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری عمران خان کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کیس سے نہ تو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی حکومت کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کسی رعایت ملنے کے خواہش مند نہیں اور تمام مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عمران خان نے اپنے خلاف اقدامات کے پیچھے نام لیے بغیر کہا کہ ان کے خلاف کارروائیوں کے پیچھے ایک ڈکٹیٹر موجود ہے۔‘انھوں نے پیغام میں کہا کہ جو اس (آمر) کے مخالف ہیں انھیں سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    عمران خان نے اپنے بیان میں اپنی ا ہلیہ بشری بی بی کو سزا ملنے کے حوالے سے کہا کہ ان کی بیوی ایک گھریلو خاتون ہیں اور سیاست میں ملوث نہیں تاہم ان کے خلاف جعلی کیسز بنائے گئے اور انھیں پھنسایا گیا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیوی کو سزا دینا خود انھیں(عمران خان کو) جذباتی طور پر مشتعل کرنے کی کوشش ہے۔