ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کی تحقیقات شروع، ایران کے نئے صدر کا انتخاب آٹھ جولائی کو

ایران میں حکام نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ حسین امیر سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابراہیم رئیسی 19 مئی کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

خلاصہ

  • ابراہیم رئیسی ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ وہ آذربائیجان کی سرحد پر ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپسی پر تبریز جا رہے تھے۔
  • اس حادثے میں ابراہیم رئیسی کے علاوہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور عملے سمیت سات دیگر افراد بھی مارے گئے۔
  • ایرانی حکام کے مطابق حادثہ بظاہر شدید دھند اور خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا تاہم ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
  • ابراہیم رئیسی کی ہلاکت پر ایران میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی ایک دن کا سرکاری سوگ منایا گیا ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ اے نے ملک کے اول نائب صدر محمد مخبر کو دو ماہ کے لیے قائم مقام صدر جبکہ نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی کو عبوری وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔
  • ملک میں نئے صدارتی انتخاب کے لیے آٹھ جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ابراہیم رئیسی ایران میں طاقت کے سر چشمے کے بہت قریب تھے, لیز ڈوسیٹ/بی بی سی

    ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وہ اسلامی جمہوریہ ایران میں طاقت کے سر چشمے کے بہت قریب تھے اور امکان تھا کہ وہ اعلی ترین مقام یعنی اگلے رہبر اعلیٰ بن جائیں گے۔

    مگر ایک ڈرامائی موڑ نے ایسا نہ ہونے دیا۔

    اتوار کو ایرانی صدر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں اچانک موت نے 85 سال کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے افواہوں کو ہوا دی ہے۔ موجودہ رہبر اعلیٰ کی صحت طویل عرصے سے توجہ حاصل کرتی رہی ہے۔

    ایران کے سخت گیر صدر کا افسوس ناک اور غیر متوقع انجام ایرانی پالیسی کو زیادہ تبدیل نہیں کرے گا۔ مگر یہ ایران کے اس نظام کا امتحان لے گا جس میں منتخب اور غیر منتخب قدامت پسند طبقہ غالب ہے۔

    سابق پراسیکیوٹر ابراہیم رئیسی کے ناقدین ان کی وفات کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ 1980 کی دہائی کے دوران سیاسی قیدیوں کو سزائے موت دینے میں ان کا اہم کردار تھا۔ مگر رئیسی اس کی تردید کرتے تھے۔

    ناقدین کو امید ہوگی کہ اس واقعے سے ایران میں برسرِ اقتدار قوتیں اپنے انجام کو پہنچیں۔

    سرکاری اعزاز میں جذبات سے بھری آخری رسومات کے دوران ایران کے روایت پسند حکمران تسلسل کا عندیہ دیں گے۔

    مگر مجلس خبرگان رہبری میں ایک اہم پوزیشن بھرنا بھی مقصود ہوگا جو ابراہیم رئیسی کے پاس تھی۔ یہ کمیٹی نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے۔

  2. ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے مزید تین افراد کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والے مزید تین افراد کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    یہ تینوں افراد ہیلی کاپٹر کے عملے کا حصہ تھے۔ ان میں پائلٹ کرنل سید طاہر مصطفوی، پائلٹ کرنل محسن دریانوش اور میجر بہروز شامل ہیں۔

  3. محمد مخبر دو ماہ کے لیے ایران کے عبوری صدر مقرر

    محمد مخبر

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنپیر کی صبح محمد مخبر نے ایرانی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک کے نائب صدر محمد مخبر نے دو ماہ کے لیے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے۔

    محمد مخبر کی بطور عبوری صدر تقرری کا اعلان پیر کو ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

    ایران کے آئین کے مطابق ملک میں 50 دن کے اندر دوبارہ صدارتی انتخاب کروایا جائے گا۔

    اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق صدر کی موت کی صورت میں، ان کا نائب ’قیادت کی منظوری سے، اپنے اختیارات اور ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، اور اسمبلی کے سپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور عبوری صدر زیادہ سے زیادہ 50 دنوں کے اندر نئے صدر کے انتخاب کا انتظام کرنے کے پابند ہیں۔‘

    ابراہیم رئیسی کے نائب بننے سے پہلے، محمد مخبر دیزفولی تقریباً 15 سال تک ایرانہ کے امیر ترین اقتصادی گروپوں میں سے ایک ’ستاد اجرائی فرمان امام‘ کے ایگزیکٹو سٹاف کے سربراہ تھے۔ یہ گروپ براہ راست اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور کسی بھی ادارے کو جوابدہ نہیں ہے۔

  4. حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر میں کون کون سوار تھا؟

    • ایرانی صدر ابراہیم رئیسی
    • وزیر خارجہ امیر عبداللہیان
    • مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی
    • تبریز کے امام سید محمد الہاشم
    • صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی
    • باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ
  5. بریکنگ, ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک، سرکاری میڈیا

    ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان اور دیگر مسافر اتوار کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ادھر ایران کے چینل خبر نے ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ ’خراب موسمی حالات‘ کو قرار دیا ہے۔

  6. ’صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت‘، ایرانی میڈیا کی اطلاع تاہم سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی

    ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت، سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی

    ،تصویر کا ذریعہTASNIM

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار وزیر خارجہ امیرعبداللہیان سمیت دیگر افراد کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور تسنیم نے ایرانی صدر کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ تاہم اب تک سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    ایرانی صدر نے گذشتہ روز مشرقی آذربائیجان صوبے میں ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔

    اس ہیلی کاپٹر پر صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان، تبریز کے امام محمد علی الہاشم اور مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر کے مسافروں میںفلائٹ کریو، سکیورٹی چیف اور باڈی گارڈ بھی شامل تھے۔

  7. ماضی قریب کے ہیلی کاپٹر حادثے جن میں اہم شخصیات کی ہلاکت ہوئی

    ماضی قریب کے ہیلی کاپٹر حادثے جن میں اہم شخصیات کی ہلاکت ہوئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام پر ’زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔‘

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے ملبے کو ڈھونڈ لیا ہے۔ ایرانی ہلال احمر کے سربراہ نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’صورتحال ناخوشگوار ہے۔‘

    19 مئی کو حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سوار تھے۔

    لیکن یہ اس نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں۔ ماضی میں ایسے بہت سے فضائی حادثات ہوئے ہیں جن میں اہم حکومتی و عسکری شخصیات کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    1۔ 18 جنوری 2023 کو یوکرین کی وزارت داخلہ کی تین اہم شخصیات ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان سمیت کل 14 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    یہ حادثہ دارالحکومت کیؤ کے مشرقی نواحی علاقے میں ایک نرسری کے نزدیک پیش ہوا تھا۔ اس حادثے میں ملک کے وزیر داخلہ ڈینس مونسٹیرسکی، اپنے نائب وزیر اور ریاستی سیکرٹری کے ساتھ ہلاک ہوئے۔

    حکام کے مطابق یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8:30 بجے ہوا۔ ہیلی کاپٹر گرنے سے کل 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    2۔ یکم اگست 2022 کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں پاکستانی فوج کے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس ہیلی کاپٹر کا ملبہ وندر کے علاقے میں موسیٰ گوٹھ سے ملا تھا اور ادارے کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا۔

    اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی اور انجینئرنگ کور کے بریگیڈیئر محمد خالد کے علاوہ عملے کے تین ارکان بشمول پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل تھے۔

    3۔ آٹھ دسمبر 2021 کو انڈین فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور اُن کی اہلیہ سمیت 13 افراد انڈین ریاست تمل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے ہیلی کاپٹر کا رابطہ لینڈ کرنے سے چند منٹ پہلے ہی منقطع ہوا تھا۔

  8. صورتحال غیر واضح لیکن ماضی سے مماثلت, بہمن کلباسی/بی بی سی فارس، نیو یارک

    ایرانی صدر، ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہصورتحال غیر واضح لیکن ماضی سے مماثلت

    اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کی موت کا اعلان آج بھی ان لوگوں کو یاد ہوگا جو سنہ 1980 کی دہائی کے ایران میں رہتے تھے۔ اس جنازے کی تصاویر ہماری یادداشت کا حصہ بن چکی ہے۔

    ایرانی میڈیا لوگوں سے دعائیں مانگنے کی اپیل کرتا رہا۔ ایرانی حکومت کے حامی رات گئے مساجد میں جمع ہوئے۔ مساجد میں ان کی صحت کے لیے دعائیں صبح سویرے سوگ میں بدل گئیں۔ سرکاری نشریات نے سات بجے اپنا اعلان کیا۔

    موجودہ رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر نے بھی ایسے ہی حالات پیدا کیے ہیں۔ تہران میں دعائیں مانگی گئیں اور یہ تسلی دی گئی کہ ملک کے روزمرہ کے کام متاثر نہیں ہوں گے۔

    اگرچہ ہمیں حادثے کے مقام سے واضح معلومات کا ابھی انتظار ہے تاہم یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم اسی راہ پر دوبارہ چل رہے ہیں۔

  9. ہیلی کاپٹر کے ملبے کے ابتدائی فضائی مناظر

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے ملبے کی ڈرون فوٹیج شیئر کی ہے۔

    ہلال احمر کی جانب سے پہاڑی علاقے میں بنائی گئی اس ویڈیو میں ہیلی کاپٹر کی ٹیل کے ساتھ ملبہ نظر آ رہا ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر زندگی کے کوئی آثار نہیں۔

    ہیلی کاپٹر، ایرانی صدر، حادثہ، ملبہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہیلی کاپٹر، ایرانی صدر، حادثہ، ملبہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہیلی کاپٹر، ایرانی صدر، حادثہ، ملبہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہیلی کاپٹر، ایرانی صدر، حادثہ، ملبہ

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

  10. ترک ڈرون نے رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی کھوج کے دوران ’تھرمل سورس‘ معلوم کیا

    ترک ڈرون، تھرمل سورس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حادثے کا ملبہ ملنے سے قبل ایرانی ہلال احمر نے بتایا تھا کہ ترک ڈرون نے متعدد ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی تھی۔

    ترکی کی طرف سے بھیجا گیا یہ ڈرون ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام کو ڈھونڈ رہا تھا۔ علاقے کو سکین کرنے کے بعد اس ڈرون نے ’تھرمل سورس‘ معلوم کیا تھا۔

    ترک ڈرون کی فضا سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک جگہ پر تاریکی ہے۔ اس مقام کی معلومات ایرانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔

  11. بریکنگ, ’ہیلی کاپٹر کے ملبے کے مقام پر زندگی کے کوئی آثار نہیں‘

    ہیلی کاپٹر حادثہ، ایرانی صدر

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام پر ’زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ایرانی اہلکار سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر ’پوری طرح جل چکا ہے۔‘

    ایرانی ٹی وی نے ویڈیو میں لکھا ہے کہ ’تاحال ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے زندہ ہونے کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔‘

    سرکاری چینل کے اینکر نے لائیو نشریات کے دوران کہا کہ ’یہ جملے کہنا مشکل ہیں لیکن اُن کے بچنے کی کوئی علامات نہیں ہیں۔‘

  12. بریکنگ, ریسکیو ٹیم نے ہیلی کاپٹر کے ملبے کا مقام ڈھونڈ لیا، ایرانی سرکاری میڈیا

    ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے ملبے کی نشاندہی کر لی ہے۔

    ایرانی ہلال احمر پیر حسین كليوند کا کہنا ہے کہ اس مقام کی نشاندہی کر لی گئی ہے جہاں صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر ایک حادثے کا شکار ہوا۔

    ایرانی میڈیا نے غیر واضح تصاویر شائع کرتے ہوئے اسے جائے وقوعہ بتایا ہے۔

    ’ریکسیو اہلکار کچھ دیر میں ملبے تک پہنچ جائیں گے‘

    كليوند نے کہا کہ ریسکیو حکام تاحال وہاں نہیں پہنچے ہیں۔

    ان کے مطابق ’ہلال فورسز کا اس مقام سے فاصلہ دو کلو میٹر کا ہے اور وہ چند منٹوں میں پہنچ جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’صورتحال ناخوشگوار ہے۔‘

  13. ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا ہے جس میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سوار تھے
    • اطلاعات ہیں کہ تین ہیلی کاپٹروں کے قافلے میں شامل اس ایک ہیلی کاپٹر کو ملک کے شمال میں دھند کے باعث ’ہارڈ لینڈنگ‘ کرنا پڑی
    • ایرانی وزیرِ داخلہ احمد واحدی کے مطابق خراب موسم کے باعث ریسکیو حکام کو حادثے کے مقام تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے
    • رئیسی ایران کے شہر تبریز جا رہے تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ ایران اور آذربائیجان کے سرحدی علاقے سے واپس لوٹ رہے تھے
    • صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دورے پر انھوں نے آذربائیجان کے صدر کے ساتھ مل کر ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا
  14. انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن معلومات جو تیزی سے پھیل رہی ہے, شایان سردار زادہ اور گھونچہ حبیبی آزاد/بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی مانیٹرنگ

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی خبر کے بعد سے سوشل میڈیا غلط معلومات سے بھرا پڑا ہے۔

    16 لاکھ ویوز والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہی ہیلی کاپٹر ہے جس میں ایران کے صدر سوار تھے۔

    تاہم بی بی سی ویریفائی یہ تصدیق کر سکتا ہے کہ یہ ویڈیو جولائی 2022 کی ہے جب جورجیا میں بارڈر پولیس کا ریسکیو ہیلی کاپٹر کریش ہوا تھا۔

    انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن معلومات جو تیزی سے پھیل رہی ہے

    اسی طرح ایک لاکھ ویوز والی ایک تصویر میں تباہ حال ہیلی کاپٹر ظاہر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ حادثے کا مقام ہے۔

    یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ ایران کے سرکاری ٹی وی نے معمول کی پروگرامنگ معطل کی ہے تاکہ رئیسی کی موت کا اعلان کیا جاسکے۔ تاہم ایرانی ٹی وی نے اپنی کوریج معطل نہیں کی ہے۔ یہ سرچ آپریشن کے حوالے سے اطلاعات شیئر کر رہا ہے۔

    انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن معلومات جو تیزی سے پھیل رہی ہے

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک ٹویٹ حذف کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر نے محفوظ طریقے سے لینڈ کیا۔ یہ نیوز ایجنسی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ ان کی تصویر میں رئیسی کو ہیلی کاپٹر کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔

    تاہم یہ تصویر جولائی 2022 کی ہے جب سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہیلی کاپٹر اور اس میں سوار مسافروں کی کھوج جاری ہے۔

    انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن معلومات جو تیزی سے پھیل رہی ہے
  15. مزید معلومات کے لیے دنیا کی نظریں ایرانی حکام کی طرف, سبیسچن اشر، مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار

    ایسے کسی واقعے پر رپورٹنگ مشکل ہے کیونکہ ہم معلومات کے لیے متعدد نیم سرکاری نیوز ایجنسیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

    یہ تمام ایجنسیاں ہمیشہ یک آواز نہیں ہوتیں۔ ان کی خبروں میں افسران کے حوالے سے باتیں کہی جاتی ہیں۔ تاہم یہ افسران اکثر ایک دوسرے سے مختلف بات کہہ رہے ہوتے ہیں۔

    رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے پیغام کے سوا ہمیں تاحال حکام کی جانب سے ٹھوس اور مفصل بیان دیکھنے کو نہیں ملا۔

    میرا خیال ہے کہ علاقائی اور عالمی رہنما انھی اطلاعات کو دیکھ رہے ہوں گے، بالکل ہماری طرح۔ اور ایجنسیوں کی اطلاعات کو دیکھ کر صورتحال کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔

  16. ’سرچ ایریا کم ہو رہا ہے مگر تاحال ہیلی کاپٹر نہیں مل سکا‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے کی جائے وقوعہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی مگر سرچ ایریا اب دو کلو میٹر نصف قطر پر محیط ہے۔

    ایرانی ٹی وی نے ریسکیو حکام کی فوٹیج نشر کی ہے جس میں تاریکی اور بارش میں کھوج جاری دیکھی جاسکتی ہے۔

    دریں اثنا سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی خود حادثے کے مقام پر پہنچے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کی رفتار تیز کی جا سکے۔

  17. موسمیاتی ادارے کو پائلٹ کو موسم کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے تھا: ایرانی رکن پارلیمنٹ

    اسلامی کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ سال قزقلاسی ڈیم کا دورہ کیا تھا اور اس وقت موسم کی خرابی اور دھند آلود آسمان نے ان کے ہیلی کاپٹر کو پرواز کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن شہریار حیدری نے کہا ہے کہ ان کی رائے میں محکمہ موسمیات کو ایران کے صدر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو فوری طور پر موسم کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ انھیں بھی گذشتہ برس اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال ایک نمائندے کے طور پر ہم اسی ڈیم کا دورہ کرنے گئے تھے۔ ان کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر پر وہ یہ دورہ نہیں کر سکے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ اب وہ صدر کے ہیلی کاپٹر کو بارش اور دھند کے موسم میں کیوں اجازت دی؟

    اگرچہ ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کی ’ہارڈ لینڈنگ‘ یا ہوائی حادثے کی خبر کی اشاعت کو دس گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن اس واقعے کی بہت سی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں، اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ہیلی کاپٹر کن حالات میں گرا۔ ایران کے صدر اور اعلیٰ حکام کو اپنے ساتھ لے جا رہے تھے اور عین اس وقت ان کا حادثہ ہوا۔

  18. کون سے ممالک نے ایران کو مدد کی پیشکش کی ہے؟

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کے ہیلی کاپٹر کو حادثے کی اطلاعات کے بعد پاکستان سمیت متعدد ممالک نے ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کئی گھنٹو سے جاری ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

    ایران کو شدید دھند اور بارش کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    ایرانی میڈیا پر ایسی ویڈیو فوٹیجز سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران اور آذربائیجان کی سرحد پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے اور وہ رات کو بھی ریسکیو کی کوششوں میں مگن نظر آ رہے ہیں۔

    روس، آذربائیجان، آرمینیا اور عراق نے ایران کو اس ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

    روس نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفتیش میں بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی مدد کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

    ترکی نے پہاڑوں میں ریسکیو کرنے والی ٹیم بھی ایران بھیج دی ہے۔ اس سے قبل ترکی کے صدر طیب اردوغان نے کہا تھا کہ انھیں اس حادثے سے صدمہ پہنچا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وفد سے متعلق جلد از جلد اچھی خبر سننے کو ملے گی۔‘

    وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی اس حادثے پر بریفنگ دی گئی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اس حادثے سے متعلق تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔

  19. ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کی خیریت کے لیے دعائیہ اجتماعات

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں ارنا اور تسنیم نے والیاسر چوک میں کچھ لوگوں کے اجتماع کی تصاویر شائع کی ہیں۔

    ارنا کے مطابق اجتماع میں موجود افراد نے دعائیہ کلمات پڑھ کر صدر اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی ہیں۔

  20. ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کس ہیلی کاپٹر پر سوار تھے؟

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں اداروں کی تصاویر اور اعلانات کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور مشرقی آذربائیجان صوبے کے بعض اہلکار جس ہیلی کاپٹر پر سوار تھے وہ بیل 212 ہیلی کاپٹر تھا۔

    یہ امریکی ہیلی کاپٹر 1970 کی دہائی میں ٹیکساس میں بنایا گیا تھا اور اس کی پروڈکشن لائن کو 1980 کی دہائی کے اواخر میں کینیڈا منتقل کر دیا گیا تھا۔

    بیل 212 کو شہری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، بشمول ریسکیو، فائر فائٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن وغیرہ۔

    دو انجنوں والا یہ ہیلی کاپٹر 15 مسافروں اور دو ٹن سے زیادہ اضافی سامان لے جا سکتا ہے۔ معیاری ورژن میں، اس ماڈل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 220 کلومیٹر فی گھنٹہ، تقریباً 440 کلومیٹر کی حد اور زیادہ سے زیادہ پرواز کی اونچائی پانچ کلومیٹر ہے۔

    بیل کے ابتدائی ماڈلز، جو کہ فرنٹ لائن کے پیچھے ایک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کے طور پر بنائے گئے تھے، وہاں کوئی بلٹ پروف شیشہ، ہتھیار اور ریڈار وارننگ سسٹم نہیں تھے۔ وہ سامان جو بعد کے کچھ ماڈلز میں شامل کیا گیا تھا۔

    رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایرانی فوج نے اطالوی ساختہ بیل 212 ہیلی کاپٹر خریدے اور اس ہیلی کاپٹر کا ملٹری ماڈل ایران میں بیل 212 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔