آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وکلا سے ملاقات نہ کروا کر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی، عمران کو آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کر سکیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

خلاصہ

  • ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ حملے میں کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے
  • ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
  • ترکی کے شہر انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان بنانے والی سرکاری کمپنی پر دہشت گرد حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے
  • ترک حکومت نے انقرہ حملے کی عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں
  • اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے انٹیلیجنس کمانڈر علی حسین ہزیما کے ہمراہ ہلاک کیا گیا تھا۔
  • صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی

لائیو کوریج

  1. میثاق جمہوریت کا نامکمل ایجنڈا آج مکمل ہو گیا: اسحاق ڈار

    سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بات کرتے ہویے نائب وزیر اعظم اور سینیٹ میں قائد اعوان اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت کا نامکمل ایجنڈا آج مکمل ہو گیا۔

    انھوں نے کہا کہ چند دن پہلے جو فائنل ڈرافٹ کمیٹی میں پیش ہوا اس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ وفاقی وریز قانون نے بریف کیا جس میں پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر صاحب بھی موجود تھے۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے ملک عامر ڈوگر نے بھی آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کوشش تھی کہ تمام جماعتیں آن بورڈ ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نے پوری کوشش کی اور ہماری کوشش تھی کہ پی ٹی آئی بھی ساتھ ہو لیکن ان کا فیصلہ ہے جو بھی کریں۔

    انہوں نے کہا کہ کل مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ تمام کلازز پر متفق ہیں۔ شاید پہلی آئینی ترمیم ہے جو یہیں ٹرِگر ہو کر یہیں پر پاس کی گئی ہے۔ تاہم اب بل نیشنل اسمبلی میں پاس ہو گا تو پھر یہ آئین کا حصہ بن جائے گا۔

  2. سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کی منظوری دے دی

    پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس دوران سینیٹ اجلاس میں شق وار منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

    حکومت کو ملنے والے 65 ووٹوں میں 23 پیپلز پارٹی، 19 ن لیگ، پانچ جے یو آئی، چار بلوچستان عوامی پارٹی، تین ایم کیو ایم، تین اے این پی، دو بی این پی، چار آزاد سینیٹرز، ایک ووٹ ق لیگ اور ایک نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد کا تھا۔

    نوٹ: خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کا 24واں ووٹ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا تھا، تاہم ان کی جانب سے ووٹ نہیں دیا گیا۔

  3. سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر ووٹنگ جاری

    سینیٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم پیش کردی گئی جس کے بعد اب ووٹنگ کے لیے تحریک کثرتِ رائے سے منظور ہو گئی ہے۔

    سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت جاری ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں ترمیم پیش کی اور کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پیش کرنا چاہتا ہوں، آئینی ترمیمی بل کو ضمنی ایجنڈا پر زیرغور لایا جائے۔

    اس وقت سینیٹ میں ترمیمی بل پر ووٹنگ جاری ہے۔

  4. اگر کوئی پی ٹی آئی سینیٹر ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ نہ گنا جائے: بیرسٹر علی ظفر کی چیئرمین سینیٹ سے درخواست

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی ہے کہ اگر کوئی پی ٹی آئی سینیٹر 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ نہ گنا جائے۔

    سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ جب آئینی ترمیم کی بات چل رہی تھی تو پی ٹی آئی نے ایک پارلیمانی اجلاس منعقد کیا اور اس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی کسی ترمیم کی سپورٹ نہیں کی جائے گی اور اس فیصلے پر تمام سینیٹرز کے دستخط لیے گئے تھے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ اگر آج کوئی پی ٹی آئی سینیٹر ووٹ دیتا ہے تو براہِ مہربانی ان کا ووٹ نہ گنا جائے۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جب بھی بغیر اتفاقِ رائے کے آئینی ترمیم کی گئی، وہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے، اس کی ایک بڑی مثال 58 2B ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پارلیمان میں پی ٹی آئی کے محض کچھ ارکان ہی موجود ہیں کیونکہ باقی لوگوں کو ’ڈر ہے کہ وہ پکڑے جائیں گے اور ان سے زبردتی ووٹ لیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے لوگوں سے زبردستی ووٹ لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ’آپ کسی کو زبردستی کر کے ان کی آمادگی نہیں لے سکتے ہیں۔‘

  5. چھبیسویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔

    آئینی ترمیمی بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا ہے اور وہ ایوان میں اس ترمیم کے مسودے کے خدوخال کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

    آئینی ترمیم کو سینیٹ کے ضمنی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔

  6. ہم نے کالے سانپ کے دانت توڑ دیے، اس کا زہر نکال دیا: مولانا فضل الرحمٰن

    جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کالے سانپ کے دانت توڑ دیے ہیں اور اس کا زہر نکال دیا ہے جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت 26ویں آئینی ترمیم پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لے گی۔

    جے یو آئی کے سربراہ کی رہائشگاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ ان کی جماعت 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ایک اصولی موقف اپنا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے اس بل کو پیش کیا گیا اور کمیٹیوں سے گزارا گیا، اور بار بار وقت تبدیل کیا گیا، جیسے ہمارے ایم این ایز اور سینیٹرز کو ہراساں کیا گیا اس کی ہم نے شدید مذمت کی ہے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا ’ہم مولانا صاحب کے کردار کو سراہتے ہیں لیکن پی ٹی آئی اس بل پر ووٹ نہیں دے سکتی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شدید تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی اس مشاورت کے عمل میں شریک رہی ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن اس بل کی حمایت کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کو اس بات سے کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔

    ترمیمی بل کے مسودے میں سے مبینہ طور پر متنازع نکات نکالے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا، ’ہم نے کالے سانپ کے دانت توڑ دیے ہیں اور اس کا زہر نکال دیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے متن پر اب کوئی جھگڑا نہیں رہا ہے۔

    جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جو حکومتی بل مسترد کیا تھا وہ اب نہیں رہا ہے اور اس میں سے متنازع نکات نکال دیے گئے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، اس لیے اگر بطورِ احتجاج وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیتے تو یہ ان کا حق ہے۔

  7. آئینی ترمیم کے 26 نکاتی مسودے کی تفصیلات سے متعلق وزیر قانون نے کیا بتایا؟

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آج 26 ویں آئینی ترمیم پالیمینٹ میں پیش ہونے جارہی ہے۔ یہ وہی 26 نکاتی متفقہ مسودہ ہے جو پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے منظور کیا تھا اور جس پر پہلے سیاسی اتفاق رائے کروایا گیا تھا۔

    26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف نے اس مسودے میں پانچ ترامیم تجویز کی ہیں جن کا تعلق آئین میں موجود اسلامی شقوں میں وضاحت کے لیے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے 12 رکنی کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں آٹھ ایم این ایز اور چار سینیٹر شامل ہوں گے۔

    وزیرِ قانون کے مطابق اس کمیٹی میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی متناسب نمائندگی ہوگی۔ یہ کمیٹی دو تہائی اکثریت کے ساتھ جو چیف جسٹس کے لیے نام تجویز کرکے وزیرِ اعظم کو بھیجے گی۔ چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال یا ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 65 سال تک مقرر کیا گیا ہے۔

    وزیر قانون کے مطابق ’ان تجاویز میں وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری کے بارے میں ایک شق شامل کی گئی ہے۔‘

    اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کا دورانیہ دو سال سے کم کرکے ایک سال تجویز کی گئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شریعت کورٹ کی سود کے متعلق فیصلے کو پالیسی میں شامل کرنے کے لیے اسے آئین میں شامل کیا گیا۔

    وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ شرعی کورٹ کی اپیل کی سپریم کورٹ میں سماعت سے متعلق موجود ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کابینہ اور اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر جے یو آئی ان ترامیم کو اسمبلی کے فلور پر پیش کرتی ہے تو ہم اس پر ووٹ کریں گے۔

    ان کے مطابق آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ اور صوبائی سطح پر آئینی بینچوں کا مکینزم بھی بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبوں میں آئینی بینچوں پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں سادہ اکثریت سے اس کی منظوری دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز پی پی پی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

    وزیرِ قانون کے مطاق پی پی پی کا کہنا تھا کہ اس صوبے کی اسمبلی کو حق ہونا چاہیے کہ اگر اس صوبے کی ہائی کورٹ کی آئینی بینچ تشکیل دینا چاہے تو وہ کر سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی بینچوں کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جو جوڈیشنل کمیشن بنایا گیا ہے اس کے پاس ہو گا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس مسودے کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس آف پاکستان اور چار سینیئر ترین ججوں کے علاوہ چار پالیمینٹیرینز بھی شامل ہوں گے جن میں سے دو سینیٹ اور دو قومی اسمبلی سے ہوں گے۔

    ان میں سے ایک سینیٹر اور ایک ممبر قومی اسمبلی کا تعلق حزبِ اختلاف سے ہوگا جبکہ وزیرِ قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے بدستور اس کمیشن کا حصہ ہیں۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اقلیتوں اور خواتین کے مسائل کی نمائندگی کے لیے ایک اقلیتی یا خاتون ممبر بھی شامل کی جائیں گی جن کا تعلق پارلیمان سے نہیں ہوگا۔ اس ممبر کا انتخاب سپیکر اسمبلی کریں گے۔

    ’اس کے لیے شرط ہوگی کہ وہ بطور ٹیکنوکریٹ سینیٹر منتخب ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ صوبائی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔‘

    ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن صوبائی چیف جسٹس کی مشاورت سے ججوں کی کارکردگی کو جانچنے کا فارمولا مرتب کرے گی۔

    وفاقی اور صوبائی سطح پر آئین اجازت دیتا ہے کہ پانچ پانچ ٹیکنکل ایڈوائزرز رکھ سکتے ہیں۔ اب صوبائی ایڈوائزر کو بھی صوبائی اسمبلی میں پیش ہونا ہوگا۔ چیف جسٹس کی تعیناتی بھی اس آئینی پیکج کا حصہ ہے۔

  8. جمعیت علمائے اسلام (ف) کی حمایت کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت کے لیے کتنے ووٹ مزید درکار ہیں

    اتوار کی دوپہروفاقی کابینہ کابینہ سے 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے بعد اب یہ ڈرافٹ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

    حکومت کی جانب سے نمبر گیم پورا ہونے کا دعویٰ تو سامنے آ رہا ہے تاہم اعداد و شمار کو جانچا جائے تو حکومتی اتحاد کو نمبرپورے کرنے کا تاحال چیلنجز درپیش ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے 1973 کے آئین میں اب تک 25 مرتبہ ترامیم ہوچکی ہیں۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

    اس وقت تک کی جو تفصیلات ہیں ان کے مطابق جمیعت علمائے اسلام ف نے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی اراکین کی تعداد 215 ہے جبکہ آئینی ترمیم کے لیے درکار نمبر 224 ہیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پاس 111، پیپلزپارٹی 70 ،ایم کیو ایم پاکستان 22، ق لیگ پانچ اور استحکام پاکستان پارٹی کے چار اراکین شامل ہیں جبکہ نیشنل پارٹی، ضیا لیگ اور بی اے پی کا ایک ایک رکن بھی حکومت کے ساتھ جس کے بعد مجموعی تعداد 215 بنتی ہے۔

    آئینی ترمیم کے لیے جمعیت علمائے اسلام ف کے آٹھ ووٹوں کے بعد یہ تعداد 223 تک پہنچ جاتی ہے۔ یعنی اب حکومت کو مزید ایک ووٹ کی ضرورت ہے۔

    تحریک انصاف حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد آٹھ ہے جبکہ قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی تعداد 80 ہے، بی این پی مینگل، ایم ڈبلیو ایم اور پشتونخواہ میپ کا ایک، ایک رکن موجود ہے۔

    اس مسودے کی منظوری کے لیے سینیٹ میں حکومتی اتحاد کو 64 ووٹ درکار ہیں۔

    سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 24، مسلم لیگ ن کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اور ایم کیو ایم کے تین ارکان موجود ہیں۔ حکومتی بینچز پر چار آزاد سینیٹرز بھی براجمان ہیں جس سے تعداد 54 تک پہنچ جاتی ہے۔

    اب جے یو آئی کے پانچ سینیٹرز کی حمایت کے بعد یہ تعداد 59 ہو چکی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اے این پی کے تین اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ایک سینیٹر نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں حکومت کے پاس کُل ووٹ 63 بنتے ہیں اور یہاں بھی اسے ایک اور ووٹ درکار ہے۔

    اپوزیشن بینچوں پر اے این پی کے تین، مسلم لیگ ق، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن بھی موجود ہے۔ اپوزیشن بینچز پر تحریک انصاف کے 17 اور سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین کا ایک ایک سینیٹر ہے جبکہ ایک آزاد سینیٹر بھی موجود ہے۔

  9. مسودہ پہلے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، بیشتر ترامیم عدلیہ سے متعلق ہیں: خواجہ آصف

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’آج جو مسودہ پیش کیا جارہا ہے اس پر آئینی ترمیم پر بنائی گئی سپیشل کمیٹی میں شامل کسی بھی کسی بھی جماعت بشمول پی ٹی آئی کو اعتراض نہیں ہے۔

    سما نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ’انھوں (پی ٹی آئی) نے کہا تھا کہ ہمیں دو چیزوں کا خدشہ ہے، اگر آپ وہ نہیں کر رہے تو ہمیں اس مسودے پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ انھوں نے میٹنگ میں کہا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے ممبران کو عمران خان سے نفی میں ہدایات ملیں گی تو وہ یقیناً ووٹ نہیں دیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ مسودہ پہلے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ’

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بیشتر ترامیم عدلیہ سے متعلق ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جے یو آئی کی جانب سے اس کی منظوری دے دی گئی ہے اور وہ قانون سازی میں بھی حصہ لیں گے۔

  10. بریکنگ, وفاقی کابینہ نے 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی

    پاکستان کی وفاقی کابینہ نے 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ قانون و انصاف نے 26 ویں آئینی ترمیم پر دوبارہ تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے حکومتی اتحادی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی کا 26 ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ منظور کر لیا.‘

    اعلامیے کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور ملکی حالات کی بہتری کے لیے کابینہ نے بہترین فیصلہ کیا.

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِاعظم نے پوری قوم کو 26 ویں آئینی ترمیم کی کابینہ سے منظوری کی مبارکباد دی ہے‘

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ کابینہ نے ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے ملکی وسیع تر مفاد میں فیصلہ کیا. ملکی معیشت کے استحکام کے بعد ملک کے آئینی استحکام اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک سنگ میل عبور ہوا.

    وزیرِ اعظم نے اتحادی جماعتوں کے سربراہاں کا خصوصی شکریہ ادا کیا. یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس کے چیمبر میں وفاقی کابینہ کا اجلاس اتوار کے روز ہوا۔

    واضح رہے کہ کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ رات اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ مسودہ میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کو شامل کرلیا گیا ہے۔

    جبکہ ترامیم کی ایوان سے منظوری کے لیے آج سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

  11. بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہی کے مناظر

    لبنان کے دارالحکومت بیروت پر تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بیروت پر اسرائیل کے اس حملے کے بعد سامنے آنے والی چند تصاویر:

  12. یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری

    حماس کے زیرِِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ بیت لاہیہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ گُنجان آباد تھا اور منہدم ہو جانے والی عمارتوں کے ملبے تلے لوگوں کے دب جانے کا خدشہ ہے۔

    اقوام متحدہ نے شمالی غزہ میں اسرائیلی کی بمباری کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ علاقے میں پھنسے لاکھوں افراد کے لیے ضروری سامان ختم ہو رہا ہے جس کا اسرائیلی انتظامیہ نے بھی اعتراف کیا ہے۔

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری فضائی اور زمینی کارروائی کو دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اس علاقے میں اپنی کارروائیوں کمی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    تازہ فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اسرائیل کی جانب سے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    بین الاقوامی دُنیا سے متعدد رہنماؤں کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے مطالبے کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بار پھر حماس کے خلاف جنگ جیتنے تک لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ساحلی شہر قیصریہ میں اپنے گھر پر ڈرون حملے سے متعلق بھی بات کی ہے۔

  13. آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی تگ و دو، آئینی ترمیم اب بھی تاخیر کا شکار

    26ویں آئینی ترمیم سے متعلق ہم گزشتہ کئی دنوں سے سُنتے آرہے ہیں کہ اس کی منظوری کے لیے اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ مگر اسی غرض سے ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اب تک متعدد مرتبہ ملتوی ہو چُکا ہے۔

    اب بھی سنیچر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق خبر آئی کے رات ساڑھے نو بجے ہوگا، پھر خبر آئی کے اب یہ اجلاس اتوار یعنی آج دوپہر دو بجے ہوگا تاہم قومی اسمبلی کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ اعلامیے میں اب ایک مرتبہ پھر سے اس کے وقت میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب قومی اسمبلی کا اجلاس شام چھ بجے ہوگا۔

    یہ سب تو ایک جانب مگر اس سب کے درمیان ہوتا کیا رہا؟ تو ہوتا یہ رہا کہ حکومت اور اس کے اتحادی اس ترمیم کی منظوری کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد پوری کرنے کی کوشش میں رہے۔

    کبھی پاکستان مُسلم لیگ ن کا وفد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے پہنچا تو کبھی انھیں منانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اُن کی رہائش گاہ پہنچے۔

    تاہم اس سب کے بیچ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا وفد بھی مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچا اور مجوزہ آئینی ترمیم کے بل پر مذاکرات ہوئے۔

    پھر یہ بھی خبریں سامنے آئیں کہ مسودے پر اتفاقِ رائے ہو گیا مگر اس کے باوجود اب تک معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔

    تو ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتفاق رائے کے دعوؤں اور اعلانات کے باوجود اس آئینی ترمیم کے پیش ہونے میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں؟

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف میں 26ویں آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے اور اس امید کا اظہار کیا گیا تھا کہ شاید اب مولانا کے ڈرافٹ پر پی ٹی آئی بھی مان جائے گی۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی نے سنیچر کے روز عمران خان سے مشاورت کی اور شکر ہے کہ یہ ملاقات ہو گئی۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کو بھی قائل کر لیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان سے میری آئینی ترمیم پر بات جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمان جیسا ڈرافٹ چاہتے تھے ویسا ہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمان خود مسودہ پیش کریں، یہ مسودہ جتنا پیپلز پارٹی کا ہے اتنا ہی جے یو آئی کا بھی ہے۔‘

    ’آئینی ترمیم کا اونٹ آج بیٹھ جانا چاہیے‘

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے سنیچر کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں آئینی ترمیم پیش کیے جانے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا اور کہا کہ ’آج یہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا تو خیمہ پھاڑ کر نکلے گا، یہ اونٹ اب بیٹھ جانا چاہیے تاکہ ہم حلقوں میں جا کر عوام کی خدمت کریں، ہم نے نچلی سطح پر اداروں کو بااختیار نہ بنایا تو یہ ساری محنت بے کار ہو گی۔‘

    ’آئینی ترمیم سنجیدہ معاملہ ہے جلدبازی میں نہ کیا جائے‘

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان سے سنیچر کے روز ہونی والی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’سابق وزیرِ اعظم عمران خان آئینی ترمیم پر ہونے والی پیش رفت سے قطعی لاعلم تھے اور انھوں نے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہم نے عمران خان سے مولانا کے ساتھ بات چیت کا ذکر کیا لیکن ہماری بات مکمل نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا ہمیں ملاقات کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت بتایا گیا تھا لیکن 45 منٹ بعد ملاقات ختم کروا دی گئی۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ وہ آئینی ترمیم کے حتمی مسودے پر عمران خان کو آگاہ کرنے کے بعد ہی اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

    تاہم پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’جب بھی آئینی ترامیم ہوئی ہیں اس طرح کی مشکلات آتی ہیں اور تمام پارٹیوں کو منانے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس وقت بھی ہو رہی ہے۔‘

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’نمبر پورے ہیں کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان مان جائیں اور اگر وہ نہ بھی مانے تو نمبر پورے ہیں۔‘

  14. 26ویں آئینی ترمیم کا معاملہ: حکومت اس ترمیم سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟

    حکومت اور اُس کے اتحادی گزشتہ کئی دنوں سے 26ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کی کوشش میں ہیں۔ کبھی تو معاملہ آجاتا ہے کہ آیا حکومت کے پاس اس ترمیم کو منظور کروانے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد مکمل ہے بھی یہ نہیں اور کبھی بات نکل پڑتی ہے کہ آخر اس آئینی ترمیم کے مسودے میں ایسا کیا ہے کہ جس پر حکومت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

    مگر یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کو 26ویں آئینی ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی اور وہ اس آئینی ترمیم سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟

    آئینی و پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے حامی ججوں کو نہ صرف سپریم کورٹ میں بلکہ ان کو زیادہ طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ججز جن کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن کا خیال ہے کہ یہ ان کے ججز نہیں، ان کے اختیارات کو کم کر کے کوئی انتظام کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بدقسمتی ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ میں تقسیم کا ایک ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ہمارے جج ہیں اور یہ آپ کے جج ہیں۔‘

    احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت کی جانب سے اس آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد ایسا انتظام کرنے کی کوشش ہے کہ سپریم کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کا ایک ایسا آئینی بینچ ہو جس کو بلانے اور رکھنے کے اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوں۔‘

    ’حکومت کی کوشش ہے کہ اگر آئینی عدالت کا قیام ممکن نہیں ہو پاتا تو کم از کم ایک آئینی بینچ کے ذریعے ایک ایسا نظام بنایا جائے جو آئینی معاملات کو دیکھے اور اس کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات سے کسی حد تک باہر نکال دیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو اس وقت اس بات کا خوف ہے کہ نئے بننے والے متوقع چیف جسٹس کوئی ایسا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں جس سے حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جائے اور حکومت اس وقت یہ عدم استحکام نہیں چاہتی اس لیے یہ تمام انتظام کیا جا رہا ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس انتظام سے عدلیہ کی آزادی پر اتنا فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جوڈیشل کمیشن میں حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کے ساتھ ساتھ دیگر رکن اور سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز بھی شامل ہوں گے اور وہاں مشترکہ فیصلہ سازی ہو گی۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت اور پارلیمنٹ یہ محسوس کرتی ہے کہ ماضی میں عدلیہ نے اپنی مرضی کے ایسے فیصلے دیے ہیں کہ جن کی توجیح کرنا مشکل تھی اس لیے اب عدلیہ کو فری ہینڈ نہیں دیا جا سکتا۔‘

  15. 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ: دو تہائی اکثریت کے لیے کتنے ووٹ درکار اور موجودہ نمبر گیم

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد کے پاس مجوزہ آئینی ترامیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت کے لیے ’نمبرز پورے ہیں، اس کے باوجود ہماری کوشش ہے مکمل اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے۔‘

    ادھر تحریک انصاف نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی مجوزہ آئینی کی مخالفت کی ہے۔

    قومی اسملبی میں حکومتی اتحادی اراکین کی تعداد 215 ہے جبکہ آئینی ترمیم کے لیے درکار نمبر 224 ہیں۔ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی اراکین میں مسلم لیگ ن کے پاس 111، پیپلزپارٹی 70، ایم کیو ایم پاکستان 22، ق لیگ 5 اور استحکام پاکستان پارٹی کے چار اراکین شامل ہیں جبکہ نیشنل پارٹی، ضیا لیگ اور بی اے پی کا ایک ایک رکن بھی حکومت کے پاس ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 215 بنتی ہے۔

    تاہم آئینی ترمیم کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ ووٹ اہمیت کا حامل ہیں، حمایت ملنے پر یہ تعداد 223 تک پہنچ جاتی ہے۔

    اس کے باوجود حکومی اتحاد کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ایک اور اور ووٹ کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں حکومت کی توجہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی جانب ہے جن کی تعداد آٹھ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کی شب پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اراکین کی تعداد مکمل ہے۔

    دوسری جانب سینیٹ میں حکومت کو آئینی ترمیم کے لیے 64 ووٹ درکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 24، مسلم لیگ ن کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے چار اور ایم کیوایم کے تین ارکان کے ساتھ ساتھ حکومتی بینچز پر دو آزاد سینیٹرز کی موجودگی کے بعد آئینی ترمیم کی حمایت میں 52 ووٹ بنتے ہیں۔

    اپوزیشن بینچز پر اس وقت جے یو آئی کے پانچ، اے این پی کے تین جبکہ مسلم لیگ ق، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک، ایک رکن موجود ہے۔

  16. تحریک انصاف کا آئینی ترمیم کے بل پر ووٹنگ کے بائیکاٹ اور بھرپور احتجاج کا فیصلہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر آج ہونے والی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے خصوصی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی نے نہایت غیرشفاف اور متنازعہ ترین انداز میں دستور میں ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں آئینی ترمیم پر رائے شماری/ووٹنگ کے عمل کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ تاہم پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رائے شماری میں حصہ لینے والے تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

    پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’انتخاب پر کھلا ڈاکہ ڈالنے اور عوام کا مینڈیٹ ہتھیا کر ایوانوں پر قابض ہونے والے گروہ کے پاس آئین کو بدلنے کا کوئی اخلاقی، جمہوری اور آئینی جواز نہیں۔‘

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مینڈیٹ چور سرکار اور اس کے سرپرست آئین میں ترامیم کے ذریعے ملک میں جنگل کے قانون کو نافذ کرنا اور جمہوریت کو زندہ درگور کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تحریک انصاف دستور کا چہرہ مسخ کرنے کے اس بیہودہ عمل اور اس پر دونوں ایوانوں میں رائے شماری سے مکمل طور پر الگ رہے گی، نہ صرف یہ بلکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ٹکٹس پر سینٹ اور قومی اسمبلی کا حصہ بننے والے اراکین پارٹی پالیسی اور عمران خان کی ہدایت پر عمل کے پابند ہیں۔‘

  17. غزہ میں اسرائیلی افواج کے حملے جاری، 73 فلسطینی ہلاک درجنوں زخمی

    حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے بیت لاہیا شہر میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے 73 افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے 73 افراد کے علاوہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور تاہم متعدد لوگوں کے ملبے تلے دبنےکا خدشہ بھی ہے۔

    اسرائیل نے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ آئی ڈی ایف کی جانب سے حماس کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار کو ’مبالغہ آمیز‘ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے یہ تازہ حملے شہر میں قائم انڈونیشیا کے ہسپتال میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ’شدید فائرنگ‘ کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد ہوئے ہیں۔

    غزہ کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ بیت لاہیا میں امدادی سرگرمیاں فی الحال علاقے میں مواصلات اور انٹرنیٹ کی سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے مُشکلات کا شکار ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام سرکاری میڈیا نے کہا کہ اسرائیلی کی جانب سے غزہ کے ایک گنجان آباد علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 73 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور درجنوں زخمی ہیں۔ تاہم بی بی سی حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق حملوں میں ایک رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ’حماس کے ایک اہم ٹھکانے‘کو نشانہ بنایا ہے اور ’شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں اس علاقے میں عملی طور پر کوئی امداد نہیں پہنچی۔ اسرائیل کے اپنے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ستمبر کے مقابلے میں غزہ کو پہنچنے والی امداد میں کمی آئی ہے۔

  18. عمران خان نے کہا کہ آئینی ترمیم سنجیدہ معاملہ ہے، مولانا سے مشاورت جاری رکھی جائے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان آئینی ترمیم پر ہونے والی پیش رفت سے قطعی لاعلم تھے اور انھوں نے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی۔

    اسلام آباد میں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے عمران خان سے مولانا کے ساتھ بات چیت کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا ہمیں ملاقات کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت بتایا گیا تھا لیکن 45 منٹ بعد ملاقات ختم کروا دی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم مولانا سے مشاورت جاری رکھیں، آئینی ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اسے جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔‘

  19. قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم اجلاس، سکیورٹی کے سخت انتظامات

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے آج ہونے والے 26ویں آئینی ترمین سے متعلق اہم اجلاس کے پیشِ نظر قومی اسملبی کی سکیورٹی سے متعلق خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنا پر قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے پیش نظر قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم صرف میڈیا کے ان نمائندوں کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت ہو گی جن کے پاس ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب جاری کردہ فل سیشن پریس گیلری کارڈ موجود ہونگے۔

    ترجمان قومی اسمبلی ون ڈے پریس گیلری کارڈ جاری کرنے پر سختی کی گی ہے اور آج کے اجلاس کے لیے ون ڈے پریس گیلری کارڈ جاری نہیں کیے جائیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے 1 نمبر گیٹ پر کوریج کرنے والے کیمرہ مینوں کی انٹری مرتب کردہ لسٹ کے ذریعے ہو گی۔

  20. پارلیمان میں آئینی ترمیم کے بِل پر ووٹنگ آج، مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے جواب کے منتظر

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج 26ویں آئینی ترمین پر ووٹنگ کا عمل ہوگا۔ اسی سلسلے میں قومی اسمبلی اور سینٹ کا اجلاس آج شام چھ بجے ہوگا۔

    گزشتہ شب پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس میں مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    سنیچر کی رات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ ’کابینہ کو بِل کے مسودے پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے اتوار کی دوپہر ڈھائی بجے تک کا وقت لیا ہے تاکہ اراکین اس پر اپنی رائے قائم کر سکیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں آئینی ترمیمی بِل کے مسودے کی منظوری لی جائے گی۔

    وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ’کابینہ اور اتحادی جماعتوں نے کہا ہے کہ اب اس معاملے کو ہر صورت میں سمیٹنا ہے۔ اتوار کو جو (قومی اسمبلی اور سینیٹ کے) اجلاس ہوں گے اس میں بِل متعارف کروائیں گے اور اس پر ووٹنگ کروائی جائے گی۔‘

    خیال رہے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس اتوار کی دوپہر تین بجے تک ملتوی کیے گئے تھے۔

    اس سے قبل اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ’جمعیت علمائے اسلام اور پی پی پی نے 26ویں آئینی ترمیمی بِل کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے تاہم پاکستان تحریکِ انصاف پی ٹی آئی نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے کل (اتوار) تک کا وقت مانگا ہے۔‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’آئینی بل کا مسودہ جب ہماری طرف سے مکمل ہوا اور ہم نے اس کا حتمی ڈرافت تیار کرلیا تو پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی کہ وہ عمران خان صاحب سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی تائید اور منظوری حاصل ہوسکے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی سینچر کو دوپہر میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور انھوں اس کی تفصیلات اپنی پریس کانفرنس میں بھی بتادی ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے پاس جو بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچایا گیا ہے اس میں ایک مثبت لہجے اور رویے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس بات کی ضرورت پی ٹی آئی کو تھی کہ وہ اس معاملے پر سینیئر اراکینِ پارلیمنٹ اور پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داران سے بھی مشاورت کریں۔ انھوں نے مشاورت کے لیے کل کا دن مانگا اور ہم نے ان کی خواہش کا احترام کیا ہے۔‘