محمد سکینہ ملبے اور سریے کے ڈھیر سے باہر نکلے
تو ان کے ہاتھ میں صرف پلاسٹک کے کچھ تھیلے تھے۔ بس یہی بچا تھا ان کے اس گھر میں جس
میں انھوں نے 45 برس پہلے رہائش اختیار کی تھی۔
گذشتہ رات ایک اسرائیلی حملے میں یہ گھر تباہ
ہوگیا تھا۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس حملے میں چار بچوں سمیت 18 افراد ہلاک
ہوئے ہیں۔
اس فضائی حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی
تھی اور یہ ہوا بھی ایک ایسے علاقے میں جسے لوگ محفوظ سمجھ رہے تھے۔
یہ علاقہ لبنان کے سب سے بڑے رفیق حریری سرکاری
ہسپتال سے صرف 150 میٹر کے فاصلے پر بیروت میں واقع ہے۔
جس وقت یہ حملہ ہوا محمد سکینہ اور ان کا خاندان
سو رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کیا ہوا۔
حملے کے بعد ہم نے دھماکوں کی آواز سُنی اور سب کچھ ہم پر گِر گیا، پتھر، لوہا،
خون اور گوشت کے ٹکڑے۔ آپ بول نہیں پاتے، سانس نہیں لے پاتے، آپ کو آکسیجن نہیں
ملتی۔‘
ان کے مطابق ان کے پانچ پڑوسی اب بھی ملبے تلے دبے
ہیں۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی تھے جو مارے گئے اور ان میں ایک 19 سالہ لڑکی بھی تھی
جو گھر کے دروازے کے باہر بیٹھی تھی۔
اس حملے میں محمد سکینہ کے ہاتھ پر چوٹ آئی اور
ان کا 20 سالہ بھتیجا اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج ہے۔
محمد سکینہ کہتے ہیں کہ ’اس کا آدھا دماغ پھٹ
چکا ہے۔‘
محکمہ شہری دفاع کے ایک کارکن نے ہمیں بتایا کہ
اسرائیلی حملے میں چھ عمارتیں ڈھے گئی ہیں اور یہ سب تین یا چار منزلہ عمارتیں تھیں۔
اس مقام پر ایک برقع پوش خاتون اپنا ہاتھ سر پر
رکھے بےچینی کی حالت میں زمین پر بیٹھی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ: ’یہاں کوئی حزب
اللہ نہیں، ہم سب عام شہری ہیں۔‘
اسرائیلی فضائی حملے کی شدت کے حوالے سے ایک اور
پڑوسی کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ہوا میں اُڑ گئے تھے۔‘
اس بات چیت کے کچھ ہی منٹوں بعد عمارتوں کے ملبے
سے لوگوں کی مزید باقیات برآمد ہوئیں جنھیں ایک کالے بیگ میں ڈال کر لے جایا گیا۔
میں نے محمد سکینہ سے پوچھا کہ ان کو کیا لگتا
ہے کہ اسرائیل اس گنجان آباد علاقے میں کس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ غصے میں بھرّائی
ہوئی آواز میں انھوں نے جواب دیا: ’وہ ہر چیز کو ایسے ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
’وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ یہاں بچے موجود
ہیں۔ یہاں بندوقیں کہاں ہیں؟ یہاں راکٹس کہاں ہیں؟ اندھے ہیں اسرائیلی دشمن، اندھے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’ہسپتال
کے قریب حزب اللہ کے دہشتگرد‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے کسی
بھی قسم کی مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
رفیق حریری ہسپتال کے ڈائریکٹر جہاد سعدی کا
کہنا ہے کہ ہسپتال کو بھی فضائی حملے میں معمولی نقصان ہوا ہے، لیکن وہاں اب بھی لوگوں
کو طبّی امداد دی جا رہی ہے۔
اس مقام سے تقریباً دو کلومیٹر دور الساحل
ہسپتال بھی واقع ہے جسے گذشتہ رات خالی کروا لیا گیا تھا۔
الساحل ہسپتال کے جنرل منیجر کا کہنا ہے کہ ’ہم
نے اسے فوری طور پر خالی کیا۔ ہم کسی کی بھی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘
اس ہسپتال سے فوری طور پر 10 مریضوں اور 50
ملازمین کو اس وقت منتقل کیا گیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہاں زیرِ زمین
حزب اللہ کا بنکر موجود ہے جس میں عسکری تنظیم کی دولت موجود ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے
کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری
کا کہنا تھا کہ ’اس بنکر میں لاکھوں ڈالر نقد اور سونا موجود ہے۔‘
اس ہسپتال میں انتظامیہ کے افراد اور ڈاکٹرز اس
لیے جمع ہوئے تاکہ ’اسرائیل کے جھوٹے الزام‘ کی تردید ہو سکے۔ انھوں نے بی بی سی
کی ٹیم کو ہسپتال کا دورہ کروایا اور زیرِ زمین دو فلورز بھی دکھائے۔
یہ ہسپتال بیروت میں حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے
والے علاقے میں واقع ہے لیکن ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کا عسکری تنظیم سے کوئی
تعلق نہیں ہے۔
الساحل ہسپتال کے جنرل منیجر نے بی بی سی کو
بتایا کہ ’یہ بہت ہی عجیب سی بات ہے کہ الساحل ہسپتال لبنان کی کسی جماعت سے منسلک
ہے۔‘
انھوں نے اسرائیل کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے
کہا کہ ’یہ ہسپتال 40 برس قبل ایک پُرانے گھر میں بنایا گیا تھا۔‘
’اس کے نیچے کوئی بھی سُرنگ یا بنکر ہونا ناممکن
ہے۔ دُنیا کا کوئی بھی شخص خود آ کر یہاں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔‘
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بی بی سی کو بھی کہا
گیا کہ ہم اس مقام پر چپّہ چپہّ دیکھ سکتے ہیں۔ اس ہسپتال میں ہمیں مرہم پٹیوں کے ڈبے
اور سرجیکل مصنوعات کھول کھول کر دکھائی گئیں۔
اس موقع پر ہمیں ہسپتال میں آزادانہ نقل و حمل
کی بھی اجازت دی گئی۔ یہاں ہم نے خالی کمرے دیکھے، پریشان ملازمین دیکھے مگر کسی
بنکر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس بنکر کا داخلی دروازہ
پڑوس میں واقع ایک اور عمارت میں موجود ہے۔ ہم اس عمارت کے اندر بھی گئے لیکن وہاں
بھی ہمیں کوئی خفیہ بنکر یا اس کا دروازہ نہیں مل سکا۔
یہاں صرف ایک لفٹ کا دروازہ موجود تھا جسے ہم
کھول نہیں سکے۔ لیکن یہ دروازہ مستقل بند نہیں تھا اور اس بات کا امکان بھی کم ہے
کہ یہاں کوئی سونے سے بھرا ہوا خفیہ کمرہ ہو۔
جیسے ہی ہم ہسپتال سے باہر نکلے ہمیں اپنے سروں
پر ایک اسرائیلی ڈرون گھومتا ہوا نظر آیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ ’کمپاؤنڈ
کی نگرانی کر رہی ہے اور ہسپتال پر حملہ نہیں کرے گی۔‘
فی الحال الساحل ہسپتال بند ہے لیکن ڈاکٹرز
چاہتے ہیں کہ وہ واپس مریضوں کا علاج کر سکیں۔
اس ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید نے بی
بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگوں کی مدد کرنے والا ایک ادارہ ہیں اور اس کے بانی میرے
والد تھے۔ یہ میرا گھر ہے اور مجھے امید ہے کل ہم اس دوبارہ کھول سکیں گے۔‘
لیکن اسرائیل کا اپنا ایک جنگی شیڈول ہے۔ اس کی
فضائیہ نے بیروت پر پھر ایک حملہ کیا اور یہ حملہ ہسپتال سے قریب ہی ایک مقام پر
ہوا تھا۔
حزب اللہ کے ترجمان نے اس وقت ایک غیرمعمولی
پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔ ابھی یہ پریس کانفرنس چل ہی رہی تھی کہ اسرائیلی
فوج نے ایک اور انتباہ جاری کردیا اور لوگوں کو کہا کہ وہ ان عمارتوں سے دور رہیں
جو ’حزب اللہ کے ٹھکانوں کے قریب واقع ہیں۔‘
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ایک اور حملے میں دو
مزید عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔
یہاں واقع گھروں اور ہسپتالوں میں لوگ شدید خوف
زدہ ہیں۔