آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وکلا سے ملاقات نہ کروا کر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی، عمران کو آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کر سکیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

خلاصہ

  • ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ حملے میں کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے
  • ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
  • ترکی کے شہر انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان بنانے والی سرکاری کمپنی پر دہشت گرد حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے
  • ترک حکومت نے انقرہ حملے کی عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں
  • اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے انٹیلیجنس کمانڈر علی حسین ہزیما کے ہمراہ ہلاک کیا گیا تھا۔
  • صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی

لائیو کوریج

  1. بیروت میں ہپستال کے قریب اسرائیلی حملے میں بچے سمیت چار افراد ہلاک: لبنانی وزارتِ صحت, آئن کیسی، بی بی سی نیوز

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی بیروت میں سرکاری ہسپتال کے قریب ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ بظاہر یہ حملہ رفیق حریری یونیورسٹی ہسپتال کی کار پارکنگ میں ہوا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق اس حملے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے پیر کی شام کو جنوبی بیروت پر کم از کم 13 فضائی حملے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں حزب اللہ سے جُڑے املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایک اسرائیلی فوج کے ترجمان نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ جنوبی بیروت میں کچھ مقامات سے دور رہیں۔ تاہم رفیق حریری ہسپتال ان مقامات کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔

    جنوبی بیروت کا علاقہ ضاحیہ بھی ان علاقوں میں شامل تھا جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ یہاں بنائی گئی ویڈیوز میں لوگوں کو گاڑیوں میں اور پیدل علاقہ چھوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے جن مقامات کو بطور اپنا ہدف ظاہر کیا تھا اس میں سے ایک جگہ لبنانی ایئرپورٹ سے صرف 400 میٹر دور ہے۔ مقامی میڈیا پر نشر کی گئی تصاویر میں ایئرپورٹ کی عمارت میں ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    دوسری جانب ایک اور بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ جنوبی بیروت کے ایک اور ہسپتال کے نیچے حزب اللہ کا ایک بنکر واقع ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے دعویٰ کیا کہ ساحل ہسپتال کے اندر واقع بنکر میں لاکھوں ڈالر کیش اور سونا رکھا گیا ہے جس کا استعمال اسرائیل پر حملوں میں کیا جا رہا ہے۔

    ساحل ہسپتال کے ڈائریکٹر نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے اور لبنانی فوج سے وہاں جانچ پڑتال کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

  2. 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا کیا کردار ہے؟

    پاکستانی پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے ایک 12 رُکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس کا پہلا اِن کیمرا اجلاس آج شام چار بجے طلب کیا گیا ہے۔

    26 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں قائم کی گئی اس کمیٹی میں قومی اسمبلی کے آٹھ اور سینیٹ کے چار اراکین شامل ہیں۔

    اس میں قومی اسمبلی سے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، رانا انصر، بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ محمد حامد رضا شامل ہیں۔ جبکہ سینیٹ سے فاروق ایچ نائیک، اعظم نذیر تارڑ، سید علی ظفر اور کامران مرتضیٰ کو شامل کیا گیا ہے۔

    یاد رہے (پاکستان تحریک انصاف) پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا، تاہم اس کمیٹی میں ان کے تین اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کے بعد سینیارٹی کے اصول کے تحت سپریم کورٹ کے سب سے سینیِئر جج منصور علی شاہ کو نیا چیف جسٹس بننا تھا لیکن 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس اہم عہدے پر تقرری کا طریقہ کار بدل گیا ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 175 اے میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری کے حوالے سے ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق تین میں ترمیم کے بعد اب صدرِ پاکستان سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج کو چیف جسٹس مقرر نہیں کریں گے بلکہ اس عہدے پر تقرری کے لیے اب عدالت عظمیٰ کے تین سینیئر ججوں کے نام خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور یہی کمیٹی نئے چیف جسٹس کی تقرری کی سفارش وزیر اعظم کو کرے گی۔

    اس کے بعد وزیرِ اعظم کی جانب سے کمیٹی کی سفارش صدرِ پاکستان کو بھیجی جائے گی اور وہ نئے چیف جسٹس کی تقرری کریں گے۔

    خیال رہے اس وقت سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔

    یہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی آئین کے آرٹیکل 175 میں شامل کی گئی نئی شق تھری اے کے تحت قائم کی گئی ہے۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے آٹھ جبکہ سینیٹ سے چار افراد کو شامل کیا جائے گا۔

    اس شق کے مطابق اگر چیف جسٹس کی تقرری کے وقت قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہو تو اس خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے تمام اراکین سینیٹ سے شامل کیے جائیں گے۔

    آرٹیکل 175 کی شق تھری بی کے مطابق اس کمیٹی میں سیاسی جماعتوں کو نمائندگی ان کی پارلیمنٹ میں نشستوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔ سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما اس کمیٹی میں شمولیت کے لیے اپنے اراکین کے نام چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھیجیں گے۔

    آئین کے آرٹیکل 175 کی شق تھری سی کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے پہلے نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے حوالے سے سفارش مرتب کرنے کی پابند ہے۔

    اس شق کے مطابق نئے چیف جسٹس کی سفارش کو حتمی شکل دینے کےلیے کمیٹی کے دو تہائی اراکین کا کسی ایک نام پر متفق ہونا ضروری ہے۔

    تاہم اس بار خصوصی پارلیمانی کمیٹی نئے چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے اپنی سفارش اگلے تین دنوں میں بھیجے گی۔

  3. اسرائیل کا دمشق میں حزب اللہ کے مالیاتی امور کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیر کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک فضائی کارروائی میں حزب اللہ کے مالیاتی امور کے سربراہ کو ہلاک کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے دمشق میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم شام اور ہر جگہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

    ادھر شام کی وزارت دفاع کے مطابق اسرائیلی حملے میں دو شہری ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ ایک بیان میں اس کا کہنا تھا کہ ’دشمن اسرائیل نے رہائشی علاقے المزہ میں فضائی حملہ کر کے ایک شہری کی کار کو نشانہ بنایا۔‘

    شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس علاقے میں متعدد سفارتخانے اور سکیورٹی ایجنسی کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔ اس حملے میں گاڑی پوری طرح تباہ ہوگئی جبکہ قریبی ہوٹل کو بھی نقصان پہنچا۔

    گذشتہ شب اسرائیل نے بیروت اور دیگر مقامات پر حزب اللہ سے جڑے ایک بینک کی شاخوں پر بمباری کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب اس گروپ کی مالیاتی بنیادوں کو تباہ کر رہا ہے۔

    حزب اللہ لبنان میں معمولات زندگی کے بہت سے شعبوں جیسے مالیات کا حصہ ہے تاہم اسرائیل لبنان کے سماج سے اس کا یہ کردار ختم کرنا چاہتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیے

  4. نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے اجلاس طلب، پارلیمانی کمیٹی میں بیرسٹر گوہر بھی شامل

    پاکستان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اِن کیمرا اجلاس منگل کی شام چار بجے طلب کیا گیا ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں پیر کو آٹھ ارکان قومی اسمبلی اور چار سینیٹرز پر مشتمل ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

    اس میں قومی اسمبلی سے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، رانا انصر، بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ محمد حامد رضا شامل ہیں۔ جبکہ سینیٹ سے فاروق ایچ نائیک، اعظم نذیر تارڑ، سید علی ظفر اور کامران مرتضیٰ کو شامل کیا گیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت قانون کی جانب سے منگل کو سپریم کورٹ کے تین ججز کی سمری اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔

    اس وقت جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحیی آفریدی سپریم کورٹ کے سینیئر جج ہیں اور ان تین میں سے یہ پارلیمانی کمیٹی دو تہائی کی اکثریت سے کسی بھی ایک نام پر متفق ہوئی تو اسے پاکستان کا نیا چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔

    پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 26ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی تھی تاہم چیف جسٹس کا تقرر کرنے والی کمیٹی میں اس جماعت کے سربراہ بیرسٹر گوہر اور سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا بھی شامل ہیں۔

    تاہم پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم کا ایکس پر کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کی جماعت خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کرے گی۔

  5. شمالی غزہ میں جینا ناممکن ہے: اقوام متحدہ, جونا فشرت بی بی سی نیوز،یروشلم

    اقوام متحدہ نے غزہ میں انسانی المیے کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متبنہ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیل کے اقدامات جبری نقل مکانی کا باعث بن رہے ہیں اور مقامی آبادی کی ’موت اور تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

    اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفترکی جانب سے کہا گیا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں اسرائیلی فوج کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات نے شمالی غمہ میں جینا محال کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں یکم اکتوبر سے 14 اکتوبر تک اشیائے ضروریی کا داخلہ روکنا بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے تمام شہریوں سے شمالی غزہ سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں نے لوگوں کے لیے نقل مکانی کرنا انتہائی خطرناک بنا دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے تینوں ہسپتالوں میں رسد اور ایندھن کی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔

  6. ہمارے دل ملک کا دفاع کرنے والے اپنے فوجیوں اور ہیروز کے ساتھ ہیں: سارہ نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے حزب اللہ کی طرف سے سنیچر کے روز ان کے گھر پر ڈرون سے حملہ کرنے کی حالیہ کوشش کے بعد پہلی بار اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صرف ان پر نہیں بلکہ سارائیل کی عوام پر ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے گھر پر لبنان سے ڈرون حملہ کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔

    ترجمان کے مطابق نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں تھے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ شمالی اسرائیل کے علاقے قیصریہ میں واقع ہے۔

    اپنے بیان میں سارہ نیتن یاہو نے اسرائیل کے عوام اور دنیا کے دیگر حصوں کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’اسرائیل کے وزیر اعظم اور مجھے قتل کرنے کی کوشش صرف ذاتی حملہ نہیں ہے بلکہ ہم سب پرپوری عوام پر حملہ ہے جو اسرائیل اور ہمارے لوگوں کے راستے اور اقدار پر کیا گیا۔‘

    اس سے قب لوزیر اعظم نیتن یاہو نے اس حملے کو اپنے اور ان کی اہلیہ کے خلاف قتل کی کوشش قرار دیا تھا۔

    سارہ نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہمارے دل اپنے فوجیوں اور ہیروز کے ساتھ ہیں جو بغیر کسی روک ٹوک اور بے مثال قربانی اور جرات کے ساتھ ملک کا دفاع کرتے ہیں۔‘

  7. سینئر جج کا بطور چیف جسٹس تقرر نہ کیا گیا تو پی ٹی آئی احتجاج کے لیے نکلے گی: علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈ اپور نے چھبیسویں آئینی ترمیم کی منظوری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی وہ 26 ویں آئینی ترمیم کو ختم کرے گی۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر سینیئر ترین جج کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری نہ کی گئی تو پی ٹی آئی احتجاج کے لیے نکلے گی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے بھی اس کی کثرت رائے سے منظوری دی تھی۔

    جس کے بعد پیر کے روز اس ترمیم کی منظوری کے نوٹیفیکیشن پر صدر مملکت نے دستخط کیے۔

    پی ٹی آئی اس دوران مشاورتی عمل میں تو شامل رہی تاہم عمران حان کی ہدایات پر انھوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

    سوموار کے روز علی امین گنڈ اپور نے مزید کہا کہ وفاق اربوں روپے خرچ کرکے سیاسی انتقام لے رہا ہے، مشکل وقت نے بتا دیا کہ کون ضمیر فروش ہے اور کون ساتھ کھڑا ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے الزام لگایا کہ 26 ویں ترمیم پاس کرکے عدلیہ کو محکوم بنا دیا گیا، غیر آئینی ترمیم سے چند اشرافیہ کو فائدہ ہوگا۔ ہمارا پیچھے ہٹنا ان کی بھول ہے۔

  8. سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی درخواست خارج کردی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی درخواست چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جس دوران سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے۔

    عدالت کے مطابق فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی جا سکی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ فیصلے میں کسی غیر قانونی نکتے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تحریک انصاف کے وکلا نے کیس کے میرٹس پر دلائل ہی نہیں دیے۔

    دوران سماعت بیرسٹر علی ظفر نے روسٹرم پر آکر 26ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ بینچ اب یہ کیس سن ہی نہیں سکتا، نہ ہم اس کے سامنے دلائل دیں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں نہیں معلوم کسی ترمیم کا، ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے، ہمیں نہ بتائیں ہم کیا سن سکتے ہیں اور کیا نہیں۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے نظرثانی درخواست کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی اور کہا کہ کیس لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے کمیٹی کو بھیجا جائے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کا معاملہ ہے، ہم نے قانون کو دیکھنا ہے، نظرثانی درخواست میں عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھانے ہوتے ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا آپ نے اس پوائنٹ کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا، آپ کیس کو چلا لیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا عدالت سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کیس کے فیصلے کا پیراگراف دیکھ لے، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا وہ فیصلہ ہم کیوں دیکھیں،انٹرا پارٹی انتخابات اور معاملہ ہے، وہ الگ معاملہ ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا موجودہ تین رکنی بینچ کیس نہیں سن سکتا، سنی اتحاد کونسل کیس میں 13 رکنی بینچ فیصلہ دے چکا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرثانی زیر التوا ہے، کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیکھیں گے جس پر نظرثانی زیر التوا ہے، آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ جو کہنا ہے منہ پر کہنا چاہیے، ٹیلی ویژن پر بیٹھ نہیں کہنا چاہیے، ہمارے منہ پر جو مرضی کہیں، پیٹھ پیچھے نہیں، آپ نے دلائل کیوں نہیں دینے، جواب دیں؟

    حامد خان نے کہا کہ مجھے دلائل نہیں دینے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ جب نیازی صاحب وزیراعظم تھے تو انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے نوٹس جاری ہوا، تب بھی نہیں کرایا، ایسا تو نہیں کہ آپ لوگ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے دلچسپی نہیں رکھتے اور عوام سے ہمدردی لینا چاہتے ہیں۔ انتخابات کرانے کے لیے تو دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ جس پر حامد خان بولے میں اب وہ کہہ دیتا ہوں جو کہنا نہیں چاہتا تھا، قاضی فائز عیسیٰ نے کہ منہ پر بات کرنے والےکو میں پسند کرتا ہوں۔

    حامد خان نے کہا میں ایسے شخص کے سامنے دلائل نہیں دے سکتا جو ہمارے خلاف بہت متعصب ہو۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتا جبکہ جسٹس مسرت ہلالی بولیں ایک جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں کیوں تاخیر کررہی ہے؟

    انٹرا پارٹی انتخابات کروانا تو ایک ہفتےکا کام ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں گوہر علی خان، نیاز اللہ نیازی، علی ظفر بھی تھے، ان میں سےکوئی دلائل دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے۔ حامد خان بولے میں موجودہ بینچ کے سامنے دلائل دینا ہی نہیں چاہتا۔

    کیس کیلئے نیا بینچ بنے گا تو دلائل دوں گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا چلیں پھر گپ شپ کر لیتے ہیں، آپ کو سننے میں مزہ آتا ہے۔

    حامد خان نے کہا متعصب ہونے کی درخواست تو دی جا سکتی ہے، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا متعصب کیوں؟ جو آئین پر بات کرے متعصب ہو گا؟

    جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ باہر جا کر تقریر کریں۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی درخواست خارج کر دی اور کہا کہ فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی جاسکی۔

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے۔

    جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ’بلا‘ بحال کر دیا تھا۔

    تحریک انصاف نے انٹراپارٹی الیکشن نظرثانی کیس میں کم سے کم پانچ رکنی لارجر بینچ کی تشکیل دینے کی نئی درخواست دائر کی تھی۔

    درخواست میں پی ٹی آئی نے کیس میں آئینی تشریح کا نکتہ موجود ہونے پر لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی۔

  9. حزب اللہ کے بینکوں پر اسرائیل کا حملہ ’اہم اور خوش آئند‘ ہے: حزب اختلاف کے رہنما بینی گینٹز

    لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حزب اللہ سے منسلک بینکوں کی برانچز پر حملوں کو اسرائیل کی کابینہ کے سابق وزیر اور حزب اختلاف کے رہنما بینی گینٹز نے خوش آئند اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

    ایکس پر ایک بیان میں سابق وزیر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ برسوں میں ایران نے حزب اللہ کو سالانہ نصف بلین ڈالر سے زیادہ کی مالی امداد کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب لبنانی فوج کے سپاہی خوراک کی کمی کا شکار ہیں، حزب اللہ فورس کے جنگجو کو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے گرم کھانا اور آسائشیں میسر ہیں۔

    گانٹز نے اسرائیل کے اس ’ایرانی نظام‘ کو ختم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’پیغام واضح ہے ہم آپ کو کہیں بھی، کسی بھی طرح سے ختم کر کے دم لیں گے۔‘

  10. وزیراعلیٰ خیبرپختونحوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے تحریک انصاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    عدالت نے علی امین گنڈا پور کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کی کارروائی کا آغاز کرتےہوئے اخبار میں اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کی مسلسل عدم پیشی پرعدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔

    گزشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی عدم حاضری پر سخت ریمارکس دیے تھے جس میں وکیل صفائی سے کہا گیا تھا کہ ’بغیر کسی وجہ کے ہر مرتبہ ریلیف نہیں دے سکتے، آخری مرتبہ بھی آپ کی مرضی کی تاریخ دی گئی تھی۔‘

    پی ٹی آئی رہنماؤں پر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی جس میں پی ٹی آئی وکلا عدالت پیش ہوئے۔

    پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست عدالت میں پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔

    دوسری طرف عدالت نے عدم پیشی پر علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 21 نومبر کو ہو گی۔

  11. اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کو مالی معاونت فراہم کرنے والے بینکوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے بیروت اور جنوبی لبنان میں مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے زیرِ کنٹرول بیروت کے جنوبی ضلع دہیہ، وادی بیکا اور جنوبی لبنان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    تاہم ابھی ان دھماکوں میں کسی بھی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے 20 سے زائد علاقوں میں رہنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ اُن کی جانب سے ان علاقوں پر حملے کیے جا سکتےہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی حمایت کرنے والے بینکوں اور دیگر اہم اداروں کو نشانہ بنائے گی۔

    اتوار کی شام ایک بیان میں آئی ڈی ایف کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے متنبہ کیا کہ ’حزب اللہ کی سرگرمیوں کی مالی اعانت کے لئے استعمال ہونے والے مقامات کے قریب واقع کسی بھی شخص کو فوری طور پر ان مقامات سے دور ہو جانا چاہئے۔‘

    اسرائیلی ترجمان نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’آنے والے دنوں میں ہم اس بات کا انکشاف بھی کریں گے کہ ایران کس طرح حزب اللہ کی مالی اعانت کر رہا ہے اور سویلین اداروں، تنظیموں اور این جی اوز کو استعمال کرتا ہے۔‘

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ادارہ این این اے نے مشرقی وادی بیکا سمیت بینک القرد الحسن ایسوسی ایشن کی شاخوں پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارہ نے بیروت میں رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بینک کی شاخ پر بھی حملے کی اطلاع دی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہوائی اڈے کے قریب دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔

    اس بینک کی لبنان بھر میں 30 سے زائد شاخیں ہیں جن میں سے 15 بیروت کے گنجان آباد علاقوں میں ہیں۔

  12. 26ویں آئینی ترمیم کی صورت میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے: امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ’26آئینی ترمیم کی صورت میں پاکستان کی جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے اور ایسے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے جیسے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کا بائیکاٹ کر کے اچھا کیا ہے لیکن بہت اچھا ہوتا کہ اگر وہ اس پورے عمل کا حصہ ہی نہ بنتے، اگر وہ ایسا کرتے تو حکومت کو اس طرح اپنے آپ کو پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے بہت افسوس ہے کہ عدالتوں میں ویسے ہی انصاف نہیں مل رہا ہے لیکن اب اس ترمیم کے بعد انصاف کو عدالتوں میں یرغمال بنا لیا جائے گا۔‘

    26ویں آئینی ترمیم سے متعلق حافظ نعیم الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ ’عدلیہ پر قبضہ جمانے کے لیے یہ کارروائی کافی دن سے جاری تھی، پارلیمانی کمیٹی اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ججز کے تقرر کا معاملہ دینا افسوسناک ہے۔‘

    امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ’ہم مشاورت کر رہے ہیں کہ ہم اس آئینی ترمیم کے معاملے میں سپریم کورٹ میں کس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں اور اس معاملے میں ہم اپنے وکلا کے ساتھ مشاروت کر کے آگے بڑھیں گے۔‘

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ یہ اچھا نہیں ہوا ہے، پاکستان میں دوسرے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اس معاملے میں لوگوں کو مصروف کردیا ہے، تاکہ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے۔‘

  13. صدرِ پاکستان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کر دیے، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

    صدرِ پاکستان کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کے بعد اس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے بعد اب یہ ترمیم فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد دونوں نے ایوانوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی جس میں حکومت نے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت ثابت کی۔

    کابینہ اور دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دستاویز کو دستخط کے لیے صدر کو بھجوایا تھا۔

    یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترمیم کی منظوری کے لیے 225 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔

    تاہم چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26ویں آئین ترمیم پر ووٹنگ کی تحریک پیش کی تھی، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا اور اس کے حق میں 65 ووٹ ڈالے گئے تھے۔

  14. اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت سے روکنے کے لیے ترمیم کیوں نہیں لائی جاتی: سردار اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پارٹی کے فیصلے کے برعکس 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اپنی پارٹی کے دونوں سینیٹرز سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ کی اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے دیں۔

    یاد رہے کہ سینیٹ میں اس ترمیم پر ووٹنگ کے عمل کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو سینیٹرز، قاسم رونجھو اور نسیمہ احسان، نے پارٹی پالیسی کے برعکس اور ترمیم کے حق میں ووٹ دیے تھے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’اگر اِن دونوں رہنماؤں نے استعفیٰ نہیں دیا تو پارٹی اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے گی جس کے لیے پارٹی کی جانب سے چیئرمین سینٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ سینیٹر قاسم رونجھو اور اُن کے بیٹے اور خاتون سینیٹر نسیمہ احسان کے شوہر اور بیٹے کو مبینہ طور پر اغوا کر کے ان کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا گیا اور اُن پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔

    تاہم وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وزرا بی این پی کے سربراہ کی جانب سے لگائے جانے والے اس نوعیت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکے ہیں۔

    ’یہاں لنگڑی لولی نہیں بلکہ اپاہج جمہوریت ہے‘

    یاد رہے کہ سینیٹ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین ہیں۔ اُن میں سے قاسم رنجھو سینٹ کے گذشتہ انتخابات میں عام نشست پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ نسیمہ احسان خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب ہوئی تھیں۔

    سردار اختر مینگل نے کہا کہ چونکہ حکومت کے پاس آئینی ترامیم کو منظور کرانے کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں تھی اس لیے انھوں نے اس طرح کے ’شرمناک‘ حربوں کا استعمال کیا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ دبئی میں تھے تو پہلے ان کے سینیٹرز نے ان کو بتایا کہ ان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

    سردار اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ’جب خاتون سینیٹر کو وزیر اعظم کی جانب سے دیے جانے والے عشائیہ میں لایا گیا تو دبئی سے فون پر ان سے میرا رابطہ ہوا تو وہ رو رہی تھیں جس پر میں نے ان کو تسلّی دی اور بتایا کہ میں آ رہا ہوں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جیسے ہی مخالفیں کو میرے وطن واپس پہنچنے کی اطلاع ملی تو انھوں نے ہماری خاتون سینیٹر کو پارلیمنٹ لاجز سے کسی اور مقام پر منتقل کر دیا۔‘

    سردار اختر مینگل نے الزام عائد کیا کہ ’اس کے بعد سے دونوں سینیٹرز اور ان کے رشتہ داروں کے نمبر بند جا رہے تھے لیکن کل ان کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے حصار میں لایا گیا۔‘

    سردار اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ’سینیٹر قاسم رونجھو کو ویل چیئر پر پارلیمان لا کر یہ ثابت کیا گیا کہ یہاں ’جمہوریت لولی لنگڑی نہیں بلکہ اپاہج ہے۔‘

    ’اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت سے روکنے کے لیے ترمیم کیوں نہیں لائی جاتی‘

    سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ ’یہ ترامیم دراصل بعض اداروں کی بالادستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے لائی گئی ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو ادارہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اُن کی اس روش کو روکنے کے لیے کیوں ترامیم نہیں لائی جاتیں؟ تاکہ اُن اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ نہ صرف الیکشن میں مداخلت سے دور رہیں بلکہ سیاسی جماعت اور الائنس بنانے سے بھی پرہیز کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس ملک میں اداروں کی مداخلت کی ایک تاریخ رہی ہے۔ عدلیہ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور پارلیمنٹ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ تو تمام معاملات میں ہی مداخلت کرتی ہے۔‘

  15. 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کون ہیں؟

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل اسی غرض سے ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس متعدد مرتبہ ملتوی ہونے کے ساتھ ساتھ تاخیر کا شکار بھی رہا۔

    تاہم اتوار کو بھی دو مرتبہ وقت کی تبدیلی کے بعد شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26ویں آئینی ترمیم پیش کی۔

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترمیم کی منظوری کے لیے 225 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی اراکین کی تعداد 215 ہے جبکہ اس آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو درکار ووٹرز کی تعداد 224 تھی۔

    حکومت کو قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ چار آزاد اُمیدواروں کی بھی حمایت حاصل تھی۔

    26ویں آئینی ترمیم کی منظور کے لیے حکومتی اتحاد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ جن چار آزاد اُمیدواروں نے ووٹ دیے اُن میں:

    مبارک زیب (این اے 8 باجوڑ)

    1998 میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والے 26 سالہ مبارک زیب نے سابقہ قبائلی علاقے میں قومی اسمبلی (این اے 8 باجوڑ) اور صوبائی اسمبلی (پی کے 22) کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

    یاد رہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات سے کچھ روز قبل این اے 8 باجوڑ کے امیدوار اور مبارک زیب کے بڑے بھائی ریحان زیب کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس حلقے میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا۔

    اگرچہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام اور تصویر استعمال کی تاہم وہ پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر ہی بطور آزاد امیدوار جیت گئے۔ یاد رہے کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی نے مبارک زیب کی بجائے کسی اور آزاد اُمیدوار کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    مبارک زیب کی کامیابی کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ ’ہماری جماعت کی نااہلی ہے، غفلت ہے۔ ہم نے زمینی حقائق کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا اور ریحان زیب کے بھائی کو ٹکٹ نہ دے کر ہم نے بہت بڑی غلطی کی اور جماعت کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

    مبارک زیب نے ایک سابق گورنر اور چار سابق ارکان قومی اسمبلی کو عام انتخابات میں شکست دی۔

    واضح رہے کہ اب 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آج ایوان صدر میں ایک تقریب ہوگی جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اس ترمیم کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے سمری پر دستخط کریں گے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    عثمان علی

    عثمان علی قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ انھیں سنہ 2024 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل تھی اور انھوں نے این اے 142 ساہیوال دو سے کامیابی حاصلی کی تھی۔

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عثمان علی کا سنہ 2024 کے عام انتخابات میں انتخابی نشان ’مور‘ تھا۔

    اورنگزیب خان کھچی

    اورنگزیب خان کھچی کو بھی سنہ 2024 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل تھی اور انھوں نے این نے 159 ویہاڑی چار سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔

    سنہ 2024 کے عام انتخابات میں اورنگزیب کھچی کا انتخابی نشان ’حقہ‘ تھا۔

    ظہور قریشی

    ظہور قریشی کو بھی سنہ 2024 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل تھیاور انھیں نے اسی کی مدد سے این اے 146 خانیوال تین سے کامیابی حاصل کی تھی۔

  16. سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 26ویں آئینی ترمیم منظور

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے بھی اس کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

    سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی، تحریک کی منظوری کے لیے 225 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آج ایوان صدر میں تقریب ہوگی جس میں صدر مملکت اس ترمیم کو آئین کا حصہ بنانے پر سمری دستخط کریں گے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    اس کے بعد ترمیم کی شق وار منظوری دی گئی، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 4 آزاد ارکین نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا، عثمان علی، مبارک زیب خان، ظہورقریشی، اورنگزیب کھچی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری الیاس نے ترامیم کےحق میں ووٹ دیا۔

    حکمران اتحاد کے 215 میں سے 213 ارکان نے ووٹ کیا، عادل بازئی کے علاوہ حکمران اتحاد کے تمام ایم این ایز نے ووٹ دیا، اجلاس کی صدارت کے باعث سپیکر قومی اسمبلی نے اپنا ووٹ نہیں دیا، جے یو آئی (ف) کے 8 ارکان نے ووٹ دیا۔

    بعد ازاں سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 225 ووٹ دیے گئے۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’آج کا دن ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے پاکستان کے منتخب نمائندوں نے پاکستان کے آئین میں 26 آئینی ترمیم کا بل منظور کیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ملک کے منتخب نمائندوں نے مل کر آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے تمام اراکین خراج تحسین کے مستحق ہیں، جن کی مسلسل محنت اور جدو جہد کے ذریعے 26 آئینی ترامیم کی منظوری کا حصول ممکن ہوا۔‘

    سردار ایاز صادق نے کہا کہ ’دونوں ایوانوں سے 26 ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری پارلیمنٹ کی بڑی کامیابی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے 26 آئینی ترمیم کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

  17. ’ترمیم کا سارا عمل آزاد عدلیہ کا گلا گھونٹنے کا عمل ہے‘ عمر ایوب

    26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔

    عمر ایوب کا کہنا ہے میں جو باتیں کروں گا وہ یقیناً یہاں بیٹھے اراکین کو تلخ لگیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ترمیم کا سارا عمل آزاد عدلیہ کا گلا گھونٹنے کا عمل ہے۔‘

    عمر ایوب کا کہنا ہے کہ یہ آئینی ترمیم پاکستانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔

  18. ’اگر جنرل مشرف نے اس ملک پر راج کیا تو اس کی اجازت اس عدالت نے انھیں دی‘ بلاول بھٹو زرداری

    26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے آمرانہ ادوار میں ججز کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ’اگر جنرل مشرف نے اس ملک پر راج کیا تو اس کی اجازت اس عدالت نے انھیں دی۔‘

    ’وہ آئین میں ترمیم لے کر آئے تو عدالت نے اجازت دی، اگر وہ یونیفارم میں صدر کا الیکشن لڑے تو اس کی اجازت بھی اس عدالت نے دی۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے مگر جمہوری دور میں اچانک عدالت کو جمہوریت یاد آ جاتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے ’جب ہم جدوجہد کرکے، قربانیاں دے کر، آمر کو بگھاتے ہیں تو پھر ہماری عدلیہ کو آئین، جمہوریت اور قانون یاد آ جاتے ہیں۔‘

    ’اور یاد آنے پر بھی وہ اپنا اختیار عوام کو انصاف دینے اور آئین و جمہورت کو تحفظ دینے کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ ایک کے بعد ایک وزیراعظم کو فارغ کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’جس کالے سانپ کی آج یہاں بات ہو رہی ہے وہ افتخار چوہدری والی عدالت ہے۔‘

  19. آئینی ترمیم کے پراسس میں سب سے اہم کردار مولانا فضل الرحمن نے ادا کیا: بلاول بھٹو

    26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کے حوالے سے جتنا اتفاقِ رائے حاصل ہو سکتا تھا، وہ ہم نے حاصل کیا ہے اور جن جماعتوں نے ووٹ نہیں دیا، وہ ووٹ دیں نہ دیں یہ ان کی بھی سیاست اور جمہورت کی فتح ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے پراسس میں سب سے اہم کردار مولانا فضل الرحمن کا رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے مولانا نے اس پارلیمان کی عزت رکھنے میں بھی سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور وہ اپنے والد صدر زرداری کے بعد بڑا سیاستدان مولانا فضل الرحمان کو مانتے ہیں۔

  20. بریکنگ, 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری

    پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کو منظور کر لیا ہے جس کے بعد اب اسے ایوانِ زیریں (پارلیمنٹ) میں پیش کیا گیا ہے۔

    ووٹنگ کے لیے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر پارٹیوں کے اراکین پارلیمان چند لمحے قبل اسمبلی پہنچے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب اور سابق سپیکر اسد قیصر نے جمعیتِ علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔