مذاکرات سیاسی قوتوں سے ہوں یا کسی دوسری جگہ، ان کا میرے مقدمات سے کوئی تعلق نہیں: عمران خان
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
خلاصہ
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے نتیجے میں 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے
اس سے قبل، اتوار کے روز، جنگ بندی کے اسی معاہدے کے تحت تین اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس نے رہا کیا تھا
حماس کی قید سے رہائی پانے والی تین اسرائیلی یرغمالی خواتین بشمول 31 سالہ دورون سٹین بریچر، 28 سالہ ایملی دیماری اور 24 سالہ رومی گونین کو تل ابیب کے ہسپتال میں ابتدائی معائنے کے بعد ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے
حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے گئے ہر یرغمالی کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا
اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس، اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کروانا اب اگلی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے
لائیو کوریج
اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی: اسرائیلی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر غزہ کی سرحد پر موجود
،تصویر کا ذریعہReuters
کچھ ہی دیر پہلے اسرائیلی فضائیہ (آئی اے ایف) کا ایک ہیلی
کاپٹر غزہ کی سرحد کے نزدیک جنوبی اسرائیل کے علاقے ریئم میں اترتا دکھائی دیا ہے۔
آئی اے ایف کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ
اس کے ہیلی کاپٹر حماس کی جانب سے رہا کی جانے والی خواتین کو وصول کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئیں تھی کہ غزہ میں موجود ریڈ
کراس کی ٹیم اسرائیلی قیدیوں لینے کے لیے پہنچ رہی ہیں۔
بی بی سی کے ایلکس فورسٹر نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ریئم ان
تین مخصوص مقامات میں سے ایک ہے جہاں حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والے قیدیوں کو
لے جایا جائے گا۔
غزہ: ریڈ کراس کی ٹیم اسرائیلی قیدیوں کو لینے کے لیے روانہ
خبر رساں ادارے روئٹرز اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ میں
موجود ریڈ کراس کی ٹیم اسرائیلی قیدیوں کو لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔
محمد ابو ارمانی نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ رفح لوٹنے کی
خوشی کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے اس سے وہ بہت اداس ہیں۔
’سب سے پہلے تو رفح میں ہمیں تباہی دکھتی – ایسی تباہی جو
ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘ ان کا اشارہ ان کھنڈرات کی جانب تھا جہاں کبھی گھر
ہوا کرتے تھے۔
’ہمارے لوگوں نے بھاری قیمت چکائی ہے اور وہ بہت کچھ کے
مستحق ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ بندی کے بعد امدادی ٹرک غزہ پہنچنا شروع ہو گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ٹرک امدادی سامان لے کر پہنچنا شروع
ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک کے مطابق ان کے امدادی ٹرک شمال
میں زیکیم کراسنگ جبکہ جنوب میں کریم
شالوم کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ دیگر امدادی ٹرکوں کو رفح کراسنگ سے
غزہ میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے
کہ ان ٹرکوں میں ’زندگی بچانے کے لیے ضروری گندم کا آٹا‘ اور تیار کھانے کے پارسل شامل
ہیں۔
غزہ میں خوراک کی فراہمی بیرونی امداد پر بہت زیادہ منحصر ہے۔
حالیہ ہفتوں میں اوسطاً امداد کے صرف 40 ٹرک پہنچ پا رہے تھے جب کہ جنگ سے قبل تقریباً
500 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوتے تھے۔
جنگ بندی کے معاہدے کے تحت روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں
داخل ہوں گے۔
اسرائیل آج 90 فلسطینیوں کو رہا کرے گا: حماس
حماس کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی اسرائیل کی جانب سے خواتین
اور بچوں سمیت ان قیدیوں کی فہرست کا انتظار ہے جنھیں منصوبے کے تحت آج رہا کیا جانا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے
تحت ہر ایک اسرائیلی قیدی کے بلے اسرائیلی جیلوں سے 30 فلسطینیوں کو رہا کیا جائے
گا، اس حساب آج رہا ہونے والے تین اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 90 افراد کیے جائیں گے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے صحافیوں کو بتایا گیا ہے کہ
وہ ریڈ کراس کے ساتھ مل کر قیدیوں کے تبادلے کے لیے کام کریں گے۔
رہائی پانے والے قیدیوں کو خان یونس میں واقع غزہ یورپین
ہسپتال میں ابتدائی امداد فراہم کی جائے گی۔
’ایمیلی کی ماں بس اپنی بیٹی کو گلے لگانا چاہتی ہیں‘, لوسی میننگ، نمائندہ خصوصی
،تصویر کا ذریعہFamily handout
28 سالہ برطانوی-اسرائیلی
شہری ایمیلی دماری ان تین خواتین قیدیوں میں شامل ہیں جنھیں جنگ بندی کے ابتدائی
مرحلے میں حماس کی جانب سے رہا کیا جائے گا۔
ان کی ممکنہ رہائی پر رد عمل دیتے ہوئے دماری کے گھر والوں
نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایمیلی کی والدہ بس انھیں گلے لگانا چاہتی ہیں۔ لیکن
انھیں اس وقت تک یقین نہیں آئے جب تک وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتی۔ یہ بہت تکلیف
دہ471 دن تھے، کاص طور پر پچھلے 24 گھنٹے۔‘
ایمیلی کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ انھیں اس وقت کوئی
اندازہ نہیں ان کی کیا حالت ہے۔ ’اور بھی یرغمالی ہیں جنھیں آزاد کیے جانے کی ضرورت
ہے اور جنھیں زندہ رہنے کے امداد کی ضرورت ہے۔ ابھی ہمارے سامنے ایک بہت لمبا سفر
ہے۔‘
’مینڈی تمام دعاؤں، سپورٹ اور نیک خواہشات کے لیے شکر گزار
ہیں۔‘
’یہ بہت خوش نصیبی کی بات ہے کہ فہرست میں ایمیلی اور ڈیرن سٹینبیکر دونوں کا
نام ہے کیونکہ ان کی مائیں دوست ہیں۔‘
جنگ بندی کے بعد بے گھر فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی شروع
اتوار کے روز جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد
ہزاروں بے گھر فلسطینیوں نے اپنے گھروں کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔
غزہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں ہزاروں فلسطینیوں کو کپڑے
اور دیگر ضروری سامان اٹھائے پیدل اپنے گھروں کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
کچھ افراد گاڑیوں میں بھی سوار ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں نے
فلسطینی جھنڈے تھامے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
چار ہزار امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی تظیم (انروا) کا کہنا ہے کہ خوراک اور امدادی سامانوں
سے لدے ہزاروں ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں تنظیم کا کہنا ہے کہ چار ہزار
امدادی ٹرک غزہ میں داخلے ہونے کے لیے تیار ہیں۔ انروا کے مطابق ان میں سے نصف میں آٹا اور
خوراک موجود ہے۔
انروا کے سربراہ فلپ لازارینی کا کہنا ہے امید ہے کہ جنگ بندی
کے بعد غزہ میں امداد لے جانے والے قافلوں پر ہونے والے حملوں میں کمی آئے گی۔
غزہ میں جنگ بندی کا آغاز، اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر احتجاجاً مستعفی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر
اسرائیلی حکومت میں شامل دائیں بازو کی جماعت یہودی پاور
پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے خلاف وہ احتجاجاً حکومت سے عیلحدہ ہو
رہی ہے۔
یہودی پارٹی کے اس فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن
یاہو کو پارلیمان میں اب معمولی اکثریت حاصل ہے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر سمیت تین
ارکان نے اپنے استعفے جمع کروا دیے ہیں۔
بن گویر جنگ بندی کے مخالف ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کو حماس کے خلاف فوجی آپریشن جاری رکھنے پر زور دیتے آئے ہیں۔
وزیرِ اعظم نتن یاہو کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں ان کا کہنا
تھا وہ حکومت کو نہیں گرائیں گے۔ انھوں نے جنگ بندی معاہدے کو ’دہشتگردوں کی
جیت‘ قرار دیا ہے۔
تین گھنٹوں کی تاخیر کے بعد غزہ میں جنگ بندی کا آغاز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کی جانب سے پہلے مرحلے میں رہائی پانے والے قیدیوں کے ناموں
کی فہرست جاری کیے جانے کے بعد غزہ میں تین گھنٹوں کی تاخیر سے جنگ بندی پر عملدرآمد ہو
گیا ہے۔
حماس اور اسرائیل طے پائے جانے والے معاہدے کے
مطابق غزہ میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے جنگ بندی پر عملدرآمد ہونا
تھا۔
تاہم حماس کی جانب سے پہلے مرحلے میں رہائی پانے والے قیدیوں کی فہرست جاری نہ کیے جانے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے جنگ
بندی مؤخر کر دی تھی۔
جنگ بندی کے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ قیدیوں کے
نام تبادلے سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں گے۔
حماس کی جانب سے اتوار کے روز قیدیوں کے نام فراہم کیے جانے کے بعد اسرائیلی
وزیرِ اعظم کے دفتر سے اعلان کیا گیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد مقامی وقت کے مطابق 11
بج کر 15 منٹ پر ہوگا۔
بعد ازاں اسرائیلی حکومت کے ایکس اکاؤنٹ سے پہلے
مرحلے میں رہائی پانے والے 33 قیدیوں کی فہرست جاری کی گئی۔
اس فہرست میں حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اغوا کیے
گئے سب سے کم عمر اور سب سے عمر رسیدہ قیدی شامل ہیں۔
کفر بیباس کی عمر محض 9 ماہ تھی جب انھیں اغوا کیا گیا جبکہ 86 سالہ شلومو
منتزور سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی سے قبل بمباری سے ہلاکتیں، حماس نے تین یرغمالیوں کے نام جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہReuters
حماس نے اِن تین خواتین یرغمالیوں کے
نام جاری کیے ہیں جنھیں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں
رہا کیا جائے گا۔ ان میں 24 سالہ رومی گونین، 28 سالہ ایمیلی دماری اور 31 سالہ ڈیرن
سٹینبیکر شامل ہیں۔
جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے ثالثوں اور
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کے نام اسرائیلی حکام کے حوالے کر
دیے ہیں۔
غزہ میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے
آٹھ بجے جنگ بندی پر عملدرآمد ہونا تھا تاہم اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اسرائیلی
وزیر اعظم نتن یاہو نے متنبہ کیا تھا کہ یرغمالیوں کے نام دیے جانے تک سیز فائر نہیں
ہوگا۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ آیا یرغمالیوں
کے نام اسرائیل کو موصول ہونے کے بعد منصوبے کے تحت جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔
معاہدے میں شامل تھا کہ
یرغمالیوں کے نام کم از کم 24 گھنٹے قبل بتائے جائیں گے۔ حماس کا کہنا ہے کہ
تکنیکی مسائل کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔
دریں اثنا حماس کا کہنا ہے کہ اتوار
کی صبح جنگ بندی سے قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں
جن میں سے چھ کا تعلق غزہ شہر سے، تین کا شمالی غزہ سے اور ایک کا رفح سے۔ ان حملوں
میں 25 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ جنگ بندی
شروع ہونے تک غزہ میں فوجی آپریشن جاری رہے گا۔
بریکنگ, اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست ملنے تک مؤخر کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اس وقت تک مؤخر کر دی گئی ہے جب تک حماس یرغمالیوں کی فہرست جاری نہیں کر دیتی۔
ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی دفاعی افواج کو جنگ بندی شروع نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے ہونا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک حماس اپنی 'ذمہ داریاں' پوری نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ یرغمالیوں کے نام منصوبہ بند تبادلے سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں گے۔
حماس کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر 'تکنیکی وجوہات' کی وجہ سے ہوئی ہے۔
اسرائیلی رہنما نے گذشتہ رات متنبہ کیا تھا کہ غزہ میں لڑائی روکنے کے معاہدے کا پہلا مرحلہ 'عارضی جنگ بندی' ہے اور اگر یہ ٹوٹتا ہے تو اسرائیل امریکی حمایت کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس سے پہلے سنیچر کو اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے پر امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی 'عارضی' ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ بندی کا معاہدہ ہے کیا؟
اس معاہدے کے تحت غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔
غزہ کے گنجان آباد علاقوں سے بھی اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا، بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی اور روزانہ سینکڑوں امدادی گاڑیوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
معاہدے کے مطابق آگے کیا ہوا؟
دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات جس میں باقی یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور 'پائیدار امن کی بحالی' شامل ہے سولہویں دن شروع ہوں گے۔'
تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو اور باقی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی شامل ہوگی۔
قطر نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران رہا کیے جانے والے یرغمالیوں میں سویلین خواتین، خواتین فوجی، بچے، بوڑھے اور بیمار اور زخمی شہری شامل ہوں گے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے پہلے دن تین یرغمالیوں کو رہا کیے جانے کی توقع ہے جبکہ اگلے چھ ہفتوں کے دوران باقاعدگی سے مزید افراد کو چھوٹے گروہوں کی صورت میں رہا کیا جائے گا۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل میں ایک غیر معمولی حملہ کیا جس میں تقریبا 1،200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ حماس کو امریکہ اور دیگر نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اس غیر معمولی حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج نے حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی۔
حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 46,870 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔23 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور امداد تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو خوراک، ایندھن، ادویات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔
غزہ میں جنگ بندی سے قبل نتن یاہو کی تنبیہ: ’سیز فائر عارضی ہے‘
،تصویر کا ذریعہIsraeli PM's office
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن
نتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر حماس کے ساتھ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ ناکام ہوا تو ان
کا ملک جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار رہے گا۔ سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد
مقامی وقت ساڑھے آٹھ بجے سے ہوگا۔
حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے
بعد اپنے پہلے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ہمارے
بہن، بھائی گھروں کو واپس آنے والے ہیں اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے، یہ سب
اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب ہوا ہے۔‘
سنیچر کو اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم
نتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے پر امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اتوار سے شروع ہونے
والی جنگ بندی ’عارضی‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو
اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا ’حق محفوظ رکھتا ہے‘ اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ یقینی
بنائیں گے کہ ان کے ملک کے پاس دفاع کے لیے تمام اسلحہ اور بارود موجود ہو۔
حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اسرائیلی
وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ہمارے بہن، بھائی گھروں کو واپس آنے
والے ہیں اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے، یہ سب اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب
ہوا ہے۔‘
سنیچر کو اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے
پر امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا
کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی ’عارضی‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے
کا ’حق محفوظ رکھتا ہے‘ اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کے ملک کے پاس
دفاع کے لیے تمام اسلحہ اور بارود موجود ہو۔
دریں اثنا حماس کے مطابق اسرائیل نے
غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 120 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آئندہ ہفتوں کے دوران 33 یرغمالیوں
کے بدلے 1890 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ
سے انخلا کرے گی۔
حماس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو
بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تینوں رہا کی جانے والی یرغمالی خواتین ہوں گی۔
نائجیریا: آئل ٹینکر حادثے کے بعد دھماکہ، پیٹرول جمع کرنے والے 77 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نائجیریا میں ایک آئل ٹینکر کے حادثے کے بعد تباہ ہونے سے 77 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جو جائے وقوعہ سے ایندھن جمع کرنے کے لیے پہنچے تھے۔
سنیچر کے روز نائجر کی شمالی وسطی ریاست کے علاقے سلیجا میں ٹینکر الٹ گیا اور اس کا مواد پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگوں نے ایندھن نکالنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے جن میں امدادی کارکن بھی شامل تھے۔
ملک میں اکثر سڑکوں کی خراب حالت اور گاڑیوں کی خستہ حالی کی وجہ سے ایندھن کے ٹینکروں میں دھماکے اور حادثات عام ہیں۔
ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ سنیچر کو ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد قریبی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
نائجیریا میں حالیہ مہینوں میں اس طرح کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ دو ہفتے قبل تیل کی دولت سے مالا مال ڈیلٹا ریاست میں ایک آئل ٹینکر میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے اور اور اکتوبر میں پیٹرول لیک ہونے کے بعد اسے جمع کرنے کی کوشش کے دوران ہونے والے دھماکے میں کم از کم 153 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
نائجیریا کے صدر بولا ٹینوبو کی اقتصادی پالیسیوں جس میں طویل عرصے سے جاری ایندھن کی سبسڈی ختم کرنا بھی شامل ہے کے بعد گذشتہ 18 ماہ میں ایندھن کی قیمتوں میں 400 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،
ان تبدیلیوں نے لاکھوں لوگوں کو غربت میں ڈال دیا ہے اور بہت سے لوگ اپنی بقا کے لیے مایوس کن اقدامات کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ اس کی پالیسیوں کا مقصد معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
’ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا‘:جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کا پہلا خطاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے ساتھ جنگ بندی کے
معاہدے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے
کہ ’ہمارے بہن، بھائی گھروں کو واپس آنے والے ہیں اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے،
یہ سب اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب ہوا ہے۔‘
سنیچر کو اپنے خطاب میں
وزیرِ اعظم نتن یاہو نے جنگ بندی کے معاہدے پر امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اتوار سے
شروع ہونے والی جنگ بندی ’عارضی‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت
پڑی تو اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا ’حق محفوظ رکھتا ہے‘ اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ
یقینی بنائیں گے کہ ان کے ملک کے پاس دفاع کے لیے تمام اسلحہ اور بارود موجود ہو۔
خیال رہے گذشتہ بدھ کو قبل
قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے
پایا تھا۔
قطر کے وزیرِ اعظم شیخ
محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں بدھ کو رات گئے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا۔
اپنی تقریر کے دوران
اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے 15 مہینے جاری رہنے والی جنگ پر بھی بات کی اور
حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت سمیت متعدد کارروائیوں کو اپنی عسکری کامیابی
قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے
مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا‘ اور اس کے نتیجے میں آج حماس ہر محاذ پر ’مکمل تنہا‘
ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی
کے تحت اسرائیل حماس سے وہ شرائط منوانے میں بھی کامیاب ہوا ہے جو کہ مسلح تنظیم
ماضی میں ماننے پر راضی نہیں تھی۔
دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے
میں اسرائیل 1800 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 33
اسرائیلی شہریوں کی رہائی کے بدلے میں آزاد کرے گا۔
مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا
ہے کہ اسرائیل کی جانب 1890 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ خیال رہے حماس اور
اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہوگا۔
مصر، قطر اور امریکہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ
بندی سے متعلق مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار نبھایا ہے۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیل 1890 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا: مصر
مصر کا کہنا ہے کہ جنگ
بندی کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں اسرائیل 1800 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو
حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 33 اسرائیلی شہریوں کی رہائی کے بدلے میں آزاد
کرے گا۔
مصر کی وزارتِ خارجہ کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 1890 فلسطینی قیدیوں کو رہا
کیا جائے گا۔ خیال رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا
مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہوگا۔
مصر نے حماس اور اسرائیل
کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار نبھایا ہے۔
یرغمالیوں کی فہرست موصول ہونے تک جنگ بندی نہیں ہو گی: اسرائیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم
بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کے معاہدے پر اس وقت تک آ گے
نہیں بڑھے گا جب تک حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے ان افراد کی فہرست جاری نہیں ہوتی
جنھیں مسلح تنظیم کی جانب سے رہا کیا جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل
معاہدے کی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کرے گا۔ اس سب کی ذمہ دار حماس ہے۔‘
خیال رہے حماس اور اسرائیل
کے درمیان معاہدے کے تحت حماس کو یرغمال بنائے گئے تین اسرائیلی شہریوں کو اتوار
کے روز اسرائیل کے حوالے کرنا ہے۔
سنیچر کو اسرائیلی سرکاری
میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو توقع ہے کہ معاہدے کے تحت رہا ہونے
والے تین افراد کے نام انھیں آج موصول ہو جائیں گے۔
اسرائیلی میڈیا اس سے قبل
33 یرغمالیوں کی فہرست نشر کر چکا ہے جنھیں معاہدے کے تحت حماس نے رہا کرنا ہے،
تاہم اس فہرست کی کسی بھی فریق نے تصدیق نہیں کی ہے۔
لیاری سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی بلوچ سمیت 25 مظاہرین گرفتار، سندھ پولیس پرامن مظاہرین کو رہا کرے: ایچ آر سی پی
،تصویر کا ذریعہSocial Media
کراچی کے علاقے لیاری سے بلوچ یکجہتی کمیٹی
کی رہنما سمی دین بلوچ سمیت متعدد افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے میڈیا سے بات کرتے
ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے 25 کارکنان کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے کہ بتایا
ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف لاؤڈ سپیکر کے استعمال ، نعرے بازی
سمیت دیگر الزمات میں مقدمہ دائر کیا جائے گا اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ سندھ پولیس نے خواتین سمیت پرامن مظاہرہ کرنے والوں گرفتار کیا ہے جنھیں فوری رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔
یاد رہے بلوچ یک جہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے 25 جنوری کو دالبندین میں دیے جانے والے
دھرنے کی عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں لیاری
کے آٹھ چوک پر دہرنا دیا گیا تھا جہاں سے پولیس
نے گرفتاریاں کی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ
کیا کہ کراچی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن بلوچ شہریوں اور
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ارکان کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔
بیان کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 25 جنوری کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ایک اجتماع کے حوالے سے آج لیاری
میں ایک آگاہی مہم کا منصوبہ بنایا تھا تاہم جب پارٹی کے ارکان اور شرکا لیاری کے
قریب میراں ناکے پر پہنچے تو سندھ پولیس کی جانب سے انھیں لاٹھی چارج اور گرفتاریوں
کا سامنا کرنا پڑا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق گرفتار کیے جانے افراد میں لالہ وہاب بلوچ اور سمی دین بلوچ، فوزیہ بلوچ اورآمنہ بلوچ بھی شامل
ہیں۔
انھوں
نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہےاور پولیس صرف بلوچ شہریوں کو
نشانہ بنا رہی ہے۔
مذاکرات دو دو تین تین دروازوں سے بیک وقت نہیں چلا کرتے، پی ٹی آئی کو کسی ایک دروازے کا انتخاب کرنا ہو گا :عرفان صدیقی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلم لیگ ن کے رہنما اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تفصیل اور مکالموں کا علم ہے۔ دو دو تین تین دروازوں سے مذاکرات بیک وقت نہیں چلا کرتے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں عرفان صدیقی نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی براہِ راست اعلیٰ ترین فوجی سطح پر بات شروع ہو گئی ہے جو اطمینان بخش ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بیک ڈور پراسیس بھی چلے گا اور فرنٹ ڈور پراسیس بھی۔ لیکن وہ جان لیں کہ مزاکرات ایسے نہیں چلتے۔ انھیں کسی ایک ڈور کا انتخاب کرنا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے دو روز قبل تصدیق کی تھی کہ ان کی پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے آرمی چیف سے ملاقات کے بارے میں تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خان صاحب نے کہا کہ بات چیت ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے اور ہمارے دروازے بات چیت کے لیے کھلے تھے، دوسروں کے دروازے بند تھے۔ اگر بات چیت آگے بڑھی تو ملک میں استحکام آئے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ دروازہ کھل گیا ہے جس کے لیے پی ٹی آئی ایک سال سے کوشاں تھی تو پھر یہ (مزاکرات کی)کوشش چھوڑ دیں۔
عرفان صدیقی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور علیمہ خان بھی آرمی چیف سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔
انھوں نے ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ وہ (عمران خان) ہمیں کچھ کہنے کے بجائے اپنی مذاکراتی ٹیم کو سمجھائیں۔
’حکومت نے مداخلت نہ کی تو اتوار سے امریکی صارفین کے لیے ٹک ٹاک بند‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اس پر پابندی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی تو اتوار کو امریکہ میں اس کی ایپ لاکھوں صارفین کے لیے معطل کر دی جائے گی۔
جمعے کی رات دیر گئے ایک بیان میں ٹک ٹاک نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ انصاف 'ٹک ٹاک کی دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری وضاحت اور یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں'۔
یہ بیان سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق اگر اس کی چین میں قائم پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس اتوار تک اس پلیٹ فارم کو فروخت نہیں کرتی تو امریکہ میں ایپ پر پابندی کے قانون کو برقرار رکھا گیا۔
گزشتہ سال اپریل میں منظور ہونے والے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ بائٹ ڈانس کو اس پلیٹ فارم کا امریکی ورژن کسی غیر جانبدار فریق کو فروخت کرنا ہوگا تاکہ مکمل پابندی سے بچا جا سکے۔
ٹک ٹاک نے اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک میں اس کے 170 ملین صارفین کے لیے آزادی اظہار رائے کے تحفظ کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ایپ کا امریکی ورژن ایپ سٹورز اور ویب ہوسٹنگ سروسز سے ہٹا دیا جائے گا جب تک کہ آنے والے دنوں میں کمپنی کو کوئی خریدار نہیں مل جاتا۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ اس پابندی کا ایسے ٹک ٹاک صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو پہلے ہی اپنے فون پر ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ پابندی کے نفاذ کے بعد اپ ڈیٹس دستیاب نہیں ہوں گی لہٰذا ایپ بالآخر خراب ہوجائے گی اور وقت کے ساتھ ناقابل استعمال ہوجائے گی۔
تاہم جمعے کو ٹک ٹاک کے تازہ بیان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فوری طور پر تمام موجودہ صارفین کے ساتھ ساتھ اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے خواہاں افراد کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوسکتا۔
انفلوئنسرز اور مواد تخلیق کرنے والے پابندی سے قبل اپنے فالوورز کو الوداع کہتے ہوئے ایپ پر ویڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں۔
ایک تخلیق کار نکول بلوم گارڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ' ٹک ٹاک پر نہ ہونا تنخواہوں میں نمایاں کٹوتی کے مترادف ہوگا' جبکہ ایک اور تخلیق کار ایریکا تھامسن کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر موجود تعلیمی مواد دیکھنے والی کمیونٹی کے لیے 'سب سے بڑا نقصان' ہوگا۔
کچھ صارفین یہ بتاتے نظر آ رہے ہیں کہ ان کا مواد مستقبل میں کہاں دیکھنے کے لیے دستیاب ہوگا، جس میں چینی ویڈیو ایپ ریڈ نوٹ بھی شامل ہے، جسے اب تک امریکی صارفین نے بہت کم استعمال کیا ہے۔
ابتدائی طور پر اس اقدام کی حمایت کرنے کے بعد نو منتخب ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر میرا فیصلہ مستقبل قریب میں کیا جائے گا لیکن میرے پاس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وقت ہونا چاہیے۔
انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انھوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کی ہے اور ٹک ٹاک سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
دسمبر میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس اس ایپ کے لیے ایک 'گرم جوشی' ہے کیونکہ اس سے انھیں 2024 کے انتخابات میں نوجوان ووٹروں کے ساتھرابطے میں مدد ملی ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے صدر کی حیثیت سے اپنی پہلی مدت میں اپنے موقف پر یوٹرن لے لیا جب انھوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اسی طرح کی پابندی عائد کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
بائٹ ڈانس نے ٹک ٹاک کو فروخت نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اگر کوئی مہلت نہیں ملتی تو وہ اتوار کو ایپ کے امریکی آپریشنز کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘
ڈیموکریٹک اور رپبلکن قانون سازوں نے گذشتہ سال ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا کیونکہ اس کے چینی حکومت کے ساتھ روابط کے بارے میں خدشات تھے۔ ٹک ٹاک نے بارہا کہا ہے کہ وہ بیجنگ کو معلومات شیئر نہیں کرتا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا ہے ؟
امریکہ کی سپریم کورٹ نے امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت اگر اتوار تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی چینی کمپنی بائٹ ڈانس اسے 19 جنوری تک فروخت نہیں کرتی تو یہ امریکہ میں بند کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اس قانون سے متعلق اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ 17 کروڑ امریکیوں کے لیے ٹک ٹاک اظہار، ایک دوسرے سے تعلق جوڑنے اور کمیونٹی کا ایک ذریعے ہے۔ لیکن کانگریس نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ٹک ٹاک کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقوں اور اس کی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ وابستگی کے پیش نظر قومی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اس کی فروخت یا تقسیم ضروری ہے۔'
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ 'ان تمام معاملات کے پیش نظر عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ مقدمے میں چیلنج کیے جانے والے نکات درخواست گزاروں پہلی ترمیم کے حقوق کی نفی نہیں کرتے۔ امریکہ کی ڈسٹرکٹ کولمبیا کی عدالت کا فیصلہ درست ہے اس لیے اسے برقرار رکھا جاتا ہے۔'
سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے اس مقدمے کا متفقہ فیصلہ دیا ہے۔
تاہم ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ یہ آزادی اظہار کے حق کے خلاف ہے اور اس ایپ پر پابندی 17 کروڑ امریکیوں کی آزادی اظہار کو سلب کرے گی۔
تاہم ان کی اس درخواست کو ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب چینی کمپنی امریکہ میں اپنے ایپ کو جاری رکھنے کے لیے یا تو 10 جنوری تک کوئی امریکی کمپنی کو اس کی ملکیت دے گی یا پھر پابندی کا سامنا کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکی حکام اور قانون سازوں نے بائٹ ڈانس پر چینی حکومت سے منسلک ہونے کا الزام لگایا ہے اور ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن جو پیر سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایپ پر پابندی کو نافذ نہیں کریں گے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ سبکدوش ہونے والی انتظامیہ ٹک ٹاک پابندی کے فیصلے کو نو منتخب صدر ٹرمپ پر چھوڑ دے گی۔
کیا ٹک ٹاک پر دیگر ممالک میں بھی پابندی ہے؟
ٹک ٹاک پر انڈیا میں پہلے ہی پابندی عائد ہے، جو کہ جون 2020 میں اسے غیر قانونی قرار دینے سے پہلے ایپ کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک تھی۔
ایران، نیپال، افغانستان اور صومالیہ میں بھی اس ایپ پر پابندی عائد کی گئی تھا۔
برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ نے 2023 میں عملے کے سرکاری فونز اور کمپیوٹرز وغیرہ پر ٹک ٹاک انسٹال کرنے کی پابندی لگا دی تھی، اور یورپی کمیشن نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔