ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کی تحقیقات شروع، ایران کے نئے صدر کا انتخاب آٹھ جولائی کو

ایران میں حکام نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ حسین امیر سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابراہیم رئیسی 19 مئی کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

خلاصہ

  • ابراہیم رئیسی ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ وہ آذربائیجان کی سرحد پر ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپسی پر تبریز جا رہے تھے۔
  • اس حادثے میں ابراہیم رئیسی کے علاوہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور عملے سمیت سات دیگر افراد بھی مارے گئے۔
  • ایرانی حکام کے مطابق حادثہ بظاہر شدید دھند اور خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا تاہم ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
  • ابراہیم رئیسی کی ہلاکت پر ایران میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی ایک دن کا سرکاری سوگ منایا گیا ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ اے نے ملک کے اول نائب صدر محمد مخبر کو دو ماہ کے لیے قائم مقام صدر جبکہ نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی کو عبوری وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔
  • ملک میں نئے صدارتی انتخاب کے لیے آٹھ جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق چند نئی تصاویر

    ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق سامنے آنے والی چند نئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران کے شمال مغربی علاقے میں حادثے کے مقام پر امدادی کارکن پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ملبے کی تلاش میں ہیں۔

    واضح رہے کہ ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر ورزقان شہر کے قریب خراب موسم کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہMOJ NEWS/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  2. ایران میں آئندہ صدارتی انتخابات جوش سے عاری ہوں گے, پرہامے غابادی، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کو ناقدین کی جانب سے ’انجنئیرڈ‘ یعنی پہلے سے تہہ شدہ قرار دیا گیا تھا۔ اُن صدارتی انتخابات سے قبل امیدواروں کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار گارڈین کونسل نے دیگر تمام اُمیدواروں کو نا اہل قرار دے دیا تھا۔

    حالیہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں مُمکنہ دھاندلی اور ان متنازع حربوں کی وجہ سے ٹرن آؤٹ انتہائی کم تھا۔

    اب جب ایران میں آئندہ 50 دنوں میں ایک نئے صدر کا انتخاب ہونے جا رہا ہے تو ایسے میں ایک مرتبہ پھر امکان اسی بات کا ہے کہ اُسی طرح کے حربے آزمائے جائیں گے کہ جن کی بدولت ابراہیم رئیسی بطور صدر سامنے آئے تھے۔ ایران میں مُمکنہ طور پر ایک مرتبہ پھر رہبر اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای کے وفادار ایک سخت گیر شخص انتخابات میں حصہ لینے اور جیتنے کے اہل ہوں گے۔

  3. ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر کہاں گرا تھا؟

    ہیلی کاپٹر کے حادثے کا مقام

    بی بی سی ویریفائی کی ٹیم نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی تباہی کے مقام کی تصدیق کی ہے اور معلوم کیا ہے کہ یہ حادثہ شمال مغربی ایران کے گاؤں ازی کے جنوب مغرب میں دو کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی علاقے میں پیش آیا۔

    ہیلی کاپٹر کے ملبے کی تصویر ایرانی نیوز چینل ’خبر فوری‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع کی گئی اور اس کی جیو لوکیشن کا عمل آسٹریلین سٹریٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ کے نیتھن روسر نے سرانجام دیا اور بی بی سی ویریفائی نے اس سارے عمل کا جائزہ لیا۔

    یہ وہی تصویر ہے جو ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی شیئر کی تھی۔

    اس تصویر میں ہیلی کاپٹر کو پہاڑ کی مشرقی ڈھلوان پر 2200 میٹر کی بلندی پر دیکھا جا سکتا ہے۔

  4. بریکنگ, صدر رئیسی کے ایک ہمسفر حادثے کے ایک گھنٹے بعد تک زندہ تھے: ایرانی حکام

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی اتوار کی شام ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کے بعد اب اس حادثے کے بارے میں معلومات سامنے آنا شروع ہو رہی ہیں۔

    ایرانی کرائسس مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ محمد نامی کے مطابق ہیلی کاپٹر کی تباہی کے ایک گھنٹے بعد تک اس پر سوار کم از کم ایک مسافر زندہ تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار تبریز کے پیش امام محمد علی الہاشم نے حادثے کے بعد ایرانی صدر کے دفتر سے رابطے کی بھی کوشش کی تھی۔

    محمد نامی کے مطابق اس حادثے میں کل نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں پڑی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ حادثے میں کچھ لاشیں جل گئی تھیں۔

  5. آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے محمد مخبر کی بطور عبوری صدر تقرری کا اعلان

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے نائب صدر محمد مخبر سے متعلق یہ خبر تو کل سے سامنے آ رہی تھی کہ انھیں ایران کا عبوری صدر بنائے جانے کا امکان ہے اور اب ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای نے ان کی باقاعدہ تقرری کا اعلان کر دیا ہے

    آیت اللہ خامنہ ای نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’مخبر آئندہ 50 دنوں کے اندر نئے صدر کے انتخاب میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دیگر ریاستی قانون ساز اداروں اور عدلیہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘

  6. ایران کے سرکاری میڈیا پر ہیلی کاپٹر کے ملبے کے مناظر

    ایران میں ٹی وی پر صدر رئیسی کے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے ملبے کے مناظر نشر کیے گئے ہیں۔ رپورٹر کے مطابق یہ حادثہ دھند اور بارش کی وجہ سے پیش آیا۔

  7. رئیسی کی ہلاکت ’پوری اسلامی دنیا‘ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے: حوثی جنگجو

    یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بھی ایرانی صدر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت پر ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ ’ایرانی صدر کی ہلاکت اسلامی دُنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔‘

    واضح رہے کہ حماس اور حزب اللہ کی طرح حوثی جنگجوؤں کو بھی ایران کی حمایت اور مالی اعانت حاصل ہے۔

    حوثی جنگجوؤں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’صدر رئیسی کی موت نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا اور فلسطین اور غزہ کے لیے ایک نقصان اور بڑا صدمہ ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’فلسطینیوں کو ایسے ہی صدر کی ضرورت ہے کہ جو اُن کے حقوق کا دفاع جاری رکھ سکیں۔‘

    حوثی جنگجو اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور غزہ میں جاری جنگ کے ماحول میں اُن کی جانب سے بحیرہ احمر میں مال بردار بحری جہازوں پر حملے بھی کیے جا چُکے ہیں۔

  8. حادثے کا شکار ہونے والے ایرانی ہیلی کاپٹر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, یشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی

    ہیلی کاپٹر

    ،تصویر کا ذریعہCrown Copyright

    ایرانی صدر کی ہیلی کاٹپر حادثے میں ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات میں ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر اور وزیر خارجہ کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر ’بیل 212‘ تھا۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر کتنا استعمال شدہ تھا، لیکن اس کے بارے میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ 1960 یا 60 کی دہائی میں بنایا گیا تھا جسے کینیڈین فوج کے لئے تیار کیا گیا تھا۔

    یہ ہیلی کاپٹر امریکی کمپنی ’بیل ہیلی کاپٹر‘ نے بنائے تھے اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تھائی لینڈ کی قومی پولیس سمیت سرکاری آپریٹرز کی جانب سے بڑے پیمانے پر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔

    فلائٹ گلوبل کی 2024 کی ورلڈ ایئر فورس ڈائریکٹری کے مطابق، ایرانی بحریہ اور فضائیہ کے پاس مجموعی طور پر اس ماڈل کے 10 ہیلی کاپٹر ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی حکومت زیرِِ استعمال کتنے ہیں۔

    بیل 212 کو ہر طرح کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، بشمول لوگوں اور سامان کو لانے اور لے جانے اور جنگی حالات میں انھیں ہتھیاروں سے لیس بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ صدر کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر میں چھ مسافر اور عملے کے دو افراد سوار ہو سکتے ہیں۔

    فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن کے مطابق بیل 212 ہیلی کاپٹر کے اس حالیہ حادثے سے قبل گزشتہ سال ستمبر میں ایک اور اسی ماڈل کے ہیلی کاپٹر کو اُس وقت حادثہ پیش آیا تھا کہ جب وہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے ساحل پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

    اس سے قبل اپریل 2018 میں بیل 212 ماڈل کا ایک ہیلی کاپٹر ایران میں اُس وقت حادثے کا شکار ہوا تھا جب وہ دل کا دورہ پڑنے والے ایک مریض کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش میں تھا۔

  9. ہیلی کاپٹر حادثے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے اب تک کوئی شواہد سامنے نہیں آئے, لوسی ویلیمسن، نامہ نگار بی بی سی یوروشلم

    دُنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے اب تک ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی فضائی حادثے میں ہلاکت پر رد عمل کا اظہار کیا جا چُکا ہے، تاہم اسرائیل اب بھی احتیاط سے کام لے رہا ہے۔

    اسرائیل ایران کی جانب سے کسی بھی ایسے اشارے پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ جس میں اس حادثے میں اُس کے ملوث ہونے کی بات کی جائے یا اُس پر اس کا الزام لگایا جائے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس واقعے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا ایک معمولی سا اشارہ بھی ممکنہ طور پر خطے کو ایک نئے بحران کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

    تاہم اب تک اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

    واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ ’خراب موسم‘ کو قرار دیا ہے۔

    اور اسرائیلی حکام مقامی ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دے رہے ہیں کہ ایرانی صدر کی ہلاکت میں اُن کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل میں اہم اہداف کی جانب سیکڑوں ڈرونز اور میزائل داغے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات کی خرابی کو صرف ایک ماہ ہی ہوا ہے۔

    اس کے بعد سے ایک غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے، لیکن اس محاذ آرائی اور غزہ اور لبنان میں اسرائیل اور ایران کے آلہ کاروں کے درمیان جنگ نے خطے کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔

  10. علی باقری کنی ایران کےعبوری وزیرِ خارجہ مقرر

    علی باقری کنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی کابینہ نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب علی باقری کنی کو عبوری وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا ہے۔

    یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی تین شاخوں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے اعلیٰ ترین افسران کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اول نائب صدر محمد مخبر کو ملک کا عبوری صدر بنانے کا ذکر کیا۔ محمد مخبر اب تقریباً دو ماہ کے عرصے کے لیے ملک کے عبوری صدر رہیں گے اور اس دوران 50 دن کے اندر اندر ملک کے نئے صدر کا انتخاب ہو گا۔

  11. رئیسی کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان

    رئیسی، خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افسوس ناک واقعہ خدمات سر انجام دیے جانے کے دوران ہوا۔ اس نیک اور بے لوث شخص نے پوری زندگی عوام، ملک اور اسلام کی خدمت میں گزاری۔‘

    اس پیغام میں رہبر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والے حسین امیر عبداللہیان کو ’مجاہد اور متحرک‘ وزیر خارجہ قرار دیا۔

    انھوں نے اس حوالے سے بھی ذکر کیا کہ اب محمد مخبر عبوری صدر کی حیثیت سے کام کریں گے۔ وہ مقننہ اور عدلیہ کے ساتھ مل کر 50 روز میں نئے صدر کے انتخاب کو یقینی بنائیں گے۔

    ادھر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ 21 مئی کو تبریز میں ہوگی۔

  12. جب تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے ملبے سے لاشیں نکالی گئیں

    ایرانی ہلالِ احمر کی جانب سے جاری کی گئی فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو ہیلی کاپٹر کی تباہی کے مقام سے لاشیں نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت کا عمل مشکل تھا کیونکہ ان میں سے کچھ جل گئی تھیں۔

  13. کئی برسوں کی پابندیوں نے ایران کے سرکاری فضائی بیڑے کو غیر محفوظ بنا دیا, جیرمی بوون، مدیر برائے بین الاقوامی امور

    ایرانی میڈیا نے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا کہ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں کوئی ’سازش‘ ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موسم خراب تھا اور ہیلی کاپٹر کا حادثہ ہوا۔

    تاہم صدر رئیسی کے کئی دشمن تھے۔ کئی لوگ ان کی ہلاکت پر خوش ہوئے ہوں گے۔

    80 کی دہائی میں انھوں نے ہزاروں ناقدین کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے تھے۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔

    وہ 2021 سے ایران کے صدر ہیں اور ان کے دور میں ملک کے اندر کئی افراد کے خلاف گھیرا تنگ ہوا ہے۔ خیال تھا کہ وہ رہبر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں۔ حریف کو ریس سے باہر کرنے کا یہ ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ مگر ہمارے پاس اس کے کوئی شواہد نہیں۔

    ایران میں اکثر واقعات پر اسرائیل کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیل کو ایسی کسی چیز سے کوئی فائدہ بھی شاید نہ ہو کیونکہ یہ جنگ چھیڑنے کے متراف ہوگا۔

    جہاں تک بات خراب موسم کی ہے تو ایران کو کئی برسوں سے پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی طیارے غیر محفوظ ہو چکے ہیں کیونکہ وہ جہازوں کے سپیئر پارٹس یا نئے ایئر فریم حاصل نہیں کر پاتے۔

    سنہ 1990 کے دوران میں ایران میں ایک بڑے زلزلے پر رپورٹنگ کر رہا تھا۔ یہ علاقہ گذشتہ روز کے ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام سے زیادہ دور نہیں۔

    میں امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر پر سوار تھا جو اسلامی انقلاب سے قبل شاہ دور کا تھا۔ اسے زبردستی لینڈ کیا گیا تھا کیونکہ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا ایک انجن فیل ہوگیا تھا۔

    کچھ ہفتوں بعد مجھے بتایا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور تمام مسافروں کی ہلاکت ہوئی۔

  14. بریکنگ, ابراہیم رئیسی کی میت ایمبولینس کے ذریعے تبریز منتقل کی جا رہی ہے: ایرانی ہلالِ احمر

    ایرانی ہلال احمر کے سربراہ پیر حسین كليوند نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر کی کھوج کے لیے شروع کیا گیا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

    خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ہم شہدا کی میتیں تبریز منتقل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘

    پیر حسین كليوند نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام مسافروں کی میتیں ایمبولینس کے ذریعے ایران کے شمال مغربی شہر تبریز کے ایک قبرستان لے جائی جا رہی ہیں۔

    ادھر ایرانی کابینہ نے ابراہیم رئیسی کی ہلاکت پر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے جس کے مطابق رئیسی نے ’اپنی زندگی ایرانی عوام کی خدمت میں گزاری۔‘

  15. ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے ایرانی وزیر خارجہ کون تھے؟

    حسین امیر عبداللہیان

    ،تصویر کا ذریعہHAMSHAHRI.ONLINE

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو نظام کے سب سے قابل اعتماد لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے امریکہ اور عراق کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھے۔ انھی مذاکرات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری امور پر بات چیت ہوئی تھی۔

    وہ پہلے ایرانی اہلکار تھے جو حسن روحانی کے دور میں تہران میں برطانوی سفارتخانے کے افتتاح کے بعد لندن گئے تھے اور برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ سے ملاقات کی تھی۔

    وہ وزارت خارجہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں اور خطے میں ایران کے ’مزاحمتی فرنٹ‘ اور اثر و رسوخ پر بات کرتے تھے۔

    ان کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی سے قریبی تعلقات تھے جو مشرق وسطیٰ میں ایران کے پراکسی گروہ چلاتے تھے۔

    انھوں نے تہران یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور سے متعلق ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ وہ بحرین میں ایران کے سفیر رہ چکے ہیں مگر حسن روحانی کی حکومت نے انھیں اس عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    حالیہ دور میں غزہ جنگ کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے دورے کیے تھے۔

  16. ابراہیم رئیسی کون تھے؟

    ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ابراہیم رئیسی 1960 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں پیدا ہوئے جہاں شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مزارات میں سے ایک واقع ہے۔ ان کے والد ایک عالم تھے اور ان کی وفات اس وقت ہوئی جب ابراہیم فقط پانچ برس کے تھے۔

    شیعہ روایت کے مطابق اُن کا سیاہ عمامہ اُن کے پیغمبر اسلام کی آل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اُنھوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 15 سال کی عمر میں مقدس شہر قم میں ایک مدرسے میں حصول تعلیم کی غرض سے جانا شروع کیا۔

    2021 میں ایرانی صدر بننے سے قبل وہ 25 سال کی عمر میں تہران میں ڈپٹی پراسیکیوٹر تعینات ہوئے۔

    اس عہدے پر رہتے ہوئے انھوں نے ان چار ججوں میں سے ایک کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جو 1988 میں قائم اُن خفیہ ٹربیونلز کا حصہ تھے جو کہ ’ڈیتھ کمیٹی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

  17. ایرانی صدر ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک: آگے کیا ہوگا؟, بہمن کلباسی/بی بی سی فارسی

    محمد مخبر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک کے نائب صدر محمد مخبر نے دو ماہ کے لیے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے۔

    ایران کے آئین میں اس حوالے سے واضح ہدایات ہیں کہ جب ملک کا صدر بیماری، موت یا مواخذے کے نتیجے میں مزید کام نہ کر سکے۔

    ایسے میں نائب صدر، جو فی الحال محمد مخبر ہیں، ملک چلاتے ہیں۔ وہ پارلیمان اور عدلیہ کے سربراہان کے ساتھ مل کر زیادہ سے زیادہ 50 روز میں نئے صدر کا الیکشن کرواتے ہیں۔

    مگر یہ صرف رہبر اعلیٰ کی تصدیق کے ساتھ ممکن ہے جو کہ ایران میں تمام معاملات پر حتمی فیصلہ دیتے ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے ابراہیم رئیسی کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ اب ایران میں صدارتی انتخاب ہوگا جس کے حوالے سے عوام میں بظاہر گذشتہ الیکشن کے مقابلے زیادہ دلچسپی ہوگی۔

    گذشتہ الیکشن میں رئیسی کے مدمقابل تمام اہم امیدواران کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ محض 30 فیصد اہل ووٹروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا جبکہ اکثریت نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔

  18. ایرانی صدر کی ہلاکت پر پاکستان، انڈیا اور حماس کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کی ہلاکت پر یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ’وہ پاکستان کے اچھے دوست تھے۔‘

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انھیں اس واقعے پر ’صدمہ پہنچا ہے۔۔۔ انھوں نے انڈیا اور ایران کے مشترکہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔۔ غم کے اس لمحے میں انڈیا ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    ایک بیان میں حماس نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    ایرانی حمایت یافتہ فلسطینی گروہ، جو غزہ میں اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے، نے کہا کہ ’ہم برادر ملک ایران سے مشترکہ دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی ظاہر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ایران کے بہترین رہنماؤں کی جانیں لے لیں۔‘

    حماس کو امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک دہشتگرد گروہ قرار دیتے ہیں۔

  19. حسین امیر عبداللہیان کے بعد ایران کے نئے وزیر خارجہ کون ہوں گے؟

    حسین امیر عبداللہیان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہیلی کاپٹر کے حادثے میں حسین امیر عبداللہیان کی ہلاکت کے بعد خیال ہے کہ ایرانی حکومت نئے وزیر خارجہ کا اعلان کرے گی۔

    آئین کے آرٹیکل 135 کے مطابق جب کسی وزارت کا کوئی وزیر نہ ہو تو صدر کسی شخص کا انتخاب کر کے انھیں تین ماہ کے لیے اس وزارت کا سربراہ نامزد کر سکتے ہیں۔

  20. ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی موت کی تصدیق کی ہے
    • وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر مسافر بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں
    • سرکاری ٹی وی کے مطابق رئیسی ایران کے شہر تبریز جا رہے تھے جب ان کے ہیلی کاپٹر کی ’ہارڈ لینڈنگ‘ ہوئی۔ صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دورے پر انھوں نے آذربائیجان کے صدر کے ساتھ مل کر ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا
    • صدر رئیسی کی ہلاکت کی تصیق سے قبل تہران میں لوگ ان کی صحت کے لیے دعا گو تھے
    • حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر کی کھوج کے لیے وسیع پیمانے پر ایک ریسکیو آپریشن کیا گیا جو کہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا
    • روس، آذربائیجان اور آرمینیا سمیت کئی ملکوں نے ایران کو ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ ترکی نے ایران میں ریسکیو ٹیم اور ڈرون بھیجا تھا
    • انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی ان پہلے عالمی رہنماؤں میں سے ہیں جنھوں نے صدر رئیسی کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے ہمسایہ ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم سوگ کا اعلان کیا ہے